قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَقَدۡ بَلَغَنِيَ ٱلۡكِبَرُ وَٱمۡرَأَتِي عَاقِرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ
He said, ‘My Lord, how shall I have a son while old age has overtaken me and my wife is barren?’ Said He, ‘So it is that Allah does whatever He wishes.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:31-41
God has distinctly laid down claim for His love is to be tested by implicit obedience to orders of the Prophet and in case of refusal, he shall be an infidel. This is enough test for searching this infidelity in Muslim companions of Prophet (which is known as hypocrisy) which, the Prophet to fulfil Divine message kept quiet, fighting with them. To Ali advising after his departure saying, “Oh Ali, your fight is my fight,” and “Hussain is from me and I from him,” (him i.e. Hussain).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:38-40
یحییٰ (ع) اور عیسیٰ (ع)
” یحییٰ “ ” حیٰوة “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے زندہ رہتا ہے ” اور یہ اس عظیم پیغمبر کا نام رکھا گیا تھا ۔ زندگی سے یہاں مراد مادی اور معنوی دونوں طرح کی زندگی ہے جو ایمان ، منصب ِ نبوت اور خدا سے ربط کے زیر سایہ ہو ۔ سورہ مریم کی آیہ۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (ع) کی پیدا ئش سے قبل ہی یہ نام ان کے لئے انتخاب فرمایا تھا ۔ ”یازکریا ٓ انّا نبشرک بغلام اسمہ یحییٰ لم نجعل لہ من قبل سمیاً“۔ ”اے زکریا !ہم تجھے ایک فرزندکی بشارت دیتے ہیں جس کانام یحییٰ ہے اور قبل ایں کسی یہ نام نہیں تھا “۔ جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے یحییٰ کی تولد کی خواہش حضرت زکریا (ع) کے دل میں جناب مریم (ع) کی روحانی پیش رفت دیکھ کر پیدا ہوئی ۔ یہ بات یہاں جالب نظر ہے کہ اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (ع) کو ایک ایسا بیٹا عطا فرمایا جو کسی لحاظ حضرت مریم (ع) کے بیٹے سے مشابہت رکھتا ہے ۔ مثلاً :
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:38-40
بچپن میں بعثت نبوت کے لحاظ سے ،
نام کے مفہوم کے اعتبار سے .... کیونکہ حضرت عیسیٰ (ع)اور یحییٰ (ع) دونوں کا معنی ہے ” زندہ رہتا ہے “ اور ...اللہ تعالیٰ نے دونوں پر پیدا ئش ، موت اور حشرو نشر تین مواقع پر درود و سلام بھیجا ہے ۔ ”قَالَ رَبِّ اٴَنَّی یَکُونُ لِی غُلاَمٌ......“ ملائکہ نے یحییٰ کی پیدائش کی بشارت دی تو حضرت زکریا تعجب میں پڑ گئے اور بار گاہ خدا وندی میں عرض کرنے لگے : خدا وندا! کیسے ممکن ہے کہ مجھ سے بچہ ہو جبکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ جواب میں وحی آئی : ” خدا اسی طرح جو کچھ چاہے انجام دے لیتا ہے “۔ اس آیت میں حضرت زکریا (ع) اپنے بڑھاپے کا ذکر کرتے ہیں کہتے ہیں : ” وقد بلغنی الکبر“ (بڑھاپا مجھ تک آپہنچا ہے ) لیکن سورہ مریم کی آیت ۸ میں ان کا یہ قول درج ہے ۔ ” و قد بلغت من الکبر عتیّاً“ ۔ میں بڑھاپے کے آخری درجے تک جا پہنچا ہوں تتعبیر کا اختلاف یہ اس لئے ہے کہ جیسے انسان بڑھاپے کی طرف جاتا ہے گویا بڑھاپا اور موت بھی دوسری طرف سے اس کی تلاش میں آگے بڑھتی ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : <اذاکنت فی ادبار و الموت فی اقبال فما اسرع الملتقی“۔ ( نہج البلاغہ ،کلمات قصار۔ ۲۸) ”چوکہ تم عمر کے آخری حصہ کی طرف جارہے ہواورموت تمہاری طرف بڑھ رہی ہے اس لئے کس قدر جلدی تم ایک دوسرے سے مل جاوٴ گے ۔ “ ” غلام“ لغت میں ”جوان لڑکے“ کو کہتے ہیں ” عاقر“ ”عقر“ سے ہے ، اس کا معنی ہے ” جڑ اور بنیاد“ اس کا ایک معنی ”حبس“ بھی ہے ، یابانجھ عورتوں کو اس لئے ” عاقر “ کہتے ہیں کہ ان کا معاملہ آخر تک پہنچ چکا ہوتا ہے یا یہ کہ وہ بچہ جننے سے رک چکی ہوتی ہیں یعنی فہوس ہوچکی ہوتی ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:38-40
کیا شادی نہ کرنا باعثِ فضیلت ہے
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر حصور کا معنی شادہ نہ کرنا ہے تو کیا یہ عمل کسی انسان کے لئے امتیاز اور خصوصیت شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں حضرت یحییٰ (ع) کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے ۔ اس جواب یہ ہے کہ اول تو ہمارے پاس کوئی یقینی دلیل نہیں کہ آیت میں ” حصور“سے مراد شادی کو ترک کرنا ہے نیز اس سلسلے میں منقول روایت سند کے لحاظ سے مسلم نہیں ہے ۔ بعید نہیں کہ لفظ ” حصور“ آیت میں شہوات ، ہوا و ہوس اور دنیا پرستی کو ترک کرنے کے معنی میں ہو اور زہد کی ایک صفت کے لحاظ سے ہو ۔ دوسری بات یہ کہ ممکن ہے حضرت یحییٰ (ع) بھی حضرت عیسیٰ (ع) کی طرح زندگی کے خاص حالات کی وجہ سے اور دین کے لئے باربار سفر کرنے کی وجہ سے مجردزندگی گزار نے پر مجبور ہوں ۔ اس لئے یہ سب کے لئے کلی قانون نہیں ہوسکتا اور خدا نے ان کی یہاں اس صفت سے اس لئے تعریف کی ہے کہ انہوں نے خاص حالات کے باعث شادی نہیں کی اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو گناہ سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور وہ کسی طرح بھی گناہ سے آلودہ نہیں ہوئے ، قانون ازدواج تو کلی طور پر ایک فطری قانون ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی بھی اس فطری قانون کے خلاف کوئی حکم جاری کرے اس لئے اسلام یا کسی اور دین میں شادی نہ کرنا کوئی اچھا کام نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:40
[Pooya/Ali Commentary 3:40] Aqa Mahdi Puya says: In view of Zakariyya's observation that old age has overtaken him and his wife was barren, it becomes clear that the meaning of anna is "how", because till then they did not have any child at all; therefore, anna cannot be translated as "when" in this verse unless the translator is an Ahmadi (Qadiyani) who has done so on account of his determined policy to oppose miracles tooth and nail. In verse 47 of this surah he translates anna as "how". Although in both these verses anna (how) signifies the sense of surprise and indicates the events of the births of Isa and Yahya as miracles effected by the will of Allah, the Ahmadi commentator, in this verse, inserts a wrong word, and in verse 47, after translating anna as "how" puts forward lame arguments to deny Maryam's virginity (see commentary of verse 47 of this surah). The statement that "Allah does whatsoever He wills" settles irrevocably the birth of Yahya as a definite miracle. "But they had no children, for Elizabeth (Zakariyya's wife) was barren, and both were well on in years. Zachariah said to the angel: How can I be sure of this? I am old and my wife is well on in years. (Luke 1: 7 and 18) Qad balaghaniyal kibaru (when indeed old age has overtaken me) is not a conjunctive clause. It is an adverbial subordinate to the principal clause. The word wa, used on two occasions in this verse, means "while", not "and", otherwise the answer would not correspond to the question, clearly suggesting surprise. If it was to mean what the Ahmadi commentator thinks, the answer should have been mahma yasha instead of ma yasha, because in answer to a question about time "whatsoever" (the way in which) cannot be used.