أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ
Have you not regarded those who were given a share of the Book, who are summoned to the Book of Allah in order that it may judge between them, whereat a part of them refuse to comply and they are disregardful?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:23
[Pooya/Ali Commentary 3:23] The Tawrat and the Injil are only a portion of revelation, a glimpse of the glory of the truth. A portion of the book, Allah's revealed books in general, was sent down, in all ages, to prepare and train the human soul for the highest level of intelligence and spirituality, at which stage the completed and perfect revelation, the Quran, was revealed to the Holy Prophet, referred to as the book of Allah in this verse. Prophet Isa had also informed the people that there was still much that he could say to the people, but the burden would be too great for them then. He also added: "When he comes who is the spirit of truth, he will guide you into all the truth; for he will not speak on his own authority, but will tell only what he hears; and he will make known to you the things that are coming." See John 16: 12 and 13. It is reported that in the early days of the prophethood of the Holy Prophet, a married man of large means was caught while committing adultery with a woman. The Jewish priests did not want to punish them by stoning to death as prescribed in the law of Musa. Presuming that the Holy Prophet did not know their scripture, they referred the case to him so that the culprits could avoid the punishment by his misjudgement. The Holy Prophet announced the correct judgement in the light of the Tawrat but the Jews persisted that it was not in their book. The Holy Prophet asked them to bring their own distorted edition of the Tawrat. Even in their corrupted version Leviticus 20: 10 to 21 confirmed the decree pronounced by the Holy Prophet. Yet they did not agree and arrogantly persisted in their point of view. In John 8: 4 to 7 it is stated that an adulteress should be stoned according to the law of Moses but Jesus had said: Let he who has not sinned stone her. This is a clear example of unauthorised addition because Isa himself announced: Do not suppose that I have come to abolish the law and the prophets; I did not come to abolish, but to complete. I tell you this: so long as heaven and earth endure, not a letter, not a stroke, will disappear from the law until all that must happen has happened. (Matthew 5: 17, 18). And Musa has said: You shall keep all my rules and my laws and carry them out. (Leviticus 20 : 22). According to their books Isa could not amend the law of Musa. Holy Quran says that Isa had the authority to amend the law of Musa (see verses 50 and 51 of this surah), but he did not change this law because verse 2 of al Nur confirms it. The adulterer and the adulteress-scourge you each of them (with) a hundred stripes. It is related in Safi that once the Holy Prophet went to a school of the Jews. In reply to their question he said that he followed the religion of Ibrahim. "But Ibrahim was a Jew", said the Jews. Then the Holy Prophet asked them to refer to their book, which though profusely tampered with, yet contains various passages about the faith of Ibrahim and other prophets and also information about the advent of the Holy Prophet.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
آیه 23-25 سوره عمران
(23) اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتَابِ اللّـٰهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ يَتَوَلّـٰى فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ وَهُـمْ مُّعْرِضُوْنَ (24) ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ۖ وَغَرَّهُـمْ فِىْ دِيْنِـهِـمْ مَّا كَانُـوْا يَفْتَـرُوْنَ (25) فَكَـيْفَ اِذَا جَـمَعْنَاهُـمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِۚ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ترجمہ (23) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کے پاس ( آسمانی) کتاب کاکچھ حصہ ہے اور ان میں فیصلے کے لیے انہیں کتاب خدا کی طرف دعوت دی گئی ہے لیکن (علم و آگہی کے باوجود ان میں سے ایک فریق نے روگردانی کی جب کہ وہ قبول حق سے اعراض کیے ہوئے تھے۔ (24) (ان کا) یہ عمل ، اس بنا پر تھا کہ وہ کہتے تھے کہ چند دن کے سوا (جہنم کی) آگ ہم تک نہیں پہنچے گی (اور دوسری قوموں سے ہمارے امتیاز کی وجہ سے ہمیں بہت ہی محدود سزا ملے گی) اور (خدا باندھے گئے) اس افتراء نے انہیں بہت مغرور کر دیا تھا۔ (25) پس اس وقت کیا حالت ہو گی جب اس (قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں سب جمع ہوں گے ہم انہیں اور ہر شخص کو جو کچھ انہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے) کمایا ہے . دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے اعمال کی فصل ہی کاٹیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
تفسیر
ان آیات میں صراحت سے اہل کتاب کی چند خیانتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ کیسے حیلہ جوئی اور ہے بنیاد مطالب کے ذریعے حدودالٰہی کے نفاذ سے بغاوت کرتے تھے ، حالانکہ ان کے پاس موجود آسمانی کتاب صراحت سے حکم بیان کرچکی ہوتی تھی کہ اپنی مذہبی کتاب میں موجود حکم کے سامنے سرتسیلم نہ کر دیں "الم تر الى الدين اوتوا نصيبا من الكتب يدعون الى كتب الله ليحكم بينهم "۔ لیکن انہوں نے صریحًا اس کی مخالفت کی اور مخالفت بھی ایسی جسے اعراض ، سرکشی اور احکام خدا پر نکتہ چینی کہا جانا چاہیئے "ثم يتولی فريق منهم وهم معرضون"۔ " اوتوا نصيبًا من الكتب" سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جو تورات اور انجیل یہود و انصارٰی کے پاس موجودتھی وہ ساری حقیقی تورات اور انجیل نہ تھی بلکہ یہ تو اس کا صرف ایک حصہ تھا اور ان دونوں آسمانی کتابوں کا بیشترحصہ یا غائب تھا یا پھر تحریف شدہ تھا۔ اس آیت کی قرآن کی دیگر آیات کی تائید کرتی ہیں . نیز تاریخی شواہد بھی اس کے مؤید ہیں۔ دوسری آیت میں ان کی مخالفت اور روگردانی کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی ایک باطل اور غلط فکر تھی اور وہ یہ کہ وہ ایک بلندہ اور ممتاز خاندان سے ہیں ۔ آج بھی وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور بہت سی تحریریں ان کی نسل پرستی کی شاہد ہیں۔ ان کا اعتقاد تھا کہ پروردگار عالم سے ان کا ایک خاص تعلق ہے یہاں تک کہ وہ اپنے تئیں خدا کے بیٹے کہتے تھے۔ جیسا کہ سوره مائدہ آیہ اٹھارہ میں ان کی زبان سے قرآن نے نقل کیا ہے۔ "نحن ابنؤ الله وأحباؤه"۔ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے خاص دوست ہیں۔ اسی لیے وہ خدائی سزا کے مقابلے میں ایک قسم کی معنویت کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ اس سے محفوظ رہیں گے اور اس امر کو خدا کی طرف سے بھی منسوب کرتے تھے لہذا ان کا اعتقاد تھا کہ ان میں سے گنہگار افراد بھی قیامت میں چند دنوں کے سوا عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے . جیسا کہ محل بحث آیات میں بھی ہے: "قالوالن تمسنا النار الا ايامًا مدودات"۔ إن ایام معدود سے مراد یاتو وہ چالیس دن تھے جن میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی عدم موجودگی میں انہوں نے گوساله پرستی شروع کردی تھی ، یہ ایسا گناہ تھا کہ وہ خود بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے تھے یا پھر اس سے مراد ان کی زندگی کے معدود اور گنے چنے دان تھے کہ جن میں انہوں نے بہت زیادہ واضح اور ناقابل انکار گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اور وہ خود بھی ان گناہوں کی توجیہ اور پردہ پوشی نہ کرسکتے تھے۔ خدا کی طرف منسوب یہ جھوٹے اور جعلی امتیازات رفتہ رفتہ ان کے عقائد کا جزبن گئے جس سے وہ مغرور ہوگئے تھے یہاں تک کے احکام خدا کی مخالفت اور قانون شکنی میں بھی بے باک ہو گئے تھے ( وغرهم في دينهم ما كانوا يفترون )۔ تیسری آیت میں قران ان تمام باطل خیالات پر خط بطلان کھینچتا ہے اور کہتا ہے: ایک روز یقینًاپروردگار کی بارگاه عدل میں دیگر انسانوں کی طرح پیش ہوں گے اور ہرشخص اپنے اعمال کا سامنا کرے گا چونکہ وہ اپنے ہی اعمال کا سامنا کریں گے اور اپنے ہی اعمال کا نتیجہ پائیں گے اس لیے انہیں جب بھی سزاملے گی اس میں ان پر کسی قسم کا ظلم وستم نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب ان کے کئے کا ماحصل ہوگا "و وفيت كل نفس ماكسبت رھم يظلمون"۔ ماکسبت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قیامت کے دن کی جزا و سزا اور دوسرے جہان کی خوش بختی و بدنیتی مصرف انسانی اعمال سے وابستہ ہے اور اس میں کوئی اور چیز موثر نہیں ہے ۔ اس حقیقت کی طرف بہت سی آیات مجیدہ میں اشارہ ہوا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
شان نزول
شان نزول تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول : رسول اللہؐ کے زمانے میں خیبر کے یہودیوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد زنائے محصنہ کے مرتکب ہوئے ۔ باوجود یکہ تورات میں ایسے اشخاص کو سنگسار کرنے کا حکم تھا، چونکہ یہ مرد عورت اشراف میں سے تھے اس لیے ان پر یہ حکم جاری کرنے میں توقف برتا گیا اور تجویز ہوا کہ پیغمبراسلامؐ سے رجوع کیا جائے اور ان سے فیصلہ حاصل کیا جائے ۔ انہیں توقع تھی کہ آپؐ کی طرف سے کم سزا معین ہوگی لیکن رسول اللہ نے بھی ان کے لیے وہی سزا معین فرمائی ۔ اس فیصلے پر بعض یہودیوں اور ان کے وڈیروں میں سے بعض نے اعتراض کیا اور اس بات کا انکار کر دیا کہ یہودی مذہب کے مطابق فیصلہ درست ہے۔ پیغمبراکرمؐ نے فرمایا : یہ موجودہ تورات ہی تمہارے اور میرے درمیان فیصلہ کردے گی۔ انہوں نے قبول کرلیا ۔ ابن صوریا ان کا ایک عالم تھا . اسے فدک سے مدنیہ بلایا گیا تھا ۔ پیغمبراکرامؐ نے اسے پہچان لیا اور فرمایا : تو ابن صوریا ہے؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں ۔ آپؐ نے فرمایا : کیا تم یہودیوں میں اعلم علماء ہو ؟ اس نے کہا : وہ یہی سمجھتے ہیں۔ پیغمبراکرم نے حکم دیا کہ اس کے سامنے تورات کا وہ حصہ رکھا جائے جس میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ وہ چونکہ پہلے سے باخبر تھا اس لیے جب تورات کی اس کاآیت پہنچا تو اس پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے بعد کے جملے پڑھ دیے۔ عبدالله بن سلام جو پہلے سعودی علماء میں سے تھا اور مسلمان ہوگیا تھا ، وہاں ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 شادی شدہ افراد کے زنا کو "زنائے محصنہ" کہتے ہیں (مترجم) ۔--------------------------------------------------------------------------- موجود تھا۔ وہ ابن صوریا کی اس پردہ پیشی پرمتوجہ ہوکر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ اس جملے سے ہٹا دیا اور متن تورات میں سے اسے پڑھا اور کہا کہ تورات کہتی ہے : یہودیوں کے لیے ضروری ہے جب کوئی عورت اور مردہ زنائے محصنہ کے مرتکب ہوں اور ان کے جرم کا کافی ثبوت موجود ہو تو انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ اس کے بعد پیغمبراکرمؐ نے حکم دیا کہ ان کے دین کے مطابق مذکورہ سزا ان دو مجرموں پر جاری کی جائے۔ اس پر یہودیوں کی ایک جماعت سیخ پا ہوگئی ، زیر نظرآیت اسی کیفیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ؎1 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس وقت موجودہ تورات میں سفر اور لادیان کی بیسویں فصل کے دسویں جملے میں ہے : اور جو شخص کسی غیر کی عورت سے زناکرے (مثلاً) اپنے ہمسائے کی بیوی سے زناکرے تو چاہیئے کہ زانی اور زانیہ کو قتل کر دیا جائے۔ اس عبارت میں اگرچہ سنگسار کا حکم صراحت سے نہیں ہے لیکن انہیں قتل کر دینے کی اصل سزا کا حکم ہے. ممکن ہے پیغمبر اسلامؐ کے زمانے کے نسخوں میں دو عبارت موجودہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
دوسوال اور ان کا جواب
دوسوال اور ان کا جواب کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کوئی جھوٹ بولے یا خدا پر افترا باندھے اور پھر خود ہی اس کے زیر اثر آجائے اوراس کے نتیجے میں مغرور ہوجائے جیسا ہ زیر نظر آیات میں فرمایا گیا ہے؟ کیا یہ باور کیا جا سکتاہے ؟ اس سوال کا جواب کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ وجدان کو دھوکا اور فریب دینے کا مسئلہ آجکل نفسیات کےمسلمہ مسائل میں سے ہے بعض اوقات قوت فکر و نظر و جدان کو غافل کردیتی ہے اور حقیقت کے چہرے کو بگاڑ دیتی ہے ۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ بڑے بڑے گناہوں مثلًا قتل . چوری یا طرح طرح کی بری عادات میں ملوث افراد اپنے اعمال کی قباحت کو اچھی طرح جاننے کے باوجود وجدان کی جھوٹی تسکین کے لیے کوشش کرتے ہیں ۔ وہ لوگوں پر کئے گئے ظلم کا انہیں مستحق قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنی ضررساں عادتوں کی توجہیہ کرتے ہیں ۔ زندگی کی ناہمواریوں اور معاشرے کی طاقت فرسا مشکلات کا نام لے کر اپنے لیے منشیات کے استعمال کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جھوٹے امتیازات اہل کتاب کی گذشتہ نسلوں نے گھڑے تھے اور بعد کی نسلیں جو اس سے آگاہ نہیں تھیں انہوں نے اسے بلاتحقیق صحیح عقیدت کے طور پر اپنالیا ۔ 2- یہ بھی سوال کیا جاسکتا ہے کہ محدود عذاب اور سزا کا عقیدہ تو مسلمانوں میں بھی موجود ہے کیونکہ یہ سارا عقیدہ ہے کہ حقیقی مسلمان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب الٰہی میں مبتلا نہیں رہیں گے اور آخر کار ان کا ایمان ان کی نجات کا سبب بنے گا۔ توجہ رہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ ایک گنہ گار اور طرح طرح کے جرائم میں آلودہ مسلمان صرف چند دن عذاب الٰہی میں مبتلا رہے گا بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ سالہا سال تک گرفتار سزا رہے گا اور اس کی سزا کی اصل مدت خدا تعالی ہی بہترجانتا ہے ممکن ہے اسکے انسان کی وجہ سے اس کی سزا دائمی اور ابدی نہ ہو اور اگر واقعًا مسلمانوں میں کچھ ایسے افراد ہوں جو یہ سمجھتے ہوں کر وہ اسلام ، پیغمبراکرمؐ اور ائمہ اطہارؑ پرایمان کے نام پر ہر طرح کا گناہ کرنے کے مجاز ہیں اور اس پر انہیں چند روز کے علاوہ سزا نہیں ہوگی تو وہ بہت بڑے اشتباہ کا شکار ہیں اور روح اسلام اور تعلیمات اسلامی سے دور رہیں۔ ہم اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے امتیاز کے قائل نہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر امت کے افراد جو اپنے اپنے زمانے کے پیغمبر پر ایمان رکھتے تھے مگر کسی گناہ کے مرتکب ہو گئے ہوں تو وہ بھی اس قانون کے تحت آتے ہیں چاہے وہ کسی قوم یا قبیلے سے ہوں جب کہ یہودی صرف بنی اسرائیل کے لیے اس امتیاز کے حامل ہیں اور دیگر اقوام عالم کے لیے وہ ایسے کسی قانون کو نہیں مانتے۔ قران ان کے اس جھوٹے امتیاز کا جواب دیتے ہوئے سورہ مائدہ کی آیت 18 میں کہتاہے. "بل أنتم بشر ممن خلق"۔ تم بھی دیگر انسانوں کی طرح ہو ۔