ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۖ وَغَرَّهُمۡ فِي دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
That is because they say, ‘The Fire shall not touch us except for a number of days,’ and they have been misled in their religion by what they used to fabricate.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:21-30
God as perfect creator and is “Perfectly good” brought into existence humans and jinn in body and soul with material and spiritual worlds. If they had reserved (a) Takvini and (b) Taklifi Former He reserved for self and latter left to creatures yet because “good” is over-powering, total power He did not leave with them else they would have revolutionized His design to His only choice was to grant limited power (under Taklif) to creation wherein His bounty supersedes evil arising from creation, pointing out the issue of following good and avoiding evil leading to paradise and hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
آیه 23-25 سوره عمران
(23) اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتَابِ اللّـٰهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ يَتَوَلّـٰى فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ وَهُـمْ مُّعْرِضُوْنَ (24) ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ۖ وَغَرَّهُـمْ فِىْ دِيْنِـهِـمْ مَّا كَانُـوْا يَفْتَـرُوْنَ (25) فَكَـيْفَ اِذَا جَـمَعْنَاهُـمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِۚ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ترجمہ (23) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کے پاس ( آسمانی) کتاب کاکچھ حصہ ہے اور ان میں فیصلے کے لیے انہیں کتاب خدا کی طرف دعوت دی گئی ہے لیکن (علم و آگہی کے باوجود ان میں سے ایک فریق نے روگردانی کی جب کہ وہ قبول حق سے اعراض کیے ہوئے تھے۔ (24) (ان کا) یہ عمل ، اس بنا پر تھا کہ وہ کہتے تھے کہ چند دن کے سوا (جہنم کی) آگ ہم تک نہیں پہنچے گی (اور دوسری قوموں سے ہمارے امتیاز کی وجہ سے ہمیں بہت ہی محدود سزا ملے گی) اور (خدا باندھے گئے) اس افتراء نے انہیں بہت مغرور کر دیا تھا۔ (25) پس اس وقت کیا حالت ہو گی جب اس (قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں سب جمع ہوں گے ہم انہیں اور ہر شخص کو جو کچھ انہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے) کمایا ہے . دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے اعمال کی فصل ہی کاٹیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
تفسیر
ان آیات میں صراحت سے اہل کتاب کی چند خیانتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ کیسے حیلہ جوئی اور ہے بنیاد مطالب کے ذریعے حدودالٰہی کے نفاذ سے بغاوت کرتے تھے ، حالانکہ ان کے پاس موجود آسمانی کتاب صراحت سے حکم بیان کرچکی ہوتی تھی کہ اپنی مذہبی کتاب میں موجود حکم کے سامنے سرتسیلم نہ کر دیں "الم تر الى الدين اوتوا نصيبا من الكتب يدعون الى كتب الله ليحكم بينهم "۔ لیکن انہوں نے صریحًا اس کی مخالفت کی اور مخالفت بھی ایسی جسے اعراض ، سرکشی اور احکام خدا پر نکتہ چینی کہا جانا چاہیئے "ثم يتولی فريق منهم وهم معرضون"۔ " اوتوا نصيبًا من الكتب" سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جو تورات اور انجیل یہود و انصارٰی کے پاس موجودتھی وہ ساری حقیقی تورات اور انجیل نہ تھی بلکہ یہ تو اس کا صرف ایک حصہ تھا اور ان دونوں آسمانی کتابوں کا بیشترحصہ یا غائب تھا یا پھر تحریف شدہ تھا۔ اس آیت کی قرآن کی دیگر آیات کی تائید کرتی ہیں . نیز تاریخی شواہد بھی اس کے مؤید ہیں۔ دوسری آیت میں ان کی مخالفت اور روگردانی کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی ایک باطل اور غلط فکر تھی اور وہ یہ کہ وہ ایک بلندہ اور ممتاز خاندان سے ہیں ۔ آج بھی وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور بہت سی تحریریں ان کی نسل پرستی کی شاہد ہیں۔ ان کا اعتقاد تھا کہ پروردگار عالم سے ان کا ایک خاص تعلق ہے یہاں تک کہ وہ اپنے تئیں خدا کے بیٹے کہتے تھے۔ جیسا کہ سوره مائدہ آیہ اٹھارہ میں ان کی زبان سے قرآن نے نقل کیا ہے۔ "نحن ابنؤ الله وأحباؤه"۔ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے خاص دوست ہیں۔ اسی لیے وہ خدائی سزا کے مقابلے میں ایک قسم کی معنویت کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ اس سے محفوظ رہیں گے اور اس امر کو خدا کی طرف سے بھی منسوب کرتے تھے لہذا ان کا اعتقاد تھا کہ ان میں سے گنہگار افراد بھی قیامت میں چند دنوں کے سوا عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے . جیسا کہ محل بحث آیات میں بھی ہے: "قالوالن تمسنا النار الا ايامًا مدودات"۔ إن ایام معدود سے مراد یاتو وہ چالیس دن تھے جن میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی عدم موجودگی میں انہوں نے گوساله پرستی شروع کردی تھی ، یہ ایسا گناہ تھا کہ وہ خود بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے تھے یا پھر اس سے مراد ان کی زندگی کے معدود اور گنے چنے دان تھے کہ جن میں انہوں نے بہت زیادہ واضح اور ناقابل انکار گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اور وہ خود بھی ان گناہوں کی توجیہ اور پردہ پوشی نہ کرسکتے تھے۔ خدا کی طرف منسوب یہ جھوٹے اور جعلی امتیازات رفتہ رفتہ ان کے عقائد کا جزبن گئے جس سے وہ مغرور ہوگئے تھے یہاں تک کے احکام خدا کی مخالفت اور قانون شکنی میں بھی بے باک ہو گئے تھے ( وغرهم في دينهم ما كانوا يفترون )۔ تیسری آیت میں قران ان تمام باطل خیالات پر خط بطلان کھینچتا ہے اور کہتا ہے: ایک روز یقینًاپروردگار کی بارگاه عدل میں دیگر انسانوں کی طرح پیش ہوں گے اور ہرشخص اپنے اعمال کا سامنا کرے گا چونکہ وہ اپنے ہی اعمال کا سامنا کریں گے اور اپنے ہی اعمال کا نتیجہ پائیں گے اس لیے انہیں جب بھی سزاملے گی اس میں ان پر کسی قسم کا ظلم وستم نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب ان کے کئے کا ماحصل ہوگا "و وفيت كل نفس ماكسبت رھم يظلمون"۔ ماکسبت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قیامت کے دن کی جزا و سزا اور دوسرے جہان کی خوش بختی و بدنیتی مصرف انسانی اعمال سے وابستہ ہے اور اس میں کوئی اور چیز موثر نہیں ہے ۔ اس حقیقت کی طرف بہت سی آیات مجیدہ میں اشارہ ہوا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
شان نزول
شان نزول تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول : رسول اللہؐ کے زمانے میں خیبر کے یہودیوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد زنائے محصنہ کے مرتکب ہوئے ۔ باوجود یکہ تورات میں ایسے اشخاص کو سنگسار کرنے کا حکم تھا، چونکہ یہ مرد عورت اشراف میں سے تھے اس لیے ان پر یہ حکم جاری کرنے میں توقف برتا گیا اور تجویز ہوا کہ پیغمبراسلامؐ سے رجوع کیا جائے اور ان سے فیصلہ حاصل کیا جائے ۔ انہیں توقع تھی کہ آپؐ کی طرف سے کم سزا معین ہوگی لیکن رسول اللہ نے بھی ان کے لیے وہی سزا معین فرمائی ۔ اس فیصلے پر بعض یہودیوں اور ان کے وڈیروں میں سے بعض نے اعتراض کیا اور اس بات کا انکار کر دیا کہ یہودی مذہب کے مطابق فیصلہ درست ہے۔ پیغمبراکرمؐ نے فرمایا : یہ موجودہ تورات ہی تمہارے اور میرے درمیان فیصلہ کردے گی۔ انہوں نے قبول کرلیا ۔ ابن صوریا ان کا ایک عالم تھا . اسے فدک سے مدنیہ بلایا گیا تھا ۔ پیغمبراکرامؐ نے اسے پہچان لیا اور فرمایا : تو ابن صوریا ہے؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں ۔ آپؐ نے فرمایا : کیا تم یہودیوں میں اعلم علماء ہو ؟ اس نے کہا : وہ یہی سمجھتے ہیں۔ پیغمبراکرم نے حکم دیا کہ اس کے سامنے تورات کا وہ حصہ رکھا جائے جس میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ وہ چونکہ پہلے سے باخبر تھا اس لیے جب تورات کی اس کاآیت پہنچا تو اس پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے بعد کے جملے پڑھ دیے۔ عبدالله بن سلام جو پہلے سعودی علماء میں سے تھا اور مسلمان ہوگیا تھا ، وہاں ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 شادی شدہ افراد کے زنا کو "زنائے محصنہ" کہتے ہیں (مترجم) ۔--------------------------------------------------------------------------- موجود تھا۔ وہ ابن صوریا کی اس پردہ پیشی پرمتوجہ ہوکر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ اس جملے سے ہٹا دیا اور متن تورات میں سے اسے پڑھا اور کہا کہ تورات کہتی ہے : یہودیوں کے لیے ضروری ہے جب کوئی عورت اور مردہ زنائے محصنہ کے مرتکب ہوں اور ان کے جرم کا کافی ثبوت موجود ہو تو انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ اس کے بعد پیغمبراکرمؐ نے حکم دیا کہ ان کے دین کے مطابق مذکورہ سزا ان دو مجرموں پر جاری کی جائے۔ اس پر یہودیوں کی ایک جماعت سیخ پا ہوگئی ، زیر نظرآیت اسی کیفیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ؎1 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس وقت موجودہ تورات میں سفر اور لادیان کی بیسویں فصل کے دسویں جملے میں ہے : اور جو شخص کسی غیر کی عورت سے زناکرے (مثلاً) اپنے ہمسائے کی بیوی سے زناکرے تو چاہیئے کہ زانی اور زانیہ کو قتل کر دیا جائے۔ اس عبارت میں اگرچہ سنگسار کا حکم صراحت سے نہیں ہے لیکن انہیں قتل کر دینے کی اصل سزا کا حکم ہے. ممکن ہے پیغمبر اسلامؐ کے زمانے کے نسخوں میں دو عبارت موجودہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:23-25
دوسوال اور ان کا جواب
دوسوال اور ان کا جواب کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کوئی جھوٹ بولے یا خدا پر افترا باندھے اور پھر خود ہی اس کے زیر اثر آجائے اوراس کے نتیجے میں مغرور ہوجائے جیسا ہ زیر نظر آیات میں فرمایا گیا ہے؟ کیا یہ باور کیا جا سکتاہے ؟ اس سوال کا جواب کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ وجدان کو دھوکا اور فریب دینے کا مسئلہ آجکل نفسیات کےمسلمہ مسائل میں سے ہے بعض اوقات قوت فکر و نظر و جدان کو غافل کردیتی ہے اور حقیقت کے چہرے کو بگاڑ دیتی ہے ۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ بڑے بڑے گناہوں مثلًا قتل . چوری یا طرح طرح کی بری عادات میں ملوث افراد اپنے اعمال کی قباحت کو اچھی طرح جاننے کے باوجود وجدان کی جھوٹی تسکین کے لیے کوشش کرتے ہیں ۔ وہ لوگوں پر کئے گئے ظلم کا انہیں مستحق قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنی ضررساں عادتوں کی توجہیہ کرتے ہیں ۔ زندگی کی ناہمواریوں اور معاشرے کی طاقت فرسا مشکلات کا نام لے کر اپنے لیے منشیات کے استعمال کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جھوٹے امتیازات اہل کتاب کی گذشتہ نسلوں نے گھڑے تھے اور بعد کی نسلیں جو اس سے آگاہ نہیں تھیں انہوں نے اسے بلاتحقیق صحیح عقیدت کے طور پر اپنالیا ۔ 2- یہ بھی سوال کیا جاسکتا ہے کہ محدود عذاب اور سزا کا عقیدہ تو مسلمانوں میں بھی موجود ہے کیونکہ یہ سارا عقیدہ ہے کہ حقیقی مسلمان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب الٰہی میں مبتلا نہیں رہیں گے اور آخر کار ان کا ایمان ان کی نجات کا سبب بنے گا۔ توجہ رہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ ایک گنہ گار اور طرح طرح کے جرائم میں آلودہ مسلمان صرف چند دن عذاب الٰہی میں مبتلا رہے گا بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ سالہا سال تک گرفتار سزا رہے گا اور اس کی سزا کی اصل مدت خدا تعالی ہی بہترجانتا ہے ممکن ہے اسکے انسان کی وجہ سے اس کی سزا دائمی اور ابدی نہ ہو اور اگر واقعًا مسلمانوں میں کچھ ایسے افراد ہوں جو یہ سمجھتے ہوں کر وہ اسلام ، پیغمبراکرمؐ اور ائمہ اطہارؑ پرایمان کے نام پر ہر طرح کا گناہ کرنے کے مجاز ہیں اور اس پر انہیں چند روز کے علاوہ سزا نہیں ہوگی تو وہ بہت بڑے اشتباہ کا شکار ہیں اور روح اسلام اور تعلیمات اسلامی سے دور رہیں۔ ہم اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے امتیاز کے قائل نہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر امت کے افراد جو اپنے اپنے زمانے کے پیغمبر پر ایمان رکھتے تھے مگر کسی گناہ کے مرتکب ہو گئے ہوں تو وہ بھی اس قانون کے تحت آتے ہیں چاہے وہ کسی قوم یا قبیلے سے ہوں جب کہ یہودی صرف بنی اسرائیل کے لیے اس امتیاز کے حامل ہیں اور دیگر اقوام عالم کے لیے وہ ایسے کسی قانون کو نہیں مانتے۔ قران ان کے اس جھوٹے امتیاز کا جواب دیتے ہوئے سورہ مائدہ کی آیت 18 میں کہتاہے. "بل أنتم بشر ممن خلق"۔ تم بھی دیگر انسانوں کی طرح ہو ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:24
[Pooya/Ali Commentary 3:24] Aqa Mahdi Puya says: The arrogant persistence to follow their own opinion, based upon conjecture, in the application of divine laws, created a rebellious tendency in the people of the book, which encouraged them to presume that ultimate salvation is obtainable only by mere (what is said and nothing else) declaration of the faith, and if there is punishment for misdeeds and wrongdoing, it would be only for a certain number of days. As mentioned in verse 22 of this surah, there shall be no helper for them on the day of reckoning.