إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
Indeed, with Allah religion is Islam, and those who were given the Book did not differ except after knowledge had come to them, out of envy among themselves. And whoever denies Allah’s signs [should know that] Allah is swift at reckoning.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:19
[Pooya/Ali Commentary 3:19] Islam means submission or surrender to the will of Allah. The act of submitting his self by the believer to the will of Allah has been mentioned in verse 112 of al Baqarah and verse 22 of Luqman. The Quran also makes it known that the religion of Islam (submission to the will of Allah) was preached by all the messengers of Allah in the language of the people amongst whom they were sent by Him. Islam is also the natural religion of every human being. The nature (caused by) Allah, in which He has created man. (Rum: 30) The Holy Prophet has said: Every child is born in the mould of nature (Islam). It is the parents who make him (or her) a Jew or a Christian. Right from the beginning, every messenger of Allah preached Islam, but misunderstanding, bias and hatred among the followers of the prophets corrupted the original message. Ayat means signs. Every prophet and every imam through whom the unity of His essence is proved and made known is His sign. Whoever denies His signs (including the prophets and the imams) is a disbeliever. This verse is also applicable to those who differed after coming into the fold of Islam. See verses 85 to 87 of this surah. Aqa Mahdi Puya says: Islam is the only religion of Allah. The differences among the various religions and their sects are due to the tendency of revolt against the truth after it has been made known.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:19
مذہبی اختلافات کا سر چشمہ
ضمنی طور پر اس آیت سے ایک جالب نظر بات معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ زیادہ ترمذہبی اختلافات کا سر چشمہ جہالت، نادانی اور بے خبری نہیں ہے بلکہ ، سر کشی ، ظلم ، انحراف حق اور ذاتی مفادات ہی ا س کی پیشتر وجوہات ہوتی ہیں ۔ اگر سب لوگ عموماً اور علماء خصوصاً تعصب ، کینہ پروری ،تنگ نظری، ذاتی مفادات اور اپنے حقوق سے تجاوز سے بارز رہیں اور حقیقت شناسی اور عدالت سے کام لیتے ہوئے احکام الہٰی کا مطالعہ کریں تو انہیں شاہراہ حق بہت ہی واضح دکھائی دے گی اور اختلاف بہت تیزی سے حل ہو جائیں گے ۔ یہ آیت در حقیقت ان لوگوں کا دندان شکن جواب ہے جو کہتے ہیں کہ مذہب لوگوں میں اختلاف پیدا کرتا ہے اور اس کی وجہ تاریخ میں بہت سی خون ریزیاں ہوئی ہیں ، یہ لوگ در اصل ، مذہب اور” مذہبی تعصبات اور انحرافی افکار “ میں فرق نہیں کرپائے کیونکہ اگر مذاہب کے احکام و قوانین کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ سب ایک ہی ہدف اور مقصد کے درپے ہیں اور سب سعادتِ بشر کے لئے آئے ہیں اگر چہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ تکمیل تک پہنچا ہے ۔ آسمانی ادیان اصل میں آسمان سے برسنے والے بارش کے قطروں کی طرح ہیں ۔ بارش کے سب قطرے حیات بخش ہیں لیکن وہ شوردار اور تلخ زمینوں پر پڑتے ہیں تو مختلف رنگوں اور ذائقوں بدل جاتے ہیں اور ان اختلاف کا بارش سے تعلق نہیں بلکہ اِن کا تعلق تو زمینی کثافتوں اور آلودگیوں سے ہے ۔ ادیان کے سلسلہٴ تکامل پر آخری بات یہ ہے کہ ان میں سے آخری دین کامل تر ہے ۔ ۲۰۔ فَإِنْ حَآجُّوکَ فَقُلْ اٴَسْلَمْتُ وَجْہِی لِلَّہِ وَمَنْ اتَّبَعَنِی وَقُلْ لِلَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ وَالْاٴُمِّیِّینَ اٴَاٴَسْلَمْتُمْ فَإِنْ اٴَسْلَمُوا فَقَدْ اہْتَدَوا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ وَاللهُ بَصِیرٌ بِالْعِبَادِ ۔ ترجمہ ۲۰۔ اگر تم سے گفتگو اور جھگڑے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ( تو ان سے مجادلہ نہ کرو ) اور کہہ دو ! میں اور میرے پرو کار خدا کے ( اس کے فرمان کے ) سامنے تسلیم ہیں اور جو اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہیں ار جواَن پڑھے ( مشرکین ) ہیں ان سے کہہ دو کیا تم بھی تسلیم ہوئے ہو؟ اگر وہ ( فرمان ِ خدا اور منطق حق کے سامنے ) سر تسلیم خم کردیں تو ہدایت پالیں اور اگر روگردانی کریں (تو تم پریشان نہ ہو کیونکہ ( تم پر تو ابلاغ رسالت کی ذمہ داری ) ہے اور خدا بندوں کے ( عقائد و اعمال ) دیکھتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:19
حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی روح دین ہے
” دِین “ کا معنی ہے ” جزاء “ ۔” پاداش“ ، حکم کی اطاعت“ اور ” پیروی “۔ مذہبی اصطلاح میں دین عبارت ہے ان عقائد ، قوانین اور آداب سے جن کے ذریعے انسان دنیا و آخرت کی سعادت و خوش بختی تک رسائی حاصل کرسکت اہے ۔ نیز انفرادی و اجتماعی اور اخلاقی و تربیتی لحاظ سے صحیح راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ۔ ” اِ سلام “ ” تسلیم “ کے معنی میں ہے اور یہاں مراد خدا کے سامنے تسلیم ہونا ہے ، اس لئے ” انّ الدِّین عند الاسلام “کامعنی یہ ہوگا کہ بار گاہ الہٰی میں حقیقی دین اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کسی دوسری چیز کا نام نہیں البتہ چونکہ پیغمبر اکرم کا دین و آئین اس کا علیٰ ترین نمونہ تھا اس لئے اس کے لیے اسلام کے نام کا انتخاب ہوا ۔ نہج البلاغہ کے کلمات ِ قصارمیں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا اس حقیقت کے بارے میں عمیق اور گہرے مفہوم پر مبنی یہ جملہ مقصد کو واضح کرتا ہے : ”لا نسبن الاسلام نسبة لم ینسبھا احد قبلی: الاسلام ھو التّسلیم ، و التَّسلیم ھو الیقین ، و الیقین ھو التّصدیق ھو التّصدیق ، و التّصدیق ھو الاقرار، و الاقرار ھو الاداء، و الاداء ھو العمل ۔“ اس عبارت میں امام علیہ السلام نے پہلے فرمایا ہے : ” میں چاہتا ہوں اسلام کی ایسی تفسیر بیان کروں جو کسی نے نہ کی ہو ۔ اس کے بعد آپ (ع) نے اسلام کے چھ مر حلے بیان فرمائے ہیں جو یہ ہیں :: ۱۔ اسلام حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے ۔ ۲۔ تسلیم یقین کے بغیر ممکن نہیں ( کیونکہ یقین کے بغیر تسلیم اندھادھند تسلیم ہے عالمانہ نہیں ) ۳۔ یقین تصدیق کا دوسرا نام ہے ( یعنی علم و دانائی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اعتقاد اور تصدیق قلب ضروری ہے ۔ ۴۔ تصدیق ہی اقرار ہے ( یعنی قلب و روح سے تصدیق کافی نہیں بلکہ جراٴت و ہمت سے اس کا اظہار بھی کرنا چاہئیے ۔ ۵۔ اقرار ذمہ داری کو پورا کرنا ہے ، اقرار تو زبان تک محدود ہوتا ہے ، اصل تو مسئولیت اور ذمہ داری کو قبول کرنا ہے ) ۔ ۶۔ مسئولیت کو قبول کرنا ادائیگی اور عمل ہی کو کہتے ہیں ۔ اور وہ لوگ جو اپنی وقت و توانائی کو فقط گفتگو ، بیانات، جلسوں او رکانفرنسوں ہی میں صرف کرکے رہ جاتے ہیں اور باتوں سے آگے نہیں بڑھتے وہ نہ اپنی ذمہ داری کو قبول کیے ہوئے ہیں اور نہ روحِ اسلام سے واقف ہیں ۔ اسلام کے تمام پہلووٴں کو مد نظر رکھنے والی یہ واضح ترین تفسیر ہے ۔ ”وما اختلف الذین اوتوا الکتاب الاّمن بعد ما جائھم العلم بغیاً بینھم“۔ اس جملے میں قرآن نے مذہبی اختلافات کے سر چشمے کا تذکرہ کیا ہے اور فرمایا ہے : وہ لوگ جو حقیقت سے آگاہ تھے اِ س کے باوجود انہوں نے دین ِ خدامیں اختلاف پیدا کیا ان کے اس عمل ک اسبب طغیان ، سر کشی ، ظلم و ستم اور حسد کے علاوہ کچھ نہیں تھا کیونکہ ہر آسمانی دین ہمیشہ واضح مدرارک سے منسلک ہوتاہے جن وجہ سے متلاشیان حقیقت کے لئے کوئی ابہام باقی نہیں رہتا ۔ مثلاً پیغمبر اسلام کے لئے واضح معجزات ، کھلی نشانیوں اور روشن دلائل کے علاوہ جو آپ کے دین میں موجود تھے اور آپ کی حقانیت کے گواہ تھے ۔ گذشتہ کتب آسمانی میں مذکور آپ کے اوصاف اور نشانیاں بھی موجود تھیں اور ان کتب کے کچھ حصّے ان کے پاس تھے بھی اور انہی کے پیش نظر ان کے علماء آپ کے ظہور سے قبل آپ کے ظہور کی بشارت دیا کرتے تھے لیکن آپ کی بعثت کے بعد انہیں اپنے فوائد معرض خطر میں نظر آنے لگے اس لیے ظلم و ستم اور طغیان و سر کشی کی راہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے وہ سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا ۔ ” فمن یّکفر باٰیات اللہ فانّ اللّہ سریع الحساب“۔ آیات کے آخر میں ایسے لوگوں کا مال کار بیان کیا گیا : وہ لوگ جو آیات الہٰی کو ٹھکرادیتے ہیں ، اپنے اعمال کا مکمل نتیجہ حاصل کریں گے ، خدا تعالیٰ ان کے اعمال کا بہت جلد حساب کرے گا ۔ سریع الحساب کے مفہوم کے بارے میں اسی جلد میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۰۲ کے ذیل میں بحث کی جاچکی ہے ، اس سے رجوع فرمائیں