فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
If they argue with you, say, ‘I have submitted my will to Allah, and [so has] he who follows me.’ And say to those who were given the Book and the uninstructed ones, ‘Do you submit?’ If they submit, they will certainly be guided; but if they turn away, then your duty is only to communicate, and Allah watches His servants.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:20
[Pooya/Ali Commentary 3:20] Allah reveals His will through reason, therefore, when every evidence, based upon reason, has been established to prove the truth of Islam, every rational human being should discard pride and prejudice and surrender his self (wholly) to Allah. All members of the human society, the Jews and the Christians who have been given the book and those who do not follow any heavenly scripture, will be joined together in one brotherhood, if they see the light of reason and submit to the will of Allah (in other words) by accepting the universal religion of Islam. "If this be Islam", asks Goethe, "do we not all live in Islam?" "Yes", answers Carlyle," all of us that have any moral life, we all live so." As the Holy Prophet has observed, Islam is the natural religion that a child, left to itself, would develop. Islam is the religion of common-sense. The Holy Prophet delivered the message and preached it, but he is not responsible if the people, even after being rightly guided, go astray.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:20
لغت میں ”محاجّہ“
لغت میں ”محاجّہ“ بحث ، مباحثہ ، گفتگو ، استدلال اور کسی عقیدے کے دفاع کو کہتے ہیں ، یہ فطری امر ہے کہ ہر دین کے طرفدار اپنے مقصد اور عقیدے کا دفاع کرتے ہیں اس سلسلے میں اپنے آپ کو حقدار قرار دیتے ہیں اس لحاظ سے قرآن رسول اللہ سے کہتا ہے : ہو سکتا ہے اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ وغیرہ ) تم سے بحث کریں اور کہیں کہ تم حق کے سامنے تسلیم ہیں اور حق کی طرفداری کے معنی میں اسلام کے پیروکار ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس بارے میں اپنی استقامت و پائیداری کا مظاہرہ کریں جیسا کہ نجران کے عیسائیوں نے بھی پیغمبر اسلام سے ایسی ہی گفتگو کی تھی ۔ مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو یہ حکم نہیں دیا کہ اہل کتا سے بحث مباحثہ اور گفتگو ہی نہ کی جائے بلکہ یہاں ایک اور حکم دیا گیا ہے ج سکے مطابق جب بحث آخری مرحلے تک پہنچ جائے تو اس وقت نہ ان کی راہنمائی کی ضرورت ہے نہ مخاصمت و مجادلہ کی ۔ بہترین راستہ یہ ہے کہ اگر وہ بھی خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور پیروحق ہیں تو انہیں چاہئیے کہ منطقی گفتگو کے سامنے سر جھکا دیں اور اس صورت میں ان سے بحث و مباحثہ اور گفتگو کی کو ئی ضرورت نہیں کیونکہ اس مقام پر گفتگو بے محل اور بے اثر ہے اور تبلیغ رسالت کے علاوہ کوئی چیز تم پر لازم نہیں ہے ۔ ”فان اسلموا فقد اھتدوا و ان تولّوا فانّما علیک البلاغ“ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال و فکا رکو دیکھتا ہے ” و اللہ بصیر بالعباد “ اس مقام پر چند نکات قابل توجہ ہیں : ۱۔ آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ہٹ دھرم افراد سے بحث مباحثے سے پرہیز کرنا چاہئیے جو صحیح منطق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ۲۔ ”امیین “( امّی اسے کہتے ہیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو ۔ )سے اس آیت میں مراد ” مشرکین “ ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذکر بھی کتاب (یہود و نصاریٰ ) کے مقابلے میں آیا ہے اور ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے وہ پڑھنے لکھنے پر مجبور ہوتے ۔ ۳۔ اس آیت سے مکمل طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا طریقِ کار فکر و نظر اور عقیدہ ٹھونسنا نہیں تھا ، بلکہ آپ کی کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں پر حقائق آشکار ہوجائیں اور پھر انہیں ان کی حالت پر چھو ڑ دیا جائے تاکہ وہ خود حق کی پیروی کے لئے عزم صمیم کریں ۔ ۲۱۔ إِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللهِ وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّینَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَیَقْتُلُونَ الَّذِینَ یَاٴْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنْ النَّاسِ فَبَشِّرْهم بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ ۔ ۲۲ اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهم فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَھُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ۔ ترجمہ ۲۱۔ جو لوگ آیاتِ خدا سے کفرکرتے ہیں انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور عدل کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کردیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیجئے ۔ ۲۲۔ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے نیک اعمال ( ان عظیم گناہوں کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں تباہ ہو گئے ہیں اور ان کا کوئی یار و مدد گار ( اور شفاعت کرنے والا ) نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:20
انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیجئے
ان دو آیتوں میں پہلے ان تین عظیم گناہوں کا ذکر ہے : ۱۔ آیات الہٰی کفر اختیار کرنا ، ۲۔ انبیاء کو ناحق قتل کرنا اور ۳۔ انبیاء ومرسلین کے پروگرام کی حفاظت کرنے والوں اور لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دینے والوں ک وبھی قتل کردینا ۔ اس کے بعد ان کے لئے تین سزاوٴں اور بد بختیوں کا تذکرہ ہے جو یہ ہیں : ۱۔ ” فبشر ھم بعذاب ٍ الیم “۔ ( انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیجئے ) اس جملے میں ان کے کے لئے سخت سزا کا ذکر ہے ۔ ۲۔ بعد والی آیت میں ہے : ” اولٰئک الّذین حبطت اعمالھم فی الدّنیا و الآخرة“۔ ( یعنی ان لوگوں کے اعمال اس دنیا میں اور آخرت میں نابوداور اکارت ہ وجائیں گے اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو نیک اعمال انجام دے چکے ہیں وہ بھی ان کے عظیم گناہوں سے متاٴثرہوں گے تاثیر کھو بیٹھیں گے اور ضائع ہوجائیں گے ۳۔ آخر میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں ملنے والی سخت سزا اور شدید عذاب کے مقابلے میں کوئی بھی شخص ان کی حمایتت کرنے والا نہیں ہوگایعنی وہ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے بھی محروم رہیں گے” وما لھم من نّاصرین “۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۶۱ کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی عجیب تاریخ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ آیات الہٰی کے انکار کے علاوہ انبیاء کو قتل کرنے میں بھی بڑی جسارت کا مظاہرہ کرتے تھے اوران مجاہدوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے جو انبیاء کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے لیکن مسلم ہے کہ یہ حکم اور سزاان کے لئے مخصوص نہیں ہے ، بلکہ ان تمام اقوام کے بارے میں ہے جو ان جیسے افعال و اعمال بجالاتی ہیں ۔