إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
Those of you who fled on the day when the two hosts met, only Satan had made them stumble because of some of their deeds. Certainly, Allah has excused them, for Allah is all-forgiving, all-forbearing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:155
[Pooya/Ali Commentary 3:155] Because of their long association with idolatry, the deserters, who either had embraced Islam under unavoidable circumstances or with ulterior motives, fell an easy prey to the satanic promptings. As Allah is oft-forgiving and forbearing, He pardons those who repent and ask forgiveness, but it should be noted that such pardoned sinners cannot and should not be chosen as the leaders of the faithfuls. Moreover, about those who avoid fighting against an aggressor, the Quran says in verses 15 and 16 of Anfal: When you meet unbelievers on the field of battle, do not turn backs to them. For any one who turns his back on that day, except to manoeuvre or rally to his side, will bring the wrath of Allah on himself, and have hell as abode-an evil destination. As per verse 11 of al Tawbah Islam means "selling of self" to Allah. Once a thing is sold it must be handed over to the purchaser. If one does not do so, it means, one is deceiving Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:155
ایک گناہ دوسرے گناہ کا سرچشم ہے
(155) اِنَّ الَّـذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُـمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ حَلِـيْمٌ ترجمہ (155) وہ لوگ جنہوں نے دو گروہوں کے آمنے سامنے ہونے کے دن (جنگ احد کے روز) فرار کیا ، انہیں شیطان نےان کے چندگناہوں کی وجہ سے بہکا دیا اور خدانے انہیں معاف کردیا۔خدا بخشنے والا اور بردبار ہے۔ تفسیر ایک گناہ دوسرے گناہ کا اسرچشم ہے ان الذين تولوا منکم... یہ آیت بھی جنگ آمد کے واقعات سے متعلق مسلمانوں سے ایک اور درحقیقت بیان کرتی ہے اور وہ کہ جو لغزشیں انسان سے شیطانی وسوسوں کے باعث صادر ہوتی ہیں، وہ دراصل ان گزشت گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی روحانی کمزوریوں کو نیجہ ہوتی ہیں ۔ جوانسان کے لیے دوسرے گناہوں کی راہ ہموارکرتی ہیں راہ پاک و پاکیزہ دل میں نیشطانی توہمات کبھی اثرانداز نہیں ہورسکتے۔ اسی لیے خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ : وہ لوگ جو میدان احد سے فرار گئے شیطان نے انہیں چند ایک گناہوں کی وجہ سے پھسلادیا مگر خدا نے انہیں بخش دیا اور خدا بخشنے والا اورحلیم ہے ۔ یوں خدا ان کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ آئندہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں وہ پہلے اپنے دل کو گناہ سے پاک کریں ۔ اس بات کا امکان ہے کہ اس گناہ سے مراد وہی دنیا پرستی ، مال غنیمت کوجمع کرنا اور دوران و جنگ پیغمبرؐ کی حکم عدولی کرنا ہو یا دوسرے گناہ مراد ہوں جن کے وہ جنگ آمد سے پہلے مرتکب ہوئے تھے اورانہوں نے ان کی ایک قوت کمزور کردی تھی ۔ مفسرعظیم مرحوم طبرسی اس آیت کے ذیل میں ابوالقاسم بلخی سے نقل کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن (پیغمبر کےعلاوه) سوائے تیرہ افراد کے تمام بھاگ گئے تھے اور ان تیرہ میں سے آٹھ انصار اور پانچ مہاجر تھے۔ جن میں سے حضرت علیؑ اور طلحہ کے علاوہ باقی ناموں میں اختلاف ہے البتہ دونوں کے بارے میں تمام کا اتفاق ہے کہ انہوں نے فرار نہیں کیا