وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
Hasten towards your Lord’s forgiveness and a paradise as vast as the heavens and the earth, prepared for the Godwary
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:133
[Pooya/Ali Commentary 3:133] (see commentary for verse 131)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:133-136
کیا جنت و دوزخ اس وقت موجود ہیں ؟
اکثر علماء اسلام کا عقیدہ ہے کہ یہ دونوں اس وقت وجود خارجی رکھتے ہیں اور قرآنی آیات کا ظاہری معنیٰ بھی اس کی تاکید کرتا ہے ۔ نمونے کے طور پر : (۱) محل بحث آیت اور دیگر کثیر آیات میں” اُعِدّت “(تیار کی جا چکی ہے ) استعمال ہوا ہے یا بعض دوسری تعبیرات جو اسی مادہ سے ہیں جو بعض مقا مات پر بہشت کے بارے میں اور بعض جگہ دوزخ کے بارے میں آئی ہیں ۔۱# ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہشت و دوزخ اس وقت تیار موجود ہیں اگر چہ انسانوں کے نیک وبد اعمال کے نتیجہ میں ان میں وسعت پیدا ہوتی رہتی ہے ( غور کریں ) (۲) معراج سے متعلق سورہ النجم کی آیات میں یوں ہے : وَ لَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً اٴُخْری ۔عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَہی ۔عِنْدَہا جَنَّةُ الْمَاٴْوی ۔ دوسری مرتبہ پیغمبر نے جبرئیل کو سدر ة المنتہٰی کے پاس دیکھاجہاں دائمی جنت ہے ( والنجم ۔۱۳ تا۱۵)۔ یہ تعبیر جنت کے وجود پر دوسری شہادت ہے۔ کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیَقینِ ۔لَتَرَوُنَّ الْجَحیمَ ۔ثُمَّ لَتَرَوُنَّہا عَیْنَ الْیَقینِ ۔ اگر تمہیں علم الیقین ہوتا تو دوزخ کا مشاہدہ کرتے پھر اسے عین الیقین کے ساتھ دیکھتے ۔ معراج سے مربوط اور دیگر آیات میں بھی اس مسئلہ کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ 2# ۱# ۔سورہ توبہ آیت ۸۹ و آیت ۱۰۰ ، سورہ فتح آیت ۶ ، بقرہ آیت ۲۴ ، آل عمران ۱۳۱ و ۱۳۳ ، سورہ الحدید آیت ۲۱ کیطرف رجوع فرمائیں ۔ 2#۔ توجہ رہے کہ عالم آخرت کی جنت اس سے مختلف ہے جس میں حضرت آدم (ع) رہے تھے ۔ کیونکہ وہ حضرت آدم(ع) کی خلقت سے قبل موجود تھی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:133-136
سعادت کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت
سعادت کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت ” وسارعوا الیٰ مغفرة من ربک“ ” وسارعوا “سارعت سے ہے جس کے معنی ہیں کسی مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے دو یا دو سے زیادہ افراد کی کوشش ۔ نیک کاموں میں یہ قابل ستائش ہے اور برے کاموں میں مذموم۔ گذشتہ آیات کے بعد کہ جو بد کاروں کو جہنم کی تہدید اور نیک لوگوں کو رحمت الہی کی تشویق کرتی ہےں ۔ اس آیت میں نیک لوگوں کی کوشش اور جستجو کو معنوی مقابلہ سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ جس کا آخری مقصد خدا کی بخشش اور بہشت کی دائمی و ابدی نعمات ہیں اور قرآن کہتا ہے کہ اس مقصد تک رسائی کے لئے ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرو ۔ در حقیقت قرآن ایک نفسیاتی پہلو کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ انسان اگر کسی کام کی انجام دہی میں تنہا ہو تو عموماً اس کام کو وہ حسب عادت تاخیر سے پایہٴ تکمیل تک پہنچا تا ہے لیکن اگر اس میں مقابلے کا پہلو ہو اور مقابلہ بھی ایسا جس میں ایک بیش بہا انعام پر داوٴ لگایا گیا ہو تو وہ اپنی تمام تر قوت وتوانائی سرف کرتا ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ اپنے مقسد کی طرف پیش رفت کرتا ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس مقابلہ کا پہلا مقصد مغفرت قرار دیاگیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر معنوی مقام تک رسائی گناہوں کی آلودگی سے پاک وصاف ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ لہٰذا سب سے پہلے اپنے آپ کو گناہ سے پاک کیا جائے اور اس کے بعد مقام تقریب الٰہی کی طرف قدم اٹھایا جائے ۔ ”وجنت عرضھا السمٰوٰت والارض“ اس معنوی مقابلہ کا دوسر ہدف بہشت ہے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے ۔ (یہ مخفی نہ رہے کہ اس آیت میں عرض سے مراد علم ہندسہ کی اصطلاح نہیں ہے کہ عرض طول کے مقابلہ میں ہو، بلکہ اس سے مراد وسعت اور پھیلاوٴ ہے )۔ اس طرح قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کی وسعت جتنی ہے اور سورہٴ حدید کی آیت ۲۱ میں یہی تعبیر معمولی فرق کے ساتھ ہے۔ ”سابِقُوا إِلی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُہا کَعَرْضِ السَّماء ِ وَ الْاٴَرْضِ “ اس آیت میں مسارعت کی بجائے صراحت کے ساتھ لفظ مسابقت آیا ہے اور سماء مفرد کی شکل میں ہے اور اس کے ساتھ الف لام جنس کے اعتبار سے ہے جو یہاں عموم کا مفہوم دے رہا ہے اور کاف سے تشبیہ معلوم ہوتی ہے بایں طور پر کہ محل بحث آیت میں تصریح کے ساتھ کہا گیا ہے کہ بہشت کی وسعت آسمانوں اورزمین کی وسعت کے برابر ہے لیکن سورہ ٴ الحدید کی آیت میں ہے کہ اس کی وسعت آسمانوںاورزمین کے مانند ہے لیکن دونوں تعبیروںکا معنی و مفہوم ایک ہے آیت کے آخر میں اس بات تصریح کی گئی ہے کہ یہ بہشت اس عظمت کے ساتھ پرہیزگاروں کے لئے تیر کی گئی ہے ۔ ”اعدت للمتقین“ اب یہان یہ سوال ذھن میں اٹھ سکتا ہے : اولاً یہ کہ کیا جنت وجہنم پیدا ہو چکے ہیں اور وہ وجود خارجی رکھتے ہیں یا بعد میں لوگوں کے اعمال کے حساب سے ایجاد ہوں گے َ ثانیاً یہ کہ اگر وہ خلق ہو چکے ہیں تو وہ کہاں ہیں ( توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کہتا ہے کہ صرف جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:133-136
پرہیزگاروں کی نشانیاں
”الَّذینَ یُنْفِقُونَ فِی السَّرَّاء ِ وَ الضَّرَّاء ِ ۔۔۔۔۔۔“ گذشتہ آیت میں پرہیزگاروں کو دائمی جنت کی نوید سنائی گئی تھی ، اس لئے اس آیت میں ان کا تعارف کرایا جا رہا ہے اور ان کی پانچ اعلیٰ امتیازی خصوصیات بیان کی گئیں ہیں: ۱۔ وہ ہر حالت میں خرچ کرتے ہیں چاہے وہ آرام و فراخ د ستی میں ہوں یا پریشانی اور محرومیت میں مبتلا ہوں ۔ وہ اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ دوسرون کی مدد کرنے اور نیکی کا جذبہ ان کی روح کی گہرائیوں میں اترا ہوا ہے ۔ اسی بناء پر وہ ہر حالت میں اس کے لئے عملی طور پر تیار ہوتے ہیں کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ آسودگی کی حالت میں خرچ کرنا سخاوت جیسی بلند صفت کی نشاندہی نہیں کرتا البتہ وہ لوگ جو ہر حالت میں ضرورت مندوں کونوازتے ہیں ، وہ اس کا بین ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ ان میں یہ صفت راسخ ہے ۔ ہاں ! اس مقام پر ذہنوں میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ تنگدستی کی حالت میں انسان کیونکر خرچ کر سکتا ہے ؟ لیکن اس سوال کو جواب واضح ہے کہ تنگدست افراد بھی اپنی قدرت کے مطابق دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں ۔ثانیاً یہ کہ خرچ و انفاق صرف مال و ثروت میں منحصر نہیں ہیں بلکہ خدا کے ہر عطیہ سے اس کا تعلق ہے ۔ چاہے مال و ثروت ہو ، نعمت علم و دانش ہو یا دیگر نعمات الٰہی ۔ اس عمل سے خداچاہتا ہے کہ صاحبان دولت کے علاوہ قربانی و فداکاری کی روح غریبوں کے دلوں میں بھی پروان چڑھ جائے تا کہ وہ بسیار اخلاقی برائیوں سے دور ہوں جو بہت زیادہ ہیں اور جن تمام کا سر چشمہ بخل ہے ۔ اس مقام پر ان لوگوں کا جواب موجود ہے جو راہ خدا میں قلیل امداد کو کم سمجھتے ہیں ۔ ان کے اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک امداد پر علیحدہعلیحدہ نظر رکھتے ہیں ورنہ یہی تھوڑی تھوڑی امداد یں اگر جمع کی جائیں مثال کے طور پر ایک ملک کے تمام رہنے والے امیر و غریب تھوڑے تھوڑے پیسے بندگان خدا کے لئے جمع کریں تو وہ بڑے سے بڑا کام انجام دے سکتے ہیں ۔ علاوہ از ایں انفاق کا اخلاقی اور روحانی اثر زیادہ خرچ کرنے سے نہیں ہے بلکہ اس کے تمام اثرات انفاق ترنے والے کی نیت پر مرتب ہوتے ہیں۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہاں پرہیزگاروں کی پہلی عمدہ صفت انفاق (راہ خدا میں خرچ کرنا )ذکر ہوئی ہے کیونکہ یہ وآیات سود خوروں اور سامراجیوں کے مد مقابل صفات کو بیان کر رہی ہےں کہ جن کا ذکر گذشتہ آیات میں ہو چکا ہے ۔ علاوہ ازایںخوشی اور تنگدستی کی حالت میں مال و دولت کی قربانی تقویٰ کی واضح ترین علامت ہے ۔ ۲۔ والکاظمین الغیظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں۔ ”کظم “کے لگعی معنیٰ پانیبھری مشک کے دھانے کو بابدھنے کے ہیں اور منایہ کے طور پر ان لوگوں کی صفت بیان کی جاتی ہے کہ جو آتش غیظ و غضب سے بھرے ہوئے ہوں لیکن اسے استعمال نہ کریں ۔ لفظ غیظ کا معنی شدت غضب ہے جو ایک روحانی ہیجان ہے جو طبیعت کے خلاف چیزوں کو دیکھ کر انسان پر طاری ہو جاتا ہے اور انسان کو آپے سے باہر کر دیتا ہے غصہ کی حالت خطرناک ترین حالت ہوتی ہے اور اگر اسے روکا نہ جائے تو ایک دیوانگی کا عالم ہوتا ہے اور اعصابی نظام کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے ۔ جس سے معاشرہ میں بہت سے جرائم نمودار ہوتے ہیں ۔اس لئے درج بالا آیت میں پرہیزگاروں کی دوسری صفت غصہ کو پی جانا اطاہر کی گئی ہے ۔ حضرت وسول خدا فرماتے ہیں : ” من کظم غیظاً و ھو قادر علی انفاذہ ملاہ اللہ امنا و ایماناً “ جو شخص اپنے غصہ کو پی جائے جبکہ اسے استعمال کرنے پر قادر ہو تو خدا اس کے دل کو امن و ایمان کی روشنی سے منور کرتا ہے ۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ غصہ پی جانا انسان کی معنوی اور روحانی ترقی اور ایمان کی پختگی کے لئے بہت موٴثر ہے ۔ ۳۔ والعافین عن الناس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں ۔ غصہ کو پی جانا ( اپنے مقام پر ) بڑی بڑی اچھی خوبی ہے لیکن یہ انسان کے دل کو بغض و کینہ سے پاک نہیں کرتا لہٰذا بغض و کینہ کی برائی ختم کرنے کے لئے ان دونوں ( غصہ کو پی جانا اور در گذر کرنا ) کو کیجا کر دیا گیا ہے ۔ البتہ ایسے افراد سے در گذر کرنا مراد ہے کہ جو اس کے اہل ہوں ۔ ۴۔ واللہ یحب المحسنین۔۔۔۔۔ اور وہ نیکی کرنے والے ( لوگ ہونے کی وجہ سے ) اللہ کو محبوب ہیں ۔ اس حصہ میں عفو و بخشش بلند تر مرحلہ کی طرف اشارہ کی گیا ہے اور زنجیر کی کڑیوں کی طرح ترقی وا تکامل کے مراتب کی تصویر کشی کی گئی ہے اور وہ اس طرح کہ انسان نہ صرف اپنا غصہ پی جائے اور عفو وبخشش سے کینہ کے داغ دل سے دھو ڈالے بلکہ برائی کے مقابلہ میں احسان اور نیکی کرکے (جہاں مناسب ہو ) مد مقابل کے دل سے بھی دشمنی کی بیخ کنی کر دے اور اس کے دل میں نرمی پیدا کر دے تاکہ تا کہ پھر کبھی اس قسم کا حادثہ سر نہ اٹھائے ۔ خلاصہ یہ کہ پہلے غصے کے مقابلہ میں اپنے اوپر قابو پانے کا حکم ہے اس کے بعد اپنے دل کو پاک و صاف کرنے کا فرمان ہے اور آخر میں مد مقابل کے دل کو پاک کرنے کا ارشاد ہے ۔ مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو شیعہ اور سنی کتب میں موجود ہے وہ یہ کہ ایک دفعہ حضرت امام علی بن حسین زین العابدین (ع) کی ایک کنیز نے فوراً کہا : خدا قرآن میں فرماتا ہے ۔ ” وَ الْکاظِمینَ الْغَیْظَ “ امام نے فرمایا: میں نے اپنا غصہ پی لیا اور اس نے عرض کیا :” وَ الْعافینَ عَنِ النَّاسِ “ امام نے فرمایا : میں نے تجھے معاف کر دیا خدا تجھے معاف کرے ۔ اس نے پھر کہا: ”وَ اللَّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ “ امام نے فرمایا : میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کر دیا ۔ یہ حدیث اس بات پر واضح شاہد ہے کہ مذکورہ تین مراحل میں سے ہر ایک دوسرے سے بلند تر ہے ۔ ۵۔ وَ الَّذینَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً ۔۔۔۔۔ وہ گناہوں پراصرار نہیں کرتے۔ ”لفظ فاحشہ “ فحش یا فحشاء سے ہے جس کا معنی ہے ہر وہ عمل جو بہت ہی برا ہو اور یہ مفہوم عفت و پاک دامنی کے منافی اعمال میں منحصر نہیں ہے کیونکہ اصل میں یہ حد سے تجاوز کے معنیٰ میں ہے جس میں ہر طرح کا گناہ شامل ہے۔ درج بالا آیت میں پرہیزگاروں کی ایک اور صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ یہ لوگ گذشتہ مثبت صفات سے متصف ہونے کے علاوہ اگرکسی گناہ کے مرتکب ہو جائیں تو فوراً یاد خدا میں پڑجاتے ہیں اور توبہ کرکے پھر کبھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب تک یاد خدا میں مشغول ہے وہ گناہ کا مرتکب نہیںہوتا اور وہ گناہ کا اس وقت مرتکب ہو جاتا ہے جب کلی طور پر اس کا دل یاد خدا سے خالی ہو اوروہ محو غفلت ہو ۔ لیکن پرہیز گار افراد میں یہ غفلت زیادہ عرصہ نہیں رہتی بلکہ وہ بہت جلدی یاد خدا میں مصروف ہو جاتے ہیں اور گذشتہ کمی کی تلافی کر لیتے ہیں اور اس وقت وہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور صرف اسی سے گناہوں کی بخشش طلب کرنا چاہیے۔ ” ومن یغفر الذنوب الا اللہ“ کون ہے خدا کے علاوہ جو گناہوں کو بخشتا ہے۔ اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ آیت میں فاحشہ کے علاوہ اپنے اوپر ظلم کرنے کا بھی ذکر ہوا ہے ( او ظلموا انفسھم ) ممکن ہے ان دونوں میں فرق یہ ہو کہ فاحشہ گناہان کبیرہ اور ظلم سے گناہان صغیرہ مراد ہوں ۔ آیت کے آخری حصہ میں تاکیداً کہا گیا ہے ( ُ وَ لَمْ یُصِرُّوا عَلی ما فَعَلُوا وَ ہُمْ یَعْلَمُون۔) اور وہ علم و آگاہی کی صورت میں گناہ پر اصرار نہیں کرتے ۔ اس آیت کے ذیل میں حضرت امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: ”الاصرار ان یذنب الذنب فلا یستغفر اللہ ولا یحدث نفسہ بتوبةفذٰلک الاصرار “ گناہ پر اصرار کرنا یہ ہے کہ انسان گناہ کرے اور اس کے بعد استغفار نہ کرے اور توبہ کی فکر میں نہ رہے یہ ہے گناہ پر اصرار۔ 1# کتاب انمالی صدوق میں امام جعفر صادق (ع) سے ایک پر مونی حدیث منقول ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ جب درج بالا آیت نازل ہوئی اور توبہ کرنے والوں کو خدا کی طرف سے بخشش کی خوش خبری دی گئی تو ابلیس بہت ہی پریشان ہو گیا اس نے بلند آواز سے اپنے تمام یار و انصار کو بلا کر ایک اجلاس منعقد کرنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے اس دعوت کی وجہ پوچھی تو اس نے اس آیت کے نزول کی بناء پر اظہار پریشانی کیا تو اس کے ایک ہمنوا نے کہا کہ میں انسانوں کو اس گناہ کی دعوت دے دے کر اس آیت کو بے اثر کر دوں گا ۔ ابلیس نے اس کی تجویز کو قبول نہ کیا ایک دوسرے نے اس قسم کی پیشکش کی کہ وہ بھی منظور نہ ہوئی کہ اس کے دوران ایک کہنہ مشق شیطان کہ جس کا نام وسواس خناس تھا ، کہنے لگا کہ میں اس مشکل کو حل کرتاہوں ۔ ابلیس نے پوچھا کیسے ؟ وہ کہنے لگا اولاد آدم کو وعدوں اور امیدوں کے ساتھ گناہ میں آلودہ کروں گا اور جب وہ گناہ کے مرتکب ہوجائیں گے تو ان کے دلوں سے یاد خدا کو دور کروں گا ۔ ابلیس نے کہا : یہی راستہ درست ہے اور یہ ذمہ داری رہتی دنای تک اس کے سپرد کردی ۔ واضح ہے کہ سہل انگاری اور شیطانی وسوسوں کا نتیجہ فراموش کاری ہے اور صرف وہ لوگ اس میں گرفتار ہوتے ہیں جو اس کے سامنے سر جھکا دیں اور اصطلاح کے مطابق وسواس خناس کے ساتھ قریبی تعلق استوار کر لیں ۔ لیکن بیدار مغز اور کامل ایمان کے حامل لوگ اس بات پر کڑی نظر رکھتے ہیں کہ جب کبھی ان سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو اولین ہر موقع پر اس کے آثار کو توبہ و استغفار کے ذریعے دھو ڈالتے ہیں اور اپنے دل کے دریچے شیطان اور اس کے لشکر کے لئے بندکر دیتے ہیں اس طرح وہ ان میں داخل نہیں ہو پاتے ۔ ”اٴُولئِکَ جَزاؤُہُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَ جَنَّاتٌ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ خالِدینَ فیہا “ اس آیت میں ان پرہیزگاروںکی جزا اور اجر بیان کیا گیا ہے ( کہ جن کی صفات گذشتہ آیت میں بیان ہو چکی ہیں )۔ وہ پروردگار کی بخشش اور بہشت بریں ہے ، جسکے درختوںکے نیچے نہریں جاری ہیں ّ اور ایک لحظہ کے لئے ان سے پانی منقطع نہیں ہوتا ) وہ جنت کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ در حقیقت اس مقام پر پہلے تو معنوی اور روحانی نعمات مغفرت ، قلب و روح کو پاکیزہ کرنے اور روحانی ترقی کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ اس کے بعد مادی نعمات کی طرف اشارہ کی گیا ہے اور آخر میں کہا گیا ہے کہ ”و نعم اجر العالمین “ یہ کیسی ہی اچھی جزا اور اجر ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے جو کہ مرد میدان ہیں نہ کہ سست و بیکار افراد جو ہمیشہ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں میںلا پرواہی برتتے ہیں۔ ۱۳۷۔قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُروا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُکَذِّبینَ۔ ۱۳۸۔ ہذا بَیانٌ لِلنَّاسِ وَ ہُدیً وَ مَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقینَ ۔ ترجمہ ۱۳۷۔تم سے پہلے کچھ سنتیں موجود تھیں ( اور ہر قوم کی سر نوشت ان کے اعمال و صفات کے مطابق تھی اور تمہارا حال بھی انکا سا ہے) زمین میں چل پھر کر دیکھو ( کہ آیات خدا کی ) تکذیب کرنے والوں کا انجام کیاہوا ۔ ۱۳۸۔ یہ بیان ہے لوگوں کے لئے اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے ۔ 1#۔ تفسیر عیاشی زیر نظر آیت کے ضمن میں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:133-136
جنت اور دوزخ کہاں ہیں
اس بحث کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دونوں موجود ہیں تو کہاں ہیں اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے -: پہلا یہ کہ جنت و جہنم اس دنیا کے باطن میں موجود ہیں ۔ ہم زمین و آسمان اور دوسرے مختلف کرات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن ان کے اندر موجود جو دنیائےں ہیں انہیں ہم نہیں دیکھ پاتے کہ جہاں کثرت سے موجودات ہیں جو ہماری آنکھوں کی قوت ادراکسے ما وراء ہیں اور آیات ” کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیَقینِ ۔لَتَرَوُنَّ الْجَحیمَ ۔ بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ چند ایک احادیث سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ بعض بندگان خدا اس جہان میں اتنی قوت و بینائی رکھتے تھے کہ وہ یہاں رہ کر جنت و جہنم کو اپنی حقیقت بین نگاہوں سے دیکھ سکتے تھے ۔ مزید توضیح کے لئے ایک مثال دی جا سکتی ہے ۔ ایک طاقتور ریڈیائی آلہ ( آواز کی لہریں بھیجنے والا آلہ ) کسی خطہٴ ارض میں موجود ہو جو فضائی لہروں کی مدد سے پوری دنیا میں تلاوت قرآن کا دل آویز زمزمہ بہت ہی دلنشین اور روح پر ور آواز سے نشر کر رہا ہو ۔ اسی طرح کا ایک اور آلہ زمین کے کسی خطہ میں موجود ہو جو بہت ہی پریشان کن آواز دوسری فضای لہروں میں پھیلا دے ۔ جس وقت ہم ایک مقام پر بیٹھتے ہوںتو اپنے ارد گرد لوگوں کی آواز تو ہم سن لیتے ہیں لیکن ان دو لہروں کا احساس تک نہیں ہوتا جو فضائے عالم میں پرواز کر رہی ہیں ۔ لیکن اگر انکو گرفت میں لینے والی مشین موجود ہو تو فوراً ہمارے کانوں میں پڑ جائیں گی اگر چہ عام حالت میں ہمارے کان اسی کے سننے سے عاجز ہوتے ہیں ۔ گذشتہ مثال اگر چہ کئی لحاظ سے ناقص ہے تا ہم جنت و دوزخ جیسے باطنی امور کی تصویر کشی کے لئے کافی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ عالم آخرت اور جنت و جہنم میں اس عالم مادی پر احاطہ کئے ہوئے ہیں اور یہ اس کے اندر جنبین مانند ہیں جو اس دنیا کے اندر ایک علیحدہ مستقل عالم میں رہتا ہے اور وہ اس عالم سے جدا نہیں اسی طرح عالم دنیا بھی عالم آخرت کے اندر واقع ہے ۔ یہاں قرآن کریم نے جو جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے مساوی قرار دی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی نظر میں زمین اور آسمان سے زیادہ وسیع چیز کوئی اور نہیں ۔ لہٰذا قرآن نے جنت کی وسعت و عظمت کی تصویر کشی زمین و آسمان کی وسعت کے حوالہ سے کی ، اور اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا ۔ جیسا کہ اگر شکم مادر میں ایک بچہ ہو اور ہم چاہیں کہ اس سے گفتگو کریں تو ایسی منطق میں اس سے بات کریں گے کہ جو اس کے لئے قابل ادراک ہو۔ گذشتہ تبصرہ سے ہمارے اس سوال کا جواب بھی روشن ہو جاتا ہے کہ اگر جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے تو پھر جہنم کہاں ہے ؟ کیونکہ پہلے جواب کی رو سے دوزخ بھی اس جہان کے اندر ہے اور اس جہان میں ان دونوں کے موجود ہونے میں کوئی اشکال نہیں ( جیسا کہ آواز کی لہریں بھیجنے والی مشین کی مثال میں اس کا ذکر ہو چکا ہے ) باقی رہا دوسرا جواب کہ جنت و دوزخ اس جہان پر محیط ہیں تو یہ کچھ زیادہ روشن ہے کیونکہ ممکن ہے کہ جنت اور دوزخ دونوں اس جہان پر محیط ہوں اور جنت کچھ زیادہ وسیع ہو۔