وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
To Allah belongs whatever there is in the heavens and the earth: He forgives whomever He wishes and punishes whomever He wishes, and Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:129
[Pooya/Ali Commentary 3:129] Please refer to the commentary of al Baqarah : 255.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:129
خشنا اور سزا دینا پیغمبر کے ہاتھ میں نہیں
در حقیقت یہ آیت گذشتہ آیت کی تاکید ہے کہ بخشنا اور سزا دینا پیغمبر کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ حکم خدا وندی کے تابع ہے آسمانوں اور زمیں کی حکومت جس کے قبضہٴ قدرت میں ہے پیدا کرنا اسی خدا کا کام ہے ۔ ”واللہ غفورٌ رّحیم “ باوجود یہ کہ اس کا کاغذ بہت ہی سخت ہے وہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے ۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے ۔کوئی حرج نہیں کہ ہم یہاں ایک مسلم اسکالر پر از حکمت گفتگو کی طرف اشارہ کریں جو سخت ہونے کے باوجود بعض سوالوں کا جواب ہے ۔ مفسر عالی قدر (علامہ )طبرسی ۺاس آیت کے ذیل میں رقمطراز ہیں کہ ایک عالم سے پوچھا گیا کہ خدا وند عالم کس طرح اپنے بندوں کو انکے گناہوں کی بناء پر باوجود اپنی وسیع و بے پایاں رحمت کے عذاب دے گا تو اس عالم نے جواب دیا کہ خدا کی رحمت اس کی حکمت کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی حکمت کا سر چشمہ ہمارے جذبہٴ ترحم کی طرح احساسات اور رقت قلبی نہیں ہے بلکہ اس کی رحمت ہمیشہ اس کی حکمت سے وابستہ ہوتی ہے اور حکمت کا اقتضاء یہ ہے کہ معصیت کاروں کو (سوائے خاص موارد کے )سزا دی جائے ۔ ۱۳۰۔یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَاٴْکُلُوا الرِّبَوا اٴَضْعافاً مُضاعَفَةً وَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ۔ ۱۳۱۔ وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتی اٴُعِدَّتْ لِلْکافِرینَ ۔ ۱۳۲۔ وَ اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۔ ترجمہ ۱۳۰۔ اے ایمانداروں! (بڑھا چڑھا کر سود ) نہ کھاوٴ خدا سے ڈرو تاکہ فلاح پاجاوٴ۔ ۱۳۱۔ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ ۱۳۲۔ اور خدا اور پیغمبر کی اطاعت کرو تا کہ رحمت (الٰہی ) تمہارے شامل حل ہو۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:129
خشنا اور سزا دینا پیغمبر کے ہاتھ میں نہیں
در حقیقت یہ آیت گذشتہ آیت کی تاکید ہے کہ بخشنا اور سزا دینا پیغمبر کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ حکم خدا وندی کے تابع ہے آسمانوں اور زمیں کی حکومت جس کے قبضہٴ قدرت میں ہے پیدا کرنا اسی خدا کا کام ہے ۔ ”واللہ غفورٌ رّحیم “ باوجود یہ کہ اس کا کاغذ بہت ہی سخت ہے وہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے ۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے ۔کوئی حرج نہیں کہ ہم یہاں ایک مسلم اسکالر پر از حکمت گفتگو کی طرف اشارہ کریں جو سخت ہونے کے باوجود بعض سوالوں کا جواب ہے ۔ مفسر عالی قدر (علامہ )طبرسی ۺاس آیت کے ذیل میں رقمطراز ہیں کہ ایک عالم سے پوچھا گیا کہ خدا وند عالم کس طرح اپنے بندوں کو انکے گناہوں کی بناء پر باوجود اپنی وسیع و بے پایاں رحمت کے عذاب دے گا تو اس عالم نے جواب دیا کہ خدا کی رحمت اس کی حکمت کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی حکمت کا سر چشمہ ہمارے جذبہٴ ترحم کی طرح احساسات اور رقت قلبی نہیں ہے بلکہ اس کی رحمت ہمیشہ اس کی حکمت سے وابستہ ہوتی ہے اور حکمت کا اقتضاء یہ ہے کہ معصیت کاروں کو (سوائے خاص موارد کے )سزا دی جائے ۔ ۱۳۰۔یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَاٴْکُلُوا الرِّبَوا اٴَضْعافاً مُضاعَفَةً وَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ۔ ۱۳۱۔ وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتی اٴُعِدَّتْ لِلْکافِرینَ ۔ ۱۳۲۔ وَ اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۔ ترجمہ ۱۳۰۔ اے ایمانداروں! (بڑھا چڑھا کر سود ) نہ کھاوٴ خدا سے ڈرو تاکہ فلاح پاجاوٴ۔ ۱۳۱۔ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ ۱۳۲۔ اور خدا اور پیغمبر کی اطاعت کرو تا کہ رحمت (الٰہی ) تمہارے شامل حل ہو۔ تفسیر