يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
O you who have faith! Do not exact usury, twofold and severalfold, and be wary of Allah so that you may be felicitous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:130
[Pooya/Ali Commentary 3:130] Neither lend nor borrow money on interest, simple or compound. Islam has forbidden usury for all ages and in all circumstances, regardless of any "commercial" consideration. "Multiplied manifold" implies an unjust economic system by making the rich richer and the poor poorer. The basis of prosperity and success, both in this world and the hereafter, is love of Allah and awareness of His laws, not greed of gold. Please refer to the commentary of al Baqarah: 275 to 280.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:130-132
قرآنی آیات کا ایک دوسرے سے ربط
گذشتہ آیات میں جنگ احد کے واقعات اور بہت سے درس موجود ہیںجو مسلمانوں نے عبرت آموز واوقعے سے حاصل کئے لیکن زیر نچر تین اور بعد والی چھ آیات چند ایک اقتصادی ، اجتماعی اور تربیتی پروگراموں پر مشتمل ہیں اور ان نو آیات کے بعد پھر از سر نو جنگ احد کا تذکرہ ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ انداز بیان بعض لوگوں کے لئے باعث تعجب ہو ۔ لیکن بنیادی امر پر توجہ کرنے سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے : قرآن کوئی کلاسیکی کتاب نہیں ہے جو کئی فصول و ابواب کی حامل ہو اور اس کے ابواب و فصول کے درمیان ایک خاص ربط ملحوظ رکھا گیا ہو بلکہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو تیئس سال کی مدت میں مختلف تربیتی ضروریات کے مطابق مختلف اوقات و مقامات میں قسط وار نازل ہوتی رہی ایک دن واقعہ احد پیش آتا ہے اور مختلف جنگی پروگرام چند ایک وآیات کے ضمن میں بتائے جاتے ہیں اور دوسرے روز ایک اقتصادی مسئلہ در پیش آتا ہے مثلاً سود یا حقوق کا مسئلہ سامنے آچلا ہے مثلاً شادی بیاہ سے متعلق مسائل یا ایک تربیتی اورا خلاقی معاملہ در پیش ہوتا ہے مثلاً توبہ اور پھر کئی ایک آیات کا نزول ہوتا ہے ۔ البتہ تمام سورتیں اور آیات قرآن ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور وہ یہ کہ سب کی سب ایک انسان سازی اور اعلیٰ ترین سطح کے ایک تربیتی پروگرام کو پیش نطر رکھے ہوئے ہیں اور ایک پر امن مادی اور روحانی لحاظ سے ترقی یافتہ معاشرہ کی تشکیل کے لئے نازل ہوئیں ہیں ۔لہٰذا اگر مندرجہ بالا آیات قبل و بعد کی آیات سے کوئی خاص ربط نہیں رکھتیں تو اس کی یہی وجہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:130-132
سود خوری کی حرمت کے چند مراحل
ہم جانتے ہیں کہ قرآن کا یہ طریقہ ہے کہ وہ معاشرے کی ایسی برائیاں جن کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں ان کی بیخ کنی کرنے کے لئے آہستہ آہستہ زمین ہموار کرتا ہے اور لوگوں کو تدریجاً ان کے مفاسد سے آگاہ کرتا ہے اور جب قرآنی احکام قبول کرنے کے لئے آمادگی حاصل ہو جائے قانون تصریحی شکل میں بیان کر دیتا ہے (خصوصاً ایسے مواقع پر جہاں گناہ سے آلودگی کا امکان بہت زیادہ ہو)۔ یہ بھی واضح ہے کہ دنیائے عرب ززمان جاہلیت میں سود خوری میں شدت سے ملوث تھی ، خصوصاً مکہ کا گرد و نواح سود خوروں کا مرکز تھا اور ان کی بہت سی قبیح اجتماعی برائیوں کا سبب یہی برا کاروبار تھا ۔ بنا بر ایں قرآن مجید نے سود خوری ختم کرنے کے لئے حرمت کا حکم چار مراحل میں بیان کیا ہے : (۱) پہلے پہل سود کے بارے میں سورہٴ روم آیت ۳۹ میں ایک اخلاقی نصیحت پر زور دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد خدا وندی ہے : ”وَ ما آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُوَا فی اٴَمْوالِ النَّاسِ فَلا یَرْبُوا عِنْدَ اللَّہِ وَ ما آتَیْتُمْ مِنْ زَکاةٍ تُریدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَاٴُولئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُونَ “ یعنی صرف کوتاہ نظر افراد کی نگاہ میں سود کھانے والوں کی ثروت میں سود لینے سے زیادتی ہوتی ہے لیکن خدا کے ہاں اس میں کوئی زیادتی نہیں ہوتی بلکہ زکوٰة اور راہ خدا میں خرچ کرنا دولت وثروت کی زیادتی کا باعث ہے ۔ (۲) سورہٴ نساء آیہٴ ۱۶۱ میں یہودیوں کی غلط رسوم وعادات پر تنقید کرتے ہوئے ان کی سود خوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے : ”و اخذھم الربٰوا و قد نھوا عنہ “ ان کی بری عادت یہ تھی کہ وہ سود کھاتے تھے حلانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا ۔ (۳) زیر بحث آیت میں جیسا کہ اس کی تفسیر کے ذیل میں بتایا جائے گا ، سود کی حرمت کا صریح حکم ذکر ہوا ہے لیکن سود کی صرف ایک قسم کی طرف جو بہت بری قسم ہے ۔ اشارہ ہوا ہے ۔ (۴) آخر میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۷۵ سے لے کر ۲۷۹ تک ہر قسم کی سود خوری کی شدت سے ممانعت کا اعلان کیا گیا ہے اور اسے خدا سے جنگ کرنے کے متراف قرار دیا گیا ہے ۔ ” یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَاٴْکُلُوا الرِّبَوا اٴَضْعافاً مُضاعَفَةً“ اس آیت میں سود کی قبیح ترین قسم کی حرمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ” اٴَضْعافاً مُضاعَفَةً “ ( چند در چند ) کی تعبیر موجود ہے ۔ ربائے فاحش سے مرادیہ ہے اصل سرمایہ ہی اضافی سود کے ساتھ ساےھ بڑھتا رہے ۔ یعنی سود پہلے مرحلے میں اصل سرمایہ میں جمع ہو جائے اور آئندہ اصل سرمایہ میں سود جمع ہونے پر جو سرمایہ بنا ہے اس پر سود لگے اور اسی ترتیب سے ہرمرتبہ کا سود اضافی سرمایہ بن کر گزشتہ سرمایہ میں جمع ہوتا جائے اور سرمایہ کی نئی رقم تشکیل دیتا جائے ۔ اس طرح قلیل مدت میں ایک دوسرے پر سود کی زیادتی کی وجہ سے مقروض کے قرضہ کا مجموعہ اصل قرضہ سے کئی گنا زیادہ ہو جائے اور اس کی زندگی مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے ۔ جیسا کہ روایات و تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ معمول تھا کہ اگر مقروض قرض کی مدت ختم ہونے پر قرض نہیں ادا کر سکتا تھا تو قرض خواہ سے تقاضا کرتا کہ وہ سود اورا صل قرض کا مجموعہ نئے سرمائے کی شکل میں اسے بطور قرض دیدے اور اس کا سود لے ۔ ہمارے دور میں بھی اس قسم کی ظالمانہ سود خوری کچرت سے رائج ہے ۔ ”ً وَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ “۔ آیت کے آخر میں ارشاد ربالعزت ہوتا ہے : اگر فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتے ہو تو تقویٰ اپناوٴ اور اس گناہ سے بچو۔ ” وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتی اٴُعِدَّتْ لِلْکافِرینَ “۔ یہ آیت ازسرنو تقویٰ کی تاکید کرتی ہے اور اس آگ سے جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ڈراتی ہے ۔لفط ”کافرین“ کے ساتھ تعبیر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر سود خوری ایمان کے ساتھ سازگار نہیں ہے اور سود خوروں کے لئے بھی اس آگ کا ایک حصہ ہے جو کفار کی منتظر ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کی آگ بنیادی طور پر کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ باقی رہے گناہگار اور معصیت کا تو ان کے لئے اس اتنا ہی حصہ ہے جتنا وہ کفار سے شباہت اور ہم آہنگی رکھتے ہیں ۔ ” وَ اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ “۔ گذشتہ آیت کی دھمکی اس تشویق اور ترغیب کے ساتھ تکمیل پاتی ہے جو اس آیت میں مطیع اور فرما نبرداروں کے لئے ہے کہ خدا اور رسول کی اطاعت کرو اور سود خوری چھوڑ دو تا کہ تم پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہو۔ ۱۳۳۔ وَ سارِعُوا إِلی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّماواتُ وَ الْاٴَرْضُ اٴُعِدَّتْ لِلْمُتَّقینَ ۔ ۱۳۴۔ الَّذینَ یُنْفِقُونَ فِی السَّرَّاء ِ وَ الضَّرَّاء ِ وَ الْکاظِمینَ الْغَیْظَ وَ الْعافینَ عَنِ النَّاسِ وَ اللَّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ ۱۳۵۔ وَ الَّذینَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً اٴَوْ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللَّہَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِہِمْ وَ مَنْ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللَّہُ وَ لَمْ یُصِرُّوا عَلی ما فَعَلُوا وَ ہُمْ یَعْلَمُون۔ ۱۳۶۔اٴُولئِکَ جَزاؤُہُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَ جَنَّاتٌ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ خالِدینَ فیہا وَ نِعْمَ اٴَجْرُ الْعامِلینَ ۔ ترجمہ ۱۳۳ ۔ ایک دوسر پر سبقت حاصل کرو اپنے پروردگار کی مغفرت اور جنت کے لئے جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ ۱۳۴۔ وہی لوگ جو تنگی اور کشادگی میں خرچ کرتے ہیں اور اپنا غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کی خطاوٴں سے در گذر کرتے ہیں اور خدا نیکو کا ر لوگوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ۱۳۵۔ اور وہ لوگ کہ جب وہ کسی عمل بد کا ارتکاب کریں یا اپنے اوپر ظلم کریں تو خدا کو یاد کرتے ہیں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور خدا کے سوا گناہوں کو بخشنے والا کون ہے اور وہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں ۔ ۱۳۶ ۔ ان کی جزا ء پروردگار کی بخشش اور وہ باغات بہشت ہیں ج کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے اور یہ عمل کرنے والوں کے لئے کتنا اچھا معاوضہ ہے ۔ تفسیر