لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ
You have no hand in the matter, whether He accepts their repentance or punishes them, for they are indeed wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:128
[Pooya/Ali Commentary 3:128] With this verse is resumed the account of Uhad. The Holy Prophet, as he sat wounded in his face and as the blood was being wiped off him, reflected on the conduct of his close companions who deserted him in the hour of need, as their conduct exposed their uncertain faith and hypocrite tendency, and so he wondered as to how such people would behave after his departure from this world. It showed how much he was concerned with the future of his people. Thereupon this verse was revealed. Allah knew that as the "mercy unto the worlds" the Holy Prophet was very much interested in the welfare of the people, so He put him at ease by saying that it was He who might open their hearts to true faith or inflict immediate punishment.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:128
ایک اشتباہ اور اس کا ازالہ
ایک اشتباہ اور اس کا ازالہ یہاں دو نکات توجہ طلب ہیں: (۱) نابغہ ٴ روزگار مفسر مولف” المنار“کا فدیہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کو حصول کمیابی کے لئے مادی وسائل سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں ایک نا قابل فراموش درس دیتی ہے اور وہ یہ کہ اگر خدا انہیں کمیابی کی نوید سنادیتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان مادی وسائل ، سامن حرب ضرب اور منصوبہ بندی کو فرا موش کر دیں اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کمیابی کے لئے پیغمبر کی دعا کا انتظار کریں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے : ”لیس لک من امر شیءٍ “ یعنی کامیابی کامعاملہ تیرے سپرد نہیں بلکہ وہ مشیت ایزدی کے تابع ہے۔ لہٰذا خدا نے ان کے لئے جو راستے مقرر کئے ہیں ان سے استفادہ کیا جائے اور پیغمبر کی دعا بھی اگر چہ موثر ہے لیکن اس میں استثنائی پہلو موجود ہے اور وہ معین موقع کے ساتھ مخصوص ہے ۔ موٴلف موصوف کی یہ گفتگو اگر چہ منطق و حکمت سے لبریز ہے لیکن یہ آیت ان کے مطالب سے مناسبت نہیں رکھتی جو کفار کی سزا یا توبہ کے بارے میں ہیں ۔ لہٰذا اسے اس آیت کی تفسیر نہیں کہا جا سکتا ۔ (۲) یہ آیت مخالفین اسلام کے بارے میں عفو وبخشش یا سزا کے متعلق پیغمبر سے ہر قسم کے اختیارات سلب کر رہی ہے ۔ لیکن یہ اس بات کی نفی نہیں کرتی کہ عفو و در گذر کے لئے دعا اور شفاعت موٴثر ہیں ۔ کیونکہ آیت بالا کا مقصد یہ ہے کہ آپ خود سے کوئی کام انجام نہیں دے سکتے البتہ خدا وند تعالیٰ کے حکم و اذن سے معافی دے سکتے ہیں اور سزا بھی دے سکتے ہیںاور کامیابی کے عوامل بھی فراہم کر سکتے ہیں حتیٰ کہ پروردگار عالم کے اذن و اجازت سے حضرت عیسیٰ کی طرح مُردوں کو بھی زندہ کر سکتے ہیں ۔ جو لوگ جملہ ””لیس لک من امر شیءٍ “ کے حوالے سے پیغمبر اکرم کی طاقت کا انکار کرتے ہیں اور ان کے سبب اختیارات پر اصرار کرتے ہیں ، انہوں نے در حقیقت قرآن کی دیگر آیات کو فراموش کر دی ہے قرآن مجید سورہٴ نساء آیت ۶۴ میں کہتا ہے : وَ ما اٴَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ لِیُطاعَ بِإِذْنِ اللَّہِ وَ لَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَہُمْ جاؤُکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّہَ وَ اسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّہَ تَوَّاباً رَحیماً۔ اگر وہ لوگ جب اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے ، تمہارے پاس آجاتے اور معافی طلب کرتے اور پیغمبر ان کے لئے طلب مغفرت کرتے تو خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ۔ اس آیت کی رو سے آپ کی استغفار کو گناہ کی بخشش کا ایک ایک عامل شمار کیا گیا ہے ۔ آئندہ کے مباحث میں مناسب آیات کے ذیل میں اس مطلب پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ ۱۲۹۔ وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَشاء ُ وَ اللَّہُ غَفُورٌ رَحیمٌ ۔ ترجمہ ۱۲۹۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے (اور مناسب سمجھتا ہے ) بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دے دیتا ہے اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔