يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
O you who have faith! Be wary of Allah with the wariness due to Him and do not die except as Muslims.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:102
[Pooya/Ali Commentary 3:102] Ittaqullah means to safeguard oneself with awareness of the boundaries (physical, moral and spiritual laws) laid down by Allah so as to keep clear of sins and transgressions. There is no room for "fear" in Islam. Please refer to the commentary of Fatihah: 1 to 4; Baqarah: 2; Ali Imran 31. Taqwa means piety or to ward off evil and take refuge with Allah, not out of fear, but because of the awareness and insight of the consequences if one breaks or tampers with the laws made and enforced by Allah for the benefit and welfare of mankind. Haqqa tuqatihi means it is the duty of the creature to be aware of the creator's will and command. It is His prerogative that His creatures should, willingly or unwillingly, obey Him and carry out His commands. Wa antum muslimun means full of faith, perfect in conduct, and strict in the observance of the law, which is possible when one surrenders and submits oneself unconditionally to Allah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:102-109
The Prophet said, “On the Day of Judgment, his followers will approach him near the cistern in five groups of which four are hungry and thirsty, will be hurled into hell and those who created schism in religion. This took place, immediately after the Prophet’s departure from this world signs having developed, during his fatal illness due to prolonged jealousy of the Prophet’s companions which they bore to Ali. The fifth one headed by Ali shall enter Paradise. The Prophet said, “Moses’ followers divided themselves into 71 groups, one of whom would attain salvation, and 72 groups of followers of Jesus, one of whom would attain salvation and 73 of my followers, one of whom is to attain salvation, and 72 will be of hell. The one attaining salvation shall be following the text and will be following my successor Ail, for Truth has remained with Ali and Ali was with it, and the Prophet and his companions (means chosen companions) ever remained with the Truth. Most of the Prophet’s companions after the Prophet’s death turned out disobedient and apostates acting against Divine dictates and the Prophet’s traditions (see the Battle of Camel and Battle of Siffin.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:102-103
کل کے دشمن اور آج کے دوست
اس کے بعد قرآن کریم اتحاد اور اخوت کے عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مسلمانوں کو گذشتہ افسوس ناک حالت پر غور و فکر کرنے اور اس پراکندگی کا اس اتحاد اور وحدت کے ساتھ تقابل کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : تمہیں نہیں بھولنا چاہئیے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن خدا وند عالم نے اسلام و ایمان کی بر کت سے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے انس پیدا کیا اور تم آج بھائی بھائی بن گئے ۔قابل توجہ یہ بات ہے کہ اس آیت میں لفظ نعمت کو مکرر لا یا گیا ہے اور اس طرح سے اتفاق و اخوت کی نعمت کی اہمیت ان کے گوش گذار کی گئی ہے ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا نے مونین کی تالیفِ قلوب کو اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے تمہارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کردی ۔ اس تعبیر سے اسلام کے ایک اجتماعی معجزہ کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اگر عربوں کی سابقہ عداوت پر غور کیا جائے کہ کس طرح سالہا سال سے ان کے دلوں میں گہرے کینے بھرے ہوئے تھے اور کس طرح ایک معمولی سے مسئلے پر ان کے درمیان خونیں جنگ کی آگ بھڑج اٹھی تھی ، خصوصااس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ عموماً ناداں ، ان پڑ اور نیم وحشی افراد ہٹ دھرم ہوتے ہیں اور آسانی سے گذشتہ چھوٹے چھوٹے مسلے کو نسیان پر رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ اس صورت میں عظیم اسلام کے اجتماعی معجزہ کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عام اور روز مرّہ کے طور طریقوں سے یہ ممکن نہیں تھا کہ اس قسم کی کینہ پر ورنادان قوموں کی ایک ملت بنائی جائے اور انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا جائے ۔ مندرجہ بالا امر ( کینہ پر عرب قبا ئل کے درمیان وحدت اور بھائی چارہ) کی اہمیت علماء مورخین حتی کہ غیر مسلم موخین کی نظر سے مخفی نہیں رہی اوراور سب نے بڑے تعجب خیز انداز سے اس کا ذکر کیا ہے ۔ جان ڈیون پورٹ، مشہور انگریز عالم رقمطراز ہے : ” ..... محمد جیسے ایک عالم عرب نے اپنے ایک چھوٹے منتشر کردہ ، برہنہ اور فلاس زدہ ملک کو ایک متحرک اور منظم معاشرے میں تبدیل کردیا اور روئے زمین کی اقوام کے درمیان انہیں نئے صفات اور تازہ اخلاق کے ساتھ متعارف کرایا اور تیس سال سے کم عرصے میں اس طرز و روش نے حاکم قسطنطنیہ کو مغلوب کردیا اور سلام طین ایران کو نیست و نابود کردیا ، شام ، بین النہرین اور مصر کو مسخر کیا اور ان کی فتو حات اور اوقیانوں اطلس سے لے کر دریا ئے خرز اور سیحوں تک جا پہنچیں ۔ ۱# تومال کارل لکھتا ہے : ” خدا وند عالم نے اسلام کے ذریعے عربوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف ہدایت کی ۔ ایک بے حرکت اور منجمد قوم کہ جس کی نہ کو ئی آواز تھی اور نہ حرکت محسوس ہوتی تھی سے ایک ملت پیدا کی جسے گمنامی سے شہرت ، سستی سے بیداری ، پستی سے بلندی اور عجز و ناتوانی سے قوت و توانائی کی طرف لے گیا ۔ ان کی روشنی چار دانگ عالم میں ضیاء پاشی کرنے لگی ۔ اعلان اسلام کو ابھی ایک صدی نہیں ہوئی تھی کہ مسلمانوں نے ایک قدم ہندوستان اور دوسرا قدم سر زمین اندلس میں رکھا اور آخر کار اس مختصر سی مدت میں اسلام نصف کرہٴ ارض پر ضو افشانی کرنے لگا ۔ ۲# ”ڈاکٹر گوستاد لوبون“ نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: ” اس حیرت انگیز حادثہ یعنی اسلام سے قبل کہ جس نے عرب قوم کو جہانگیری اور نئے معانی کے اخلاق کے روپ میں ہمارے سامنے پیش کیا عربستان کا علاقہ نہ تاریخ و تمدن کی جز ء سمجھا جاتا تھا اور نہ ہی وہاں علم یا مذہب کا نام و نشان تھا ۔(” تاریخ تمدن اسلام و عرب از گوستاد لوبون)۔ ایک ہندو دانشمند اور سیاستدان نہر و اس بارے میں لکھتا ہے : ” عربوں کی سرگزشت اور داستان کہ وہ کس تیز رفتاری سے ایشاء، یورپ اور افریقہ پر چھا گئے اور عالی شان و عظیم تمد اور ثقافت کو انہوں نے جنم دیا ، انسانی تاریخ میں ایک عجیب و غریب چیز ہے .....-- نئی توانائی اور جدید فکر کہ جس نے ان کو بیدار کیا اور انہیں اطمنانِ نفس اور قدرت سے نواز وہ دین اسلام تھا ۔3# و کنتم علی شفا حفرة من النار فانقذ کم منھا شفاکے لغوی معنی خندق یا کنویں کا کنارہ ہے اور شاید لب پر بھی ” شفہ “ کا .....- اطلاق اسی مناسبت سے ہوتا ہے ۔ اسی طرح اس لفظ کا استعمال بیماری سے تند رست ہونے کے لئے بھی اسی مناسبت سے ہے کہ انسان سلامتی اور تندرستی کے کنارے پر آپہنچا ہے ۔ مندرجہ بالا جملے میں خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تم گذشتہ زمانے میں آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے ۔ ہر آن ممکن تھا کہ تم اس میں گر جاوٴ اور تمہارا سب کچھ خاکستر ہو جائے لیکن خدا وند عالم نے تمہیں نجات نخشی اور ہلاکت کے اس گڑھے سے امن و امان کے نقطہ کی طرف تمہاری رہنمائی کی جو اخوت و محبت کا نقطہ تھا ۔ آیت میں آگ سے مراد جہنم کی آگ ہے یا اس دنیا کی ، اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن پوری آیت پر توجہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑوں سے کناریہ ہے جو ہر لحظہ زمانہ جاہلیت میں کسی نہ کسی بہانہ عربوں میں بھڑک اٹھتی تھی ۔ قرآن مجید اس جملے میں زمانہ جاہلیت کے خطر ناک حالات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر لحظہ جنگ اور خونریزی کا خطرہ ان کے سروں پر منڈلاتا رہتا تھا اور خدا وند عالم نے نور اسلام کی بر کت سے انہیں اس حالت سے نجات دی ۔ یہ مسلم ہے کہ انہوں نے اس خطر ناک حالت سے خلاصی پاکر جہنم کی جلانے والی آگ سے بھی نجات پالی ۔ کذٰلک یبن اللہ لکم اٰیاتہ لعلکم تھتدون۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کی گئی ہے کہ خدا اسی طرح اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تمہاری ہدایت ہو جائے ۔ اس بناء پر آخری مقصد اور غرض تمہاری ہدایت و نجات ہے اور چونکہ یہ تمہارے منافع اور سر نوشت کا معاملہ ہے لہٰذا جو کچھ کہاگیا اسے زیادہ سے زیادہ اہمیت دو۔ قوموں کی بقاء کے لئے اتحاد کی اہمیت ان باتوں کے باوجود کہ جو اتحاد کے اعجازاً میز اثر کے بارے میں اجتماعی مقاصد او رمعاشروں کی بلندی کی طرف پیش رفت کے سلسلے میں کہی گئی ہیں ، کہا جاسکتا ہے کہ ابھی تک اس واقعی اثر نہیں پہچانا گیا۔ عصر حاضر میں دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے بند باندھے گئے ہیں جو زیادہ صنعتی توانائیوں کی بدولت ہیں اور وہ وسیع و عریض زمینوں کی آبیاری اور روشنی کا سبب بنے ہیں ۔ اگر صحیح طور سے غور و فکر کیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ اتنی بڑی قدرت صرف ناچیز تلاش بارش کے قطرات کے ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کی قدرت کے نتیجہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ، یہیں سے ہم انسانوں کے اتحاد اور مل کر کو شش کرنے کی اہمیت سے واقف ہو سکتے ہیں ۔ پیغمبر اکرم اور دیگر بزرگ اسلامی رہنماوٴں سے اکثریت میں مختلف عبارات کے ذریعے اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ایک مقام پر رسو ل اللہ فرماتے ہیں : ”الموٴمن للموٴمن کلبنیان یشد بعضہ بعضاً“ مومنین ایک دوسرے کے لئے ایک عمارت کے اجزاء کی مانند ہیں کہ جن میں ہر ایک جزء دوسرے جز کی مضبوطی سے نگہبانی کرتا ہے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” الموٴمن کالنفس الواحدة “ مومنین ایک نفس و روح کی طرح ہیں ۔ آپ نے مزید فرمایا : مثل الموٴمن فی توادھم و تراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی بعضہ تداعی سائرة السھر و الحمی۔ صاحبان ایمان ، افراد دوستی اور ایک دوسرے پر رحم کرنے ، اور نیکی کرنے میں ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ جب ان میں ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی اعضاء و جوارح کو قرار و آرام نہیں آتا ۔ 4# ۱۰۴۔ وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اٴُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنْ الْمُنْکَرِ وَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ۔ ۱۰۵۔ وَلاَتَکُونُوا کَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَائَہُمْ الْبَیِّنَاتُ وَاٴُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ۔ ترجمہ ۱۰۴۔ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی باتوں کی طرف دعوت دینے والی ہو ۔ وہ نیکی کا حکم دے برائی سے روکے ۔ اور بلا شبہ ایسے ہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں ۔ ۱۰۵۔ اور دیکھو! ان لوگوں کی سی چال نہ چلنا جو( خدا کے ایک ہی دین پر اکھٹے رہنے کی بجائے ) الگ الگ ہو گئے ، اور باوجود یہ کہ ( کتاب اللہ ) کی روشن دلیلیں ان کے سامنے آچکی ہیں ۔ باہم دگر اختلافات میں پڑ گئے پس ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ ۱#”عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن “ از جان ڈیون پورٹ ، فارسی ترجمہ از سید غلام رضا سعیدی، صفحہ ۷۷۔ ۲”#نقشہ ہائی استعمار“از محمد محمود صواف، صفحہ ۳۸۔ 3# نگاہی بہ تاریخ جہان ، جلد ۱ ، صفحہ۳۱۷۔ 4# تفسیر ابو الفتوح رازی ، جلد ۲، صفحہ ۴۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:102-103
”حبل اللہ “کی تعبیر کا مقصد
توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ ان مامور کو حبل اللہ سے تعبیر کرنے سے ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ انسان عام حالات میں جب کہ کوئی مرّبی اور رہنما نہ ہو ، طبیعت کے درّے ، سر کش سر شت کی گہرائیوں اور جہل و نادانی کے تاریک کنویں میں پڑا رہتا ہے ۔ اس پستی سے نجات حاصل کرنے اور تاریک کنویں سے باہر نکلنے کے لئے ایک مضبوط رسّی کی ضرورت ہے جسے وہ پکڑ سکے اور اس سے باہر آسکے ۔ یہ مضبوط رسی وہ خدائی رابطہ ہے جو قرآن اس کے لانے والے اور ان کے حقیقی جانشینوں تک پہنچتا ہے اوریہ لوگوں کو مادیت کی پستی سے نکال کر معنویت اور راحانیت کے عروج تک پہنچا دیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:102-103
تقویٰ اور پر ہیز گاری کی دعوت
یٰٓا ایّھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ اس آیت میں پہلے تقویٰ کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اتحاد کی دعوت کے لئے تمہید بنے۔ در حقیقت تقویٰ کی دعوت کسی اخلاقی اور عقیدے کی مدد لئے بغیر بے اثر یا کم اثر ہوتی ہے ۔ اسی بنا پر اس آیت میں کوشش کی گئی ہے کہ اختلاف اور پر اکندگی کے عوامل ایمان اور تقویٰ کے ذریعے کمزور کیئے جائیں اور اس لئے ایماندار افراد کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ سب کے سب خدا سے ڈرو اور تقویٰ او ر پرہیز گاری کا حق ادا کرو.....-- ” حق تقویٰ“ سے کیا مراد ہے ؟ اس ضمن میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ حق تقویٰ پر ہیز گاری کا آخری درجہ ہے جس میں ہر قسم کے گناہ وھیان اور حق سے انحراف کرنے سے پر ہیز کرنا شامل ہے ۔ اسی لئے تفسیر ” در منثور“ میں پیغمبر اکرم او ر” تفسیر عیاشی“ اور ’ معانی الاخبار“ میں امام جعفر صادق (ع) سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ (ع) نے حقِّ تقویٰ کی تفسیر میں فرمایا : ( ان یطاع فلا یعصی و یذکر فلا ینسی و یشکر فلا یکفر ) یعنی حق تقویٰ یہ ہے کہ ہمیشہ اس کے فرامین کی اطاعت کی جائے اور کبھی اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور ہمیشہ اسے یاد رکھو اور کبھی بھی اسے فراموش نہ کرو اور اس کی نعمتوں پر شکر گزار رہو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ........ ظاہر اور واضح ہے کہ یہ حکم باقی احکام الہٰی کی طرح انسان کی ہمت و طاقت سے وابستہ ہے لہٰذا مندرجہ بالا آیت اور سورہ تغابن کی آیت ۱۶ فاتّقوا اللہ مااستطعتم ( جتنا ہو سکے پرہیز گاری اختیار کرو ) ان دونوں آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اس لئے ان دو آیات کے تضاد کے بارے میں اور یہ ان میں سے ایک دوسری کی ناسخ ہے ، گفتگو بے بنیاد ہے ، البتہ دوسری آیت حقیقت میں اصطلاحی لحاظ سے پہلی آیت کی تخصیص ہے اور اسے انسان کی توانائی کی مقدار سے مقید کرتی ہے ۔ چونکہ ظاہراً قدماء کے ہاں لفظ نسخ تخصیص پر بھی بولا جاتا تھا ۔ لہٰذا ممکن ہے ان لوگوں کی نسخ سے مراد تخصیص ہی ہو ۔ ولا تمو تن الا و انتم مسلمون۔ حقیقت میں یہ جملہ اوس و خزرج اور تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک تنبیہ ہے کہ وہ ہو شمندی سے رہیں ۔ صرف اسلام قبول کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس سے اہم بات یہ ہے کہ ایمان و اسلام کی زندگی کے آخری لمحات تک محفوظ رکھیں اور زمانہ جاہلیت کے کینہ کی بجھی ہو ئی آگ اور بیہودہ غیر معقول تعصبات کی پیروی میں اپنے ایمان اور پاک اعمال کو بر بادی کی بھینٹ نہ چڑھا دیں تاکہ آخرت میں انجام بدبختی سے ہمکنار نہ ہو لہٰذا اس بات کی تاکید کی گئی کہ خیال رکھنا کہ دنیا سے ایمان و اسلام کے بغیر نہ جا نا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:102-103
اتحاد کی دعوت
و اعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا۔ اس آیت میں مسئلہ اتحاد اور ہر قسم کے اختلاف اور تفرقہ بازی سے اجتناب کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے سبھی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جاوٴ ۔ حبل اللہ (اللہ کی رسی ) سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے اس کے متعلق کئی احتمالات کا ذکر کیا ہے ، بعض کے نذدیک اس سے مراد قرآن ہے اور بعض اس سے مراد اسلام لیتے ہیں ۔ کچھ حضرات کے نزدیک خاندان رسالت اور ائمہ معصومین (ع) مراد ہیں ۔ جو روایات پیغمبر اکرم اور اےمہ اہل بیت (ع) سے نقل ہوئی ہیں ان میں بھی کئی تعبیرات نظر آتی ہیں جیسا کہ تفسیر در منثور میں پیغمبر اکرم اور معانی الاخبار میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ حبل اللہ قرآن کریم ہے اور تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ اللہ کی رسّی سے مراد آل محمد (ع) ہیں اور لوگوں کو ان سے تمسک کرنے پر مامور کیا گیا ہے ۔ لیکن ان احادیث اور تفاسیر میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ اللہ کی رسی سے مراد ہر قسم کا ذریعہ ہے جو ذات پاک کے ساتھ ربط رکھتا ہے ۔ چاہے و ہ وسیلہ اسلام ہو یا قرآن یا پیغمبر اور ان کے اہل بیت (ع) ۔ باالفاظِ دیگر تمام وہ چیزیں جو ذکر ہو چکی ہیں ارتباط ِ خدا کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں ۔