الم
Alif, Lam, Meem.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 29:1
[Pooya/Ali Commentary 29:1] Refer to the commentary of al Baqarah: 1 for Alif, Lam, Mim (huruf muqatta-at).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 29:1-13
On revelation of this the Prophet said, “My followers shall certainly be tried after me, to distinguish the faithful from otherwise, and as revelation will cease, sword will remain behind until Judgment Day. This prophecy, we have been witnessing until today, true adherents of Divine Lights, owing to their disagreement with their enemies, have been continuously in communal affray (compare the tragedy of Karbala). Those who do not interest themselves in either party, to preserve their worldly status, at the cost of religion shall suffer the most because when you do not appear for examination you have no qualifications for admission to Paradise. These are hypocrites, viz. Muslims in name.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 29:1-3
آزمائش ایک دائمی سنت الہٰی ہے
اس سورہ کی ابتدابھی ( الف . لام . میم ) حروف مقطعات سے ہوتی ہے . ہم نے بار ہا مختلف زادیہ ہائے نظر سے ان حروف کی تفسیر بیان کی ہے( 1) اس سورہ میں حروف مقطعات کے بعد انسانی زندگی کے پیش آمدہ مسائل میں س ے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ ہے اوروہ ہے اللہ کی طرف سے بندے کا امتحان اوراس کی آزمائش ۔ سب سے پہلے یہ کہاگیا ہے کہ کیالوگوں یہ گمان کرتے ہیں کہ اگروہ صرف یہ کہنے پراکتفاکریں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور توحید ورسالت ِپیمبرکی شہادت دیں تووہ اپنے حال پرچھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کاامتحان نہ ہوگا : ( احسب الناس ان یتر کوا ن یقولوا امناوھم لایفتنون ) (۲)۔ اس کے بعد بلافاصلہ اس حقیقت کا ذکر ہے کہ اہل ایمان کا امتحان اللہ کی ایک دائمی اور جاودانی سنت ہے . یہ امتحان صرف امت اسلام ہی کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ وہ سنت الہٰی ہے جو گزشتہ آمتوں کے لیے بھی جاری رہی ہے . چنانچہ فرمایاگیا ہے کہ : ہم نے گزشتہ امتوں کی بھی آزمائش کی ہے : (ولقد فتنا الذین من قلبھم ) ہم نے گزشتہ امتوں کو بھی امتحان کی بھٹی میں ڈالا ہے وہ بھی تمہاری طرح بے رحم ،جاہل ، متعصب ، بے خبراو ر جنگ پسنددشمنوں کے نرغے میں گرفتار تھیں .الغرض امتوں کے لیے ہمیشہ میدان امتحان تیاررہاہے اور انھین اس میدان سے گزرنا پڑ تاہے ۔ ایساہونا بھی چاہئےے کیونکہ : ۔ ہر آدمی برترین مومن ،بالا ترین مجاہد اورفدا کار ترین انسان ہونے کا ادعا کر سکتاہے . اس لیے اس ادعا کی حقیقت اوراس کا وزن امتحان سے ثابت ہوناچاہیئے .امتحان ہی سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مدعی کے دعو ے اوراس کی زہنی آمادگی باطنی خلوص میں ہم آہنگی ہے یا نہیں؟ امتحان کی اس لیے بھی ضرورت ہے تاکہ ا ن کے متعلق خداکا یہ علم ان میں کون سچاہے اور کون جھوٹا ،درست ثابت ہو :( فلیعلمن اللہ الذین صدقو ا ولیعلمن الکاذبین ) ۔ یہ امر بدیہی ہے کہ خداسب کے دلوں کا حال جانتاہے . یہاں تک کہ بنی نوع ِ انسانی کی خلقت سے پہلے بھی سب کچھ اس کے علم میں تھا . اس مقام پر ’ ’ علم الہٰی “ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ اس کے علم میں ہے و جود خارجی میں بطور عین الیقین اس کاثبوت مل جائے . یعنی اس گروہ کے متعلق خدا کاجو علم ہے ،لوگ اسے خارج میں بھی دیکھ لیں اور جس شخص کے دل میں چو کچھ ہے وہ نمایاں اور آشکار ہوجائے ۔ خداکے متعلق جہاں بھی کلمہ ” علم “ استعمال ہوا ہے اس کایہی مفہوم ہے ۔ یہ حقیقت قطعی واضح ہے کہ انسان کی نیت اوراس کا ارادہ جب تک عمل سے ظاہر نہ ہو تو اس کے لیے ثواب ،جزایا بدلے کاتعین نہیں ہو سکتا۔ آزمائش کاہونا اس لیے بھی ضرور ی ہے تاکہ انسان کی نیت اور اس کی نفسانی کیفیت کاحال معلوم ہو جائے ۔ اس مفہو م کو ایک اور پہلو سے بھی سمجھناچاہیئے کہ : ۔ اس عالم کی مثال ایک یو نیورسٹی یاایک کھیت کی ہے ( اسلامی احادیث میں یہ تشبیہات وارد ہوئی ہیں ) جب ایک طالب علم یونیورسٹی میں تحصیل کے لیے آتاہے تو دستور تعلیم یہ ہو نا چاہیئے کہ اس کی فطری استعداد کی کلی کھل جائے . جس قسم کی لیاقت بھی اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے ، اس کی پر ورش ہو او ر اس کی مخفی صلا حیتیں قوت سے فعل میں آجائیں ۔ نیز یہ کہ عالم ایک کھیت ہے . اس کھیت میں چو بیج بویاجائے تواس کی سرشت اورطینت کااظہار ہوناچاہیئے . اس کے اندر سے انکھوں ا پھوٹنا چاہیئے ،اسے خاک سنے ابھار نا چاہیئے . جب اس کی پرورش ہو تو وہ چھوٹا ساپود ا بن جائے پھر نشو و نما پاکر ایک تنومند اور بار آور درخت بن جائے .افراد اورقوم دونوں کواپنی نشو و نماکے لیے ا ن امتحانات سے گزرنا پڑ تا ہے ۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ خدا کی طرف سے جو آزمائشیں آتی ہیں وہ محض افراد ک استعداد ات کی شناخت کے لیے نہیں ہیں . بلکہ انسان کی مخفی صلا حیتوں کی پرورش کے لیے ہیں ۔ یہ امر بھی محل لحاظ ہے کہ اگرہم کسی شے یا کسی انسان کو آز ماتے ہیں تووہ کسی مخفی یامجہول صفت کو معلوم کرنے کے لیے ہوتاہے . مگر خداکی آزمائش کشف مجہول کے لیے نہیں ہوتی . کیونکہ اس کا علم تو ہر شے پر محیط ہے بلکہ خدااس لیے آز ماتاہے تاکہ وہ انسانوں کی استعداد کی پردرش کرے اور جو صلاحیتیں اس میں مخفی ہیں وہ قوت سے فعل میں آجائیں (۳)۔ 1۔ ان حروف کی تفسیر سورہ بقرہ جلد اول ،سورہ آل عمران ، جلد دوم ،اور سورہ اعراف جلد ششم کے آغاز میں ملا حظہ کیجئے ۲ ۔ ” یفتنون “ کامادہ ”فتنہ “ ہے جس کے معنی ہیں سونے کوآگ میں تپانا ،اس کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے .اس کے بعد مجاز ا اس کلمہ کو ہرطرح کی ظاہر ی اور باطنی آزمائش کے لیے بولنے لگے .مزید توضیح کے لیے جلد ۲ صفحہ۲۹ (اردو ترجمہ ) دیکھئے ۔ ۳ ۔ خدا کی آزمائش اوراس کے مختلف جواب کی توضیح جلد اول آیت ۱۵۷ ،سورہ بقرہ کے ذیل میں بیان ہوئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 29:1-3
سوره عنکبوت / آیه 1 - 3
۱۔الم ۲۔اٴَ حَسِبَ النَّاسُ اٴَنْ یُتْرَکُوا اٴَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَ ہُمْ لا یُفْتَنُونَ ۳۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذینَ صَدَقُوا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکاذِبینَ ترجمہ ۱۔ الم ۲ ۔ کیالوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں وہ چھور دیئے جائیں گے اوران کی آزمائش نہیں کی جائے گی ، ۳۔جو لوگ ان سے پہلے تھے ہم نے ان کی بھی آزمائش کی تھی ( اور ان کی بھی آزمائش کریں گے ) ضرور ی ہے کہ خدا کا علم ان کے بارے میں بھی سچ ثابت ہو کہ جو سچے ّ ہیں اوران کے بارے میں بھی کہ جو کاذب ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 29:1-3
شان نزول
بعض مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق اس سورہ کی ابتدائی گیا رہ آ یات مدینے میں نازل ہوئیں ،ان مسلمانوں کے متعلق جو مکہ میں تھے ،اظہار اسلام کرتے تھے مگرمدینہ کو ہجرت کر نے کے لیے تیار نہ تھے ۔ انھیں اپنے ان بھائیوں کی طرف سے جو مدینے میں تھے ،ایک خط ملا جس میں تحریر تھا کہ : ” تم جوایمان کا اقرار کرتے ہو وہ خدا کو قبول نہیں ہے مگر یہ کہ ہجرت کرو اور ہمارے پاس آجاؤ “ یہ خط پاکر انھوں نے ہجرت کاارادہ کرلیا اور مکہ سے نکلے . مشرکین کے ایک گروہ نے ان کاتعاقب کیا اور ان سے جنگ کی مہاجرین میں س ے بعض تو مارے گئے اور بعض بچ گئے ( اور احتمال یہ بھی ہے کہ بعض نے مشرکین کی اطاعت کرلی اور مکہ کو واپس ہوگئے ) ۔ بعض دیگر مفسرین نے دوسری آیت کے متعلق یہ خیال ظاہر کیاہے کہ یہ عماریاسر اور دوسرے ابتدائی مسلمانوں کے متعلق ہے جو ایمان لے آئے تھے اور دشمنان اسلام کے مظابرداشت کررہے تھے ۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سورہ کی آٹھویں آیت سعد ابن ابی و قاص کے اسلام لانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ لیکن ان آیات کو دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلو م ہوتاہے کہ ان آیات کامسئلہ ہجرت سے کوئی تعلق نہیں ہے .ان میں تو صرف ان مظالم ذکر ہے جو اس زمانے میں دشمنا ن اسلام روار کھتے تھے یہاں تک کہ وہ مظالم بھی کہ جو مشرک والدین کی طرف سے اپنی اولاد پربھی روارکھے جاتے تھے ۔ یہ آیات دشمنان اسلام کی ستم کاریوں اور مظالم کے مقابلہ میں مسلمانوں کواستقامت اورپامردی تعلیم دیتی ہیں اور اگر درمیان میں کسی مقام پرجہاد کاذکر آگیا ہے تو اس اس کامفہوم بھی اس امتحان میںثبات ِ قدم ہے نہ کہ مسلمانوں کامسلح جہاد ، جس کا حکم مدینے میں نازل ہواتھا ۔ اس طرح اگر کہیں منافقین کاذکرہے تو ممکن ہے کہ اس کااشارہ ان کمزور ایمان لوگوں کی طرف ہوجو مکہ میں مسلمانو ں کے درمیا ن رہتے تھے ، وہ کبھی مسلمانوں سے مل جاتے تھے اور کبھی مشرکین سے . غرض جس کسی کابلہ بھاری دیکھتے اسی کے ساتھ ہوجاتے تھے ۔ بہر حال ،ان آیات کی ترتیب وتنظیم اس امر کی شاہد ہے کہ ان سب کو مکی سمجھیں اور روایات بالاجن میں باہم توافق نہیں ہے وہ اس تنظیم کوختم نہیں کرسکتیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 29:1-3
آزمائشیں مختلف رنگ میں
اگرچہ جملہ اقوام اورجماعتوں کے لیے امتحان کاعمومی ذکر ،مکہ کے ان مومنین کے لیے جو اس زمانے میں اقلیت میں تھے نہایت موٴ ثر تھا . اس حقیقت پرنظر کرکے ان میں اپنے سخت ترین دشمن کے مقابلے میں صبر و استقامت کاجذبہ پیدا ہوتاتھا مگر یہ آز مائش صرف مو منین مکہ کے لیے ہی مخصوص نہ تھی . بلکہ جہاں کہیں بھی مومنین کی جماعت ہے وہ اس سنت الہٰی کی مصداق ہے خدا ان کامختلف صورتوں سے امتحان لیتاہے ... مثلا ً ۱۔مومنین کی کوئی جماعت ایسے معاشرے میں محشور ہوجاتی ہے جو ہر جہت سے آلودہ ٴ مفاسد ہو . اس معاشرے میں مومنین کو ہر جانب سے برائیوں کی دعوت گھیر ے رہتی ہے . اس وقت ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ایسے معاشرے کی بد اخلاقیوں کااثر قبول نہ کریں اور اپنی نیکی اورتقو یٰ کو محفوظ رکھیں ۔ ۲۔ کبھی مومنین کی کوئی جماعت افلاس اور محروم مبتلا ہوتی ہے .جب کہ وہ یہدیکھتے ہیں کہ اگروہ اپنی قدر مخصوص کو جوان کا حقیقی اسی صورت میں حاصل کرنے کیے لیے تیار ہو جائیں توبہت جلد ان کی محرومیت اور افلا س دفع ہوسکتاہے . لیکن یہ تونگری انھیں اسی صورت میں حاصل ہوگی جب وہ اپنا ایمان ،تقو ی ٰ ، آزادی ،عزت اور شرف کو ہاتھ سے دینے کے لیے تیار ہوجائیں ۔ ۳۔ اس کے برعکس مومنین کے امتحان کا ایک اور بھی رخ ہے کہ : ۔ مومنین کی کوئی جماعت دولت میں مستغرق ہوجاتی ہے اورجملہ مادی وسائل اس کے اختیار میں ہوتے ہیں . اندریں حال ان کا امتحان یہ ہے کہ : ۔ کیا وہ خدا کی نمات کا شکر ادا کرتے ہیں یا و ہ دولت پاکر غفلت ، غرور ، خود بینی اورلذّت و شہوات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور پنے آپ کو بر تر سمجھ کر اپنے برادران ایمانی سے منقطع ہوجاتے ہیں ۔ ۴۔ ہمارے زمانے میں قوموں کوایک اور شدید امتحاندرپیش ہے اور وہ ہے ” مشرق یامغرب زدگی “ وہ مشرق یامغرب کی بعض اقوام کودیکھتے ہیں کہ وہ خدا اور فضائل ِ اخلاق سے برگشتہ ہو کر دنیا میںخیرہ کن مادہ تمد ن سے بہرہ مند ہیں اوران کا رفاہی اجتماعی نظام سلطنت بہت اچھا ہے ۔ ان اقوام متمدن کی حالت کودیکھ ک پسماندہ کو ایک قوی مگر عجیب ساجذبہ اسی قسم کی زندگی اختیار کرنے کی طرف کھینچتا ہے . وہ یہ سو چنے لگتے ہیں کہ وہ تمام اصول اخلاق جن کے وہ معتقد رہے ہیں ، انھیں پاؤں کے نیچے روند کر اوران متمدن اقوام میں س ے کسی ایک کے ساتھ وابستگی ذلت برداشت کرکے ، اپنے اورسارے معاشرے کے لیے اسی قسم کے اسباب حیات مہیا کریں . درحقیقتاس عہد میں یہ بڑا امتحان ہے ۔ ۵۔ اس زمانے کے مصائب ،درد ورنج ،جنگیں اور نزاع ،گرانی اور آئے دن قیمتوں میں اضافہ ، اوروہ استحصال کرنے والی حکومتیں جوکمزو ر قوموں کو غلام بنا تی ہیں اور انھیں اپنے طاغوتی نطام کی اطاعت پرمجبور کرتی ہیں ۔ علاوہ بریں انسانوں کی نفسانی خواہشات کی تند و تیزموجیں ، ان میں سے ہرایک بندگان خدا کے لیے سخت امتحان ہے ان ہی حالات میں ایک شخص کے ایمان ،تقویٰ پاکیز گی ، امانت اور آزادی کا امتیاز ہوتاہے ۔ لیکن ایسی سخت آزمائشوں میں کا میابی ہونے کے یے صرف ایک ہی وسیلہ ہے کہ انسان میں استقامت ایمانی ہوا ور خدا کے لطف خاص پربھرو سہ رکھے ۔ اصولی کافی میں : ”احسب الناس ان یتر کوان یقو لوامنا وھم لایفتنون کی تفسیر میں بعض معصومین علیہ السلام سے یہ حدیث منقول ہے : یفتنون کمایفتن الذھب ، ثم قال یخلصون کمایخلص الذھب انھیں آمایاجاتا ہے جس طرح کے سونے کوبھٹی می تپا یاجاتاہے . وہ لوگ ہرقسم کی آلودگی سے صاف ہوتے ہیں جس طرح کہ آگ سونے کو پر قسم کے میل سے صاف کردیتی ہے (1)۔ بہر حالوہ عافیت طلب لوگ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہار ایمان کرنے سے وہ مومنین میں شمار ہونے لگیں گے اور اعلیٰ علیّن بہشت میں وہ پیمبروں ،صدیقین اور شہدا کے ہم نشین ہو جائیںگے ،سخت غلطی پر ہیں ۔ امیر المومنین حضر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا یہ قول نہج البلاغہ میں موجو د ہے : والذی بعثہ بالحق لتبلبلن بلبلة ، و لتغربلن غر بلة ،ولتساطن سوط القدر ،حتی یعود اسفلکم اعلا کم و اعلاکم اسفلکم قسم ہے اس ذات کی جس نے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق پر مبعوث کیاکہ تم شدت سے آز مائے جاؤ گے اور چھانے جاؤ گے اورجس طرح کہ ہانڈی میں پانی ابلتے وقت اوپر نیچے ہوتاہے تم بھی منقلب ہوگے . اس طرح سے کہ تمہارے بلند لوگ پست اورپست لوگ بلند ہوجائیں گے (2)۔ یہ بات امیرالمومنین علیہ السلام نے اس وقت کہی جب نئے لوگ نے آپ علیہ السلام سے بیعت کی تھی او ر وہ اس بات کے منتظر تھے کہ آپ علیہ السلام بیت المال کے اموال کی تقسیم اورعہدوں کے عطاکرنے میں ان کے ساتھ کیاسلو کر تے ہیں . وہ سوش رہے تھے کہ کیاعلی علیہ السلام کاطرز عمل بھی اسی گزشتہ معیار پر ہوگا جس میں امتیاز اور تخصیص تھی یاآپ کامعیار عدل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوگا ۔ 1۔ ( اصول کافی ) طبق نقل تفسیر نورا ثقلین ، جلد ، ۴ ، صفحہ ۱۴۸ ۔ 2۔نہج البلا غہ خطبہ ۱۶۔