قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
One of the two women said, ‘Father, hire him. Indeed the best you can hire is a powerful and trustworthy man.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 28:26
[Pooya/Ali Commentary 28:26] One of his daughters recommended to Shu-ayb that Musa be taken in employment because he was strong and trustworthy. Imam Musa bin Jafar al Kazim says that Shu-ayb asked his daughter: "I know by his removing the huge rock from the mouth of the well that he is strong, but how do you know that he is also trustworthy?" Then the girl narrated to her father how Musa had asked her to walk behind him and point the way by throwing a small stone before him, for he said that he did not belong to those people who cast their eyes upon the backs of women. Syed Safdar Husain in his Early History of Islam refers to W. Irving's Succ. of Mohd., and says that at the time of going to Siffin, the army made a halt at a place where there was no water. Imam Ali, with some of his warriors, went in search of water. In a nearby monastery, a monk informed him that water is available at a place five miles away from there. Not only the soldiers but the horses and other beasts of burden were so thirsty that there was no possibility of taking them to the pointed out place. The Imam asked his men to dig the earth on a particular spot. After some digging a huge rock appeared. All the men, who could gather round the rock, did their best to lift and remove it, but the rock did not move an inch. Then the Imam, who had once lifted the door of the fort of Khaybar, put his hand under the rock, lifted it and threw it several feet away. There was abundant water under the earth covered by the rock. The monk asked Ali if he was a prophet. Ali said: "No. I am the successor of the last prophet of Allah." The monk said: "It is written in our holy books that there is a well in this vicinity but none save a prophet of Allah or a divinely chosen successor will discover it. Now I become a Muslim." He took part in the battle of Siffin and was martyred. At the time of departure Ali covered the well with the earth. While returning from the battle Ali asked his men if they could find the well again. They thought it was easy, but in spite of extensive search they could not. Ali informed them that the well would remain hidden till the day of resurrection .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:26-28
حضرت موسٰی (علیه السلام) حضرت شعیب (علیه السلام) کے گھر میں
اب حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے چھٹے دور کاذکر شروع ہوتاہے . حضرت موسٰی (علیه السلام) جناب شعیب (علیه السلام) کے گھر آگئے . یہ ایک سادہ ساد یہاتی مکان تھا ، مکان صاف ستھر اتھا . اورروحانیت سے معمور تھا . جب حضرت موسٰی (علیه السلام) نے جناب شعیب (علیه السلام) کو اپنی سرگزشت سنائی توان کی ایک لڑکی نے ایک مختصر مگر پر معنی عبارت میں اپنے والد کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ موسٰی (علیه السلام) کو بھیڑوں کی حفاظت کے لیے ملازم رکھ لیں . وہ الفاظ یہ تھے : اے بابا ! آپ اس جوان کو ملازم رکھ لیں .کیونکہ ایک بہرین آدمی جسے آپ ملازم رکھ سکتے ہیں ، وہ ایساہوناچاہیئے جوقوی اور امین ہوا ور اس نے طاقت اور نیک خصلت دونوں کاامتحان دے دیا ہے : ( قالت احدا ھما یاابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین ) ۔ جس لڑکی نے ایک پیغمبرکے زیر سایہ تربیت پائی ہواسے ایسی ہی مئود بانہ اورسوچی سمجھی با ت کہنی چاہیئے نیز چاہیئے کہ مختصر الفاظ اور تھوڑی سی عبارت میں اپنا مطلب اداکردے ۔ اس لڑ کی کو کیسے معلوم تھا کہ یہ جوان طاقتور بھی ہے اورنیک خصلت بھی کیونکہ اس نے پہلی باز کنویں پر ہی اسے دیکھا تھا اوراس کی گزشتہ زندگی کے حالات سے وہ بے خبر تھے ؟ اس سوال کاجواب واضح ہے .اس لڑکی نے اس جوان کی قوت کو تواسی وقت سمجھ لیاتھا جب اس نے ان مظلوم لڑکیوں کاحق دلانے کے لیے چرواہوں کوکنویں سے ایک طرف ہٹا یاتھا . اوراس بھاری ڈول کواکیلے ہی کنویں سے کھینچ لیاتھا اوراس کی امانت اورنیک چلنی اس وقت معلوم ہوگئی تھی کہ حضرت شعیب (علیه السلام) کے گھر کی راہ میں اس نے یہ گوارانہ کیاکہ ایک جوان لڑکی اس کے آگے آگے چلے . کیونکہ ممکن تھا کہ تیز ہواسے اس کالباس جسم سے ہٹ جائے (۱)۔ علاوہ بریں اس نوجوان نے اپنی جوسرگزشت سنائی اس کے ضمن میں قبطیوں کے لڑائی کے ذکر میں اس کی قوت کاحال معلو م ہو گیا تھا . اوراس کی امانت و دیانت کی یہ شہادت کافی تھی کہ اس نے ظالموں کی ہم نوائی نہ کی اور ان کی ستم رانی پر اظہاررضامندی نہ کیا ۔ حضرت شعیب (علیه السلام) نے اپنی بیٹی کی تجوایز کو قبول کر لیا .انھوں نے موسٰی (علیه السلام) کی طرف رخ کرکے یوں کہا : میراارداہ ہے کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا تیرے ساتھ نکاح کردوں .اس شرط کے ساتھ کہ تو آٹھ سال تک میرے خدمت کرے : ( قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھا تین علی ان تاجرنی ثمنی حجج ) (۲)۔ اس کے بعد یہ اضافہ کیا ” اگر تو آٹھ سال کی بجا ئے یہ خدمت دس سال کردے تو یہ تیرااحساب ہوگا . مگر تجھ پرواجب نہیں ہے :( فان اتممت عشر افمن عندک ) بہر حال میںیہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مشکل کام لوں .ان شاء اللہ جلد دیکھوگے کہ میں صالحین میں سے ہوں ، اپنے عہدو پیمان میں وفادار ہوں تیرے ساتھ ہرگز سخت گیری نہ کروں گا اور تیرے ساتھ خیراورنیکی کاسلوک کروں گا : (وما ارید ان اشق علیک ستجد نی ان ساء اللہ من الصالحین ) ۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی طرف سے اس تجویز کے ضمن میں ، ازدواج ، مہر اوراس کی جملہ خصوصیات کے متعلق بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں ، جن پران شاء اللہ نکات کے ضمن میں بحث ہوگی ۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس تجویز اورشرط سے موافقت کرتے ہوئے اور عقد کو قبو ل کرتے ہوئے کہا : ” میرے اور آپ کے درمیان یہ عہد ہے “ :( قال ذلک بنی و بینک ) ۔ البتہ ان دومدّتوں میں سے ( آٹھ دس سال ) جس مدّت تک بھی خدمت کروں ، مجھے پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اور میں اس کے انتخاب میں آزاد ہوں : ( ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی ) ۔ عہد کو بختہ اورخداکے نام سے طلب مدد کے لیے یہ اضافہ کیا : جوکچھ کہتے ہیں خدااس پر شاید ہے :( واللہ علی ما نقول وکیل ) ۔ ۱۔علاوہ بن ابراہیم کی تفسیر میں یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ جب حضرت شعیب(علیه السلام) نے اپنی بیٹی سے یہ سوال کیاکہ ا س جوان کی قوت کاحال تو کنویں سے بڑا ڈول کھینچنے سے معلوم ہوگیا ، تمہیں اس کی امانت کاحال کیسے معلوم ہوا تو لڑکی نے جواب دیا کہ اس نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ عوتوں کی کمر پر بھی نگاہ ڈال لے . (تفسیر نورا ثقلین ، ج۲ ، ص ۱۲۳)۔ ۲۔” حجج “ جمع ” حجة “ کی جس کے معنی ہیں” ایک سال “ عربوں کامعمول یہ تھا کہ ہرسال کے بعد ایک حج کرتے تھے . یہ حضرت براہیم (علیه السلام) کے وقت سے چلی آتی تھی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:26-28
۲۔حضرت شعیب (علیه السلام) کاحضرت موسٰی (علیه السلام) کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح
مذکورہ بالاآیات کو پڑھ کرذہن میں متعد د سوالا ت پید ا ہوتے ہیں . ہم جن کے بے کم وکاست جوابات دیتے ہیں ۔ ۱۔ کہافقہی اعتبار سے یہ درست ہے کے وہ لڑکی جس کے ساتھ نکاح کرنا ہے اس کاماقبل تعین نہ ہو بلکہ عقد کے اجراء کے وقت کہاجائے کہ : ” میں ان دو لڑ کیوں میں سے ایک کا تیرے ساتھ نکاح کرتاہوں “ ۔ جواب ۔ یہ ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ الفاظ اجرائے صیغہ کے وقت کہے گئے ہوں گے .بلکہ سیا ق عبارت سے ایسا مفہوم ہوتاہے کہ یہ ابتد ائی گفتگو ہے ، جیسے اصطلاح میں ’ ’ مقادلہ “ کہتے ہیں تاکہ موسٰی (علیه السلام) کی رضامندی کے بعد طرفین ایک دوسرے کو انتخاب کرلیں . پھر صیغئہ عقد جاری ہوجائے ۔ ب ۔ کیایہ ہوسکتاہے کہ مہرکو غیر طے شدہ حالت میںیاکم اور زیادہ کے درمیا ن مشکوک حالت میں رکھ جائے ۔ جواب ۔ آیت کے لب و لہجہ سے یہ امر قطعی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت شعیب(علیه السلام) نے مہر آٹھ سال کی خدمت طے کی تھی . اسے دس سال تک بڑھا دینا حضرت موسٰی (علیه السلام) کی مرضی پرمنحصر تھا ۔ ج ۔ کیااصولا کام اور خدمت کو مہر قرا ر دیاجاسکتاہے . نیز ایسی عورت سے ہم بستری کیسے ہوسکتی ہے جبکہ ابھی اس کاتمام مہر اداکرنے کا وقت ہی نہیں آیا حتٰی کہ شوہر کی اتنی بضاعت ہی نہیں ہے کہ کل مہر یکمشت ادا کردے ۔ جواب : ایسے مہر کے عدم جواز پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ ہماری شریعت میں ہر وہ شی جس کی کچھ قیمت ہو اس پر مہرکااطلاق ہوسکتاہے . شوہر کے لےے یہ بھی لازم نہیں کہ وہ کل مہر بیک وقت ادا کردے .اتنا ہی کافی ہے کہ حق مہر ادا کرنے کا شوہر ذمہ ّ دار ہو اور بیوی اس کی مالک ہو جائے .شوہر کی درستی صحت اوراس کااپنی بیوی کی رفاقت میں رہنابھی اس امر کی دلیل ہوتاہے کہ وہ زندہ رہے گا اوراس میں اتنی قدرت ہوگی کہ وہ حق مہر اداکرسکے گا ( 1)۔ د۔ یہ بات اصولا کس طر ح ممکن ہے کہ باپ کی خدمت بیٹی کاحق مہرقرار دیاجاسکے .کیابیٹی بھی کوئی متاع ہے جسے حق خدمت کے عوض فروخت کردیاجائے ( 2)۔ جواب : اس میںشک نہیں کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے اس مسئلہ میں اپنی بیٹی کی رضا مندی حاصل کرلی تھی اوروہ اس قسم کے عقد کو جاری کرنے کے لیے وکیل تھے ۔ اس مسئلے کی ایک اور توجیہہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ذمّہ جومہر تھا حقیقت میں اس کی اصل مالک حضرت شعیب (علیه السلام) کی لڑکی ہی تھی مگر چونکہ خاندان مشتر کہ اوران کی زندگی نہایت خلوص اورمحبت سے گزرتی تھی ، آپس میں کسی قسم کا اختلاف نہ تھا ( جیساکہ اب بھی قدیمی خاندانوں یادیہات میں دیکھاجاتاہے کہ گھر کے تما م افراد مل جل کررہتے ہیں ) اس لیے وہاںیہ سوال پیدانہیں ہوسکتاتھا کہ حق مہرکون لے . خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی مالک صرف لڑکی ہی ہے نہ کہ باپ اورحضرت موسٰی (علیه السلام) کی خدمت بھی لڑکی ہی کے لیے تھی ۔ ہ ۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی دختر کا مہر نسبتابہت زیادہ تھا . اگرآج کے حساب سے ایک مزور کی مزدوری کاایک ماہ اور پھر ایک سال میں حساب کریں اور پھر اس کو آٹھ سے ضرب دیںتو بہت ساری رقم بن جاتی ہے ۔ جواب :اوّل تو یہ کہ یہ ازدواج کوئی معمولی رسمنہ تھی بلکہ موسٰی (علیه السلام) کاحضرت شعیب (علیه السلام) کے زیرتربیت رہنے کے لیے اساب اولیہ میں سے تھا اوریہ ایک ذریعہ تھا جس سے موسٰی (علیه السلام) حضر ت شعیب (علیه السلام) کے دار العلم میں رہ کر نصاب تعلیم کو پورا کریں .خداہی جانتاہے کہ اس طویل مدّت میں موسٰی نے پیرمدین سے کیاکچھ حاصل کیا ۔ علاوہ بریں اگر حضرت موسٰی (علیه السلام) اس مدّت میںحضرت شعیب (علیه السلام) ہی کے لیے کا م کرتے اوراس کے عوض میںحضرت شعیب (علیه السلام) موسٰی (علیه السلام) اوران کی زوجہ کے کفیل رہتے توانھوں نے موسٰی (علیه السلام) اوران کی اہلیہ پرجو کچھ کیااسے کام کی مزدوری میں سے نفی کریں توکچھ زیادہ رقم باقی نہ رہے گی اور پھر مہربہت خفیف رہ جائے گا ۳۔ ایک مروجہ رسم کی نفی : اس داستان سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ آجکل ہمارے معاشرے میں باپ یالڑکی کے وارثین کی طرف سے لڑ کے کو پیام دینا عجب سمجھاجاتاہے ، درست نہیں ہے .اس میں کوئی شرع مانع نہیں ہے کہ لڑکی والے اگر کسی لڑکے کو لائق اور قابل سمجھتے ہیں تو اسے پیغام دے دیں . جیسا کہ حضر ت شعیب (علیه السلام) نے کی. نیز بزرگان اسلام کے حالات زندگی میں بھی ایسی نظریں ملتی ہیں ۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی لڑکیوں کانام ” صفورہ “ ( یاصفورہ ) اور ” لیّا“ بتایاجاتاہے . حضرت موسٰی (علیه السلام) کی شادی ” صفورہ ‘ ‘ سے ہوئی تھی ۔ 1۔ جواب شریعت اسلامی کی روشنی میںدیاگیا ہے . ہوسکتاہے کہ شریعت ابراہمی میں ( جوحضرت موسٰی (علیه السلام) سے قبل رائج تھی ) حق مہرکی شرائط کچھ اور ہوں ۔ 2۔ مرحوم محقق حلّی شرائع الاسلام میں کہتے ہیں : آزاد شخص کی منفعت پرعقد صحیح ہے مثلا بطور مہر کوئی صفعت سکھادے یا قرآن کی کو ئی سورة پڑ ھادے اورہر حلال عمل پر اور شوہر کو معینہ مدّت کے لیے اجیر بتانے پر . اورمرحوم فقیہ بزرگوا ر صاحب جواہراس عبارت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہین کہ علما ئے مشہور اس رائے سے متفق ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:26-28
۱۔ اداره جات کی درستی کے لیے دو بنیادی شرائط
آیات مذکورہ بالا میں ، حضرت موسٰی (علیه السلام) کو ملازم رکھنے کے بارے میں ،حضرت شعیب (علیه السلام) کی دختر کی زبان سے جو الفاظ ادا ہوئے ہیں ، ان میں کسی کام کو ذمہ ّ داری کے ساتھ اداکرنے کے لیے دو اہم ترین شرائط نہایت مختصر اور جامع صورت میں بیا ن ہوئی ہیں . اور وہ ہیں ’ ’ قدرت اور امانت “ ۔ یہ امر بدیہی ہے کہ قدرت سے مراد صرف جسمانی قوّت ہی نہیں ہے بلکہ اس میںیہ مفہوم بھی شامل ہے کہ انسان میں محولہ کام کو سرانجام دینے کی استعداد ہو . مثلا ایک قوی اورامین طبیب وہ اہے جواپنے کام سے آگاہ اور اس پر حاوی ہو ۔ ایک قوی سر براہ ادا رہ و ہ ہے جو اپنے فرائض منصبی سے خوف واقت ہو ، دفتر ی کا م کے مقاصد سے باخبر ہو ، تو تیب کار کا پرو گرام بنانے میں ماہر ہو ، اس میں بقدر کافی ایجاد واختراع کی قابلیت ہو ، کا م کو منظم کرنے کی مہارت رکھتاہو ، اس کے ذہن میں غایت کار واضح ہو اور اپنی تمام طاقتوں کو مقصد تک پہنچنے کے لیے استعمال میںلائے . ان تمام خصوصیات کے باوجود وہ ہمد رد ، خیرخواہ ، امین اور اپنے کام میں دیانتدار بھی ہو ۔ وہ لوگ جوکسی کوکوئی ذمّہ داری سپرد کرتے وقت صرف اس کی امانت اور درست کردار ی پرقناعت کرلیتے ہیں وہ بھی اسی طرح غلط فہمی میں ہیں جیسے کہ وہ لوگ جو کسی مہارت خصوصی دیکھ کراس پر بھروسہ کرلیتے ہیں ۔ خائن ماہرین خصوصی او ر بد دیانت واقفان کار ویساہی نقصان پہنچا تے ہیں جیساکہ نااہل اور نا واقفان کا ر ایما ندار لوگ ۔ اگر ہم کسی ملک کو برباد کر ناچاہتے ہیں تواس کے انتظام می فرائض کو مذکورہ بالا گرو ہوں میں سے کسی ایک کے سپرد کردینا چاہیئے .سر براہ ادار ہ خائن ہو اور صالح کردار کے لوگوں کو ذمّہ داریوں سے محروم رکھا جائے نتیجہ دونوں حالتوں میں ایک ہے ۔ اسلامی مصالح کاتقاضایہ ہے کہ ہرکام اس کے اہل اورامانت دار آدمی کے ہاتھ میں ہو تاکہ معاشرے کانظام درست رہے اگر ہم پوری تاریخ میںحکومتوں کے زواں کے اسباب پرغور کریں توا ن کی بنیاد ی علّت یہی پائیں گے کہ کار وبار سلطنت مذکورہ بالا دو گروہوں میں سے کسی ایک کے سپر د کردیا گیا تھا ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلام میں اہلیت کار کی خصوصیات میں ہر جگہ ” علم اور تقویٰ “ کو ہم دوش لازم قرار دیاگیا ہے .مثلا مرجع تقلید کو مجتہد او ر عادل ہوناچاہیئے قاضی اور رہنمائے قوم کو مجتہد اور عاد ل ہوجاچاہیئے ( ان شرائط کے علاوہ کچھ اور بھی شرائط ہیں .مگر بنیادی شرائط یہی دونو ں ہیں یعنی ” عدالت و تقویٰ اور علم و آگہی “ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:26-28
سوره قصص / آیه 26 - 28
۲۶۔ قالت احد ھما یابت استاجرہ ان خیرمن استاجرت القوی الامین ۲۷۔ قال انی ارید ان انکحک احد ی ابنتی ھتین علی ان تاجرنی ثمنی حجج فان اتممت عشر ا فمن عند ک وما ارید ان اشق علیک ستجدنی ان شاء للہ من الصلحین ۲۸۔ قال ذلک بینی وبینک ایما الا جلین قضیت فلا عدوان علی واللہ علی مانقول وکیل ترجمہ ۲۶۔ ان دو ( لڑ کیوں ) میں سے ایک نے کہاکہ اے اباجان آپ اسے ملازم رکھ لیجئے .کیونکہ بہترین ملازم جو آپ رکھ سکیں اسے تو انا اور امین ہوناچاہیئے ۔ ۲۷۔ (شعیب نے موسٰی ) کہا کہ میں چاہتاہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا تم سے نکا ح کردوں . اس شرط پرکہ تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کرو تو وہ تمہاری طرف سے احسا ن ہے . میںتم سے کوئی سخت کام لینا نہیں چاہتا .ا ن شاء اللہ مجھے صالحین میں سے پاؤ گے ۔ ۲۸۔ (موسٰی نے ) کہا کوئی (حرج نہیں ہے . البتہ ) میرے اورتمہارے درمیان یہ عہد رہے کہ میں ان مدتوں میں سے جونسی بھی میںتمام کرو ں ، مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی ( اوراس انتخاب مدّت میں میں آزاد ہوں گا ) اورہم جو معاہدہ کررہے ہیںخدااس پر گواہ ہے ۔