وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
When he came of age and became fully matured, We gave him judgement and knowledge, and thus do We reward the virtuous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 28:14
[Pooya/Ali Commentary 28:14] Aqa Mahdi Puya says: Hukm means authority and prophethood. Istawa refers to the state of perfect equity which is an essential quality or attribute for being appointed as the prophet of Allah. It is a state of perfect balance for viewing both the aspects of creation-manifest and hidden.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 28:14-21
From this it appears the importance of Taqiyya which goes to safeguard the life of Immaculates who were entrapped in saving sinful followers against the dead enemies of God. A man known as “Momin-e-Ale Pheraon” 600 years old acting on this principle of Taqiyya save Moses’ life by timely information.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:14-17
۱۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کایہ کام اورمقام عصمت
مفسّرین نے ، اس قبطی اوربنی اسرائیل کی باہمی نزاع اورحضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ سے مروقبطی کے مارے جانے کے بارے میں بڑی بحثیں ہیں۔ در حقیت یہ معاملہ کوئی اہم اوربحث طلب تھا ہی نہیں کیونکہ ستم پسند وابستگان فرعون نہایت بے رحم اورمفسد تھے .انہوں نے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کے سرقلم کیے اور بنی اسرائیل پرکسی قسم کاظلم کرنے سے بھی دریغ نہ کیا . اس جہت سے یہ لو گ اس قابل نہ تھے کہ بنی اسرائیل کے لیے ان کاقتل احترام انسانیت کے خلاف ہو ۔ البتہ مفسرین کے لیے جس چیز نے دشواریاں پیداکی ہیں وہ اس واقعے کی رہ مختلف تعبیر ات ہیں جو خود حضرت موسٰی (علیه السلام) نے کی ہیں ۔ چنانچہ وہ ایک جگہ تو یہ کہتے ہیں : ھذامن عمل الشیطان یہ شیطانی عمل ہے اوردوسری جگہ یہ فرمایا : رب انی ظلمت تفسی فاغفرلی خدامیں نے اپنے نفس پرظلم کیاتومجھے معاف فرمادے ۔ جناب موسٰی (علیه السلام) کی یہ دونوں تعبیرا ت اس مسلّمہ حقیقت سے کیونکر مطابقت رکھتی ہیں کہ : ” عصمت انبیا ء کامفہوم یہ ہے کہ انبیاماقبل بعثت اورمابعد عطائے رسالت ہر دو حالات میں معصوم ہوتے ہیں “ ۔ لیکن ... حضرت موسٰی (علیه السلام) کے اس عمل کی جو توضیح ہم نے آیات فوق کی روشنی میں پیش کی ہے ، اس سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) سے جوکچھ سرزد ہوااوہ ترک اولیٰ سے ز یادہ نہ تھا .انھوں نے اس عمل سے اپنے آپ کوزحمت میں مبتلا کرلیا کیونکہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ سے اایک قبطی کاقتل ایسی بات نہ تھی کہ وابستگان فرعون اسے کوئی اسے آسانی سے برداشت کرلیتے ۔ نیز ہم جانتے ہیں کہ ” ترک اولیٰ “ کے معنٰی ایسا کام ہے جو بذات خود حرام نہیں ہے . بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ” عمل احسن ترک ہوگیا ۔بغیر اس کے کہ کوئی عمل حکم الہٰی سرزد ہواہو ۔ اس قسم کے واقعات کادوسرے انبیاء کے احوال حیات میں بھی نشان ملتاہے .ان میں ایک حضرت آدم بھی ہیں .جن سے متعلق سورئہ اعراف آیت نمبر ۱۹ کے تحت (جلد ۶ تفسیر ھذا میں ) مفصّلاذکر ہواہے ۔ ان آیات کی تفسیر میں ” عیوان الاخبار “ میںجناب امام علی رضاعلیہ السلام سے ایک تفسیر مروی ہے . آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں : ”ھذامن عمل الشیطان “ سے مراد ان دونوں آدمیوں کی ایک ودسرے سے لڑائی ہے . ( جوعمل شیطانی شمار ہوتاہے ) ۔نہ کہ عمل موسٰی اوراس جملہ ” رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی “ سے مراد یہ ہے کہ موسٰی کہ رہے ہیں کہ خدایاجس مقام پرمجھے آنانہیںچاہیئے تھا میں وہاں پہنچ گیا .مجھے اس شہر میں ہر گز داخل نہیں ہونا چاہیئے تھا . اور ”فاغفرلی “ سے مراد یہ کہ :مجھے دشمنوں سے چھپا “ تاکہ وہ مجھ پر غالب نہ آجائیں (کیونکہ کلمہ ” غفران “ چھپانے کے معنٰی میں بھی آتاہے ) (۳) ۔ ۱۔ وسائل الشیعہ ، جلد پنجم ص ۲۴۹ ( باب ۲۰ ابواب از بقیةالصلوت المندربیہ ) ۔ ۲۔ ”وکز “ کے معنی مکّا مارنے کے ہیں .اس کلمے کے کچھ اومعنی بھی بتائے گئے ہیں جو درست نہیں معلوم ہوتے ۔ ۳۔عیون الاخبار طبق نقل تفسیر نواثقلین ج ۴ صفحہ ۱۱۹ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:14-17
موسٰی (علیه السلام) مظلوم کے مدد گار کے طور پر
اب ہم حضرت موسٰی (علیه السلام) کی بھر پورزندگی کے تیسرے دور سے دوچار ہوتے ہیں ۔ اس دور میں ا نکے وہ واقعات ہی جو بدوران بلوغ اور مصر سے مدین کوسفر کرنے سے پہلے پیش آئے اور یہ وہ اسباب ہیں جو ان کی ہجرت کاباعث ہوئے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ اس سلسلے میںپہلی بات تو یہ فرماتاہے : موسٰی جب طاقتور اورکامل ہوگئے توہم نے انھیں حکمت اورعلم عطاکیااور ہم نیکوکار وں کو ا س طرح جزا دیتے ہیں :( ولما بلغ اشدّہ واستوی اتیناہ حکما وعلما وکذالک نجزی المحسنین ) ۔ ” اشد ّ “ کامادہ ” شدّت “ ہے بمعنی طاقتور ہونا ۔ ” استوی “ کاماد ہ ” استواء “ ہے بمعنی کمال خلقت اوراس کااعتدال ۔ ان دونوں الفاظ کے مفہوم میں کیا فرق ہے ؟ اس پر مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ” بلوغ اشد “ وہ ہے کہ انسان قوّائے جسمانی کے لحاظ سے سرحد کمال پہنچ جائے . غالبااٹھا رہ سال کی عمر میں ایسا ہوتاہے ۔ اور ” استواء “ زندگی میں استقرار اوراعتدال کو کہتے ہیں . یہ کیفیّت جسمانی طاقت کے کمال بعد پیداہوتی ہے ۔ بعض دیگر مفسّرین ” بلوغ اشد “ کے معنی ” کمال جسمانی “ اور ” استواء “ کے معنٰی ” کمال عقلی و فکری “ سمجھتے ہیں۔ کتاب معانی الاخبار میں امام جعفرصادق (علیه السلام) سے ایک حدیث منقول ہے کہ ” اشد ‘ ‘ اٹھارہ سال کی عمر ہے اور ” استواء “ عمرکا وہ حصّہ ہے جب داڈی مونجھ نمودار ہوجا ئے ۔ ان تعبیرات بالامیں کچھ بہت زیادہ فرق نہیں ہے اوران دونوں کے لغوی معنٰی پرتوجہ کرنے سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ ان کے معنٰی جسمانی ، فکر ی اور روحانی طاقتیں ہیں ۔ ” حکم “ اور ”علم“ میں ممکن ہے کہ یہ فرق ہو کہ ” حکم “ سے مراد عقل وفہم اورصحیح فیصلہ کرنے کی استعداد ہے اورعلم کے معنٰی ایسی آگاہ ہی اور دانش ہے جس میںجہل کاشائبہ نہ ہو ۔ ” کذالک نجزی المحسنین “ کے الفاظ اس امر کے شاہد ہیں کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) میں اپنے تقویٰ اورطہارت قلب اور پاکیزہ اعمال کے سبب یہ استحقاق پیداہو گیا تھا کہ خدا انھیں بطو ر جزاعلم وحکمت عطافرمائے اوربدیہی ہے کہ اس علم وحکمت سے مراد وحی اورنبوّت نہیں ہے .کیونکہ اس زمانے کے بعد حضرت موسٰی (علیه السلام) پروحی نازل ہوئی اور نبّور ملی ۔ بلکہ اس مقام پرعلم وحکمت سے مراد وہی آگاہی ، روشن بینی ، صحیح قوّت فیصلہ اوراسی قسم کے اوصاف ہیںجو خدانے موسٰی (علیه السلام) کوان کی پاک دامنی ، نیکی اورصالح زندگی کے صلہ میں عطاکیے تھے .اس صورت حال سے اجمالا یہ نتیجہ بھی برآمد ہوتاہے کہ اگر چہ موسٰی (علیه السلام) فرعون کے محل میں رہے مگر اس ماحول کے فضاسے قطعی متاثر نہیںہوئے .یہاں تک کہ ان سے جتنا بھی ہو سکتاتھا وہ احیا ء حق و عدالت میںسعی کرتے رہے . ہرچند کہ آپ کی مصروفیات کاحال تشریحا ہمیں معلوم نہیں ہے ۔ بہر حال حضرت موسٰی (علیه السلام) شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب تمام اہل شہر غافل تھے :( ودخل المدینة علی حین غفلة ) ۔ یہ وضح نہیںہے کہ یہ کونسا شہرتھا . لیکن احتمال قوی یہ ہے کہ یہ مصر کاپائیہ تخت تھا . بعض لوگوں کاقول ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کواس مخالفت کی وجہ سے جوان میںفرعون اوراس کے وزراء میںتھی اوربڑھتی جارہی تھی ،مصر کے پائیہ تخت سے نکال دیاگیاتھا . مگر جب لوگ غفلت میںتھے .حضرت موسٰی (علیه السلام) کوموقع مل گیا اوروہ شہر میں آگئے ۔ اس احتما ل کی بھی گنجائش ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) فرعون کے محل سے نکل کر شہر میں آئے ہوں کیونکہ عا م طور پر فرعونو ں کے محلّات شہر کے ایک کنار ے پر ایسی جگہ بنائے جاتے تھے جہاں سے وہ شہر کی طرف آمدو رفت کے راستوں کی نگرانی کر سکیں ۔ ” علی حین غفلة من اھلھا “ سے مراد ایساوقت ہے کہ شہر گے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ ہوچکے تھے اور کوئی بھی شہر کی حالت کی طرف متوجہ نہ تھا .مگر یہ کہ وہ وقت کونساتھا ؟ بعض کاخیال ہے کہ ” ابتدائے شب “ تھی جب کہ لوگ اپنے کارو بار سے فار غ ہوجاتے ہیں ‘ایسے میں کچھ تو اپنے اپنے گھروں کیراہ کرلیتے ہیں .کچھ تفریح اور رات کوبیٹھ کے باتیں کرنے لگتے ہیں .اس وقت کوبعض اسلامی روایات میں ” ساعت غفلت “ کہاگیا ہے .چنانچہ جناب ارسالت معاب سے ایک حدیث منقول ہے ” تنفلو ا فی ساعة الغفلة ولو بر کعتین خفیفتین “ ساعت غفلت میں نماز نافلہ پڑھو خواہ وہ دورکعت مختصرہی کیوں نہ ہو ۔ اس حدیث میں” جو ساعت غفلت “ کاکلمہ آیاہے اس کی یہ تعبیر کی گئی ہے :- ۔ ” ساعت غفلت مغرب اورعشاء کے درمیان کاوقت ہے ( ۱)۔ حقیقت میں وہ وقت غفلت کاہوتاہے . بہت سے گناہ وں ،بد چلنیوں اورخلاقی انحرافات کااسی وقت یعنی آغاز شب ہی میں ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ اس وقت لوگ نہ تو اپنے کسب و کار میں مشغول ہیں نہ بستر خوا ب واستراحت میںہوتے ہیں بلکہ شہروں پرمعمولا ایک عام غفلت کی حالت چھائی ہوئی ہوتی ہے . اوربد اخلاقی کے مرکز وں میں اسی وقت رونق ہوتی ہے ۔ بہر کیف حضرت موسٰی (علیه السلام) شہر میں آئے اوروہاں ایک ماجرے سے دو چا ہو ئے دیکھاکہ دو آدمی آپس میں بھڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کوماررہے ہیں .ان میںسے ایک حضرت موسٰی (علیه السلام) کاطرفدار اوران کاپیرو تھا اوردوسراان کا دشمن تھا :( فوجد فیھا رجلین یقتتلان ھذا من شیعتہ وھذامن عبدہ ) ۔ کلمہ ” شیعتہ “ اس امر کا غما ر ہے کہ جناب اپنے مقلدین اور شیعوں کے گروہ کوفرعون کی جابرانہ حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے بطور ایک مرکز ی طاقت کے تیار کررہے تھے ۔ جس وقت بنی اسرائیل کے اس آدمی نے موسٰی (علیه السلام) کودیکھا تو ان سے اپنے دشمن کے مقابلہ میں امداد چاہی : ( فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ ) ۔حضرت موسٰی (علیه السلام) کی مدد کر نے کے لیے تیار ہوگئے تاکہ اسے اس ظالم کے ہاتھ سے نجات دلائیں . بعض علماء کاخیال ہے کہ وہ قبطی فرعون کایک باورچی تھا اور چہاتا تھا کہ اس بنی اسرائیل کو بیگار میں پکڑ کے اس سے لکڑیاں اٹھوائے . حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس فرعونی کے سینے پرایک مکّا مارا وہ ایک وہ ہی مکّے میں مرگیا اورزمین پر گر پڑا :( فوکزہ موسٰی فقضی علیہ ) ( ۲)۔ اس میںشک نہیں کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کااس فرعون کوجان سے ماردینے کاارادہ نہ تھا .آیات مابعد سے بھی یہ مطلب خوب واضح ہوجاتاہے .ایسااس لیے نہ تھا کہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلکہ انھیں ان نتا ئج کاخیال تھا جوخود حضرت موسٰی (علیه السلام) اور بنی اسرائیل کوپیش آسکتے تھے ۔ لہذا حضرت موسٰی (علیه السلام) نے فورا کہاکہ یہ کام شیطان نے کرایاہے کیونکہ وہ انسانوں کادشمن اور واضح گمراہ کرنے والاہے : ( قال ھذا من عمل الشیطان انہ عدو مضل مبین ) ۔ اس واقعے کی دوسری تعبیر یہ ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل کاگرینا ن ا س فرعونی کے ہاتھ سے چھڑ ادیں ہرچند کہ وابستگا ن فرعون اس سے زیادہ سخت سلوک کے مستحق تھے لیکن اس حالات میں سے ایسا کام کر بیٹھنا قرین مصلحت نہ تھا اور جیساکہ ہم آگے دیکھیں گے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اسی عمل کے نتیجہ میںپھر مصر میں نہ ٹھہر سکے اور مدین چلے گئے ۔ پھر قرآن میںحضرت موسٰی (علیه السلام) کایہ قول نقل کیاگیا ہے . اس نے کہا : پروردگار : میں نے اپنے اوپر ظلم کی. تومجھے معاف کردے ‘ اورخدانے اسے مخش دیا . کیونکہ وہ غفور رحیم ہے :( قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی لہ انہ ھوالغفور الر حیم ) ۔ یقینا حضرت موسٰی (علیه السلام) اس معاملے میں کسی گنا ہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ حقیقت میں ان سے تر ک اولی سرزد ہوا . کیونکہ انہیں ایسی بے احتیاطی نہیں کرنی چاہیئے تھی جس کے نتیجے میں وہ زحمت و تکلیف میں مبتلا ہو ں . حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اسی ترک اولی کے لیے خداسے طلب عفوکیا اورخدانے بھی انھیں اپنے لطف و عنایت سے بہر و مند کیا ۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے کہا : خداوند تیری اس احسان کے شکر انے میں کہ تونے میرے قصور کومعاف کردیا اور دشمنوں کے پنجے میں گرفتار نہ کیا اوران تما م نعمتوں کے شکر یے میں جومجھے ابتدء سے اب تک مرحمت کرتارہاہے ، میں عہد کرتاہوں کے کہ ہر گز مجرموں کی مدد نہ کروں گا اور ظالموں کاطرفدار نہ ہوں گا :( قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیرا المجرمین ) ۔ بلکہ ہمیشہ مظلومین اورستم دیدہ لوگوں کامدد کار رہوں گا ۔ اس جملہ سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کامقصود یہ تھا : کہ میں آئندہ ہرگز مجرم اور گنہگار وابستگان فرعون کاشریک کار نہ ہوں گا . بلکہ ، میں بنی اسرائیل کے ستم دیدہ لوگوں کاہمدرد رہوں گا ۔ بعض لوگوں نے آیت میں کلمہ ” مجرمین “ سے وہ اسرائیل شخص مراد لیاہے جوقبطی سے لڑرہاتھا . یہ حقیقت سے بعید ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:14-17
۲۔ مجرموں کی مدد کرنا بہت بڑا گناہ ہے
اسلامی فقہ میں ارتکاب کناہ کسی کی اعانت کرنے اورظالمین کی مدد کرنے کے بارے میں ایک مفصل باب ہے ، جب میں احدیث کثیر ہ کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ بد ترین گناہوں میں سے میں ایک گناہ ظالموں ،ستمگاروں کے اورمجراموں کی اعانت کرنابھی ہے . اگر کوئی ایساکرتا ہے تو اس کایہ عمل امرکا باعث بنتاہے کہ اس کا ( مدد گار کا ) حشر اورعاقبت بھی ان ا ہی ستمگاروں کے ساتھ ہوگی ۔ یہ امر مسلّم ہے کہ ہر معاشرے میںظالم،ستمگار اور فرعون جیسے کچھ لوگ ہوتے ہیں اگر اس معاشرے کے عوام ان لوگوں کے کوموں ک یتا ئید نہ کریں (یعنی خا موش نہ رہیں اوراظہار پسند ید گی کریں ) تو پھر کوئی بھی فرعون نہ بن سکے ۔ ا ن ظالم فرعونوں کے موئید ین عام طوپر کمینے ، مفلوک یاابن الوقت دنیا پرست لوگ ہوتے ہیں ، جو ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور ان کے دست و بازو یاکم ازکم ان کے لشکر اورجمعیت میں اضافے کاسبب بن جاتے ہیں تاکہ ان ستم شعاروں کے لیے شیطانی قوّت فراہم کریں ۔ قرآن مجید میں اخلاق کے اس بنیاد ی اصول کے متعلق بہ تکرار ھدایات موجود ہیں .چنانچہ سورئہ مائدہ کی دوسری آیت میں مذکور ہے : ” وتعا ونوا علی البرّ والتقوی ولا تعاو نو علی الاثم والعدوان “۔ ایکدوسر ے سے نیکی اورتقویٰ کے کاموں میںتعاون کرومگر گناہ اور تعدّی کے کاموں میں مدد نہ کرو ۔ قرآن میں بصراحت مذکور ہے کہ ظالموں کے ساتھ ” رکون “ عذاب جہنم کاسبب ہے ۔ ” رکون “ کے معنٰی خواہ قلبی میلان ہوں یا کسی کے ساتھ اس کے کام میںظاہر ی شریک ، یاکسی کے فعل پراظہار رضایت ، دوستی وخیر خواہی یااطاعت ،مفسرین نے ان میں سے ہر معنی کی تفسیر کی ہے ۔ اس کلمہ کا ایک اور مفہوم ہے جوان معانی کاجامع ہے اور وہ بھر وسہ ، اعتما د اور وابستگی ہے . یہ مفہوم ہمارے مقصود کا زندہ گواہ ہے ۔ امام زین العابدین علی بن الحسین سے ایک حدیث منقل ہے : محمدبن مسلم زہری ایک عالم شخص تھا . وہ بنی امیّہ کی حکومت بالخصوص ہشام بن عبد الملک کے ساتھ تعاون کیاکرتاتھا . امام علیہ اسلام نے جب اس کو ظالمین کی اعانت کرتے سے پرہیز کرنے کی ھدایت فرمائی تو اسے متنبہ کرنے کے لیے یہ الفاظ فرمائے : اولیس ندعائھم ایاک حین دعوک جعلوک قطبا ادار وربک رحی مظالمھم ، وجسرا یعبرون علیک الی بلا یاھم سلما الی ضلا لتھم دایاالی عینھم سالک سبیلھم ، ید خلون بک الشک علی العماء و یقتادون بک قلوب الجھال الیھم ... فمااقل مااعطوک فی قدر مااخذو ا منک ! وما الیسرما عمرو ا لک فی جنب ماحز بوا علیک فانظر لنفسک فانہ لاینظرلھا غیرک وحاسبھا حساب رجل مسئول ! کیا انھوں نے (بنی امیّہ نے ) تجھے اپنے گرد مجتمع ہونے کی دعوت نہیں د ی؟ او ر کیا تجھے انھوں نے وہ محور نہیں بنایا جس کے گرو ان کے ظلم کی چکّی گھومتی ہے .اور کیا انھوں نے تجھے وہ پل قرار نہیں دیاجس پر سے مبور کرکے وہ اپنی بلاؤں کی طرف جاتے ہیں ۔ اور کیا انھوں نے تجھے اپنی ضلالت کے لیے سیڑھی نہیں بنای. اور کیاانھوں نے تجھے اپنی جہالت اور گمراہی کی طرف داعی اور پنی شرمناک راہ کا راہر و قرار نہیں دیا ؟ وہ تیرے ذریعے وہ جو کچھ تجھ سے لیتے ہیں اس کے عوض تجھے کس قدر قلیل معاوضہ دیتے ہیں اور تیر ے ذریعے وہ جتنا برباد کرتے ہیں اس کے مقابلے میں کتنا کم آباد کرتے ہیں ۔ پس تواپنے نفس پر غور کر کیونکہ خود تجھ سے زیادہ ، تیر اکوئی ہمدرد نہیں ہے .اور ایک شخص مسئول کی طرح توخود اپنے نفس کا حساب لے ( 1)۔ حقیقت یہ ہے کہ امام (علیه السلام) کی یہ معنٰی آشکار اور دلنشین ہراس عالم کو جو درباررس اور دابستئہ حکومت ہوااس کے بارے میں ہے او رواضح کرتی ہے کہ اس کے نتائج کس قدر برے اور نحس ہوتے ہیں ۔ ا بن عباس کہتے ہیں :کہ یہ آیت ” رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیر ا للمجرمین “ میں جملہ ان آیات کے ہے جو یہ گواہی دیتی ہیں کہ مجرمین کی مدد کرنا جرم و گناہ ہے اور مومنین کی اعانت کرنا فرمان الہٰی کی اطاعت ہے کہتے ہیں کہ لوگوں نے کسی عالم سے کہا کہ : ” فلاں آدمی فلاں ظالم کامحرّ ر ہوگیا ہے اورصرف اس کی آمدنی اورخرچ کاحساب لکھتا ہے . اگر واہ اس کام کے معاوضے میں کچھ معاوضہ لے تو اس کی گزر بسر ہوجائے گی ورنہ وہ خود اور اس کے عیال فقرو فاقہ میں مبتلا ہوجائیں گے “ اس عالم نے اس سوال کے جواب میں صرف ایک جملہ کہا : کہاتم نے اس مرد صالح ( حضرت موسٰی (علیه السلام) ) کاقول نہیں سنا ؟ ر ب بما انعمت علی فلن اکون ظھیرا للمجرمین خدا وند ا ان نعمتوں کے شکر انے میں جو تونے مجھے بخشی ہیں ، میں ہرگز مجر مین ک اعانت نہیں کروں گا ( 2) ۔ 1۔ تحف العقول ،صفحہ ۶۶ ۔ 2۔ ظالموں کی اعانت کے بارے میں ہم پہلے ہی دو تفصیل احادیث ذکر کرچکے ہیں . دیکھئے تفسیر نمونہ ج ۴ ،سورئہ مائد ہ کی آیت ۲ کی تفسیر کے ذیل میں اور ج ۹ سورہ ہود کی آیت ۱۱۳ کی تفسیر کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:14-17
سوره قصص / آیه 14 - 17
۱۴۔ ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکم و علما وکذالک نجزی المحسنین ۱۵۔ ودخل المدینة علی حین غفلة من اھلھا فوجد فیھا رجلین یقتتلن ھذا من شیعتہ وھذ ا من عدوہ فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ فوکرہ موسٰی فقضی علیہ قال ھذا من عمل الشیطن انہ عدو مضل مبین ۱۶۔ قال رب ظلمت نفسی فاغفرلی فغرلہ انہ ھو الغفور الرحیم ۱۷۔ قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیر ا للمجرمین ترجمہ ۱۴۔ اورجب وہ (موسٰی ) بھر پور جوان اورطاقتور ہوگیا تو ہم نے اسے حکمت اور دانش عطاکی اورہم نیکو کا روں کوایسی ہی جزادیا کرتے ہیں ۔ ۱۵۔ اور وہ ایسے وقت جب اہل شہر غافل تھے شہر میں داخل ہوا تو ناگہاں اس نے دو آدمیوں کودیکھا جو باہم لڑ رہے تھے .ان میںسے ایک اس کے پیرو کاروں میںسے تھا اوردوسرااس کے دشمنوں میںسے تھا ان میں سے ایک نے جواس کاطرفدار تھا ،شمن کے مقابلے میں اس سے امداد طلب کی موسٰی نے اس کے سینے پر ایک مکّا مارا اوراس کاکام تمام کردیا ( اوروہ زمین پرگرا اور مرگیا ) موسٰی نے کہا کہ یہ ایک عمل شیطانی تھا بیشک وہ دشمن اورصریح بہکا نے والاہے ۔ ۱۶۔ اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیاتو مجھے مخش دے .پس خدانے اسے بخش دیا کہ وہ بخشنے والااوررحم کرنے والاہے ۔ ۱۷۔ اس نے عرض کی : اے پروردگار ! میں اس نعمت کے شکر انے میں، جوتونے مجھے عطاکی ہے ، میں کبھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا ۔