وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ
[One day] he reviewed the birds, and said, ‘Why do I not see the hoopoe? Or is he absent?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:20
[Pooya/Ali Commentary 27:20] These verses narrate the story of Saba or the queen of Sheba of the Bible (refer to chapters 10 and 11 of I Kings) whose Arabic name was Bilqis. Hudhud (hoopoe) is a light, graceful bird, with a yellow crest on its head. This bird served Sulayman as an efficient scout, and also used to discover water beneath the surface of the earth, as if a X-ray device was fixed in its eyes. Tafaqqad literally means to find out a defect, but in verse 20 it is used for making an enquiry. When Sulayman took a muster of the birds, he did not find the hoopoe, because he had a good reason for his absence. At that time he was surveying the vast realm of Saba, the queen of Sheba, where he went along with another hoopoe who met him while he was flying to report to Sulayman and (the other hoopoe) gave him an explicit description of the grandeur of her dominion, after hearing the might and glory of Sulayman's kingdom. Sulayman's hoopoe came back and told him what he saw, particularly about their religion that she and her people were the worshippers of the sun. It is desirable (mustahab) to prostrate one's self in adoration before Allah after reciting verse 26. To test the hoopoe's report Sulayman wrote a letter to Saba; and asked the hoopoe to go and deliver his letter to her and bring her reply. Sulayman expressly began his letter with bismillahir rahmanir rahim, on which is based the true religion of unity of Allah, and invited her and her people to the true faith, not for worldly conquest but for the spreading of the light (guidance and wisdom) of Allah. The queen, after consultation with her courtiers, decided to send a few gifts to Sulayman in order to find out that Sulayman was not like ordinary kings who conquer by violence. When her embassy came to Sulayman with the gifts, he refused to accept them because firstly Allah had given him better than that which He had given her, and secondly he was expecting her submission to the true religion. He told the embassy that soon his army would drive them forth from there, disgraced and humbled. After the embassy had departed he asked his chiefs: "Who can bring me her with her throne, before they come to me in submission." A large, powerful jinn offered his services and assured Sulayman that he would do it before he would rise from his council. However strong and big a creature might be, it was not possible for him to go to a distant land and bring her and her throne in a few moments, unless the jinn had supernatural powers to do it. Although the jinn had boasted of his strength and supernatural power, yet when a man who had knowledge of the book said that he would bring them to him within the twinkling of an eye, Sulayman gave him permission. Soon the Queen, with her throne, was before him. See commentary of Rad: 43 to know about him who had the knowledge of the book. It is reported by Abu Ishaq Thalabi that Abdullah bin Salam asked the Holy Prophet to give the name of the man who had knowledge of the book and brought the queen of Sheba with her throne within the twinkling of an eye. The Holy Prophet said: "It was Ali." It is stated in Minhaj al Sadiqin and Umdat al Bayan that then the Holy Prophet said to Ali: "O Ali, you helped all the prophets of Allah incognito (concealed from view), and you help me in propria persona (in person) manifestly." Ali ibn abi Talib is known as mazhar al aja-ib and mazhar al ghara-ib because, as willed by Allah, he used to appear in different forms to carry out divine plans under very special circumstances. These two epithets are exclusively reserved for Ali. Even today the true believers invoke Allah to send him for help. The famous dua, known as Nadi Ali, which the Holy Prophet recited, as commanded by Allah, at Khaybar refers to Ali as mazhar al aja-ib. Ali ibn abi Talib is also known as mushkil kusha, the remover of hardships. In every age, to many persons he comes personally to remove hardships. Through his name great spiritual achievements are attained. The Holy Prophet, and after him, Ali are acknowledged as the most superior possessors of the spiritual powers. Aqa Mahdi Puya says: The last sentence of verse 40 asserts that man's submission and devotion to Allah is in his own interest. Allah is supreme in glory. He is self sufficient. He is free of all needs. The queen was lodged in another building of the palace. To make the queen see the fallacy of outward appearance the floor of the palace was made of slabs of smooth glass that glistened like water. When she was brought into the palace she thought it was water, and tucked up her clothes to pass through it, showing her bare feet and ankles. Sulayman told her the real fact. She then realised that she had been wrongly worshipping the creation of God, the sun, deceived by outward appearance, instead of worshipping the creator. At once she submitted herself to Allah, the Lord of the worlds, whom Sulayman worshipped.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:20-26
1- چندسبق آموز باتیں
چنداہم کات 1- چندسبق آموز باتیں :- مندرجہ بالا چہ آیات میں بہت سے ایسے نکات موجود ہیں جو تمام لوگوں کی زندگی اور حکومتوں کے چلانے کے لیے مفید ہوسکتے ہیں ۔ 1- کسی حکومت کا سربراہ یاکسی ادارے کا سربراہ اپنے انتظامی امور میں اس قدر باریکی بین ہوکہ ایک عام اور معمولی فرد کی غیرحاضری تک کانوٹس لے۔ 2- کسی ادارے کا سربراہ ایک فرد کی قانون شکنی تک کا نوٹس لے تاکہ اس کی خلاف ورزی دوسرے افرادی میں سرایت نہ کرجائے لہذا اس کی سختی سے پیش بندی کرے۔ 3- کسی کی غیرحاضری اور عدم موجودگی میں اس پر مقدمہ نہیں چلایا جاناچاہیے کہ اسے حتی الامکان اپنے دفاع کا مقع دینا چاہیے۔ 4- جتنا جرم ہوسزا اتنی ہی ملنی چاہیئے۔ 5- حیثیت و طاقت کے لحاظ سے انسان خواہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو اسے دلیل اور منطق قبول کرلینی چاہیے خواہ وہ کسی جھوٹے شخص کے منہ سے کیوں نہ نکلے۔ 6- عوامی ماحول میں اس قدر آزادی ہونی ہی چاہیئے کہ ایک عام آدمی بھی اپنے سربراہ مملکت کو آزادنہ طور پر کہہ کسے "کہ میں ایسی چیز جانتا ہوں جو آپ نہیں جانتے"۔ 7- ہوسکتا ہے ایک عام اور معمولی فرد ایسے مسائل سے باخبر ہو جسے بہت بڑے عالم اور طاقتور لوگ بھی نہ جانتے ہوں اور انسان کو کبھی بھی اپنے علم و دانش پیرغرور نہیں ہونا چاہیے۔ 8- انسان کی اجتماعی زندگی کی ضروریات اس قدر زیادہ ہیں بعض اوقات سلیمانؑ جیسے بہت بڑے انسانوں کوبھی ایک چھوٹے سے پرندے کی ضرورت درپیش آجاتی ہے۔ 9- اگرچہ عورت میں بہت سے کاموں کی صلاحیت پائی جاتی ہے حتٰی کہ خود یہی داستان بھی آگے چل کربتائے گی کہ ملکہ سبا میں بہت زیادی فہم و ذکا پائی جاتی تھی لیکن اس کے باوجو حکومت کی سربراہی اس کے جسم و روح کی ساخت سے چنداں مناسبت نہیں رکھتی ، حتٰی کہ ہدہد جیسے پرندے کو بھی اس بات پرتعجب کرنا پڑا کہ "میں نے ایک عورت کوان پر حکمرانی کرتے دیکھا ہے"۔ 10- عمومً لوگوں کا بھی وہی دین ہوتا ہے توان کے بادشاہوں کا ہوتاہے لہذا اسی داستان میں ہم نے پڑھا ہے کہ ہدہد نے کہا کہ میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ سورج کی پوجا کررہے ہیں (پہلے ملکہ کی بات کی اور پھراس کی قوم کی)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:20-26
سوره نمل / آیه 20 - 26
(20) وَتَفَقَّدَ الطَّيْـرَ فَقَالَ مَا لِـىَ لَآ اَرَى الْـهُـدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِيْنَ (21) لَاُعَذِّبَنَّهٝ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَذْبَحَنَّهٝٓ اَوْ لَيَاْتِيَنِّىْ بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ (22) فَمَكَثَ غَيْـرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍ يَقِيْنٍ (23) اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُـمْ وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ وَّلَـهَا عَرْشٌ عَظِيْـمٌ (24) وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَزَيَّنَ لَـهُـمُ الشَّيْطَانُ اَعْمَالَـهُـمْ فَصَدَّهُـمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَـهُـمْ لَا يَـهْتَدُوْنَ (25) اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّـٰهِ الَّـذِىْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُـوْنَ (26) اَللَّـهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْـمِ ترجمہ (20) (سلیمان نے ہدہد) پرندے کی تلاش شروع کی اورکہا کہ مجھے ہدہد دکھائی کیوں نہیں دے رہا کیا کیاوہ کہیں نائب ہوگیا ہے۔ (21) میں اسے یقینًا سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ (اپنی غیرحاضری کی) کوئی واضح دلیل میرے سامنے پیش کرے۔ (22) زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ( ہدہد آگیا اور) کہا : مجھے ایسی چیز کا پتہ چلا ہے جس سے آپ آگاہ نہیں ہیں میں سرزمین سبا سے سچی خبر لایا ہوں ۔ (23) میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو وہاں کے لوگوں پرحکومت کررہی ہے اور اس کے پاس سب کچھ ہے خصوصا بہت عظیم تخت ۔ (24) (لیکن( میں نے اسے اور ان کی قوم کو دیکھا ہے کہ وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اورشیطان ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں مزین کر رکھا ہے انھیں صحیح راستے سے بھٹکا دیا ہے اور وہ ہدایت پانے والے نہیں ہیں ۔ (25) وہ کیوں ایسے خدا کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین می مخفی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔ (26) وہ ایساخدا ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرامعبودنہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:20-26
ہدہد اور ملکۂ سبا کی داستان
تفسیر ہدہد اور ملکۂ سبا کی داستان آیات کے اس حصے میں خداوند عالم حضرت سلیمان کی حیرت انگی زندگی کے ایک اور اہم واقعے کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور ہدہد اور ملکہ سبا کا قصہ بیان کرتا ہے ، فرماتا ہے: سلیمان کو ہد ہد دکھائی نہ دیا تو وہ اسے ڈھونڈھنے لگے ۔ (وتفقد الطير)۔ یہ تعبیر اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کرتی ہے حضرت سلیمان اپنی حکومت کے حالات اور ملک کی کیفیت کو اچھی طرح نظر رکھتے تھے یہاں تک کہ ایک پرندہ ہی ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں تھا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر پرندے سے مراد ہدہد ہے جیسا کہ قرن اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ انھوں نے کہا کیا ہوا کہ مجھے ہدہد دکھائی نہیں دے رہا (فقال مالي لا اری الهدهد )۔ یا کیا وہ غائب ہے (ام كان من الغائبين)۔ سلیمان کو کیسے معلوم ہوا کہ ہدہد غیر حاضر ہے ؟ بعض کہتے ہیں کہ اس وجہ سے کہ جب آپ سفر کرتے تو پرندے آپکے سر پر سایہ کے رہتے تھے، چونکہ اس وقت اس سائبان میں اس کی جگہ خالی نظر آئی لہذا انھیں معلوم ہوگیا کہ هد هد غیر حاضر ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ سلیمان کے نظم حکومت میں پانی کی تلاش کا کام ہدہد کے ذمہ تھا لہذا پانی کی ضرورت وقت جب اسے تلاش کیا گیا تو وہ نہیں ملا۔ بہرحال ، اس گفتگو کی ابتدا میں حضرت سلیمان نے فرمایا : مجھے وہ دکھائی نہیں د ے رہا ، پھر فرمایا یا یہ کہ وہ غائب ہے ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کیا وہ کسی معقول عذر کے بغیر غیر حاضر ہے یا معقول عذر کی وجہ سے غائب ہے۔ بہرصورت ایک با استقلام ، منظم اور طاقت ورحکومت میں یہی ہوتا ہے کہ ملک میں جو بھی اتار چڑھاؤ تو وہ سربراہ حکومت کی نظر میں ہو حتی کسی پرندے کی حاضری اورغیر حاضری ، ایک عام ملازمہ کی موجودگی اور عدم موجودگی اس کے پیش نظر ہو اور ایک بہت بڑا درس ہے۔ حضرت سلیمان نے دوسروں کو درس دینے اورحکم عدولی پر سزا دینے کی خاطر مندرجہ ذیل جملہ کہا تاکہ ہدہد کی غیرحاضری دوسرے پرندوں پر بھی اثر کرے چہ جائیکہ اہم عہدوں اور اعلی مناصب پر فائر انسان فرمایا : میں یقینًا اسے سخت سزا دوں گا (لاعذبنه عذابًا شديدًا)۔ یااسے ذبح کرڈالوں کا (اولاً اذبحه) یا پھر وہ اپنی غیر حاضری کی میرے سامنے واضح دلیل پیش کرے (اولیاتینی بسلطان مبین)۔ اس بیان پر "سلطان" سے مراد ایسی دلیل ہے کہ انسان کے مقصود کو ثابت کرنے کے لیے اس کے تسلط کا سبب بنتی ہے اور پھر "مبین" کے ساتھ اس کی تاکید اس لیے کہ خلاف ورزی کرنے والا اپنی خلاف ورزی کی مکمل طور پر واضح اور روشن دلیل لائے۔ درحقیقت جناب سلیمانؑ نے غیرحاضری کی صورت میں یک طرفہ فیصلہ دینے کی بجائے خلاف ورزی ثابت ہو جانے سزا کی تنبیہ کی ہے اور اپنی اس تنبیہ میں بھی دو مراحل بیان کیے ہیں جوجرم کی نوعیت کے مطابق ہیں ایک مرحلہ بغیر موت کے سزا ہے اور دوسرا سزائے موت کا مرحلہ ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ انھیں اپنی حکومت اور طاقت کا گھمنڈ نہیں ہے کہ اگر کہیں کمزور سا پرندہ معقول اور واضح دلیل پیش کرے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہدہد کی غیرحاضری کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا (فمكث غیر بعید)۔ کہ ہدہد واپس آگیا اور سلیمان کی طرف رخ کرکے کہنے لگا: مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس سے آپ کا نہیں ہیں ، میں آپ کے لیے سرزمین سبا سے ایک یقینی (اور بالکل تازه) خبرلایا ہوں (فقال احطت بمالم تحط به وجئتك من سبأ بنبأیقین)۔ گویا ہدہد نے جناب سلیمان کے چہرے پر غصے کے آثار ویکھ لیے تھے لہذا ان کی ناراضی دور کرنے کے لیے سب پہلے اس نے ایک ایسے اہم مطلب کی مختصر الفاظ میں خبردی جس سے جناب سلیمان اس قدر علم ودانش رکھنے کے باوجود بے خبر تھے۔ جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے اس ماجرا کی تفصیل بیان کی۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سلیمان کے لشکروالے حتٰی کہ پرنده تک کوبھی جو ان کے تابع فرمان تھے جناب سلیمان نے اس قدر آزادی ، امن و امان اور جسارت عطا کی ہوئی تھی کہ ہدہد نے کھل کر ان سے کہہ دیا مجھے ایسی چیز معلوم ہوئی بے جس کی آپؑ کو بھی خبر نہیں ہے۔ اس کی گفتار کاطریقہ ایسا نہیں تھا جیسے چاپلوس درباریوں کا جابر بادشاہوں کے سامنے ہوتا ہے کہ کسی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے مدتوں خوشامد کرتے رہتے ہیں اپنے آپ کو ذرہ ناچیز بتلاتے ہیں پھر چاپلوسی اور خوشامد کے ہزاروں پردوں میں کوئی بات "بادشاہ سلامت" کے قدموں پر نثار کرتے ہیں اور کبھی بھی اپنی بات کھول کر بیان نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ پھول کی پتی سے بھی نازک کنایوں کا سہارا لیتے ہیں مبادا بادشاہ سلامت کی خاطر مبارک ملول ہوجائے۔ ہاں ہدہد نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ مری غیرحاضری کسی دلیل کے بغیر نہیں تھی ، میں ایک ایسی ایک خبر لایا ہوں جس سے آپ بھی بے خبرہیں۔ ضمنی طور پر یہ سب لوگوں کے لیے ایک بہت بڑادرس بھی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہدہد جیسی ایک چھوٹی سی مخلوق ایسی بات جانتی ہو جس سے اپنے دور کے بہت بڑے دانشور بھی بے خبر ہوں ۔ انسان کو نہیں چاہیے کہ اپنےعلم ودانش گھمنڈ کرے چاہے وہ نبوت کے وسیع علم کا سلیمان ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال ہدہد نے ماجرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا : میں سرزمین سبا میں چلا گیا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ عورت وہاں کے لوگوں پر پر حکومت کر رہی ہے اس کے قبضے میں سب کچھ ہے خاص طور پیاس کا ایک بہت بڑا تخت بھی ہے (انی وجدت امراۃ تملكهم واوتيت من كل شر و لها عرش عظیم) ہدہد نے تین جملوں میں ملک سباکی تقریبا تمام خصوصیات بتادیں اور وہاں کے طرز حکومت سے بھی سلیمان کو باخبر کر دیا۔ پہلی خصوصیت تویہ ہے وہ ایک ایسا بادشاد ملک ہے کہ جس اس ہرطرح کی نعمتیں اور سہولیات مہیا ہیں ۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے جس کا ایک نہایت ہی آراسته دربار بے حتی کہ سلیمانؑ کے دربار سےبھی زیادہ آراستہ کیونکہ ہدہد نے حضرت سلیمان کا تخت دیکھا ہوا تھا اس کے باوصف اس نے ملکہ سبا کے تخت کو" عرش عظیم" عنوان سے یاد کیا۔ ان الفاظ کے ساتھ اس نے سلیمان کو یہ بات جتلادی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ یہ تصور کریں تمام جہان آپ قلم ور حکومت میں ہے اور صرف آپ کا تخت باعظمت ہے۔ سلیمان ہدہد کی یہ بات سن کر ایک گہری سوچ میں پڑ گئے لیکن ہدہد نے انھیں مزید سوچنے کی مہلت نہ دی اورفورًا ہی ایک اور بات پیش کردی اس نے کہا : جوعجیب غریب اور تکلیف دہ چیز میں نے وہاں دیکھی ہے وہ یہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ عورت اور اسی کی قوم خدا کو چھوڑ کر سورج کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ( وجدتها و قومها يسجدون للشمس من دون الله ). شیطان ان پرمسلط ہوچکا ہے اور اس نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر رکھا ہے (لہذا وہ سورج کوسجدہ کرنے میں فخر محسوس کرتےہیں (وزین لهم الشيطان أعمالهم)۔ اس طرح سے "شیطان نے انھیں راہ حق سے روک رکھا ہے (فصد ھم عن السبيل )۔ وہ بت پرستی میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں کہ مجھے یقین نہیں کہ وہ آسانی سے اسی راہ سے پلٹ جائیں۔ وہ بالکل ہدایت نہیں پائیں گے (فهم لا يهتدون)۔ ہدہد نے ان الفاظ کے ساتھ ان کی مذہبی اور روحانی حیثیت بھی واضح کر دی کہ وہ بت پرستی میں خوب مگن ہیں ، حکومت آفتاب پرستی کو ترویج کر تی ہے ۔ اورلوگ اپنے بادشاہ کے دین پر ہیں۔ اور ان کے بت کدوں اور دوسرے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس غلط راہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اوراس کے ساتھ جنون حد تک محبت کرتے اور اپنی اس غلط روش پر فخر کرتے ہیں ایسے حالات میں جبکہ حکومت اور عوام کی ہی ڈگر پرچل رہے ہیں ان کا ہدایت پانا بہت مشکل ہے۔ پھر کہا : وہ اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکلاتا ہے اور اسے بی جانتا ہم جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو ( الایسجدوالله الذي يخرج الخبأ في السماوات والارض و یعلم ما تخفون و هاتعلنون)۔ ؎1 "خبا" (بروزن" صبر") ہر مخفی اور پوشیدہ چیز کے معنی میں ہے اور یہاں پر خداوندعالم کے آسمان اور زمین کے غیب پرمحیط ہونے کی طرف اشارہ بے یعنی وہ لوگ اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمان و زمین کے پوشیدہ امور کو جانتا ہے۔ یہ جو بعض مفسرین نے آسمان کی مخفی چیزوں سے خصوصی طور پر بارش اور زمین کی چیزوں سے بالخصوص نباتات مراد لیا ہے تو درحقیقت بیان کے واضح مصداق ہیں ۔ اسی طرح جنھوں نے موجودات کو غیب ، عدم کے پردے سے باہر نکالنا مراد لیا ہے وہ بھی اس کا ایک مصداق ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پہلے تو خدا کے آسمان و زمین کے مخفی امور سے باخبر ہونے کی بات ہوئی ہے پھر انسان کے دل میں چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہی کا ذکر ہواہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خداکی اور بھی تو کئی صفات ہیں مگر ہدہد نے صرف خدا کے کائنات میں عالم الغیب ہونے کا ذکر کیوں کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شاید اس مناسبت سے ہوکہ جناب سلیمان اپنی تمام قدرت و توانائی کے باوجود ملک سبا کی ان خصوصیات سے بے خبر تھے اور ہدہد کہتا ہے کہ اس خد کے دامن لطف سے متمسک ہوناچاہیے جس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "الا" کا کلمہ اس جگہ پر بعض مفسرین کے نزد یک "ان" اور "لا"سے مرکب ہے اوروہ اسے " صد هم" يا "زین لھم" کے متعلق جانتے ہیں اور " لام" کومقدر سمجھتے ہیں جو مجموعی طور پر یوں ہوگا "صد ھم عن السبيل لئلا یسجدوالله" لیکن ظاہر یہ ہے کہ "لا" یہاں پر حروف اور"ھلا" کے معنی میں ہے اورجیسا کہ ہم اوپربتا چکے ہیں یہ بھی ہدہد کے کلام کا حصہ ہے۔ ہرچند کہ بعض مفسرین نے اسے جملہ استینافیہ بتاکر کلام الٰہی قرار دیا ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ یا پھر مناسبت کی وجہ سے کہا ہے کیونکہ ــــــــــ مشہور ہے کہ ـــــــــــــ ہدہد کے اندر کی خاص حس پائی جاتی ہے جس کے ذریعے زمین کے اندر موجود پانی کا اسے پتہ چل جاتا ہے لہذا اس نے خداوند عالم کی بات کی ہے اور وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ تو صرف ذات خدوند متعال ھی ہے جو عالم ہستی کی تمام پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے۔ وہ اپنی گفتگو کو ان الفاظ پرختم کرتا ہے : وہ خدا وہ ہے جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں جور عرش عظیم کا پروردگار اور مالک ہے۔(اله الاهو رب العرش العظيم)۔ اس طرح سے اس نے پروردگار کی "توحید عبادت" اور "توحید ربوبیت" کو بیان کرکے اور ہرطرح کے شرک کی نفی کرکے اپنی گفتگو کو پایۂ تکمیل تک پپہنچادیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:20-26
2- چند سوال اور ان کا جواب
2- چند سوال اور ان کا جواب : - بعض مفسرین نے یہاں پر چند ایک سوال پیش کیے ہیں : ان میں سے اب یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سلیمان کے پاس اس قدر علم تھا اور وسائل بھی پھرایسے ملک کے وجود سے بے خبرکیوں تھے۔ اور پھر یمن اور سلیمان کا مرکز حکومت جوظاہرًا شام تھا کاطویل فاصلہ نہ ہونے کیونکر طے کیا اور پھر یہ کہ کیا ہدہد بھول کر وہاں پہنچ گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔ پہلے سوال کے بارے میں ممکن ہے کہ جواب دیا جائے کہ سلیمان اس ملک سے قاعدۃ باخبر تھے لیکن اس کی خصوصیات و تفصیلات اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔ علاوہ ازیں ان دوملکوں کے درمیان حجاز کے بیابان کا فاصلہ بھی تھا اور ذرائع رسل ورسائل ہمارے آج کے ذرائع کی طرح بھی نہیں تھے (البتہ علم غیب اورالہام الہی کی بات دوسری ہے)۔ رہا ہدہد کے لیے اس مسافت کاطے کرنا تو کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے کیونکہ ہم ایسے پرندوں کوئی جانتے ہیں جو زمین قطب شمالی اور قطب جنوبی کا درمیانی فاصلہ طے کرتے رہتے ہیں جیک یمن اور شام کا درمیانی فاصلہ مذکورہ فاصلے کے مقابلہ میں بالکل ناچیز ہے۔ ممکن ہے ہدہد اس علاقے میں آیا ہو کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ جناب سلیمان خانۂ خدا کی زیارت کے لیے شام سے مکہ تشریف لائے ہوئے تھے تاکہ ابراہیمؑ کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق حج بجالائیں پروہ وہاں سے جنوب کی طرف چلے یہاں تک کہ ان کا یمن کی سرزمین سے زیادہ فاصلہ نہیں رہ گیا تھا اور جب آپ آرام فرمارہے تھے تو ہدہد موقع غنیمت جان کر وہاں سے پرواز کر کے ملکہ سبا کے محل پر آبیٹھا اور وہاں پر نجیب غریب صورت حال نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی۔ ؎1 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس واقعے کی مزید تفصیلات کے لیے "دائرة المعارف فرید وجدی " جلد 10 ص 470 ماده "ہدہد " ملاحظہ فرمائیں ۔ ہر چند کہ اس کی مفصل روایت مبالغے سے خالی نہیں ہے ۔