وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
Certainly, We gave knowledge to David and Solomon, and they said, ‘All praise belongs to Allah, who granted us an advantage over many of His faithful servants.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:15
[Pooya/Ali Commentary 27:15] Refer to the commentary of Anbiya: 78 to 82 for the wisdom given to Dawud and Sulayman. "We gave knowledge to Dawud and Sulayman" refers to the general divine design and arrangement of giving knowledge and wisdom to messengers and prophets directly. As stated in the commentary of al Baqarah: 78 and Ali Imran: 48 all the divinely appointed representatives of Allah, prophets and Imams of the Ahl ul Bayt, never received knowledge or learned anything from any one save Allah, because of which they were the fountainheads of knowledge and wisdom. It is stated in Minhaj al Sadiqin that prophet Dawud had nineteen sons, and every one of them wanted to inherit his father's kingdom. Allah sent Dawud nine questions with answers and asked him to appoint the son who gives the correct answers as his successor. QUESTIONS ANSWERS (i) Which is the nearest thing? Hereafter. (ii) Which is the farthest thing? Time passed away (iii) What phenomenon manifests love? Body with soul. (iv) What phenomenon manifests dread? Body without soul. (v) Which things remain the same? Sky and earth. (vi) Which things ever remain different? Day and night. (vii) Which things are opposed to each other. Life and death. (viii) What ends in - goodness? Patience and forbearance at the time of anger. (ix) What ends in evil? Haste at the time of anger None save Sulayman, the youngest son, gave the correct answers, so he was made the heir of Dawud. Aqa Mahdi Puya says: The law of inheritance stated in this verse is the law of the Lord, and no one can ever make changes in the laws of the Lord save Himself or the Holy Prophet under His command (Bani Israil : 77). Now refer to the commentary of Bani Israil : 26; Nahl: 90 and Maryam: 2 to 15 for the issue of Fadak. To deprive Bibi Fatimah of her rightful inheritance a false tradition (The prophets of Allah neither inherit nor leave inheritance) was quoted. The Holy Prophet was a law-giver, therefore he could never break any law made by Allah. He was the best exemplar of the laws and doctrines preached by him. The Holy Prophet said: "Whenever you hear a tradition attributed to me, compare it with the Quran, and, if there is no contradiction between the two, accept it, otherwise reject it outright." Dawud who chose Sulayman, a prophet, to inherit his kingdom was also a prophet, therefore the tradition quoted to deprive Bibi Fatimah of her rightful inheritance was undoubtedly false. Please note that the superior most prophet of Allah, Muhammad al Mustafa, was granted all the wisdom, knowledge and authority over all created beings which was given to other prophets, in the highest degree by the most generous giver of all givers.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 27:15-31
It may be noted, Jewish prophets were gifted with something of everything, whereas Prophet Muhammad and the Ahl al-Bayt were gifted with all that was needed. Compare Ali’s interpreting the sounding of an Abbey’s horn. Interpretation of an Abbey’s Horn 1. Sublime is God, Truth is He. Verily the Lord is Self-sufficient, Eternal, Forbearing, and Compassionate to us. Had it not been for his forbearance, we would have been doomed. 2. Verily shall we be raised on Reckoning Day and a questioner shall demand accounting on us. Oh Lord, do not destroy us, rectify our faults, take us into Your service and purify us. Your forbearance led us to Your disobedience. Hence, forgive us. 3. Verily the world has deceived us and engaged us in worldly avocations and made us forgetful and deceived us. 4. Oh worldly people, do not amass (do not amass wealth). Oh worldly people, be patient in worldly affairs, walk carefully. Go on weighing, i.e. account from self as you proceed. 5. The world shall annihilate its generation. Not a day passes, but someone amongst us passes off the world. 6. Hurry up to account before death. Had we not been ignorant, we would have considered the world a jail. Do virtues and avoid ill, do virtue, bear grief. 7. What is the world? What is it? How long it is? Give it up. Therein lays your welfare. Hope in God.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:15-16
2- نظام حکومت الٰہیہ
2- نظام حکومت الٰہیہ: کتنی جاذب نظر بات یہ ہے کہ جناب سلیمانؑ داؤد نے شرک اور بت پرستی کے آثار کا بہت جلد خاتمہ کرکے نظام الٰہی کا نفاذ کردیا۔ ایک ایسا نظام جس کا اصلی اور بنیادی عنصر علم و دانش اور مختلف شعبوں میں آگاہی ہے۔ ایسا نظام جس کے تمام پروگراموں اور منصوبوں میں "خدا" کا نام سرفہرست ہے۔ ایسانظام جس میں تمام لائق عناصر سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ حتٰی کہ مقصد کے حصول کے لئے ایک پرندے سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ ایسا نظام جس میں دیووں کو مقید کردیا گیا اور ظالموں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ مختصر یہ کہ ایسا نظام جس کے پاس فوجی طاقت بھی بہت حد تک تھی اور جاسوسی کے ذرائع بھی کافی تھے جو لوگ اقتصاديات اور پیداوار کے مختلف امور میں مہارت یا کافی حد تک واقفیت رکھتے تھے ان سب کو ایمان اور توحید کے پرچم تلے جمع کر دیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:15-16
3- پرندوں کی بولی
3- پرندوں کی بولی : مندرجہ بالا آیات میں بھی اور آگے چل کر ہدہد اور سلیمان علیہ اسلام کی داستان کے سلسلے کی آیات میں بھی ، پرندوں کی گفتگو اور اس کے ادراک کے بارے میں واضح اشارہ موجود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ـــــــــــ دوسرے جانوروں کی مانند ـــــــــــــ پرندے بھی مختلف حالات میں مختلف آوازیں نکالتے ہیں کہ اگر غوروخوض سے کام لیا جائے تو ان کی آوازوں سے ان کی مختلف کیفیتوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے کہ کون سی آواز غصے کی ہے اور کون سی خوشی کی ،کسی آواز سے ان کی بھوک کا پتہ چلایا جاسکتا ہے ،کس سے ان کی تمنا کا ، کس آواز سے وہ اپنے بچوں کو ہلاتے ہیں اورکس سے وہ انھیں وحشتناک حادثے کی خبر دیتے ہیں ۔ اس حد تک تو پرندوں کی آواز میں کسی کو شک و شبہ نہیں اور ہم میں سے ہرایک کم و بیش اس چیز سے آگاہ ہے۔ لیکن اس سورت کی آیات ظاہرًا اس سے بڑھ کر کچھ اور مطلب بیان کرتی ہیں ۔ یہاں ان کے خاص انداز سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے جس میں عجیب و غریب مطالب بیان ہوئے ہیں۔ ایک انسان کے ساتھ ان کے افہام تفہیم کی بات کی گئی ہے اگرچہ ہے یہ چیز بعض لوگوں کو عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن اگران مطالب کی طرف توجہ کی جائے جسے پرندوں کے بارے میں ماہرین نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے اوراسی طرح جو چیزیں بعض لوگوں کے ذاتی مشاہدے میں آئی ہیں انھیں رکھا جائے تو یہ بات قطعًا عجیب معلوم نہیں ہوگی۔ ہم تو جانوروں خاص کر پرندوں کی فہم اور سمجھ کے بارے میں بھی اس سے بھی بڑھ کر عجیب و غریب معلومات رکھتے ہیں ۔ بعض جانور اور پرندے ایسے ہوتے ہیں جو اپنا گھر یا گھونسلا بنانے میں اس قدر ماہر ہیں کہ بعض مواقع پر ماہر انجینیروں پر بھی بازی لے جاتے ہیں۔ بعض پرندے اپنے آئنده پیدا ہونے والے بچوں کے مستقبل کے بارے میں اور ان کی ضروریات اور مشکلات کے سلسلے میں اس حد تک باخبر ہوتے ہیں اوران مشکلات کو حل کرنے کے لیے اس قدر کوشش کرتے ہیں کہ ہم سب کے لیے باعث حیرت ہے۔ اور ان کی موسم کے بارے میں پیش گوئی حتٰی کہ بعض اوقات تو وہ کئی ماہ پہلے ہی موسم کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ ایسے پرندے بھی ہیں جو زلزوں کی قبل ازوقت اطلاع دے دیتے ہیں ، یہاں تک کہ خفیف ترین جھٹکوں کی اطلاع دینے والے آلات سے بھی بہت پہلے بتا دیتے ہیں ۔ دورحاضر میں حیوانات کو سدھاکر سرکسوں میں ان سے جو کام لیے جاتے ہیں انھیں دیکھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے کیونکہ و ہ وہاں پر واقعًا محیرالعقول کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ "چیوٹیوں" کے حیرت ناک کارنامے اور ان کا حیرت کن تمدن ! "شہد کی مکھیوں" کے عجائبات زندگی اور ان کی حیرت انگیز سراغ رسانی ! "مہاجر پرندوں" کی عجیب و غریب معلومات اور اس قدر عظیم سفر کے درمیانی راستے سے باخبری کہ جن کی وجہ سے وہ قطب شمالی اورقطب جنوبی کا درمیان لیکن بہت طولانی فاصلہ طے کرلیتے ہیں ۔ سمندروں کی گہرائیوں کے بارے میں "آزاد مچھلیوں" کی بہت زیادہ معلومات کہ جن کے ذریعے وہ اجتمائی صورت میں سارا سال مختلف سمندروں میں گھومتی پھرتی ہیں ، عمومی طور پر ایسے مسائل ہیں جوعلمی لحاظ سے مسلم ہیں اوران کے ادراک یا جبلت یا اسے جو بھی نام دیں پر بین دلیل ہے۔ بعض جانوروں کے بعض حواس قوی ہوتے ہیں جیسے چمگادڑ میں راڈار جیسی مشینری ہوتی ہے یابعض حشرات کی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے ، بعض پرندوں کی نگا ہیں بہت تیز ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ حیوانات وغیرہ تمام چیزوں میں ہم سے زیادہ پسماندہ نہیں ہیں۔ مندرجہ بلا امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مخصوص انداز میں گفتگو بھی کرسکتے ہیں اور جو ان کی گفتگو کے الفاظ اور طریقے سے واقف ہیں ان سے ہم کلام ہوسکتے ہیں۔ قرآنی آیات میں بھی مختلف عنوانات کے تحت اس امر کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے مثلًا سورہ انعام کی آیت 38 میں ہے : ومامن دابة في الارض و لاطائر يطير بجناحيه الاامه امثالكم روئے زمین پرایساکوئی حرکت کرنے والا جانور اور اپنے دو پروں سے اڑنے والا کوئی پرنده ایسا نہیں ہے جن کی تم جیسی امتیں نہ ہوں ۔ ؎1 روایات میں بھی بہت سی ایسی چیز موجود ہیں جو جانوروں ، خاص کر پرندوں کی گفتگو پردلالت کرتی ہیں حتی کہ ان میں سے ہرایک کی زبان کو نعروں کی طرح کی ہولی بتایا گیا ہے۔ اگر اس کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو بات لمبی ہوجائے گی ۔ ؎2 ایک روایت میں ہے کہ جناب امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے عبد الله بن عباس سے فرمایا: أن الله علمنا منطق الطير کماعلم سلیمان بن داؤد و منطق كل دابة في برا وبحر خداوند عالم نے ہمیں پرندوں کی بولی کی بھی تعلیم دی ہے جس طرح سلیمان بن داؤ د کوتعلیم دی تھی اور خشکی اور تری میں چلنے والی ہر مخلوق کی بولی بھی سکھائی ہے ۔ ؎3
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:15-16
1- دین اور سیاست
چند اہم نکات 1- دین اور سیاست: بعض کوتاہ نظریہ سمجھتے ہیں کہ دین وعظ نصیحت یا انسان کی شخصی اور نجی زندگی کے مسائل کا نام ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ دین مجموعہ ہے تمام قوانین حیات کا اور ایسا وسیع پروگرام ہے جو تمام انسانی زندگی خصوصًا اس کے اجتماعی مسائل کو اس کے اندر لیے ہوئے ہے۔ انبیاء کو اس لیے بھیجا گیا تاکہ وہ عدل کو قائم کریں۔ (حدید / 24)۔ دین انسان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور بنی نوع انسان کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔ (سوره اعراف / 175)۔ دین مستضعفین کو ظالموں کے چنگل سے آزاد کروانے اور ظالموں کو تسلط ختم کرنے کے لیے ہے۔ مختصر یہ کہ دین نفس کی راہ پر تعلیم وتربیت کرکے انسان کامل بنانے کے لیے آیا ہے ۔ (جمعہ / 2)۔ ظاہر ہے کہ عظیم مقاصد حکومت تشکیل دیئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔ کون شخص اخلاقی نصیحتوں کے ذریعے عدل وانصاف کا راج قائم کرسکتا ہے اور ظالموں کے کے ہاتھوں کو مظلوموں کے گریبانوں تک جانے سے کون شخص وعظ و نصیحت کے ذریعے روک سکتا ہے؟ کون شخص غلاموں کے ہاتھوں سے غلامی کی زنجیریں طاقت کا سہارا لیے بغیر توڑ سکتا ہے؟ جس معاشرے میں ذرائع ابلاغ اور پروپگینڈہ مشینری فاسد اور مفسد لوگوں کے ہاتھ میں ہو ، وہاں تعلیم و تربیت کے صحیح اصولوں کا نفاذ کون شخص کرسکتا ہے ؟ اور کون شخص اخلاقی فضائل کو انسان کے اندر اس کے بغیر پروان چڑھا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے ہم کہتے ہیں کہ "دین" "سیاست" سے جدا نہیں ہے اور یہ دونوں ایسے عناصر ہیں جو ایک دوسرے کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔اگر دین سیاست سے جدا ہوجائے تو دین اپنا انتظامی بازو کھو دے گا۔ اگر سیاست دین سے جدا ہوجائے تو ایک ایسے تخریبی عنصری تبدیل ہوجائیگی ، جو خود سر لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔ اگر پیغمبراسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ نے اپنے آسمانی دین کو دنیا بھر میں بڑی تیزی سے متعارف کروایا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ آپؐ نے موقع ملتے ہی ایک حکومت تشکیل دی اوراسی حکومت الٰہیہ کے ذریعے آپ خدا کے بتائے ہوئے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا۔ اگر کچھ اور انبیاء کو بھی اس قسم کا موقع ملا تو انھوں نے بھی بہتر انداز میں دعوت حقہ پیش کی لیکن جو انبیاء مشکلات میں گھرے ہوئے تھے اور حالات نے انھیں حکومت تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی تو وہ اپنی دعوت کو اس انداز میں پیش کرکے زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:15-16
داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت
تفسیر داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت جناب موسٰی علیہ السلام کی داستان کا ایک گوشہ بیان کرنے کے بعد خدا دو اورعظیم انبیاء "داؤد اور "سلیمان" کے واقعات بیان کرتا ہے البتہ داؤد کے بارے میں ایک اشارہ ساہے لیکن سلیمان کے بارے میں مفصل گفتگو ہے۔ ان دو انبیاء کی داستان کا یہ حصہ جناب موسٰی کی داستان کے بعد اس سے ذکر ہوا ہے کیونکہ یہ باپ بیٹا بھی بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے ان کی اور دوسرے انبیاء کی تاریخ کا فرق یہ ہے کہ انھوں نے بنی اسرائیل کی فکری اور اجتماعی آمادگی کے پیش نظر ایک عظیم حکومت تشکیل دی اوراسی حکومت کے ذریعے دین الٰہی کو وسعت ملی لہذا یہاں پر دوسرے انبیاء کی نسبت گفتگو کا انداز بھی کچھ اور ہے ۔ دوسرے انبیاء کے بارے میں ہے کہ انھیں اپنی قوم کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ بعض کو تو ان کی قوم نے شہر بدر کر دیا لیکن یہاں پر ایسی چیزوں کا تذکرہ نہیں ہے ۔ یہاں بات بالکل مختلف ہے۔ یہاں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اگر خداوند عالم کی طرف دعوت دینے والے افراد کو حکومت تشکیل دینے کی توفیق حاصل ہوجائے توکس قدر مشکلات حل ہوسکتی ہیں اور کس حد تک حالات سدھر سکتے ہیں؟ بہرحال یہاں پر علم قدرت اور عظمت کے بارے میں گفتگوں کی گئی ہے۔ جن وانس سمیت تمام مخلوقات کے حکومت الٰہیہ کے آگے سرتسلیم خم کرنے کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ پرندوں کا بھی اس حکومت کے تابع ہونے کا ذکر ہے۔ اور آخر میں منطقی اور مدلل دعوت کے ذریعے بت پرستی کے خلاف زبردست معرکے اور پھرحکومت کی طاقت سے صحیح صحیح سے فائدہ اٹھانے کا تذکرہ ہوگا ۔ یہی ده امتیازات ہیں جو ان دو پیغمبروں کو دوسرے انبیاء سے جدا کرتے ہیں ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے علم عطا کرنے کے ذکر سے ان انبیاء کی داستان کا ذکر کیا ہے جو کسی صالح اور طاقتور حکومت کا بنیادی عنصرہے، فرمایا گیا ہے: ہم نے داؤد اور سلیمان کو اچھا خاصا علم عطا فرمایا۔ (ولقد أتينا داؤد و سلیمان علمًا)۔ بعض مفسرین نے یہاں پر اپنے آپ کو خواہ مخواہ زحمت میں ڈالا ہے اور یہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس علم سے مراد کون سا علم ہے جو داؤد اور سلیمان کو عطا کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے دوسری آیت کے قرینے سے قضا اور فیصل کا علم مراد لیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: وأتيناه الحكمة وفصل الخطاب "ہم نے داؤد کو حکمت عطا کی اور جھگڑوں کے ختم کرنے کا طریقہ بتایا۔ (ص / 20) وكل أتينا حکمًا و علمًا ہم نے ان میں سے ہرایک (داؤد اور سلیمان) کو فیصلے کرنے کی قوت اور علم عطا کیا۔ (انبیاء / 79)۔ بعض مفسران نے انھی آیات میں موجود منطق الطیر (پرندوں کی زبان) کے قرینے سے پرندوں کے ساتھ گفتگو کا علم مراد لیا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے قرآنی آیات کے قرینے سے زرہ وغیرہ کے بنانے کا علم مراد لیا ہے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہاں پر "علم" وسیع معنوں میں ہے جس میں توحید ، مذہبی عقائد اور دینی قوانین کا علم بھی شامل ہے اور قضا کا علم بھی بلکہ وہ تمام علوم بھی جو اس طرح کی وسیع اور طاقت ورحکومت کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ کسی حکومت الٰہیہ کی تشکیل جو عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہو اور آباد و آزاد ہو وہ ایک وسیع اور سرشار علم کے بغیر ناممکن ہے۔ اس طرح سے قرآن مجید نے انسانی معاشرے اور حکومت کی تشکیل میں علم کے مقام کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معاشرے اور حکومت کے لیے اس کی حیثیت عمارت کے بنیادی پتھر کی سی ہے۔ اوراس کے بعد جناب داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی زبانی یہ جملہ نقل کیا گیا ہے : اور انھوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے (وقالا الحمد لله الذي في فضلنا على كثير من عباده المؤمنین)۔ اور یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ "علم" کی عظیم نعمت کے فورًا بعد "شکر" کی بات آئی ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہرنعمت کا شکر لازم ہے اور شکر کی حقیقت یہ ہے کہ جس نعمت کو جس کام کے لیے خلق کیا گیا ہے اسے اسی کے لیے استعمال کیا جائے اور خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں نے اپنے خداد علم سے ایک حکومت الٰہیہ کو منظم کرنے میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ضمنی طور پر یہ بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ انھوں نے اپنی دوسروں ہر فضلیت کا معیار "علم" کو قرار دیا ہے نہ کہ اقتدار اور حکومت کو۔ نیز شکربھی علم کی نعمت عطا ہونے پر ادا کیا ہے کیونکہ گرکسی کی قدروقیمت ہے تو علم سے ہے اور ہر قدرت و طاقت علم ہی سے میسرآتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کردہ ایک باایمان قوم پرحکومت کرنے پرشکر ادا کر رہے ہیں کیونکہ فاسد اور بے ایمان لوگوں پر حکومت کوئی قابل فخر بات نہیں ہے۔ یہاں پر سوال پیش آتا ہے کہ انھوں نے شکر کے موقع پر کیوں فرمایا ہے کہ خدا نے ہمیں بہت سے مومنین پرفضلیت عطا فرمائی ہے یہ کیوں نہیں فرمایا تمام مومنین پرجبکہ وہ اپنے دور کے تمام لوگوں سے افضل تھے۔ ممکن ہے کہ ان کے یہ الفاظ ادب اور انکساری کے پیش نظر ہوں کیونکہ ایسے انسان کبھی بھی اپنے آپ کو تمام دوسروں سے برتر نہیں سمجھتے۔ یہ پھر اس لیے کہ انھوں نے کسی خاص زمانے کو مدنظر نہ رکھا ہو بلکہ تمام زمانے ان کے پیش نظر ہوں اورمعلوم ہے کہ تاریخ بشریت میں ان سے بھی عظیم کئی انبیاء گزرے ہیں ۔ بعد والی آیت میں پہلے حضرت داؤدؑ سے جناب سلمانؑ کے وراثت پانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اورسلیمان ، داؤد کے وارث ہوتے (وورث سلیمان داؤد)۔ یہاں پر "ارث" سے کیا مراد ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں : بعض مفسرین اسے علم و دانش کی میراث سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کی سمجھ کے مطابق انبیاء کی کوئی میراث نہیں ہوتی ۔ بعض نے اسے مال اور حکومت کی میراث میں منحصر قرار دیا ہے کیونکہ اس کلمہ سے سب سے پہلے ذہن میں یہی معنی آتا ہے بعض نے پرندوں کے ساتھ گفتگو کرنے کے علم کو میراث بتایا ہے (منطق الطیر )۔ لیکن اگر آیت پر توجہ دی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آیت مطلق ہے اور بعد والے جملوں میں علم کا بیان بھی آیا ہے اور دوسری نعمتوں کا بھی (اوتینا من كل شي ء) تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم آیت کے مفہوم کو محدود کر دیں لہذا جناب سلیمان علیہ اسلام اپنے باپ کی ہرچیز کے وارث بنے۔ جو روایات اہل بیت اطہا علیہم السلام کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہیں ان سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہلبیت علیهم السلام کے سامنے جو بھی یہ کہتا کہ انبیاء اپنی میراث نہیں چھوڑتے اور" نحن معاشر الانبياء لانورث "(ہم انبیاءکاگروہ اپنی کوئی میراث نہیں چھوڑتے) سے استدلال کرتا تو وہ اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرماتے اوراس سے یہ ثابت کرتے کہ مذکورہ حدیث چونکہ کتاب خدا کے مخالف ہے لہذا قطعًا قابل اعتبار نہیں۔ جو حدیث اہل بیت سے وارد ہوئی ہے اس میں ہے: جب ابوبکرنے مصمم ارادہ کرلیا کہ فدک کو جناب فاطمہ علیہ السلام سے چھین لے اور یہ بات جناب فاطلمہ تک پہنچی تو آپ ابوبکر کے پاس تشریف لے گئیں اور فرمایا: : افی كتاب الله أن ترث اباك ولاارث ابي ، لقد جئت شيئا فريا، فعلى عمد تركتم کتاب الله ونبذتموه وراء ظهور کم اذ يقول، وورث سلیمان داؤد کیا کتاب خدا میں ہے کہ تم تو اپنے باپ کے وارث بنو لیکن میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں یہ تو عجیب بات ہے !! کیا تم نے کتاب اللہ کو جان بوجھ کر پس پشت ڈال دیا ہے ؟ جبکہ خدا فرماتا ہے کہ سلیمان داؤد کے وارث بنے۔ ؎1 پھرقرآن فرماتا ہے: سلیمان نے کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی گفتگو کی تعلیم دی گئی ہے ( وقال يايها الناس علمنا منطق الطیر)۔ اور ہمیں سب کچھ دیا گیا ہے ، اور یہ واضح اور رون فضیلت ہے ( واو تینا من كل شي ان هذا لهوا الفضل المبین)۔ اگرچہ بعض لوگوں کا دعوٰی ہے ک نطق اور بولنے کا لفظ انسان کے علاوہ کسی اور کے لیے صحیح نہیں البتہ مجازی معنی کی اور بات ہے لیکن اگر غیرانسان بھی اپنے منہ سے ایسی آواز اور الفاظ نکالیں جو معانی اور مطالب کو بیان کرتے ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے نطق نہ کہیں : کیونکہ "نطق " ہروہ لفظ ہوتا ہے جوکسی حقیقت اور مفہوم کو بیان کرتا ہو۔ ؎2 البتہ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ مخصوص آوازیں جو بعض جانور غم و غصے کے وقت یا خوشی کے موقع پر یا درد کے موقع پر یا اپنے بچوں سے پیار کے وقت نکالتے ہیں وہ بھی نطق ہے ایسا نہیں ہے بلکہ ایسی آوازیں ہیں جو خاص حالت کے ساتھ منہ سے نکلتیں ہیں لیکن جیسا کہ آگے چل کرآیات سے مفصل معلوم ہوگا کہ جناب سلیمان علیہ السلام ہدہد کے ساتھ معانی اور مطالب پرمبنی گفتگو کرتے ہیں ۔ اس کے ذریعے پیغام بھیجتے اور اسے پیغام کا جواب لانے کا حکم دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات ان آوازوں کے علاوہ جو ان کے حالات بیان کر رہی ہوتی ہیں ، خداوند عالم کے حکم کے مطابق اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ خاص مواقع پرگفتگو کریں ۔ اسی طرح آینده آیات میں "چیونٹی" کی گفتگو کے بارے میں ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کتاب احتجاج طبرسی منقول ازتفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 75 ۔ ؎2 "ابن منظور" کتاب "لسان العرب میں کہتے ہیں کہ نطق کا معنی گفتگو کرنا ہے، پھر کہتے ہیں" وكلام كل شئ منطقه ومنه قوله تعالی علمنا منطق الطیر" ہرچیزکا کلام اس کا نطلق ہوتا ہے علمنا منطق الطیر والی آیت بھی اسی باب سے ہے پھر علماءادب میں سے ابن سیڈے یہ بات نقل کرتے ہیں (یہ کوکہتے ہیں کہ بات کرنا صرف انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے اس کے برخلاف) کبھی غیرانسان کے لیے بھی نطق کا استعمال ہوتا ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ لازمی ہے کہ علماۓ منطق اور فلاسفہ کے نزدیک نطق اس قدرت تفکر کو کہتے ہیں جو انسان کو بولنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بھی بحث ہوگی۔ البتہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر نطق اپنے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے جو "نطق" کی روح او نتیجہ کی حقیقت کو بیان کرتا ہے اور وہ ہے "مافی الضمیر کا بیان" اور یہ بیان خواہ الفاظ اور گفتگو کی صورت میں ہو یا دوسرے حالات کی صورت میں جیسے یہ آیت ہے: هذا كتابنا ينطق علیکم بالحق یہ ہماری کتاب ہے ہجو حق بات تمھیں بتاتی ہے۔ (جاثیہ /29 )۔ لیکن جناب سلمان کی پرندوں کے ساتھ گفتگو کو اس معنی میں تفسیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضرت سلیمانؑ ان مندرہ بالا آیات کے ظاہر کی رو سے پرندوں کے خاص الفاظ کو سمجھ سکتے تھے جو وہ اپنا مطلب بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے اور پرندوں کے ساتھ گفتگو بھی کرسکتے تھے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل انشااللہ چنداہم نکات کے ذیل میں آئے گی۔ " اوتينا من كل شئ " (ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے) یہ جملہ اس محدودیت کے خلاف ہے جس کے بعض مفسرین قائل ہیں ۔ اس کا وسیع مفہوم ہے اوراس میں وہ تمام وسائل شامل ہیں جو مادی اور روحانی لحاظ سے حکومت الہیہ کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور اصولًا اس کے بغیر یہ کلام ناقص ہوگا اور گذشتہ آیات کے ساتھ اس کا کوئی واضع تعلق نہیں ہوگا۔ مقام پر فخرازی نے ایک سوال پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ آیا "علمنا" اور "اوتينا" (ہم کو تعلیم دی گئی ، ہم کو عطا کیاگیا) متکبرین کا سا کلام نہیں ہے؟ پھر اس کا جواب بھی انھوں نے خود ہی دیا ہے اور وہ یہ کہ یہاں جمع کی ضمیرسے مراد خود جناب سلیمان اور ان کے والد ہیں یا خود سلیمان اور ان کے رفقائے حکومت ہیں اور یہ معمول ہے کہ جب کوئی سربراہ مملکت گفتگو کرتا ہے تو جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:15-16
سوره نمل / آیه 15 - 16
(15) وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ (16) وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ ترجمہ (15) ہم نے داؤد اور سلیمان کو اچھا خاص علم عطا کیا اور انھوں نے کہا اس خدا کے لیے حمد ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے۔ (16) اور سلیمان ، داؤد کے وارث ہوئے اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی گفتگو کی تعلیم دی جاچکی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے اور یہ ایک کھلم کھلا فضیلت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:15-16
4- لاوارث حدیث
4- لاوارث حدیث : اہل سنت کی مختلف کتابوں میں پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ایکی حدیث موجود ہے جو اس طرح کے مضمون پر مشتمل ہے۔ نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة ہم پیغمبرلوگ اپنی میراث نہیں چھوڑتے جو ہم سے رہ جائے اسے راہ خدا میں صدقے کے طور پر خرچ کر دیا جائے۔ اور بعض کتابوں میں "لانورث" کا جملہ نہیں ہے کہ "ماتركناه صد قة" کی صورت میں نقل کیا گیاہے اس روایت کی سند عام طور پر ابوبکر تک جاکر ختم ہوجاتی ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد مسلمانوں کی زمام امور ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سوره انعام کی آیت 38 کے ذیل میں ایک اورتفصیلی گفتگوبھی ہے ۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد پنجم) ؎2 انہی آیات کے ذیل میں مزید معلومات کے لیے "تفسیرقرطبی" کا مطالعہ فرمائیے اور تفسیر نور الثقلین جلد 4 ص 77 کی طرف رجوع فرمائیں۔ ؎3 مذکورہ حوالہ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اپنے قبضے میں لے لی تھی ۔ اور جب حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا یا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعض بیویوں نے ان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اس حدیث کا سہارا لے کر انہیں میراث سے محروم کر دیا۔ اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (جلد 3 کتاب الجہاد والسیرص 1379) میں ہنجاری نے جزوہشتم کتاب الفرائض کے صفحہ 185 پر اوراسی طرح بعض دیگرافراد نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مذکورہ کتابوں میں سے بخاری میں بی بی عائشہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے : فاطمه زهرا علیها السلام اور جناب عباس بن عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد) ابوبکر کے پاس آئے اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت انھوں نے اپنی فدک کی اراضی اور خیبر سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا تو ابوبکر نے کہا کہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سناہے کہ آپ نے فرمایا۔"ہم میراث میں کوئی چیز نہیں چھوڑ جاتے، جو کچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام نے جب یہ سنا تو ناراض ہوکر وہاں سے واپس آگئیں اور مرتے دم تک ان سے بات نہیں کی۔ ؎1 البتہ یہ حدیث مختلف لحاظ سے تجزیہ و تحلیل کے قابل ہے لیکن اس تفسیر میں چند ایک نکات بیان کریں گئے : 1- یہ حدیث ، قرآنی متن کے مخالف ہے اور اس اصول اور کلیہ قاعدہ کی رو سے ناقابل اعتبارہے کہ جو بھی حدیث کتاب الله کے مطابق نہ ہو جواس پراعتبار نہیں کرنا چاہیے اور ایسی حدیث کو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا دیگر معصومین علیہم السلام کا قول سمجھ کر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جناب داؤد علیہ السلام کے وارث بنے اور آیت کا ظاہرمطلق ہے کہ جس میں اموال بھی شامل ہیں ۔ جناب یحیٰی اور حضرت زکریا علیہما السلام کے بارے میں ہے : یرثني ویرث من أل یعقوب خداوندا ! مجھے ایسا فرزند عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ ( مریم / 6)۔ حضرت "زکریا" کے بارے میں تو بہت سے مفسرین نے مالی وراثت پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں "وراثت" کی آیات کا ظاہر بھی عمومی ہے کہ جو بلا استثناء سب کے لیے ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے مشہور عالم علامہ قرطبی نے مجبور ہوکر اس حدیث کو غالب اور اکثر فعل کی حیثیت سے قبول کیا ہے نہ کہ عموعی کلیے کے طور پر اوراس کے لیے یہ مثال دی ہے عرب ایک عمدہ کہتے ہیں: (انا معشرالعرب اقرى الناس للضيف) ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- صحیح بخارای جزو 8 ص 185 - ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ کرمہمان نوازی ہیں (حلانکہ یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے)۔ ؎1 لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات اس حدیث کی اہمیت کی نفی کر رہی ہے کیونکہ حضرت سلیمانؑ اور حضرت یحٰیؑ کے بارے میں اس قسم کا عذر قبول کرلیں تو پھر دوسرے کے لیے بھی یہ قطعی نہیں رہ جاتی۔ 2- مندرجہ بلا روایت ان دوسری روایات کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر نے جناب فاطمہ زہرا کو فدک واپس لوٹانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا لیکن دوسرے لوگ اس میں حائل ہوگئے تھے چنانچہ سیرت حلبی میں بے ۔ فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، ابوبکر کے پاس اس وقت آئیں جب وہ منبر پر تھے ۔ انھوں نے کہا : اے ابوبکر کیا یہ چیز قرآن مجید میں ہے کہ تمھاری بیٹی تمھاری وراثت نے لیکن میں اپنے باپ کی میراث نو لوں ؟ یہ سن کر ابوبکر رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پھر وہ منبرے سے نیچے اترے اور فدک کی واپسی کا پروانه نامہ کو لکھ دیا۔ اسی اثناء میں عمرآگئے ۔ پوچھا یہ کیا ہے ، انھوں نے کہ کہ میں نے یہ تحریر لکھ دی ہے تاکہ فاطمہ کو ان کے باپ سے ملنے والی وراثت واپس لوٹا دوں ! عمر نے کہا ! اگر آپ یہ کام کریں گے تو پھردشمنوں کے ساتھ جنگی اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟ جبکہ عربوں نے آپ کے خلاف قیام کیاہوا ہے ۔ یہ کہا اور تحریر لے کر اسے پارہ پارہ کر دیا۔ ؎2 یہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبراکرامؑ نے تو صریحی طور ممانعت کی ہو اور ابوبکر اس کی مخالفت کی جرات کریں ؟اور پھر عمر نے جنگی اخراجات کا تو سہارا لیا لیکن پیغمبر اکرم کی حدیث پیش نہیں کی۔ مندرجہ بالا روایت پراگر اچھی طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں پر اسلامؑ کی طرف سے ممانعت کا سوال نہیں تھا ، بلکہ سیاسی مسائل آڑے تھے اور ایسے موقع پر معتزی عالم ابن ابی الحدید کی گفتگو یاد آجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد علی بن فارقی سے پوچھا کہ کیا فاطمہ اپنے دعویٰ میں سچی تھیں ؟ تو انھوں نے کہا جی ہاں! پھر میں نے پوچھاتو اابوبکر نے انہیں فدک کیوں نہ دیا، جب کہ وہ انہیں سچا اور برحق بھی سمجھتے تھے ۔ اس موقع پر میرے استاد نے معنی خیز تبسم کے ساتھ نہایت ہی لطیف اور پیارا جواب دیا حالاکہ ان کی مذاق کی عادت نہیں تھی ، انھوں نے کہا : لواعطاها اليوم فدك بمجرد دعواهالجائت اليه غدًا وا دعت الزوجها الخلافۃ ! و زحزحته عن مقامه ولم يمكنه الاعتذار والموافقة بشيء ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قرطبی جلد 7 ص 4880۔ ؎2 سیرت حلبی جلد 3 ص 391۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اگر وہ آج انہیں صرف ان کے دعویٰ کی بناء پر ہی فدک دے دیتے توپھر کل اپنے شوہر کی خلافت کا دعوی دائر کرکے ابوبکر کو ان کے مقام سے متزلزل کر دیتیں تو پھر نہ تو ان کے لیے کسی عزری کی گنجائش باقی رہتی اور نہ ہی ان سے موافقت کا امکان ۔ ؎1 3- پیمغبرالسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے جسے شیعہ اورسنی میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ،حدیث یہ ہے: العلماء ورثة الأنبياء علماء ، انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ۔ ؎2 نیزیہ قوای بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی منقول بے : ان الانبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهمًا انبیاء اپنی میراث میں نہ تو دینار چھوڑتے ہیں اور نہ ہی درہم ۔؎3 ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اصل مقصد یہ تھاکہ لوگوں کو یہ بات باور کرئیں کہ انبیاء کےلیے سرمایہ افتخار ان کا علم ہے اور اہم ترین چیز جو وہ یادگار کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں ان کو ہدایت و راہنمانی کا پروگرام ہے اور جولوگ علم و دانش سے زیادہ بہرہ مند ہوں کے وہی انبیاء کے اصلی وارث ہوں گے ۔ بجائے اس کے کہ ان کی مال پر نگاه ہو اور اسے یادگار کے طور پر چھوڑ جائیں۔ اس کے بعد اس حدیث کو نقل بہ معنی کر دیا گیا اور اس کی غلط تعبریں کی گئیں اور شاید "ما تركناه صدقة" والے جملے کی بعض روایات میں اس پر اضافہ کر دیا گیا۔ اس مقام پر اپنی بحث کواہل سنت کے مشہور مفسرفخرازی کی اس گفتگو پرختم کرتے ہیں جو انھوں نے سورہ نساء کی آیت 11 کے ضمن میں کی ہے تاکہ بات زیادہ لمبی نہ ہوجائے ۔ فخر رازی لکھتے ہیں: " اس آیت (اولاد کی وراثت والی آیت) کی منجملہ اور تخضیصات کے ایک تخضیص وہ چیز ہے ، جو اکثر مجتہدین (اہل سنت) کا مذہب ہے کہ انبیائے کرام اپنی وراثت کے طور کچھ نہیں چھوڑ جاتے لیکن (عمومی طور پر) شیعوں نے اس بات کی مخالفت کی ہے ۔ روایت میں ہے کہ جب فاطمہ (علیها السلام) نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں نے اس حدیث کے ذریعے انھیں اپنی وراثت سے محروم کر دیا کہ "نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة" یعنی ہم ہیغمبر لوگ کسی کواپنا وارث نہیں بناتے جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں صدقہ ہوتا ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید جلد 16 ص 284۔ ؎2 صحیح ترمذی باب لعلم حدیث 19 و سنن ابن ماجہ مقدمہ حدیث 17۔ ؎1 اصول کافی جلد اول باب صفۃ العلم حدیث 6۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تو اس موقع پر جناب فاطمہ نے (اولاد کی وراثت والی) عمومی آیت سے استدلال پیش کیا گویا وہ اس طرح سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی تھیں کہ قرآن کے عمومی حکم کو خبر واحد کے ساتھ کہ محدود نہیں کیا جاسکتا۔ فخرازی آگے کہتے ہیں کہ شیعہ لکھتے ہیں کہ : بالفرض اگرمان بھی لیا جائے کہ قرآن کو خبر واحد کے ذریعے محدود کیا جاسکتا ہے تو یہاں پر تین دلیلوں کی وجہ میں تخحیص جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ :- قرآن مجید واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ زکریانے خدا سے درخواست کی کہ وہ انھیں ایسافرزند عطا کرے جو ان کا اور آل یعقوب کا وارث بنے ۔ اسی طرح قرآن ایک اور مقام پرکہتا بے کہ سلیمان نے داؤد سے وراثت پائی ۔ چونکہ ان آیات کو علم اور دین جیسی وراثت پرلاگو نہیں کیا جاسکتا کیو نکہ اس قسم کی وراثت مجازی وراثت کہلاتی ہے اس لیے کہ ان انبیاء نے اپنی اولاد کو علم اور دین کی تعلیم دی نہ یہ کہ یہ چیزیں وراثت کے طور پر حاصل کرکے اپنی اولاد کو ان کا وارث بنا دیا۔ وراثت حقیقی صرف اور صرف مال ہی میں تصور کی جاسکتی ہے (جوکسی سے حاصل کیا جائے اور دوسروں کو دیا جائے)۔ دوسری بات یہ ہے کہ : - یہ کیونکر ممکن ہے کہ جس مسئلہ کی ابوبکر کو ضرورت ہی نہیں تھی اس سے تو وه آگاہ ہوں لیکن فاطمہ ، علی اور عباس جو عظیم ترین زاہد اور عالم تھے اور پیغمبر اسلامؐ کی وراثث سے بھی انھیں سروکار تھا ، اس سے بالکل بے خبر بوں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیغمبراسلامؐ یہ حدیث اس شخص کو تعلیم دیں جسے ضرورت نہ ہو اور ان سے مخفی رکھیں جنہیں اس کی ضرورت ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ:- "ماتركناه ص دقة " والا جملہ "لا نورث" کے بعد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جن اموال کو ہم نے صدقہ قرار دیا ہے وہ میراث کے دائرہ میں نہیں آ تے کیونکہ وہ صدقہ کے ساتھ مخصوص ہوجاتے ہیں نہ کہ تمام اموال ! پھر فخر رازی مذکورہ بالا مشہور استدلالات کا مختصر سا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: "فاطمہ زہراؑ نے جب اس ابوبکر کے ساتھ بات چیت کی تو اس پر راضی ہوگئیں ۔ اس کے علاوہ اجماع بھی اس بات پر ہے کہ ابوبکر کی بات صحیح تھی ۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر فخرازی جلد 9 ص 210۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیکن ظاہر ہے کہ فخرازی کا یہ استدلال قابل قبول نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی ابھی اہل سنت کی مشہور اور معتبرکتابوں سے ثابت کرآئے ہیں کہ فاطمہ زہرا علیهما السلام نہ صرف یہ کہ ابوبکر سے راضی نہیں ہوئیں بلکہ اس قدر ان پر ناراض ہوئیں کہ مرتے دم تک ان سے گفتگو نہیں کی۔ اس سے قطع نظر یہ کیسے ممکن ہے کسی ایسے پر اجماع قائم ہوجائے جس میں وحی کے زیر سایہ تربیت پانے والے افراد علی و زہرا علیہماالسلام اور جناب عباس جیسی شخصیتیں نہ صرف شریک ہی نہیں بلکہ مخلالف بھی ہیں ۔