وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَى بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ
Had We sent it down upon some non-Arab
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 26:198
[Pooya/Ali Commentary 26:198] Although Islam is a universal religion and the Holy Prophet was sent to guide mankind in all ages, in these verses the Arab pagans are addressed to tell them that if a non-Arab messenger recited the Quran they could not believe him.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:198-203
سوره شعراء / آیه 198 - 203
(198) وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَـمِيْنَ (199) فَقَرَاَهٝ عَلَيْـهِـمْ مَّا كَانُـوْا بِهٖ مُؤْمِنِيْنَ (200) كَذٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِىْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ (201) لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِهٖ حَتّـٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْـمَ (202) فَيَاْتِـيَـهُـمْ بَغْتَةً وَّّهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (203) فَيَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ترجمہ (198) اگر ہم اسے کسی عجمی (غیر عرب) پر نازل کرتے۔ (199) اور وہ اس کو ان کے سامنے پڑھتا تو وہ اس پرایمان نہ لاتے۔ (200) (جی ہاں) ہم قرآن کو اسی طرح مجرموں کے دلوں میں سے گزارتے ہیں۔ (201) وہ لوگ اس پراس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ (202) (عذاب الٰہی، اچانک ان کو آلے گا کہ انھیں اس کا خیال ہی نہیں ہوگا۔ (203) تو وہ اس وقت کہیں گے آیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:198-203
3- عجم کی ایک فضیلت
3- عجم کی ایک فضیلت :- اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کا ایک فرمان ہے جسے علی بن برایم نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے: لونزل القرآن على العجم ما أمنت بہ العرب . وقد نزل على العرب فامنت به العجم فهذه فضيلة العجم،۔ اگر قران عجم پرنازل ہوتا توعرب اس پر ایمان نہ لاتے لیکین عرب پر نازل ہوا ہے اور عجم اس پرایمان لے آئے ہیں اور عجمیوں کی ایک فضیلت ہے ۔ ؎1 اس سلسل می تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد (سورہ مائدہ کی آیت 54 کے ذیل ) میں بھی کچھ ذکر کیا گیا ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر ونرالثقلين جلد 4 ص 165 ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:198-203
1- قومی اور قبائلی تعصبات
چند ایک نکات 1- قومی اور قبائلی تعصبات: اس میں شک نہیں کہ انسان جب سرزمین، قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اسی سے اس کوعشق کی حد تک محبت ہوتی ہے اور اس کا جغرافیائی ، قومی اور قبائی تعلق نہ صرف معیوب ہی نہیں بلکہ معاشرتی زندگی کے لیے ایک مؤثرعامل بھی ہے لیکن اس تعلق کے لیے کوئی حد اور حساب ہے کہ اگر اس سے بڑھ جائے تویہ نقصان دہ ہے بلکہ ہولناک مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔ لہذا جب قومی اور قبائلی تعصب کی مذمت کی گئی ہے وہ یہی حد سے بڑھ جانے والاتعلق ہوتا ہے۔ "تعصب" اور" عصبیت" دراصل"عصب" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے وہ چربی جو اعضاء کے جوڑوں کو آپس میں مربوط رکھتی ہے ۔ اسی مناسبت سے ہرقسم کے ارتباط اور باہمی وابستگی کو" تعصب "اور "عصبیت" کہنے لگے ، لیکن عام طور پر یہ لفظ افراط اور مذموم مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر قوم، قبیلے ، نسل اور وطن کا حد سے زیادہ دفاع بہت سی جنگوں کا سبب بنا ہے اور قبائلی اورنسلی آداب و رسوم کے نام پر بہت سی برائیاں ایک سے دوسری قوم کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی دفاع اور حد سے بڑھ جانے والی طرفداری بسا اوقات اس حد تک جاپہنچتی ہے کہ انسان کی نگاہ میں اپنی قوم اور قبیلے کا بدترین انسان، بہترین انسان بن جاتا ہے اور دوسری قوم اور قبیلے کا بہترین شخض بھی بدترین شخص سمجھا جاتا ہے اور یہی آداب و رسوم کا بھی محال ہے گویا نسلی تعصب خود پرستی اور جہالت کا ایک پردہ ہوتا ہے جو انسان کی عقل وادراک پر پڑجاتا ہے جس سے وہ صحیح فیصلہ کرنے کی قوت کھو بیٹھتا ہے۔ بعض قوموں میں تعصب زبردست حد تک پایا جاتا ہے جن میں سے وہ عرب بھی ہیں جو اپنے تعصب میں عالمی شہرت حامل ہیں اوران کے بارے میں ہم ابھی آیات بالامیں بھی پڑھ چکے ہیں ان میں جاہلیت عرب کا تعصب اس حد تک پایا جاتا تھا کہ اگر قرآن مجید کسی غیر عرب پر نازل ہوتا تو وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔ روایات میں بھی تعصب کے اخلاق مذمومہ کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے اور اس کی زبردست مذمت کی گئی ہے حتٰی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں :- من كان في قلبه حبة من خردل من عصبية بعثه الله يوم القيامة مع اعراب الجاهلية ہر شخص کے دل میں رائی برابر بھی تعصب ہوگا خدا وند عالم اسے قیامت کے دن زمانه جاہلیت کے اعراب کے ساتھ محشور فرمائے گا۔ ؎1 ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :- من تعصب او تعصب له فقدخلع ربقة الايمان من عنقه جس شخص نے تعصب برتا یا جس کے لیے تعصب برتا گیا اس نے ایمان کے حلقے کواپنی گردن سے اتار پھنیکا۔ ؎2 روایات ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ "ابلیس پہلا وہ شخص ہے جس نے تعصب کام مظاہرہ کیا۔ جیساکہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے تعصب کے سلسلے میں ایک نہایت ہی جامع و مانع اور مدلل گفتگو فرمائی ہے جو کہ "خطہ قاصعہ" میں موجود ہے ہم اس کا ایک حصہ ذیل میں درج کرتے ہیں، امام فرماتے ہیں:- اما ابلیس فتعصب على أدم لاصله وطعن عليه في خلقته، فقال اناناری وانت طيني ابلیس نے ان تخلیق کے بل بوتے پر آدمؑ کے ساتھ تعصب برتا اور آدم کی تخلیق پر طعن تشنيع کرتے ہوئے کہا کہ میں آگ سے ہوں اور تو مٹی سے. پھرگے چل کر امامؑ فرماتے ہیں :- فان كان لابد من العصبية فلیکن تعصبكم لمكارم الخصال و محامد الافعال و محاسن الأمور ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ، ؎2 اصول کافی جلد 2 ص 232 (باب، العصبیہ )۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تعصب کے بغیر چار نہیں ہے تو پھرتمھارا یہ تعصب پسندیدہ اخلاق، نیک افعال اور اچھے کاموں کے لیے ہوناچاہیے۔ ؎1 ضمنی طور پر اس حدیث سے بھی بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک پسندیدہ اور مستحسن واقعیت پرڈٹ جانا نہ صرف قابل مذمت نہیں بلکہ انسان کے جاہلیت کے غلط رسم ورواج اور ربط و ضبط کی وجہ سے پیدا ہونے والے روحانی خلا کوبھی پر کرسکتا ہے۔ اسی لیے توحضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے جب "تعصب" کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:- العصبية التي يأثم علیها صاحبها ان يرى الرجل شرارتومه خیرًا من خیار قوم أخرين، وليس من العصبية ان يحب الرجل قومه ، و لكن من العصبية أن يعين قومه على الظلم حبس تعصب کی وجہ سے انسان گناہ گار ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی قوم کے بڑے لوگوں کو دوسری قوموں کے اچھے افراد سے بہتر سمجھا جائے اگر کوئی شخص اپنی قوم اور قبیلے سے محبت رکھتا ہے تو یہ تعصب نہیں ہوگا کی عصبیت تواس بات میں ہے کہ انسان اپنے قبیلے اور قوم کی ظلم وستم میں امداد کرے ۔ ؎2 آیات اور روایات میں عصبیت کو "حمیت" سے بھی تعبیر کیا گیا ہے یا اسے " حمیۃ جاہلیہ" کا نام دیاگیا ہے۔ اسی سلسلے میں کرنے کی بہت سی باتیں ہیں لیکن اپنی گفتگو کو دو حدیثوں کے بیان پر ختم کرتے ہیں:- امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :- ان الله عزوجل يعذب ستة بست، العرب بالعصبية والدها قنة بالكبر، والامراء بالجور، والفقهاء بالحسد، والتجار بالخيانة، واهل الرستاق بالجهل خداوند عالم چھ طرح کے لوگوں کو چھ طرح کی صفات کی وجہ سے معذب کرے گا عربوں کو ان کے تعصب کی بنا پر ، جاگیرداروں (اور صاحبان ثروت) کو ان کے تکبر کی وجہ سے، حکمرانوں کوان کے ظلم وجبر کی وجہ سے ، فقہاء کو ان کے حسد کی بنا پر ، تاجروں کو خیانت کی وجہ سے اور دیہاتیوں کو ان کی جہالت کی بناءپر۔ ؎3 پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر روز چھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے: كان رسول اللہ (ص) یتعوذ في كل يوم من ست من الشك والشرك والحمية والغضب والبغي و الحسد ؎4 شک ، شرک ، حمیت (تعصب)، غضب، ظلم اور حسد سے ۔ ؎5 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ قاصعہ نمبر192۔ ؎2 اصول کافي (باب العصبیہ) جلد 2 ص 233۔ ؎3 ، ؎4 بحار جلد 73 ص 289۔ ؎5 بحارالانوار جلد 73 ، ص 289۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:198-203
2- دنیا کی طرف لوٹ جانے کی درخواست
2- دنیا کی طرف لوٹ جانے کی درخواست:- مرنے کے فورًا ہی بعد گناہ گار اور مجرم لوگوں کی آہ وحسرت کا دور شروع ہو جاتا ہے اور ان کے اندر دنیا کی طرف پلٹ جانے کی امنگ پیدا ہوجاتی ہے اور پھر بے فائده آه وفریاد اور ناقابل قبول دعائیں شروع ہوجاتی ہیں۔ آیات قرآنی میں اس کے بہت سے نمونے موجود ہیں جن میں سے ایک سادہ ترین نمونہ انھی آیات میں موجود ہے جن کی ہم تفسیر بیان کر رہے ہیں یعنی :- "هل نحن منظرون" یعنی آیا ہمیں مہلت ملے گی؟ سوره انعام کی آیت 27 میں ہم پڑھتے ہیں:- ياليتنا نرد ولا يكذب بایات ربنا اے کاش ہم واپس لوٹ جاتے اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کرتے۔ سوره احزاب کی آیت 66 میں آیا ہے:- يا ليتنا اطعنا الله و اطعنا الرسولا اے کاش ہم نے اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ سورمومنون کی آیات 99 تا 100 میں آیا ہے : حتى اذا جاء احد ھم الموت قال رب ارجعون لعلى اعمل صالحًا فيما تركت۔ مجرم لوگوں کی کیفیت برقرار رہے گی یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے پاس موت آجائے گی تو وہ کہے گا خداوندا ! مجھے واپس پلٹادے تاکہ میں اپنے گزشتہ تاریک اعمال کی تلافی کرکے اعمال صالح انجام دوں۔ یہی صورت حال رہے گی یہاں تک کہ گناہ گار لوگ آتش جہنم کے کے کنارے لاکھڑے کیے جائیں گے تو وہاں پر بھی وہ اپنی یہی بات دہرائیں گے ۔ ملاحظ بو سورہ انعام آیہ 27: ولوترٰی از وقفوا على النار فقالوا یا لیتنا نرد ولا نكذب بآيات ربنا ونكون من المؤمنين اگر آپ مجرموں کو اس وقت دیکھیں تومعلوم ہوگا کہ آتش جہنم کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اور کہیں گے اے کاش! ہم پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور مومنین سے ہوتے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 73 ، ص 289۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیکن ظاہر ہے کہ امر الٰہی میں ایسی بازگشت ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ناپختہ میوہ اپنے درخت کی طرف واپس جاکر پک سکتا ہے اور ناقص پیدا ہونے والا بچہ رحم مادر کی طرف واپس پلٹایا جاسکتا ہے توایسی بازگشت بھی ممکن ہوسکتی ہے لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ہوا لہذا مجرم ٹولہ بھی واپس نہیں پلٹایا جائے گا۔ لہذا اس افسوس کے تدارک کا بہترین راستے یہی ہے کہ یہیں پر رہ کرعمل صالح انجام دیئے جائیں اور گناہوں سے توبہ کی جاۓ کیونکہ ابھی فرصت باقی ہے وگرنہ باقی سب بے فائدہ ہے.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:198-203
اگرقرآن کسی عجمی پرنازل ہوتاتو ......؟
تفسیر اگرقرآن کسی عجمی پرنازل ہوتاتو ......؟ ان آیات میں سب سے پہلے کفار کے ایک اور احتمالی ہہانے کی پیش بندی کی گئی ہے اور گزشتہ آیات میں قرآن مجید کے واضح عربی زبان میں ہونے کے بارے میں جو گفتگوتھی اس کی تکمیل کی گئی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ، اگرہم اس قرآن کو کسی عجمی (غیر عرب اورغیر فصیح ) پر نازل کرتے ...... (ولو نزلناه على بعض الاعجمین۔ اور وہ ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے پڑھتا تو وہ ہرگزایمان نہ لاتے (فقرأه عليهم ما كانوابه مؤمنين)۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں "عربی" کا لفظ کبھی تو ان لوگوں پر بولا جاتا ہے جواہل عرب کی نسل سے ہوں اور کبھی فصیح کلام کے معنی میں آتا ہے اسی طرح اس کا مقابل لفظ "عجمی" ہے اس کے بھی دومعنی ہیں ایک غیرعرب نسل اور دوسرے غیر فصیح کلام اور مندرجہ بالا آیت میں دونوں معانی کا احتمال ہے لیکن جو بات زیادہ قرین عقل معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر "غیرعرب نسل" کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عربوں کی نسل پرستی اور قومی تعصب اس قدر شدید ہے کہ اگر قرآن مجید کسی غیرعرب شخص پر نازل ہوتا تو ان کے تعصب کی موجیں انھیں اس کے قبول کرنے سے مانع ہوتیں حالانکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایک حقیقی عرب خاندان کے شریف انسان پر فصیح و بلیغ بیان کے ساتھ نازل ہوا ہے اور کتب آسمانی میں بھی اس کے بارے میں بشارت آچکی ہے اور بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی گواہی دے چکے ہیں پھربھی ان میں سے بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے اگر رسول میں یہ اوصاف بالکل نہ ہوتے تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے؟ پھر تاکید مزید کے طور پر فرمایا گیا ہے :- ہم قرآن مجید کو اسی طرح مجرموں کے دلوں میں سے گزارتے ہیں (کذلك سلكناہ في قلوب المجرمين )- واضع بیان اور ایسے شخص کی زبان کے ذریعے جو انھی میں سے ہے اور وہ لوگ اس کے اخلاق اور طرز کلام سے بھی آشنا ہیں اور وہ ایسے مطالب پیش کرتا ہے کہ جن کی تائید سابقہ کتابوں میں بھی آچکی ہے۔ المختصراس قرآن کو ان تمام اوصاف کے ساتھ جس کی قبولیت ہرایک کے لیے آسان ہو اس گناہ گار قوم کی طرف بھیجا ہے لیکن یہ بیمار دل اسے قبول نہیں کرتے جس طرح صحیح و سالم اور مقوی غذا کو غیرسالم اور بیمارمعدہ قبول نہیں کرتا اور اسے واپس پلٹا دیتاہے۔ (توجہ رہے کہ "سلكناه" "سلوک" کے مادہ سے ہے جس کا معنی "راستے سے گزرنا" ہے اور ایک راہ سے آنا اور دوسری راہ سے گزر جانا )۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے : ایسی صورت میں یہ ہٹ دھرم لوگ اس پراس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں (لا يؤمنون به حق يروا العذاب الأليم). بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیرمیں ایک اور احتمال کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ "كذلك سلكناه في قلوب المجرمين" سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اس عصبيت ، ہٹ دھرمی اور قبول نہکرنے کی عادت کو ان کے اپنے جرائم اور گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں میں اتار دیا۔ اس معنی کی رو سے یہ آیت بعنینہ "ختم الله على قلوبهم" یعنی خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی کے مانند ہوجاۓ گی۔ لیکن پہلی تفسیراول و آخر کی آیات سے زیادہ ہم آہنگ ہے لہذا بہت سے مفسرین نے اسے ہی اختیار کیا۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مندرجہ بالا چند آیات میں مفرد کی پانچ ضمیریں ہیں ان الفاظ میں ملتی ہیں "نزلناه" "قرأه" "وما كانوابه" " سلكناه " اور " لا يؤمنون به " پہلی تفسیر کے مطابق یہ سب کی سب قرآن کی طرف لوٹ رہی ہیں لیکن دوسری تفسیر کے مطبق بعض ضمیریں قرآن کی طرف اور بعض ہٹ دھرمی اور عدم قبولیت کی جانب پلٹ رہی ہیں لیکن جب تک قرینہ موجود نہ ہو ایسا کرنا مشکل ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہاں ہاں! وہ اس وقت کا ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذاب الہی ناگہانی طور پران کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لےاور انھیں اس کا خیال بھی نہ ہو (فياتیهم بغتة وهم لا يشعرون)۔ ؎1 اس میں شک نہیں کہ اس عذاب الہی سے مراد جو انھیں اچانک اپنی لپیٹ میں لے کے گا یہی دنیاوی عذاب ، نیست ونابود کر دینے والی بلائیں ہیں جسے "استیصالی عذاب" کہتے ہیں۔ اسی لیے اس آیت کے بعد فرمایا گیا ہے: ایسی صورت میں وہ اپنی صحیح حالت کی طرف لوٹ آئیں گے ، اپنے شرمناک ماضی پر پچھتائیں گے ، اپنے خطرناک مستقبل سے سخت خوف کھائیں گے "اورکہیں گئے کیا ہمیں کچھ مہلت مل جائے گی" تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور اپنے برباد ماضی کو آباد کریں (فيقولوا هل نحن منظرون)۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 توجہ ہے کہ " فيأتيهم " کاجملہ منصوب ہے اور "حتی یروا" پراس کا عطف پڑ رہا ہے لہذااس تناظر میں اس کا معنی بیان کرنا چاہیے۔