قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
They said, ‘Indeed you are one of the bewitched.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 26:185
[Pooya/Ali Commentary 26:185] (see commentary for verse 176)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:185-191
2- سب کی دعوت کا آغاز تقوٰی ہے
2- سب کی دعوت کا آغاز تقوٰی ہے :- یہ بات قابل غور ہے کہ ان انبیاء علیہم اسلام کی انھی داستانوں کے اہم حصے سورہ ہود اور سورہ اعراف میں بھی آ چکے ہیں لیکن ان کا آغاز عمومًا خدا کی توحید اور یگانگت سے ہوا ہے مثلًا اس جملے سے " يا قوم اعبدوا الله مالكم من إله غيره " یعنی اے میری قوم خدا کی عبادت کرو کیونکہ اس کے علاوہ تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ ملاخطہ فرما چکے ہیں اس سورہ میں "الاتتقون" کہہ کر دعوت تقوٰی سے آغاز کرتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ہردو کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کیونکہ جب تک کسی انسان میں تقوی کی کم ازکم حدود یعنی حق طلبی اورحق جوئی نہ پائی جائیں ، اس وقت تک ا س پر نہ توحید کی دعوت موثر ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔ لہذا سورۂ بقرہ کے آغاز میں ہم پڑھتے ہیں۔ ذلك الكتب لاریب فیه هدی للمتقين یہ وہ آسمانی کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں اور پرہیزگاروں کے لیےہدایت کا ذریعہ ہے۔ البتہ تقوٰی کے کئی مرتب ہوتے ہیں اور ہر مرتبہ دوسرے مرتبے کے لیے ایک بنیاد ہوتا ہے۔ سورہ شعراء اور سورہ اعراف سورہ ہود کے مضامین میں ایک اور فرق بھی نظر ہے کہ اعراف اور میں انبیاء کابت پرستی کے خلاف جہاد کا تذکرہ ہے اور دوسرے مسائل اس کے تحت ہیں ، لیکن یہاں فخروغرور ، تکبرونخوت ، اسراف وہ حوس ، جنسی بے راہروی لوٹ کھسوٹ کم فروشی اور دھوکے بازی سے اخلاقی اور سماجی جرائم کے خلاف زور دیاگیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے قرآن مجید میں ایسی داستانوں کے بار بار دہرانے کا بھی کوئی خاص مقصد ہوتا ہے اور ہر دفعہ کسی خاص مقصد کو بیان کیا گیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:185-191
سوره شعراء / آیه 185 - 191
(185) قَالُـوٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ (186) وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ (187) فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِيْنَ (188) قَالَ رَبِّـىٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (189) فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُـمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّـلَّـةِ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (190) اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۖ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (191) وَاِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْـمُ ترجمہ (185) انھوں نے کہا تو تو بس پاگل ہے۔ (186) (اس کے علاوہ) تو فقط ہم جیسا انسان ہے تیرے بارے میں ہمارا گمان صرف یہی ہے کہ تو جھوٹاہے۔ (187) اگر تو سچاہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسادے۔ (188) (شعیب نے) کہا : میرا پروردگاران اعمال سے زیادہ آگاہ ہے جوتم انجام دیتے ہو۔ (189) آخر کار انھوں نے اسے جھٹلایا اور "سایہ دار بادل" کے دن نے انھیں آلیا اور وہ عظیم دن کا عذاب تھا۔ (190) اس واقعے میں آیت اور نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثرایمان نہیں لائے ۔ (191) اور تیرا پروردگار عزیز و رحیم ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:185-191
اس سرکش قوم کا انجام
تفسیر اس سرکش قوم کا انجام اس ظالم اورستم گر قوم نے جب خود کو شعیب علیہ السلام کو منطقی باتوں کے مقابلے میں بے دلیل دیکھا تو اپنی برائیوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ان پر تہمتوں کی بوچھاڑ کردی ۔ سب سے پہلے وہی پرانا لیبل جو مجرم اور ظالم لوگ ہمیشہ سے خدا کے انبیاء پرلگاتے رہے ہیں آپ پر بھی لگایا اور کہا :- توتو بس پاگل ہے (فالوا انما انت من المسحرين ) تیری گفتگو میں کوئی منطقی اور مد لل بات دکھائی نہیں دیتی ۔ تیرا خیال ہے کہ ایسی باتیں کرکے تو ہمیں اپنے مال میں آزادی عمل سے روک دے۔ اس کے علاوہ "تو بھی تو ہماری طرح کا ایک انسان ہے کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم تیری اطاعت کریں گے ۔ آخر تجھے ہم پر کون سی فضیلت اور برتری حاصل ہے (وما انت الا بشر متلنا)۔ تیرے بارے میں ہمارا یہی خیال ہے کہ تو ایکی جھوٹا شخص ہے (و ان نظنک لمن الکاذبین). ان کی یہ گفتگو کیسی تضادات پر منبی ہے کبھی تو انھیں ایسا جھوٹا اور مفاد پرست انسان کہتے تھے جو دعوائے نبوت کی وجہ ان پرفوقیت حاصل کرنا چاہتا ہے اورکبھی انھیں مجنون کہتے تھے۔ ان کی آخری بات یہ تھی بہت اچھا "اگر تو سچاہے تو ہمارے سر آسمان سے پتھر برسا اور ہمیں اسی مصیبت میں مبتلا کر دے جس کی ہمیں دھمکی دے رہا ہے تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ ہم ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ( فاسقط علينا كسفًا من السماء ان كنت من الصادقين). "کسف" (بروزن پدر) "کسفہ" (برورن "قطعہ") کی جمع ہے جس کا معنی ٹکڑا ہے اور آسمانی ٹکڑوں سے مراد پتھروں کے ٹکڑے ہیں جو آسمان سے برستے ہیں۔ یہ الفاظ کہہ کرانھوں نے اپنی ڈھٹائی اور بے حیائی کی انتہا کردی اور اپنے کفر تکذیب کا بدترین مظاہرہ کیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے ان ناموزوں الفاظ، قبیح اور نازیبا کلمات اور عذاب الہی کے تقاضے کے جواب میں صرف ایک ہی جملہ کہا اوریہ کہا کہ میرا پروردگاران اعمال سے زیادہ آگاہ بے جوتم انجام دیتے ہو۔ (قال ربی اعلم بما تعملعون)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس چیز کاتقاضاکررہے ہو وہ مجھ سے متعلق نہیں ہے آسمان سے پتھروں کابرسنا | ہو یا کوئی دوسرا عذاب، میرے بس کی بات نہیں اور نہ ہی یہ اختیار مجھے دیا گیا ہے۔ خداوند تعالٰی ہی تمھارے اعمال کو جانتا اور ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں" مسحر" اس شخص کو کہتےہیں کہ جس پر کئی مرتبہ سحر کیا جائے اور جادوگر اس کی عقل کو بے کار کردیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ تمہارے استحقاق کے معیار سے باخبر ہے جب اس نے تمھیں سزاکا مستحق دیکھا اور واعظ ونصیحت نے بھی تم پر کوئی اثر نہ کیا اور کافی حد تک اتمام حجت بھی ہوگئی تو تم پر عذاب نازل کرکے تمھارا ستیاناس کر دے گا ۔ یہ جملہ اورانبیاء کی داستانوں میں اس جیسی دوسری تعبریں ، واضح کرتی ہیں کہ انبیاء کرام علیهم السلام ہر چیز کو خدا کے حکم اور امرکے تابع سمجھتے ہیں اورانھوں نے کبھی یہ دعوٰی نہیں کیا کہ وہ اپنی طرف سے کچھ کرسکتے ہیں۔ لیکن جوں توں کرکے آخر وہ وقت بھی آ پہنچا کہ روئے زمین کو ایسے مجرمین کے وجود سے پاک کیا جائے چنانچہ قرآن مجید بعد والی آیت میں کہتا ہے : انھوں نے شعیب کو جٹھلایاجس کانتیجہ نکلا کہ "سایہ ڈالنے والے بادل "کے دن عذاب نے ان کو آلیا (فکذ بوہ فاخذهم عذاب يوم الظلة). اور "یہ عذاب ، بڑے دن کا عذاب تھا" (انه كان عذاب يوم عظيم)۔ "ظله " بادل کے اس ٹکڑےکو کہتے ہیں جو سایہ کر دیتا ہے بہت سے مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ مسلسل سات دن تک ان پر گرم ہوا چلتی رہی اس دوران میں بادنسیم کا ایک بھی جھونکا نہیں آیا۔ اسی اثنامیں آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نمایاں ہوا اور بادنسیم بھی چلنے لگی وہ لوگ فورًا اپنے گھروں سے باہرنکل آئے اورسخت تکلیف کی وجہ سے جب بادل سائے تلے آگئے تو سکھ کا سانس لیا۔ لیکن اچانک بادلوں سے بجلی کی ایک ایسی کڑک سنائی دی جس سے ان کے کان چھوٹ گئے اس کے فورا بعد ان پرآگ برسنے لگی اور زمین میں بھونچال آگیا جس سے وہ سب ہلاک اور برباد ہوگئے۔ ہم جانتے ہیں کہ بادلوں اور زمین کے درمیان طاقت ور الیکٹریسٹی کے باہمی تبادلے کے نتیجے میں"صاعقہ" پیدا ہوتی ہے اور اس کی آواز بہت وحشت ناک ہوتی ہے اور اس کا شعلہ بھی بہت بڑا ہوتا ہے جہاں یہ بجلی گرے وہاں بعض اوقات زلزلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے قوم شعیب کے عذاب کے بارے میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں جو الفاظ آئے ہیں وہ دراصل ایک حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت 91 میں "رجفة" (زلزلہ) سورہ ہود کی آیت 94 میں" میحۃ" (زبردست آواز) اور زیرگفتگوآیت میں "عذاب يوم الظلة " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ہر چند کہ قرطبی اور فخرازی جیسے مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین دومختلف قومیں تھیں اور دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ عذاب نازل ہوا، لیکن متعلقہ آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ احتمال زیادہ قابل اعتماد نہیں اس داستان کے آخر میں بھی انھی الفاظ کو دہرایاگیا ہے جو چھ بزرگ انبیاء کی گزشتہ داستانوں میں آئے ہیں ۔ چنانچہ فرمایاگیا بے: سرزمین ایکہ کے لوگوں کی داستان ، ان کے مہربان بنی شعیبؑ کی محبت بھری تبلیغ ، ان لوگوں کی طرف سے ڈھٹائی ، سرکشی اور تکذیب اور انجام کار اس ظالم قوم کی گرجدار بجلی سے تباہی اور بربادی میں عبرت کی نشانی اور درس موجود ہے (ان في ذلك لاية)۔ لیکن ان میں سے اکثرلوگ ایمان نہیں لائے (وما كان اكثرهم مؤمنین)۔ اس کے باوجود خداوند رحیم و مہربان نے انھیں کافی مہلت دی تاکہ وہ سمجھ جائیں اور اپنی اصلاح کرلیں لیکن جب دو عذاب کے مستحق ہوگئے تو اس نے بھی اپنی قہاری قدرت کی شان دکھلائی اور ان پراپنی گرفت مضبوط کرلی ، یقینًا تیرا پروردگار ناقابل تسخیر اور رحیم ہے ( و ان ربك لهم العزیز الرحیم)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:185-191
1- انبیاء کی دعوت میں مکمل ہم آہنگی
چند اہم نکات 1- انبیاء کی دعوت میں مکمل ہم آہنگی :- ان سات عظیم بنیاد کے واقعات کی جو حقیقت تربیتی دروس کے سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں ، ان کے آخر میں اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ انہی انبیاء کی داستانیں قرآن مجید کی اور سورتوں میں بھی بیان ہوئی ہیں لیکن اس انداز سے بیان نہیں ہوئیں جیسا کہ اس سورت میں کہ جن کا آغاز بھی ایک جیسا اور انجام بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو۔ ان داستانوں کے پانچ حصوں میں ان کی دعوت کا موضوع تقوٰی ہے پھر ان کی امانت کا بیان ہے اورکسی قسم کی اجرت طلب نہ کرنے کا ذکر ہے۔ پھراس دورمیں پائی جانے والی لغزشوں اورغلطیوں پر دوستانہ طریقے سے تنقید کی گئی ہے ۔ پهران گمراہ لوگوں کے برے ردعمل اور نہایت ہی بھونڈے طریقے کا ذکر ہے آخر کار موقع کی مناسبت سے نازل ہونے والے دردناک عذاب کا بیان ہے۔ ان ساتوں داستانوں میں سے ہر ایک کے آخر میں اسے آیت اور عبرت کی نشانی بتایا گیا ہے اوران گراه قوموں کی اکثریت کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے۔ اور پھر ان سب کے آخر میں خدا کی "قدرت" اور "رحمت" کا ذکر ہے۔ یہ ہم آہنگی سب سے پہلے اس بات کا پتہ دیتی ہے کا انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں "توحید" کی جھلک پائی جاتی ہے کہ ان سب کا "واحد" پروگرام تھا اور جس کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہے۔ سب انبیاء انسان سازی کی کلاسوں کے معلم تھے ہر چند کہ مرورزمان کے ساتھ اور انسانی معاشرے کی پیش رفت کی بناء پران کلاسوں کے مضامین تبدیل ہوتے رہے لیکن ان سب کے اصول ، بنیاديں اور نتائج ایک جیسے تھے اور پھر یہ بھی کہ یہ داستانیں اسلام اور اوائل کے بند گنے چنے مومنین کے دلوں کے لیے ڈھارس اور تسلی کا کام بھی دیتی ہیں بلکہ ہر دور کی مومنین کے لیے موجب تسلی ہیں کہ وہ مخالفین کی کثرت اور گمراہ قوم کی اکثریت سے ہرگز نہ گھبرائیں اور اپنے کام کے منانے کی نتائج کی سو فیصد امید رکھیں۔ نیز ہر دور اور ہر عصر کے ظالم اور ستمگر اورگمراہ لوگوں کے لیے ایک زبردست تنبیہ بھی ہیں کہ وہ سزائے الہی کو کسی بھی لمحے اپنے سے دور تصور نہ کریں کیونکہ ان پر زلزلوں ، بجلیوں ، ہولناک طوفانوں ، آتش فشاں پہاڑوں ، زمین کے پھٹنے کی صورتوں اور سیلاب اور بارشوں سے عذاب بھی نازل ہوسکتے ہیں اور آج کا انسان بھی ایسے عذاب کے سامنے اسی طرح سے بے بس ہے جس طرح گزشتہ زمانے کے لوگ ۔ کیونکہ موجودہ دور کا انسان اپنی تمام صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود اس طرح کے عذابوں کے سامنے عاجزاور بے بس ہے۔ قرآن مجید کا ان تمام داستانوں کے بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انسان رشد اور ارتقاء کے مراحل طے کرے،اپنے قلب و روح میں نور اور روشنی پیدا کرے ، اپنی سرکش خواہشات کو کنٹرول کرے اور ظلم و ستم اور ہرقسم کی لغزشوں کا مقابلہ کرے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:185-191
3- شرک سب برائیوں کی بنیاد ہے
3- شرک سب برائیوں کی بنیاد ہے :- یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جن اقوام کا اس سورت کے مختلف مقامات پر ذکر ہوا وہ اصل توحید سے منحرف ہوکر شرک اور بت پرستی جیسی لعنت میں گرفتار ہوگئی تھیں اور یہ ان سب کے درمیان ایک قدر مشترک تھی اس کے علاوہ وہ خاص اخلاقی اور سماجی برائیوں میں بھی مبتلا ہوگئی تھیں۔ اور یہی چیز انھیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے؟ کچھ قومیں غرور میں مبتلا تھیں (جیسے قوم ہود)۔ کچھ قومیں فضول خرچ اورعیاش تھیں (جیسے صالح کی قوم)۔ کچھ قومیں جنسی بے رہروی کا شکار تھیں (جیسے جناب لوط کی قوم ) ۔ کچھ بہت مال پرست تھیں جس کے لیے وہ اپنے کاروبار میں دھوکا دہی کامظاہرہ کرتی تھیں (جیسے شعیب کی قوم)۔ کچھ قوموں کو اپنی ثروت مندی کا گھمنڈ تھا(جیسے نوح علیہ اسلام کی قوم )۔ لیکن انھیں جوعذاب دیا گیا وہ تقریبًا ایک دوسرے سے ملتا جلتا تھا۔ چنانچہ:- کچھ تو بجلی کی کڑک اور زلزلے سے نابود ہوگئیں (جیسے شعیب ، صالح ، لوط اور ہود علیم اسلام کی قومیں)۔ کچھ طوفان اور سیلاب کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں (جیسے نوح علیہ اسلام کی قوم )۔ درحقیقت جوزمین ان کے عیش و آرام کا گہوارہ تھی وه ایک دن ان کے لیے وبال جان بن گئی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹادیا اور جو ہوا اور پانی ان کی زندگی کے ضامن تھے ان کی موت پرعمل درآمد کرنے کے لیے تیارکیے گئے ۔ کس قدر عجیب کیفیت ہے انسان کی کہ اس کی زندگی و موت کے منہ میں ہے اور موت زندگی کے سایے میں ، اس کے باوجود بھی غافل اور مغرور ہے۔