وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
And the Apostle will say, ‘O my Lord! Indeed my people consigned this Quran to oblivion.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:30
[Pooya/Ali Commentary 25:30] The Holy Prophet refers to those of his followers who have been described in verses 28 and 29, who separated the Quran from the Ahl ul Bayt and shackled both of them head to foot as shown by history.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:30-34
سوره فرقان / آیه 30 - 34
۳۰۔ وَقَالَ الرَّسُولُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ھَذَا الْقُرْآنَ مَھْجُورًا۔ ۳۱ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِنْ الْمُجْرِمِینَ وَکَفَی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَنَصِیرًا ۔ ۳۲ وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً کَذَلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا۔ ۳۳۔ وَلاَیَاٴْتُونَکَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئْنَاکَ بِالْحَقِّ وَاٴَحْسَنَ تَفْسِیرًا۔ ۳۴۔ الَّذِینَ یُحْشَرُونَ عَلَی وُجُوھِھِمْ إِلَی جَھَنَّمَ اٴُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا ۔ ترجمہ ۳۰۔اور رسول نے عرض کیا : خدا وند ا !میری اس قوم نے قرآن سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ ۳۱۔اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرم لوگوں میں سے دشمن بنا دئے ہیں لیکن اسی قدر کافی ہے کہ خدا تیرا ہادی اور مدد گار ہے ۔ ۳۲۔اورکافروں سے کہا کہ آخر قرآن اس پر ایک ہی مرتبہ کیوں نازل ہوتا؟اور یہ صرف اس بناء پر ہے تاکہ ہم تیرا دل محکم اور استوار رکھیں اور ہم نے اسے تجھ پر تدریجاً پڑھا ہے ۔ ۳۳۔وہ تیرے لئے کوئی مثل نہیں لاتے مگر یہ کہ ہم تیرے لئے حق اور بہتر تفسیر لے آتے ہیں ( اور دندان شکن جواب تاکہ وہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔) ۳۴۔جو لوگ منہ کے بل جہنم کی طرف محشور کئے جائیں گے ان کا بد ترین ٹھکا نا ہو گا اور وہ خود گمراہ ترین لوگ ہوں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:30-34
۳ ۔ترتیل قرآن کامعنی :
” ترتیل “کا لفظ ”رتل“(بروزن”قمر“)کے مادہ سے ہے جس کا معنی ٰ منظم اور مرتب ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ جس شخص کے دانت خوب منظم اور مرتب ہوتے ہیں ، عرب اسے ”اتل الاسنان “ کہتے ہیں ۔ اسی بناء پر پے در پے اور ترتیب سے کی جانے والی گفتگویا تنظیم اور ترتیب کے ساتھ آنے والی آیات پر بھی ترتیل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ لہٰذا ” و رتلناہ ترتیلا “ کا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر چہ قرآن مجید تدریجی طور پر ۲۳ سال کے عرصے میں نازل ہوتا رہا لیکن یہ تدریجی نزول ایک باقاعدہ حساب و کتاب اور تنظیم و ترتیب کے تحت تھا اور وہ دل و دماغ میں پہنچ کر انھیں اپنا والی و شیدا بنا دیتا تھا ۔ کلمہ ”ترتیل “ کی تفسیر میں دلچسپ روایات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے ہم بعض کو ذیل میں نقل کئے دیتے ہیں ۔ تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ آنحضرت نے ابن عباس سے فرمایا:۔ اذا قراٴت القراٰن فرتلہ ترتیلا جب قرآن کی تلاوت کیا کرو تو اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا کرو ۔ ابن عباس کہتے ہیں ” میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ترتیل کیا ہوتی ہے ؟تو آپ نے فرمایا : بینہ تبییناً، ولا تنثرہ نثر الدغل ( الرمل)ولا تھذہ ھٰذا الشعر، قفوا عند عجائبہ، و حرکوا بہ القلوب ، ولا یکونن ھم احدکم اٰخر السورة حروف اور کلمات کو صحیح طریقے پر ظاہر کرو، خشک کھجوروں ( یا ریب کے ذروں ) کی مانند اسے منتشر نہ کرو اور نہ ہی اشعار کی مانند اسے فرفر اور جلدی جلدی پڑھا کرو جب اس میں عجائبات کا تذکرہ آجائے تو وہاں پر ٹھہرجاوٴ اور غور و فکر کرو، دلوں کو اس کے ذریعہ متحرک کرو ، ہر گز تمہاری نیت یہ نہیں ہونی چاہئیے کہ جلدی سے سورت کو ختم کرنا ہے ( بلکہ اہم مقصد قرآن میں غور و فکر اور ا سے استفادہ کرنا ہے )(۱)۔ بعینہیہی چیز اصول کافی میں حضرت امیر المومنین سے منقول ہے (۲) ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی اس طرح کی حدیث نقل ہوئی : الترتیل ان تتمکث بہ و تحسن بہ صوتک، واذا مررت باٰیة فیھا ذکر النار فتعوذ باللہ من النار و اذا مررت باٰیة فیھا ذکر الجنة فاسئل اللہ الجنة ترتیل یہ ہے کہ آیات کو ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز کے ساتھ پڑھو جب کسی ایسی آیت پر پہنچو جس میں جہنم کا تذکرہ ہے تو خدا کی پناہ مانگو اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچو جس میں بہشت کا ذکر ہے تو خدا سے بہشت کی دعا مانگو( خود کو بہشتیوں کے اوصاف سے متصف کرو اور جہنمیوں کی صفات سے بچاوٴ)(۳) ۔ 1۔مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ 2۔ اصول کافی جلد ۲ ص ۴۴۹( باب ترتیل القرآن بالصوت الحسن )۔ 3. مجمع البحرین مادۂ " رتل "۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:30-34
۲۔ قرآن کا تد ریجی نزول کیوں ؟
یہ ٹھیک ہے کہ بعض روایات (بلکہ بعض آیات کے ظاہر)کے مطابق قرآن دو مرتبہ نازل ہوا:ایک ”دفعی نزول“ کی صورت میں جو کہ شب قدر میں بیک وقت پیغمبر اکرم کے قلب پر نازل ہوا اور دوسرا” تدریجی نزول “ کی صورت میں ۲۳ سال کے عرصہ میں نازل ہوتا رہا۔اس میں بھی شک نہیں کہ جس نزول نے قبولیت کی سند حاصل کی ہے اور پیغمبر اسلام اور دوسرے لوگوں کو جس طرح سے واسطہ رہا ہے وہ یہی ”تدریجی نزول“ ہے یہی نزول حیلہ ساز دشمنوں کے اعتراض کا مو جب بنا ہوا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن یکبار گی نازل نہیں ہوتا اور ایک ہی مرتبہ لوگوں کے پاس کیوں نہیں پہنچ جا تا تاکہ لوگوں کو مکمل آگاہی حاصل ہو اور ان کے لئے کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن مجید نے ” کذٰلک لنثبت بہ فوٴادک“کہہ کر انھیں ایک مختصر مگر جامع جواب دیا ہے ۔ اس پر جتنا غور وفکر کیا جائے قرآن کے تدریجی نزول کے اثرات بیشتر واضح ہو تے جائیں گے ۔ ۱۔ اس میں شک نہیں کہ ” وحی کی وصولی “ اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لحاظ سے اگر مطالب ِقرآنی تدریجی طور پر اور ضرورت کے مطابق نازل ہوں اور ہرمطلب کے لئے اس کا شاہد اور مصدا ق عینی پایا جائے تو نہایت ہی موٴثر ہو گا۔ تربیت کے اصول بھی اسی بات کے متقاضی ہیں کہ زیر تربیت افراد کو قدم بقدم آگے بڑھانا چاہیئے اور ان کے لئے ہر روز کا علیحدہ پروگرام مرتب کیا جانا چاہئیے تاکہ وہ نچلے درجے سے شروع کر کے اعلیٰ مدارج تک جا پہنچیں اس طرح کا جو پروگرام تشکیل دیا جاتا ہے ۔وہ بولنے والے کے لئے بھی بہت دلچسپ اور عمیق ہوتا ہے اور سننے والے کے لئے بھی ۔ ۲۔اصولی طو ر پر جو لوگ قرآن پر اس قسم کا اعتراض کرتے تھے وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ قرآن کوئی کلاسکی کتاب نہیں ہے جو کسی ایک موضوع یا کسی خاص علم کے بارے میں گفتگو کرے بلکہ وہ تو ایک انقلابی قوم کا ایک مکمل جامع نظام حیات ہے جس سے زندگی کے ہر شعبہ میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے ۔ بہت سی قرآنی آیات تاریخی مناسبت کے لحاظ سے نازل ہوتی رہیں ۔ بدر، احد، احزاب ،اور حنین وغیرہ کی جنگوں کے موقع پر ایسا ہی ہوا ہے ۔ ان مواقع پرنازل ہونے والی آیتوں میں جنگی دستور العمل یا ان کے نتائج کے بارے میں گفتگو ہو ئی ہے ۔ تو کیا کوئی تُک بنتا ہے کہ ایسا آیات بھی ایک جگہ لکھ کرلوگوں کو پیش کردی جائیں ۔ باالفاظ دیگر قرآن مجید ، اوامر و نواہی ، احکام و قوانین ، تاریخ و موعظہ اور امتِ مسلمہ کو مختلف حالات میں پیش آنے والے حربی و غیر حربی حوادث کے اسٹریٹیجک اور جنگی دستور العمل کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک ایسی کتا ب ہے جو اپنے تمام امور حتی کہ کلیہ قواعد کو موقع محل کی مناسبت سے بیان کرتی اور اس پر عمل در آمدکرنے کا حکم دیتی ہے ،کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے سے مرتب اورمدون ہو کر نازل ہو یہ تو ایسی ہی ہو گا کہ اپنے انقلاب کوکامیاب کرنے کےلئے ایک عظیم لیڈر اپنے تمام اعلانات ، بیانات ، اوامر اورنواہی کو ایک ہی دن پیش کردے جبکہ انہیں مختلف موقعوں مناسبت سے ہو نا چاہئیے ۔ تو کیا ایسی صورت میں کوئی شخص اسے عاقلان ہ اقدام تصور کرسکتا ہے ؟ ۳۔قرآن کا تدریجی نزول در حقیقت آنحضرت کےساتھ وحی کے رابطہ کا ایک ذریعہ تھا اس مسلسل رابطے نے آپ کے دل کو قوی اور ارادے کومحکم و استوار بنا رکھا تھا جس کا اثر آپ کے تربیتی پروگراموں میں بہت نمایاں اور ناقابل ِ انکار تھا۔ ۴۔ وحی کا تصور آنحضرت کی رسالت و سفارت کے تسلسل کو بیان کرتا ہے جس سے دشمنوں کے لئے یہ کہنے کی گنجاےش باقی نہیں رہ گئی تھی کہ اللہ نے انھیں ایک دن مبعوث کردیا ہے اور اب ان کی بات بھی نہیں پوچھتا جیسا کہ تاریخ اسلام میں درج ہے کہ اوائل بعثت میں ایک مرتبہ وحی کے نزول میں دیر ہو گئی تو مخالف حلقوں میں مختلف چہ میگوئیاں ہونے لگیں جن کی تردید میں سورة” و الضحیٰ “ نازل ہوئی۔ ۵۔ مان لیا کہ تمام قرآن کو یکجا نازل ہونا چاہئیے تھا تو اس کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس پر یکجا عمل بھی در آمد بھی ہو نا چاہئیے تھا ورنہ کوئی فائدہ نہ تھا اورنہ ہی اس کی کوئی اہمیت تھی اور اگر تمام احکام پر عمل در آمدکیا جا تا خواہ وہ نماز ہو یا زکواة، جہاد ہو یا دوسرا کو ئی واجب یا تمام محرمات سے یکدم پرہیز کیا جاتا خواہ وہ چھوٹے ہو ں یا برے تو نہایت ہی مشکل کام تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام کو خیر باد کہہ جاتے ۔ لہٰذا کیا ہی اچھی بات ہے کہ وہ تدریجی طور پر نازل ہو اور اس پر رفتہ رفتہ عمل در آمد کیا گیا ۔ چاہئیے کہ ایسے پروگرام آہستہ آہستہ عملی جامہ پہنتے جائیں اور لوگوں کے لئے قابل قبول بنتے جائیں اور اس بارے میں کوئی سوال یا بحث ہو تو وہ بھی پیش ہو اور اس پر گفتگو کی جائے اور اسکا جواب بھی دیا جائے ۔ ۶۔تدریجی نزول کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن کی عظمت اور اعجاز روز بروز روشن تر ہو گئے کیونکہ جب کبھی بھی کسی موقع پر کوئی آیت نازل ہو ئی تو یہ بذاتِ خود قرآن کی عظمت اور اعجاز پر دلیل تھی اور جوں جوں ایسے واقعات کا تکرار ہوتا گیاقرآن کی عظمت اور اعجاز کو چار چاند لگتے گئے اورلوگوں کے دلوں میں اس اثر اور بڑھتا گیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:30-34
۱۔”جعلنا لکلّ نبی عدواً“ کی تفسیر :
ہو سکتا ہے مندرجہ بالا جملے سے یہ بات سمجھی جائے کہ خدا وند عالم پیغمبر اسلام کی دلجوئی اور تسلی خاطر کی غرض سے یہ فرما رہا ہے کہ ”اے میرے حبیب!صرف تیرے ہیں دشمن نہیں ہیں بلکہ ہماری طرف سے ہر پیغمبر کے دشمن بنائے گئے ہیں یہاں پر دشمن بنانے کی نسبت خدا وند عالم کی طرف ہے جو نہ تو حکمت ِ خدا وند ی سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی انسان کے ارادہ و اختیار کی آزادی سے مناسبت رکھتی ہے ۔ مفسرین نے اس سوال کے کئی جواب دئے ہیں ۔ لیکن ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تمام انسان وں کے اعمال ایک لحاظ سے خدا کی ذات کی طرف سے ہیں ۔بنابرین انبیاء کے دشمنوں کو بھی اس نظر یہ کے تحت خدا کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور اس طرح سے نہ تو جبر کا مسئلہ پیش آتا ہے اور نہ ہی بے اختیاری کا ، جیسے انبیاء کے کا موں کی ذمہ داری بھی مخدوش نہیں ہوتی ( خوب غو کیجئے گا )۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ان زبر دست دشمنوں کا وجود انبیائے کرام سے ان کی مخالفت اس بات کا سبب بنتی ہے کہ مومنین اپنے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور زیادہ پائیداری اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اس ذریعہ سے سب لوگوں کے بارے میں خدا کی آزمائش بھی ہوتی رہتی ہے ۔ در حقیقت یہ آیت بھی سورہ ٴ انعام کی آیت ۱۱۲ کی مانند ہے جس میں خدا فرماتا ہے : وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً شیا طین الانس و الجن یوحی بعضھم الیٰ زخرف القول غروراً اسی طرح ہم نے پیغمبر کے لئے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو بنا یا ہے جو بے بنیاد اور دھوکے پر مبنی باتیں ایک دوسرے سے مخفی طور پر بیان کرتے ہیں ۔ جہاں پھول ہوتے ہیں وہاں کانٹے بھی ہوتے ہیں او رجہاں نیک لوگ ہوتے ہیں وہاں بد کار بھی ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنا اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”جعلنا“ ( ہم نے بنایا ہے ) سے مراد انبیاء کے اوامر ، نواہی اور دوسرے تعمیری پرگرام ہیں جن سے چار و ناچار کچھ لوگوں کو دشمنی ہو جاتی ہے اور گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر اس کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے تو ا س لئے ہے کہ یہ اوامر اور نواہی خدا کی طرف سے ہیں ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کچھ متعصب لوگ بھی ہیں جو اپنے تعصب ، گناہوں پر اصرار اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے راہ راست سے اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ خدا وند عالم نے ان کے دل پر مہر لگادی ہے ،ان کی آنکھوں کو اندھا اور کانوں کو بہرا کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ انبیاء کے دشمن ہو جاتے ہیں لیکن اس دشمنی کے اسباب انھوں نے خود ہی فراہم کئے ہیں ۔ ان تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضا د نہیں ہے اور ان تینوں تفاسیر کو آیت کے ایک مفہوم میں جمع کیا جا سکتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:30-34
خدا وند ا!لوگوں نے قرآن کو چھوڑ دیا
چونکہ گزشتہ آیات میں ہٹ دھرم مشرکین اور بے ایمان لوگوں کے مختلف الزامات اور اعتراضات بیان ہو ئے ہیں لہٰذا ان آیات میں سے پہلی آیت میں پیغمبر اسلام کی اس پریشانی اور شکایت کا تذکرہ ہے ، جو لوگوں نے قرآن کے ساتھ رویہ اختیار کیا ہوا تھا انھوں نے بار گاہ خداوندی میں عرض کیا خدا وندا!میری اس قو م نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے اور اس سے دوری اختیار کرلی ہے (وَقَالَ الرَّسُولُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ھَذَا الْقُرْآنَ مَھْجُورًا)(۱) ۔ رسول اللہ کی یہ گفتگو اور شکایت آج بھی اسی طرح فضا میں گونج رہی ہے گویا آپ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے گروہ کے خلاف بار گاہ ایزدی میں استغاثہ کر رہے ہیں : خدایا ! ان لوگوں نے قرآن کو بالکل بھلا دیا ہے جو قرآن زندگی کی علامت اور نجات کا ذریعہ ہے ، قرآن فتح و کامرانی ، تحرک اور ترقی کا عامل ہے ، جوقرآن ہر شعبہ زندگی کے لئے راہنما اصول رکھتا ہے ، اسی قرآن کو ان لوگوں نے چھوڑ دیا ہے حتی کہ انہوں نے اپنے دیوانی اور فوجداری قوانین تک کے لئے دوسروں کی طرف گدائی کا ہاتھ پھیلایا ہوا ہے۔ اب بھی ہم اکثر و بیشتر اسلامی ملکوں خاص کر ان ممالک کی طرف نظر کریں جو مشرقی یا مغربی کلچر اور ثقافت کے زیر ِ تسلط ہیں تو معلوم ہو گا کہ وہاں پر قرآن مجید کو تکلفاًایک مقدس کتاب کا درجہ دیا گیا ہے اس کے صرف الفاظ کو خوبصورت آواز میں ریڈیواور ٹیلی ویژن جیسے نشر یاتی اداروں سے نشر کر دیا جاتا ہے یاآیاتِ قرآنی کو فنِ تعمیر کے عنوان سے مسجدوں کی کاشی کاری میں جگہ دی جاتی ہے ۔ نئے مکان کے افتتاح کے موقع پر یا مسافر کی جان کی حفاظت کے لئے یا بیماروں کی صحت ی ابی کے لئے یا زیادہ سے زیادہ حصول ِثواب کی غرض سے اس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ اگر کبھی قرآن مجید سے کسی بھی چیز کا استدلال بھی کیا جاتا ہے تو ا س سے ان مقصود ہوتا ہے کہ اپنے پہلے سے کئے ہو ئے فیصلوں کی تائید میں تفسیر بالرائے کی جائے ۔ بہت سے اسلامی ملکوں میں ” حفظِ قرآن“ کے نام سے لمبے چوڑے مدارس دیکھنے میں آتے ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیوں کی بہت بڑی تعدا د قرآن حفظ کرنے میں مصروف ہے جبکہ ان ملکوں کے آئیں اور قوانین اسلام سے بے خبر ممالک سے در آمد شدہ ہیں اور ان کے افکار و نظر یات یا تو مشرق سے لے لئے گئے ہیں یا مغرب سے اور اپنی ان غلط کاریوں پر پر دہ ڈالنے کے لئے انہوں نے قرآن کا سہارا لیا ہوا ہے ۔ ہاں ہاں اب بھی پیغمبر اکرم فریاد کررہے ہیں : خدا وندا!میری قوم نے قرآن کو چھوڑدیاہے ۔ قرآن کی روح اور مطالب کو ، اس کے طرز تفکر کو اور اس کے تعمیری منصوبوں پر عمل در آمد چھوڑدیا ہے ۔ چونکہ حضرت رسول گرامی کو دشمنوں کے اس قسم کے سخت دشمنوں کے اس سخت معاندانہ سلوک کا سامنا تھا ۔ لہٰذا خداوند عالم ان کی دلجوئی کے لئے بعد والی آیت میں فرماتا ہے : اسی طرح کے گناہ گار اور مجرم دشمن ہم نے ہر پیغمبر کے لئے قرار دئے ہیں(وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِنْ الْمُجْرِمِینَ ) ۔ توہی نہیں کہ جسے اس قسم کے دشمنوں کا سامنا ہے بلکہ سب انبیاء کا یہی حال تھا ۔مجرمین کا کوئی نہ کوئی ٹولہ ان کی مخالفت کرتا رہتا ہے اور ان کے ساتھ دشمنی پر ہمیشہ کمر باندھے رہتا ہے ۔ لیکن تجھے معلوم ہونا چاہئیے کہ تو بے یار و مدد گار نہیں ” یہی بات کافی ہے کہ خدا ند عالم تیرا ہادی ، راہنما اوریار و یاور ہے (وَکَفَی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَنَصِیرًا )۔ چونکہ تیرا ہادی خدا وند ِ عالم ذوالجلال ہے لہٰذا ان کے وسوسے تجھ پر اثر انداز نہیں ہو سکتے اور چونکہ تیرا ناصرو مدد گار خدا ہے لہٰذا ان کی ہر طرح کی سازشین تیرا بال تک بیکا نہیں کرسکتیں کیونکہ اس کا علم تمام علوم سے بر تر اور اس کی قدرت تمام قدر توں اور طاقتوں سے بالا تر ہے ۔مختصر یہ کہ بلا جھجک کہہ دے : ہزار دشنم از می کنند قصد ہلاک تو ام چو دوستی از دشمنان ندارم باک اگر میرے ہزروں دشمن مجھے ہلاک کرنا چاہیں ( تو وہ ایسا نہیں کرسکتے ) کیونکہ جب تک تو میرا دوستی ہے مجھے دشمن کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ۔ بعد والی آیت میں مجرموں کی ایک او ربہانہ جوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن ، ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوتا(وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً)۔ آیا یہ سب کا سب خدا کی طرف سے نہیں ہے ؟ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اوّل سے لے کر آخر تک اپنے تمام مضامین سمیت ایک ہی مرتبہ یہ کتاب نازل ہو جائے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس کی عظمت سے با خبر ہو ں آخر کیا وجہ ہے کہ یہ آیات بتدریج اور وفقے وفقے کے بعد نازل ہوتی رہتی ہیں ؟ سطحی فکر رکھنے والے افراد خاص کر جب وہ کسی بہانے کی تلاش میں بھی ہوں ان کے لئے نزول ِ قرآن کی کیفیت کے بارے میں یہ اشکال پیدا ہو گا کہ دنیا جہاں کی اس قدر عظیم آسمانی کتاب بیک وقت کیوں نازل نہیں ہوئی جبکہ یہ مسلمانوں کے تمام امور کا سرمایہ اور ان کی بنیاد ہے اور اس میں تمام سیاسی ، اجتماعی معاشرتی اور عبادی قوانین موجود ہیں اس طرح سے لوگ ہمیشہ اسے اول سے آخر تک پڑھتے اور اس کے مضامین سے آگاہی حاصل کرتے۔ بہتر یہی ہے کہ خود آنحضرت بھی اس سے مجموعی طور پر باخبر ہوتے تاکہ جب بھی آپ سے لوگ کوئی سوال کرتے تو اس کا فوری طور پر جواب دیتے ۔ لیکن اسی آیت میں انھیں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے : ہم نے قرآن کو تدریجی طور پر نازل کیا ہے تاکہ تیرے دل کو محکم و استوار رکھیں اور اسے جدا گانہ آیات کی صورت میں آہستہ آہستہ لیکن بطور مسلسل تجھ پر وحی کیا ہے ( کَذَلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا)۔ چونکہ وہ لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں لہٰذا اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں ۔ البتہ قرآن کے تدریجی نزول کا پیغمبر اسلام اور مومنین کے دل کی تقویت کے ساتھ کیا رابطہ ہے ؟ یہ ایک مفصل اور دلچسپ گفتگو ہے جو انہی آیات کے آخر میں نکات کی بحث میں پیش کی جائے گی۔ پھر مندرجہ بالا جواب کومزید پختہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیاہے : وہ تیرے لئے کوئی مثل نہیں آتے اور تیری دعوت کو کمزور کرنے کے لئے کوئی بھی بات نہیں کرتے مگر یہ کہ ہم ایسی حق بات تجھے عطا کردیتے ہیں جو دو ٹوک انداز میں ان کے بودے دلائل کو ناکام کرکے رکھ دیتی ہے اور بہتر تفسیر اور دلچسپ بیان تجھے عطا کرتے ہیں ( وَلاَیَاٴْتُونَکَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئْنَاکَ بِالْحَقِّ وَاٴَحْسَنَ تَفْسِیرًا)۔ ان کینہ پر ور دشمنوں اور متعصب اور ہٹ دھرم مشرکوں نے اپنے چند اعتراضات کے ذریعے یہ نتیجہ نکال لیا تھا کہ ان اوصاف ، اس کتاب اور ان پروگراموں کی وجہ سے ( نعوذ باللہ ) محمد اور اس کے ساتھی غلط ہیں اور کیونکہ ایسی بیہودہ سوچ اور گفتگو کا اسی انداز میں ذکر کرنا قرآن جیسی فصیح و بلیغ کتاب کے شایان ذکر نہیں تھا لہٰذا اس آخری آیت میں ان کی گفتگو کو ذکر کئے بغیر خدا وند عالم اس کا یوں جواب دیتاہے۔ جو لوگ منہ کے بل محشور کئے جائیں گے اور اسی حالت میں انہیں جہنم میں ڈالاجائے گا وہی ان کا بد ترین ٹھکا نا ہو گا اور وہ خود گمراہ ترین افراد ہوں گے. ( الَّذِینَ یُحْشَرُونَ عَلَی وُجُوھِھِمْ إِلَی جَھَنَّمَ اٴُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا )۔ سچ بات تو یہ ہے کہ انسان کے منصوبوں کا نتیجہ تو وہاں جا کر واضح ہو گا کچھ لوگ وہ ہوں گے جو سرو قامت اور چاند ایسے نورانی چہرے کے مالک ہوں گے اور تیز قدموں کے ساتھ بہشت میں داخل ہوں گے جن کے منہ پر خاک پڑی ہو گی اورعذاب کے فرشتے انہیں کشاں کشاں جہنم میں لے جائیں گے ۔ یہ دو متضاد اور مختلف انجام ہی بتا ئیں گے کہ کون لوگ گمراہ اور شریر تھے اورکون نیک بخت اور ہدایت یافتہ ۔ 1۔”قال“ ظاہراًفعل ماضی ہے اور اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ آنحضرت نے یہ بات اسی دنیا میں شکایت کے طور پر کہی ہے اور اکثر مفسرین کا بھی یہی نظریہ ہے لیکن بعض دوسرے مفسرین مثلاً علامہ طبا طبائی مرحوم نے ”المیزان “ میں یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ اس بات کا تعلق قیامت کے ساتھ ہے اور فعل ماضی یہاں پر فعل مضارع کے معنی میں ہے علامہ طبرسی مرحوم نے بھی مجمع البیان میں اسی چیز کو احتمال کے طور پر ذکر کیا ہے لیکن بعد والی آیت جو آپ کی دلجوئیکرہی ہے اس بات کی دلیل ہے کہ مشہور تفسیر زیادہ صحیح ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:30-34
۴۔ ”یحشرون علی وجوھھم الیٰ جھنم کی تفسیر:
گناہ گار ٹولہ کا منہ کے بل محشور ہو نے “کا کیا مقصد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین نے بہت کچھ گفتگو کی ہے کچھ مفسرین نے تو اسے اس کے حقیقی معنیٰ سے تفسیر کیا ہے او رکہا ہے کہ یہ مجرم ٹولہ منہ کے بل گرا ہوا ہوگا اور فرشتے انھیں کشاں کشاں جہنم میں لے جائیں گے ان کا یہ عذاب ایک طرف سے تو ان کی ذلت و رسوائی کی علامت ہو گا کیونکہ وہ دنیا میں انتہائی مغرور ، متکبر اور خود پسند تھے دوسری طرف سے ان کی گمراہی مجسم ہو کر سامنے آجائے گی کیونکہ جس شخص کو ایسی حالت میں گھسیٹ کر لے جائیں گے وہ کسی بھی صورت میں اپنے سامنے نہیں دیکھ سکے گا اور نہ ہی وہ اپنے اطراف میں رونما ہونے والے واقعات سے باخبر ہو گا ۔ لیکن بعض مفسرین نے اس جملے کو کنایہ کے معنیٰ میں لیا ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ یہ جملہ ان گناہ گاروں کے دنیا کے ساتھ قلبی تعلق کے لئے کنایہ ہے یعنی کیونکہ ان کے دل اب بھی دنیا سے لو لگا ئے ہوئے ہونگے لہٰذا وہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے (۱) ۔ اور کچھ نے کہا ہے کہ یہ کنایہ اس مخصوص تعبیر می مانند ہے جوادبیات ِ عرب میں استعمال ہوتی ہے کہ : فلاں مرعلی وجھہ فلاں شخص کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں جارہا ہے ؟ لیکن ظاہر ہے کہ جب تک کنایہ کے معنی پر کوئی دلیل موجود نہ ہو وہی پہلے یعنی حقیقی معنی والی تفسیر مناسب ہو گی ۔ 1۔اس تفسیر کی رو سے ” علی وجوھھم“ کی تعبیر نے در حقیقت علت کی جگہ لی ہے اور اس جملے کا مفہوم یوں ہو گا :۱ یحشرون الیٰ جھنم لتعلق وجوہ قلوبھم الیٰ الدنیا