بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا
Indeed, they deny the Hour, and We have prepared a Blaze for those who deny the Hour.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:11
[Pooya/Ali Commentary 25:11] Aqa Mahdi Puya says: The disbelievers do not believe in Allah, His prophet and His religion because they deny the life of hereafter when justice and truth will triumph. They live in the dominion of evil. They will be punished as shown in these verses.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:11-16
بہشت اور دوزخ کا موازنہ
گزشتہ آیات میں توحید او ر حضرت رسالت مآب کی نبوت سے کفار کے انحراف کے بارے میں گفتگوتھی ان آیات میں ان کے انحراف اور انکار کے ایک اور حصے کو بیان کیا گیا ہے جو قیامت اور معاد کے بارے میں ہے ۔ در اصل اس حصے کو بیان کرنے کے ساتھ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وہ تمام اصول دین میں تزلزل اور انحراف کا شکار تھے ،خواہ وہ توحید ہویا نبوت یا معاد اور قیامت ہو ۔ گزشتہ آیات میں تو توحید اور نبوت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے اب تیسرے حصے کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے :بلکہ انھوں قیامت کو جھٹلا یا ہے ( بَلْ کَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ )۔ کلمہ”بل“ کا ذکر جو اصطلاح میں ”اضراب“ کے لئے آتا ہے ، اس لئے ہے کہ کفار توحید اور نبوت کی نفی میں جو کچھ کہتے ہیں وہ در حقیقت معاد کے انکار کی وجہ سے پیدا ہونے والے بہانے ہوتے ہیں کیونکہ جو شخص خدا کی اس قدر عظیم عدالت ثواب و جزا پر ایمان رکھتا ہے وہ اس طرح بے پر واہ ہو کر حقائق کا منہ نہیں چڑا تا او رجس پیغمبر کی نبوت کے دلائل روز روشن کی طرح آشکار ہیں محض چند فضول اور بے بنیاد حیلے بہانوں کی وجہ سے اس کی دعوت کا انکار نہیں کرتا اور جن بتوں کو اپنے ہاتھوں سے بنایا سنوارا ہے ان کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔ البتہ اس مقا م پر قرآنِ مجید نے استدلالی جواب پیش نہیں کیا کیونکہ یہ لوگ تو اہل منطق تھے اور نہ قابل استدلال، بلکہ انہیں دل لہلادینے والی تنبیہ کے ساتھ ان کے نحس اور درد ناک مستقبل کو ان کی آنکھو ں کے سامنے مجسم کرتا ہے کیونکہ اس طرح کے لوگوں کے لئے ایسی ہی منطق کار گر ہوتی ہے ۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے :جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ہم نے ان کے لئے جالا دینے والی آگ مہیا کررکھی ہے (وَاٴَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیرًا )(1) ۔ پھر اس آتش سوزاں کی عجیب و غریب صفات بیان کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے : جب یہ آتش انھیں دور سے دیکھے گی تو اس طرح طیش میں آجائے گی کہو ہ اس کی وحشت ناک اور خشم آلود آواز کو سنیں گے جس میں جوش و خروش شامل ہوگا ( إِذَا رَاٴَتْھُم مِنْ مَکَانٍ بَعِیدٍ سَمِعُوا لَھَا تَغَیُّظًا وَزَفِیرًا)۔ اس آیت میں کچھ ایسی منہ بولتی تعبیریں ہیں جو خدا کے اس عذاب کی شدت کی خبر دیتی ہیں ۔ ۱۔ خدا یہ نہیں فرماتا ہے کہ جہنمی لوگ جہنم کی آگ کو دور سے دیکھیں گے بلکہ فرماتا ہے کہ آ گ انھیں دور سے دیکھے گی گویا اس کی آنکھیں اور کان ہیں اور وہ نہ ان گنہ گاروں کی چشم براہ ہے ۔ ۲۔اسے اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگ اس کے نزدیک ہوں اور وہ طیش میں آئے بلکہ بعض روایات کے مطابق ایک سال کی راہ کے فاصلے سے انھیں دیکھے گی اور غضبناک ہو جائے گی ۔ ۳۔اس جلادینے والی آگ کی توصیف ”تغیظ“ کے کلمہ کے ساتھ ہوئی اور ” تغیظ “ غصے کی اس حالت کوکہتے ہیں جسے انسان زور زور سے چیغ و پکار کرکے ظاہر کرتا ہے ۔ ۴۔دوزخ کی آگ کے لئے ”زفیر“کا لفظ بیان فرمایا گیا ہے اور ” زفیر“ اس حالت کو کہتے ہیں جب انسان اپنی سانس اندر کی طرف لے جاتا ہے اور پسلیاں اوپر کو اٹھتی ہیں ۔ یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جن انسان سخت غصے کی حالت میں ہوتا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہنم کی آتش ِ سوزاں اس بھوکے درندے کی مانند ہے جو اپنے شکار کےانتظار میں ہوتا ہے جہنم بھی ایسے کافروں کے انتظار میں منہ کھولے ہوئے ہے(خدا کی پناہ)۔ یہ تو تھی دوزخ کی وہ کیفیت جب وہ انھیں دور سے دیکھی گی لیکن خود جہنمیوں کی کیا کیفیت گی جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے ؟تو فرماتا ہے ہے :جب وہ طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے آتش ِ جہنم کی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے تو ان کے واویلا کی چیخیں بلند ہوں گی( وَإِذَا اٴُلْقُوا مِنْھَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُقَرَّنِینَ دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُورًا) (2) ۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ جہنم کی جگہ بہت کم ہے کیونکہ سورہ ”ق“ کی آیت ۳۰ کے مطابق ؛ یوم نقول لجھنم ھل امتلاٴت و تقول ھل من مزید بروز قیامت ہم جتن ابھی جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ہے تو وہ کہے گی کچھ اور ہے ؟ بنابرین جہنم تو وسیع ہوگی لیکن انھیں اس وسیع و عریض جگہ میں اس قدر تنگ کردیا جائے گا کہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق جیسے دیوار میں میخ گاڑی جاتی ہے(3) ۔ یہاں پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ ” ثبور“کا لفظ در اصل ”ہلاکت “ اور ” گل سڑ جانے “ کے معنی ٰ میں ہے ۔ جب انسان کو کسی بھیانک اور مہلک چیز کے سامنے لایا جاتا ہے تو بسا اوقات ”واثبورا“ کہہ کر چیخ مار ت اہے جس کا معنیٰ ہے ”ہائے میں مر گیا “ ۔ لیکن فوراً انھیں کہا جائے گا :آج صرف ایک مرتبہ ”واثبورا “ نہ کہو بلکہ کئی متبہ وا ثبورا کی آواز بلند کرو ( لاَتَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا) ۔ بہر حال تمہاری یہ چیخ وپکارقطعاً کار گر ثابت نہیں ہوگی اور تمہیں ہر گز موت نہیں آئے گی بلکہ تمہیں وہاں زندہ رہ کر ہی عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا ۔ در حقیقت یہ آیت بالکل سورہ ٴ طور کی آیت ۱۶ کی مانند ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے : اصلوھا فاصبروا اولاتصبروا سواء علیکم انما تجزون ماکنتم تعلمون۔ یعنی جہنم کی آگ میں جلتے رہو خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لئے دونوں صورتیں یکساں ہیں ، تم اپنے کئے کی جزا پا رہے ہو ۔ اب رہی یہ بات کہ کافروں سے یہ باتیں کون کرے گا ؟ تو قرآئن یہ بتا تے ہیں کہ عذاب کے فرشتے ہی ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ فرشتے ہی سروکار رکھیں گے ۔ انھیں کس لئے کہا جائے گا کہ ” واثبورا“ صرف ایک مرتبہ نہ کہو بلکہ کئی بار کہو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اس لئے ہو کہ ان کے لئے دردناک عذاب عارضی اور محدود نہیں ہو گا کہ ایک بار واثبوراکہہ دینے سے ختم ہو جائے بلکہ وہ ہمیشہ اسی جملہ کو دہراتے رہیں اور پھر یہ کہ ان ظالموں کو خدا وند عالم مختلف انداز میں عذاب دیتا رہے گااور وہ ہر نئے عذاب کے موقع پر اپنی موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور واویلا کریں گے اور گویا وہ بار بار مارے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ پھر روئے سخن رسول اللہ کی طر ف کرکے آنحضرت کے ذریعے کفار کو ایک بات کے فیصلے کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے :اے پیغمبر ! کہہ دیجئے کہ یہ دردناک انجام بہتر ہے یا وہ بہشت بریں جس کا پر ہیز گار لوگوں سے وعدہ کیا جا چکا ہے ، جو ان کے اعمال کی جزا بھی ہے او ررہائش گاہ بھی ( قُلْ اٴَذَلِکَ خَیْرٌ اٴَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ کَانَتْ لَھُمْ جَزَاءً وَمَصِیرًا )۔ وہی بہشت کہ جس میں ہر وہ چیز مہیا ہے جس کی وہ خواہش کریں گے (لَھُمْ فِیھَا مَا یَشَائُونَ )۔ وہی بہشت کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے (خَالِدِینَ) ۔ تمہارے پروردگار کا یہ حتمی اور مسلم وعدہ ہے جسے اس نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ( کَانَ عَلَی رَبِّکَ وَعْدًا مَسْئُولًا)۔ انھیں فیصلے کی دعوت اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کسی کو کوئی شک و شبہ ہے ہی اس دردناک اور وحشت ناک عذاب کا ان بے نظیر نعمتوں سے کوئی مقابلہ اور موازنہ کیا جا سکتا ہے بلکہ اس طرح کے سوالات اور فیصلہ جات کی دعوت صرف ان کے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کرنے کے لئے ہوتی ہے تاکہ اس طرح سے وہ بیدار ہو کر کسی واضح امر اور ایک دوراہے پر آکھڑے ہوں ۔ اگر چہ وہ کہتے ہیں کہ وہی نعمتیں بہتر اور بر تر ہیں (اور یقینا کہنا بھی چاہئیے )تو خود اپنے خلاف فیصلہ دیں گے کیونکہ ان کے عمل ان کے بر عکس ہیں اور اگر کہتے ہیں کہ نعمتوں سے عذاب بہتر ہے تو اپنی حماقت اور بے عقلی پر مہر تصدق ثبت کردیں گے ۔یہ ٹھیک اسی طرح ہو گا جیسے ہم کسی سکو ل اور کالج سے بھاگنے والے طالب علم کو خبر دار کرتے ہوئے کہیں کہ دیکھو!جو لوگ علم کے حصول سے فرار کرتے ہیں یقینا وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ زندان ہوتا ہے آیا جیل بہتر ہے یا اعلیٰ منصب؟ 1۔سعیراً”سعر“ (بر وز ن”قعر“)کے مادہ سے ہے جس کے معنی ہیں آگ کا بھڑک اٹھنا ۔ اسی بناء پر”سعر“ اس آگ کو کہتے ہیں جس میں شعلے بھی ہوں ، وسعت بھی ہو ، زبر دست حرارت بھی ہو۔ 2۔”مقرنین “ ”قرن“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے دو یا چند چیزوں کا باہمی اجتماع ۔ جس رسی سے کئی چیزوں کو باندھتے ہیں اسے بھی قرن کہتے ہیں لیکن جس شخص کو طوق اور زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اسے بھی اسی مناسبت سے ”مقرن“ کہتے ہیں ( لغت کی مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی دسویں جلد سورہٴ ابراہیم کی آیت ۴۹ کی طرف رجوع فرمائیں )۔ 3۔مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:11-16
چند نکات
۱۔اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیئے کہ مندرجہ بالا آیات میں ایک مقام پر تو ”خلد“ اور ہمیشگی کو بہشت کی صفات کے طور پر بیان فرما یا گیا ہے اور دوسری جگہ اہل بہشت کے ”خلد“اور ہمیشہ رہنے کی حالت بیان کی گئی ہے اور یہ دونوں چیزیں ہیں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ بہشت بھی ہمیشہ کے لئے ہے اور اس میں رہنے والے بھی وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔ ۲۔”لھم فیھامایشاء ون“(جو کچھ وہ چاہیں گے بہشت میں موجود ہو گا )کا جملہ جہنمیوں کے بارے میں آنے والے اس جملہ کے ٹھیک مقابل میں ہے : وحیل بینھم و بین مایشتھون ۳۔بہشت کے بارے میں ”مصیر “(ٹھکانا،لوٹ آنے کی جگہ ) کو”جزاء“ کے بعد ذکر کیا گیا ہے ۔در حقیقت جزا کے مفہوم میں جو کچھ آسکتا ہے یہ اسی کی تاکید ہے اور جہنمیوں کے ٹھکانے اور ان کی سزا کا متقابل نقطہ ہے جوسابقہ آیات میں ذکر ہو چکا ہے ان کے ہاتھ پاوٴں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور خود ایک تنگ جگہ میں مقید ہوں گے۔ ۴۔”کان علی ربک وعداً مسئولاً“کاجملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین اپنی دعا وٴں میں تمام نعمتوں سمیت بہشت کی درخواست کرتے ہیں گویا وہ ”سائل“ ہیں اور خدا وند عالم”مسئول عنہ“ ہے جیسا کہ خدا وند عالم سوہٴ آل عمران کی آیت ۱۹۴ میں مومنین کا قول بیان کرتاہے : ربنا اٰتنا ما وعدتناعلیٰ رسلک ”اے ہمارے پر ور دگار!جو کچھ تو نے ہمارے بارے میں اپنے رسولوں سے وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عنایت فرمایا ۔“ نیز زبان حال سے یہ د ر خواست تمام مومنین کی ہے کیونکہ جو شخص بھی اس کے فرمان کی اطاعت کرتا ہے زبان حال کے ساتھ اس کی یہی درخواست ہے ۔ اسی طرح فرشتے بھی مومنین کے بارے میں خدا سے یہی درخواست کرتے ہیں جیسا کہ سورہ ٴ مومن کی آیت ۸ میں ہے : ربنا و ادخلھم جنات عدن التی وعدتھم ” اے ہمارے پر وردگار !تونے مونین کے ساتھ بہشت کے جن جاودانی باغات کا وعدہ فرمایا تھا ان میں انھیں داخل فرما۔“ یہاں پر ایک اور تفسیر بھی ملتی ہے اور وہ یہ کہ ” مسئولا“ کا کلمہ خدا وند عالم کے حتمی وعدے کی تاکید ہے یعنی وہ وعدہ اس حتمی ، وقطعی اوریقینی ہے کہ مومنین اس کا مطالبہ خدا سے کرسکتے ہیں ۔ یہ بعینہ ایسے ہے جیسے ہم کسی سے کوئی وعدہ کریں اور اسے یہ حق بھی دے دیں کہ جب چاہے ہم سے اس کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے ۔ البتہ اگر ان تمام معنی کو” مسئولا“کے وسیع مفہوم میں جمع کردیں تو کوئی حرج نہیں ۔ ۵۔”لھم فیھا مایشاوٴن“ ( جوکچھ وہ چاہیں گے وہاں موجود ہوگا)کے جملے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ لوگوں کے لئے یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر جملے کے وسیع مفہوم کو سامنے رکھیں تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ مثلا ً اگر بہشتی لوگ انبیاء اور اولیاء کے مقام کو بھی خواہش کریں تو وہ انھیں مل جائے گا یا اگر اپنے گناہگار دوستوں اور رشتہ داروں کی نجات کی خواہش کریں تو وہ بھی پوری ہو جائے گی یا اس قسم کے دوسرے سوالات ۔ لیکن اگر ایک نکتہ کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جائے گا وہ یہ کہ اہل بہشت کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردوں کو ہٹا دیا جائے ۔ گا ۔وہ حقائق کو اچھی طرح سمجھ لیں گے اور باہمی تناسب ان کے لئے مکمل طور پر واضح ہو جائے گا ۔ وہ کبھی اس بارے میں سوچیں گے بھی نہیں کہ خدا سے ایسی چیزوں کی درخواست کریں جیسے ہم دنیا میں اس بات کا تقاضا نہیں کرسکتے کہ پرائمری کلاس کا ایک طالب علم یونیورسٹی کا پروفیسر بن جائے ۔ آیا اس طرح کی باتیں دنیا میں کسی عقل مند کے ذہن میں آسکتی ہیں ؟ اگر یہاں پر ایسا نہیں ہے تو وہاں پر بھی ایسا نہیں ہوسکتا۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر ان کی خواہشات خداوند عالم کی مرضی کے تابع ہو ں گی ۔ وہ وہی کچھ چاہیں گے جوخداچاہے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:11-16
سوره فرقان / آیه 11 - 16
۱۱۔ بَلْ کَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَاٴَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیرًا ۔ ۱۲۔ إِذَا رَاٴَتْھُم مِنْ مَکَانٍ بَعِیدٍ سَمِعُوا لَھَا تَغَیُّظًا وَزَفِیرًا۔ ۱۳۔ وَإِذَا اٴُلْقُوا مِنْھَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُقَرَّنِینَ دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُورًا۔ ۱۴۔ لاَتَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا ۔ ۱۵۔ قُلْ اٴَذَلِکَ خَیْرٌ اٴَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ کَانَتْ لَھُمْ جَزَاءً وَمَصِیرًا ۔ ۱۶۔لَھُمْ فِیھَا مَا یَشَائُونَ خَالِدِینَ کَانَ عَلَی رَبِّکَ وَعْدًا مَسْئُولًا۔ ترجمہ ۱۱۔(یہ تو سب بہانے ہیں )بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا ہے اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والے لوگوں کے لئے جلانے والی آگ مہیا کررکھی ہے۔ ۱۲۔جب یہ آگ انھیں دور سے دیکھے گی تو اس کی وحشت ناک آواز کو سنیں گے جس میں جوش و خروش شامل ہوگا۔ ۱۳۔جب وہ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے جہنم کی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے تو واویلا کریں گے ۔ ۱۴۔آج ایک مرتبہ واویلا نہ کرو بلکہ کئی مرتبہ واویلا کرو۔ ۱۵۔کہہ دے کہ آیا یہ بہتر ہے یا بہشت ِجاوانی جس کا پر ہیز گاروں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ؟ ایسی بہشت جو ان کے اعمال کی جزا اور ان کی رہائش گاہ ہے ۔ ۱۶۔وہ جو کچھ بھی چاہیں گے ان کے لئے وہاں موجود ہے اور اس میں وہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے یہ ایک مسلم اور حتمی وعدہ ہے جو تمہارے پر وردگار نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے ۔