تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا
Blessed is He who sent down the Criterion to His servant that he may be a warner to all the nations.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:1
[Pooya/Ali Commentary 25:1] The root meaning of tabaraka is "increase" or "abundance". It is usually translated as "blessed be" or "blessed is", but hardly conveys the comprehensive meaning of the Arabic word. Allah blesses His creatures with abundant bounties and goodness. Furqan is that by which we can judge clearly between right and wrong and distinguish between the true and the false. The Quran (furqan) is the standing criterion for distinguishing between right and wrong. The Quran was revealed to the Holy Prophet as light and guidance to show the right path (the religion of Allah) to all mankind in every age. The mission of the Holy Prophet is universal. He came as a warner to all creatures. See Nisa : 79; Araf : 158; Anbiya : 107; Ahzab : 41; Saba : 28 and Fat-h : 28 and 29. Prophet Isa said (to his twelve disciples): "Do not take the road to gentile lands, go to the lost sheep of the house of Israel. I was sent to the lost sheep of the house of Israel, and to them alone." (Matthew 10 : 5 and 15 : 24). Like Isa, the mission of every prophet, sent before the Holy Prophet, was restricted to a particular people.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 25:1-9
1. God has pointed out the ignorance of those, who leaving Him, adopted others as their gods, who are created and are not creators of any, possessing powers of give and take, profit or injury enlivening or killing to rising alive. He is sole (1) independent, (2) son of, (3) or a partner of administration of creations, which are limited in life and provision and subject to stand still and destruction. 2. For consolation of His Prophet, God reminds him how they treat His Text, as a story book of old, and how they ridicule him for his looking after self-maintenance, and leading a common life, proving themselves thereby misguided, whence they cannot extricate self.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:1-2
معرفت کا بہترین معیار
یہ سورت”تبارک“کے مبارک کلمہ سے شروع ہوئی ہے جس کا مادہ برکت ہے اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ کسی چیز کے با بر کت ہونے کا معنیٰ یہ ہوتا ہے کہ اس میں دوام و پائیداری ، خیر اور ہر طرح سے نفع پایا جاتا ہے ۔ فرمایا گیا ہے بابرکت اور لاوزال ہے وہ خدا جس نے ”فرقان“ کو اپنے بندے پر نازل کیا ہے تاکہ وہ تمام جہان والوں کو ڈرائے (تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا )۱ یہ بات قابل توجہ ہے کہ پرور دگار کے مبارک ہونے کی تعریف ”فرقان “ کے ذریعہ بیان کی گئی ہے یعنی وہ قرآن جو حق و باطل میں امتیاز کا وسیلہ ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ”فرقان “کامعنی کبھی” قرآن“ ہوتا ہے اور کبھی وہ معجزات جو حق و باطل میں امتیاز پیدا کرتے ہیں ۔ کبھی یہ لف۱۔تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا ۔ الَّذِی لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہُ تَقْدِیرًا ۔ ”تورات“ کے معنی میں بھی آیاہے لیکن اس آیت میں اوربعد کی دوسری آیات میں لفظ”فرقان“ سے مراد ”قرآن“ ہے ۔ بعض روایات میں ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ”قرآن“ اور” فرقان“میں کیا فرق ہے تو آپ ﷼ نے ارشاد فرمایا: قرآن اس آسمانی کتاب کے مجموعے کا نام ہے اور فرقان آیات محکمات کی طرف اشارہ ہے ۔ ۲ آپ کے اس فرمان میں اور تمام قرآنی آیات کے ”فرقان“ ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ کیونکہ مراد یہ ہے کہ قرآن کی آیات محکمات حق اور باطل میں تمیز کرنے کے حوالے سے فرقان کا روشن تر ،آشکار تراور واضح تر مصداق شمار ہوتی ہےں۔ فرقان اور شناخت کی نعمت اتنی اہم ہے کہ قرآن مجید نے اسے متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لئے بہت بڑے اجر کے عنوان سے ذکر فرمایا ہے ۔ چنانچہ فرماتا ہے : یاایھا الذین اٰمنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً اے ایمان والو!اگرتقویٰ اختیار کروگے توخدا وند عالم تمہیں فرقان عطا فرمائے گا۔۳ یقینا تقویٰ کے بغیر کے حق اور باطل میں امتیاز کرنا ناممکن ہے ۔کیونکہ محبت اور نفرت اور گناہ کے چہرے پر ضخیم پر دے ڈال دیتے ہیں او ر انسان کے ادراک و نگاہ کو اندھا کردیتے ہیں ۔ بہر حال قرآن مجید تمام فرقانوں کا فرقان ہے ۔ انسان کے تمام نظام ِ زندگی میں حق اور باطل کی پہچان کا بہترین وسیلہ ہے ۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حق و باطل میں تمیز کا ذریعہ ہے اور فکار و عقائد ، قوانین و احکام اور اخلاق و آداب کے سلسلے میں ایک بہترین معیار اور بہترین کسوٹی ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ فرمایا گیا ہے :” اس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا “۔جی ہاں مقام عبودیت اور خالص بندگی ہی وہ چیز یں ہیں جو فرقان کے نزول کی لیاقت اور حق اور باطل کی پہچان کے معیار کو وجود بخشتی ہیں ۔ آیت کے آخر میں وہ آخری نکتہ پیش کیا گیا ہے جو فرقان کا اصل مقصد اور اس کا منتہائے مقصود ہے اور وہ ہے عالمین کاانذار کہ جس کا نتیجہ انسان میں ذمہ داری کے احساس کا ابھر نا ہے ۔”للعالمین “ کی تعبیر اس بات کو واضح کررہی ہے کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو کسی خاص علاقے ، قوم اور قبیلے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ بعض لوگوں نے تو اس کلمہ سے آنحضرت کی ختم نبوت پر بھی دلیل قائم کی ہے ۔ کیونکہ ”عالمین “نہ صرف یہ کہ مکانی لحاظ سے محدود نہیں ہے بلکہ زمانی لحاظ سے بھی کسی قید و شرط کا پابند نہیں ہے اور تمام آنے والے ادوار اور افراد اس میں شامل ہیں ( غور کیجئے گا)۔ دوسری آیت میں فرقان کے نازل کرنے والے خدا کی چار صفات بیان کی گئی ہیں ان میں در حقیقت ایک تو اصل اور جڑ ہے اور باقی تین اس کی شاخین ہیں ۔ پہلے تو کہتا ہے : وہ خدا ایسا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی مالکیت اور حکومت صرف اسی کے لئے ہے ( الَّذِی لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ )۱۔ ۱۔لفظ ”ملک“ (بر وزن” گرگ“)کے بارے میں ”راغب“اپنی کتاب ”مفرات“ میں کہتے ہیں کہ یہ کوئی چیز اختیار میں لینے اور اس پرحاکمیت کے معنی میں ہے جبکہ ”ملک“(بروزن ”سلک“)ہمیشہ اور ہر موقع پرحاکمیت اور مالکانہ تصرف کی دلیل نہیں ہے گویا ہر مُلک،مِلک ہے لیکن ہرمِلک ،مُلک نہیں ہے ۔ یقیناوہی تو تمام عالم ہستی اور زمین و آسمان کا حاکم ہے ۔ اس کی قلمروِ حکومت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ، آیت میں مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ”لہ“ کو ”ملک السمٰوات․․․․“پر اس لئے مقدم کیا گیا ہے کیونکہ عربی ادب کے مطابق یہ صورت ”حصر“ پر دلالت کرتی ہے ۔ جس سے یہ پایہ ثبوت پہنچ جاتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی واقعی اور حقیقی حکومت اور فرمانروائی صرف اور صرف اس کی ذات میں منحصر ہے کیونکہ اس کی حکومت کلی ، جاودانی اور حقیقی ہے بلکہ اس کے غیر کی حکومت کہ جو محدود او رناپائیدار ہوتی ہے پھر بھی خدا ہی سے وابستہ ہوتی ہے ۔ پھر یکے بعد دیگرے مشرکین کے عقائد کی نفی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ، وہ خدا جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا:( ولم یتخذ ولداً)۲۔ ۲۔بیٹے کی نفی کے بارے میں دلائل تفسیر نمونہ جلد اول سورہٴ بقرہ کی آیت۱۱۶کے ذیل میں گزر چکے ہیں ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں اصولی طور پر بیٹے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ کام کاج میں اس کی طاقت سے فائدہ اٹھایا جائے یا کمزوری ، بڑھاپے اور ناتوانی کے دنوں میں اس سے امداد لی جائے یا تنہائی میں اسے اپنا انیس و جلیس بنا یا جائے یہ ظاہر ہے کہ خدا کی پاک ذات کو ان تینوں میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ اس طرح سے نصاریٰ کے عقیدے کی نفی ہوتی ہے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے ہیں اور یہود کے عقیدے کی بھی نفی ہوتی ہے کیونکہ وہ جناب عزیر علیہ السلام کو خدا کا فرزندجانتے ہیں اسی طرح مشرکین عرب کے عقیدے کی بھی نفی ہوجاتی ہے ۔ پھر فرمایا گیا ہے : عالم ہستی پر مالکیت اور حاکمیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے (وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ)۔ مشرکین عرب خدا کے لئے ایک یا کئی شریکوں کا عقید ہ رکھتے تھے ، انھیں عبادت میں بھی شریک گردانتے تھے شفاعت میں ان سے متوسل ہوتے تھے اور اپنی حاجات میں ان سے مدد طلب کرتے تھے یہاں تک کہ حج کے موقع پر لبیک کہتے وقت بڑی صراحت کے ساتھ درج ذیل جملہ اور اس قسم کے دوسرے مشرکانہ جملے زبان پر جاری کرتے تھے ۔ ”لبیک لاشریک لک ، الاشریکاًھولک،تملکہ و ماملک“ ہم نے تیری دعوت کو قبول کیا اے خدا !جو سوائے ایک شریک کے کوئی اور شریک نہیں رکھتا اور وہ شریک بھی اپنے تمام مملوک سمیت تیری ملکیت میں ہے غرض قرآن مجید تمام موہوم چیزوں کی نفی اور مذمت کرتا ہے ۔ اور اس آیت کے آخری جملے میں کہتا ہے : اس نے تمام موجودات کو پیدا کیاہے ، نہ صرف پیدا کیا ہے بلکہ ان کا صحیح صحیح اندازہ بھی مقرر کیا ہے ( وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہُ تَقْدِیرًا )۔ ثنویہ کے عقیدے کے مانند نہیں جو موجودات عالم کی کچھ چیزوں کا خالق ”یزدان“ کو اور کچھ کا خالق”اہریمن“ کو سمجھتے ہیں اور اس طرح سے وہ تخلیق کائنات کا یزدان اوراہریمن میں تقسیم کردیتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کو ”خیر“ اور ”شر“ یا نیکی اور بدی کا مجموعہ سمجھتے ہیں ۔ جبکہ ایک سچے موحد کے نزدیک عالم ہستی میں خیر کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں اور اگر کہیں ہمیں برائی نظر بھی آتی ہے تو یا تو اس کی نسبی حیثیت ہے یا عدمی چیز ہے اور یا پھر ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ( خوب غور کیجئے گا )۔ ۱۔تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں سورہ ٴ اعراف کی آیت نمبر۵۶ کے ذیل میں ” برکت“ کا مفہوم ذکرکیا گیا ہے ۔ ۲۔تفسیر برہان جلد۳ ص۱۵۵۔ ۳۔سورہٴ انفال آیہ ۲۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:1-2
3. اس کائنات میں توازن اور کنٹرول
اس کائنات میں توازن اور کنٹرول کا یہ طریقہ کس قدر تعجب خیز ہے ؟ اسی توازن کا نتیجہ ہے کہ فطرت نے حیوانات اور درندوں کو اس دنیا پر مسلط ہو نے سے روک دیا رکھاہے اگر چہ وہ جسم اور جثے اور طاقت کے لحاظ سے بہت ہی عظیم ہیں اور یہ صرف انسان ہی ہے جو فطرت کے توازن کو بگار کر رکھ دیتا ہے اور حیوانات اور نبا تات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا رہتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس ستم ظریفی کا بہت جلد مزہ بھی چکھ لیتا ہے کیونکہ نباتی آفات اور حیوانی بیمار یاں اسے ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں کہ اسے اسکا مدتوں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ ذیل میں ہم ایک دلچسپ واقعہ پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ انسان کو اپنی بقاء کے لئے کیوں اس توازن اور کنٹرول کا لحاظ رکھنا چاہئیے ۔ چند سال پہلے کی بات ہے کے آسٹریلیا میں ” جیدار“(Cactus) ۱۔ ۱۔یہ ایک طرح کا تنے دار پودا ہے اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک رنگ برنگے پھولوں والی قسم ہے جسے باغیچوں وغیرہ میں لگا یا جاتا ہے اور دوسری قسم بڑی اور درخت کی سی ہوتی ہے ۔ نامی پودے کی کھیتوں کی باڑوں پر کاشت کی گئی ہے اور چونکہ اس وقت اس پودے کا مخالف کیڑا آسٹریلیا میں موجود نہیں تھا۔ لہٰذا یہ پودا خوب پھلا پھولا اور پروان چڑھا اور تھوڑی سے مدت میں ا سنے جزیرہٴ انگلستان کی سر زمین کے برابر کے خِطے کو اپنی لیٹ میں لے لیا لوگوں کو مجبوراً دیہات اور قصبات چھوڑنے پڑے کھیتی باڑی ختم ہو کر رہ گئی۔ لوگوں نے اس کے خاتمہ کے لئے ہر قسم کی چارہ جوئی کی لیکن کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا بلکہ پورے آسٹریلیا کو اس سے خطرہ پیدا ہوگیا کہ اس پودے کا خاموش اور ضدی لشکر کسی نہ کسی دن سارے برّ اعظم پر اپنا تسلط قائم کرلے گا ۔ تمام ماہرین اور دانشوروں نے اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ ساری دنیا کی خاک چھان ماری آخر کار انھیں ایک ایسا کیڑا مل گیا جس کی صرف اور صرف ”جیدار “ کے پتے اور ٹہنایاں ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی خوراک نہیں کھا تا ۔ اس پر ہی اپنی نسل بڑھا تا ہے اور آسٹریلیا میں اس کا کوئی دشمن بھی نہیں ۔ اس طرح سے حیوان نے نبات پر غلبہ پالیا اور آج پورے برّ اعظم میں ”جیدار“ کا خطرہ مکمل طور پر ٹل ل چکا ہے اور اس نبات کے خاتمے کے ساتھ ہی کیڑوں کا بھی خاتمہ ہوچکا ہے صرف چند ایک کیڑے زندہ بچے ہیں جو اس نبات کی نشوونما کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں ۔ قدرت نے فطرت میں اس توازن اور اعتدال کو بر قرار رکھا ہوا ہے اور یہ نہایت مفید بھی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ملیر یا کے مچھر نے روئے زمین کو اپنی لیٹ میں نہیں لیا اور نہ ہی نسل انسانی کو تباہی سے ہم کنار کیا ہے جبکہ قطبی علاقوں تک میں عام مچھر بہت بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے ۔ یاکیا وجہ ہے کہ تپ زرد(Yellow fever)کے مچھر نے جو ایک موقع پر نیویارککے قریبی علاقوں میں آیا تھا اس نے دنیا کو تباہی کے خطرے سے دو چار نہیں کیا یا خواب آور مکھی نے جو زندہ ہی صرف استوائی گرم علاقوں رہ سکتی ہے ، انسانی نسل کو روئے زمین سے ختم نہیں کیا؟ (ان سب کا تدارک صرف اور صرف ایک صحیح اور جچے تلے نظام اور کنٹرو ل کے ذریعے کیا گیا ہے ۔) اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ انسانیت اپنی تاریض کے دور انیے میں کیسی کیسی آفات و امراض سے دوچار رہی ہے اور کل تک اس کے پاس اپنی مدافعت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور حفظان صحت کے کسی اصول سے باخبر بھی نہیں تھی ۔ جب ان تمام باتوں پر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہمارا وجود کس حیرت انگیزحد تک محفوظ و مامون رہاہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:1-2
1. موجودات عالم کا صحیح اندازہ
نہ صرف عالم ہستی کا جچاتلا پختہ نظام ، خدا کی توحید اور اس کی معرفت کے محکم دلائل میں سے ایک دلیل ہے بلکہ اس کا صحیح صحیح اندازہ بھی اس کی وحدایت کی ایک اور واضح دلیل ہے ہم کسی بھی صورت میں اس کائنات کی مختلف چیزوں کے اندازے، مقدار اور تعداد کو”اتفاق“کا نتیجہ نہیں مان سکتے کہ یہ کائنات اور اس پر موجوداشیاء بس اتفاقیہ طور پر معرضِ وجود میں آگئی ہیں نہیں اور ہر گز نہیں ، کیونکہ یہ چیز تو ”احتمالات کے قاعدہ“سے بھی میل نہیں کھاتی ۔ ماہرین نے اس سلسلہ میں بہت مطالعہ کیا ہے اور کئی اسرار و رموز کا انکشاف کیا ہے جس سے انسان ورطہٴ حیرت میں پڑ جاتا ہے اور زبان سے بے ساختہ اپنے پروردگار کی قدرت و عظمت کے گیت گانے لگتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ان تحقیقات کے نتائج کا ایک گوشہ ۔ جیالوجی( علم ریاضیات) کے ماہرین کاکہنا ہے کہ زمین کی یہ ظاہری سطح اگر موجودہ حالت میں دس فٹ مزید بلند اور موٹی ہوتی تو زندگی کا اصل مواد یعنی آکسیجن گیس کا وجود ہی عمل میں نہ آتا یا گر سمندروں کی گہرائی موجودہ حالت سے بیشتر اور کئی گناہ ہوتی تو زمین کی تمام آکسیجن (Oxygen)اور کار بن(Carrbon)گیس جذب ہو کر رہ جاتیںاور زمین کی سطح پر کسی حیوانی اور نباتی زندگی کے قطعاً امکانات نہ ہوتے اور قوی احتمال یہ ہے کہ موجودہ تمام آکسیجن کو زمین کی سطح اور سمندروں کا پانی جذب کرلیتے اور انسان کا اپنی نشو ونما کے لئے نباتات کے اگنے اور پروان چڑھنے کا انتظار کرنا پڑتا تاکہ وہ آکسیجن خارج کریں اور انسان اس سے استفادہ کرے ۔ صحیح صحیح حساب و کتاب کے بعد اور تحقیقات کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی تنفس کو بحال رکھنے کے لئے آکسیجن از حد ضروری ہے اور وہ مختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے لیکن جو بات زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے تنفس کے لئے آکسیجن کی ضروری اور لازمی مقدار اس فضا میں موجود ہے ۔اگر زمین کی موجودہ حالت سے مزید ہلکی ہوتی تو آسمان سے تعلق رکھنے والے اجرام ِفلکی اور شہابئے جو روزانہ کروڑوں کی تعداد میں ہوا سے ٹکراکر پاش پاش ہو جاتے ہیں مسلسل زمین پر گرتے رہتے جس سے یقینا بے حد و حساب نقصان ہوتا۔ یہ شہاب ثاقب چھ سے چالیس میل فی سکینڈ کے حساب سے حرکت کرتے رہتے ہیں اور جس چیز سے بھی ٹکراتے ہیں وہیں پر دھماکہ کے ساتھ پھٹ کر آگ لگا دیتے ہیں چنانچہ ان اجرام کی رفتار موجودہ افتار سے کم ہوتی ہے مثلاً ایک گولی کی رفتار کے برابر ہوتی تو وہ سب کے سب زمین پر آگرتے اور اس کے نتیجے میں جو تباہی پھیلتی اسے خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔ اگر خود انسان ان اجرام فلکی میں سے کسی ایک چھوٹے سے چھوٹے جِرم کی راہ میں ہوتا تو اس کی زبر دست حرارت اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی جبکہ اس کی رفتار گولی کی رفتار سے نوے گناہ زیادہ ہوتی ہے ۔ زمین کی فضا میں ہوا کا دباوٴ اس حد تک مناسب اور موزوں ہے کہ یہ ہوا سورج کی شعاعوں کو صرف اس مقدار میں زمین پر آنے دیتی ہے جو نبا تات کی نشو ونما کے لئے ضروری ہوتی ہے اور ضرر رسا جراثیموں کو اسی فضا مین نیست و نابود کر دیتی ہے اور مفید مٹا من پیدا کرتی ہے ۔ زمین کی گہرائیوں سے صدیوں سے اٹھنے والے مختلف بخارات فضا میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی گیسیں ہیں اس کے باوجود فضا میں کسی قسم کی آلودگی پیدا نہیں ہوتی اور یہ فضا ہمیشہ متواز ن اور موزوں رہتی ہے تاکہ انسانی زندگی کے لئے مناسب ماحول مہیا رہے ۔ جس مشیزی نے اس عجیب و غریب توازن کو بر قرار رکھا ہوا ہے وہ سمندر ہی تو ہیں جو خوراک ، بارش ، اعتدال ہوا، حیات نباتات بلکہ خود انسان کے وجود کا منبع فیض ہیں ۔ جو شخص ان مطالب کا ادراک کرتا ہے وہ سمندروں کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے اور ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:1-2
سوره فرقان / آیه 1 - 2
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۱۔تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا ۔ ۲۔ الَّذِی لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہُ تَقْدِیرًا ۔ ترجمہ ۱۔لاوزال اور بابرکت ہے وہ ذات جس نے قرآن اپنے بندے پرنازل کیا تاکہ وہ عالمین کو ڈرائے ( اور انہیں عذاب الہٰی کی تہدید کرے ) ۲۔وہ خدا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت اور مالکیت اسی کی ہے اور اس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور حکومت و مالکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اس نے سب چیزوں کو پیدا کیا ہے اور ہر ایک کا صحیح صحیح اندازہ لگا یا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:1-2
2 ـ تناسب و تعادل
”آکسیجن “ اور ”کاربن ڈائی آکسائڈ“کے درمیان عجیب تناسب اور صحیح توازن برقرار رکھا گیا ہے تاکہ حیوانات اور نباتات کی زندگی وجود پذیر ہو اور باقی رہے ، اسی چیز نے تمام مفکرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اور انھیں سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ لیکن ابھی ”کاربن ڈائی آکسائڈ“ کی اہمیت بہت سے لوگوں پر مخفی ہے یا رہے کاربن ڈائی آکسائڈوہ گیس ہے جس سے گیس والے مشروبات تیار کئے جا تے ہیں ۔ کاربن ڈائی آکسائڈایک بھاری اور بوجھل گیس ہوتی ہے جو خوش قسمتی سے زمین کی سطح کے بہت ہی نزدیک موجود رہتی ہے اور اسے آکسیجن سے بڑی مشکل کے ساتھ جدا کیا جاسکتا ہے ۔ جب لکڑی سے آگ جلائی جاتی ہے تو لکڑی پر کیمیکل عمل ہوتا ہے ۔ خود لکڑی آکسیجن ، کاربن اورہائیڈروجن کے مجموعہ کا نام ہے چنانچہ حرارت کی وجہ سے جب اس کا کیمیکل تجزیہ ہوتا ہے تو کاربن فوراً ہی آکسیجن سے مل کر ڈائی آکسائڈ بن جاتی ہے اور اسی تیزی سے ہیڈ روجن بھی آکسیجن کے ساتھ مل کر بخارات کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ دھواں در حقیقت خالص اور غیر مرکب کار بن ہوتا ہے ۔ جب انسان سانس لیتا ہے تو اس سے کچھ مقدار آکسیجن اس کے اندر چلی جاتی ہے جو جاکر خون کو بدن کے تمام حصوں میں تقسیم کرتی ہے اور یہی آکسیجن غذا بدن کے مختلف خلیوں میں بھیج کر آہستہ آہستہ اور مدھم سے حرارت کے ساتھ اسے جلا دیتی ہے اور اس سے کاربن ڈائی آکسائڈاور بخا رات خارج ہوتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو مذاق میں کہا جاتا ہے کہ وہ ” تنور“ کی مانندآہیں بھر رہا ہے تو یہ ایک حقیقت ہوتی ہے ۔ بدن کے مختلف خلیوں میں غذا کے جلنے سے کاربن ڈائی آکسائڈپیدا ہوتی ہے اور سیدھی پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے اور بعد والی سانسوں کے ذریعہ پھیپھڑوں سے خارج ہو کر بیرونی فضا میں چلی جاتی ہے ۔ اسی ترتیب کے ساتھ تمام ذی روح چیزیں آکسیجن لیتی اور کاربن ڈائی آکسائڈخارج کرتی ہیں ۔