وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
Marry off those who are single among you, and the upright among your male and female slaves. If they are poor, Allah will enrich them out of His grace, and Allah is all-bounteous, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:32
[Pooya/Ali Commentary 24:32] Ayama, plural of aiyim (single), here means anyone not in the bond of wedlock, whether unmarried or lawfully divorced, or widowed. The choice of the spouse should not be influenced by beauty or wealth. There is no better quality than righteousness to be sought in the life-partner. There is no other alternative for normal human beings except fulfilment of sexual desires through lawful means. So the act of wedding is in itself a virtue. It is essential for the continuation of life on the earth in order to serve the meaningful plan of the author of the universe. Any deviation from the law laid down by Allah to discipline this procreative activity not only leads to unmanageable disorder but also condemns the human soul to spiritual depravity and devastation. The normal way to the life of perfection is marriage, not celibacy, suppression of the natural urge which is given to man for continuation of life. Celibacy is unnatural. It is a denial of the divine plan. So it never worked as a genuine activity. In the subterranean dwellings of almost all the monasteries thousands of skeletons of murdered children have been found. According to the Holy Prophet a true Muslim has to marry, not for the satisfaction of lust or for acquisition of wealth, but to bring righteous servants of Allah in this world for the service and worship of the Lord. He declared that nikah (wedlock) was his way of life. Allah has promised to give necessary means of sustenance to every created being that lives in this world, so not to marry for the fear of poverty amounts to want of trust in Allah. The modern tendency to satisfy sex desires through "permissive means" and "living together" by avoiding the discipline of matrimony and its consequences on the false excuse of insufficient means to bear the burden of "more mouths to feed" is unislamic. The Holy Prophet said: "A two rakat salat prayed by a married person is better than the whole night of prayers and a day of fasting spent by an unmarried person." Every healthy person with sufficient means is liable to seek fulfilment of the sexual desire, so it is obligatory to marry, otherwise the outlet would be adultery.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:32-34
۲۔ ”وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ“ کی تفسیر
یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں جہاں غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کرنے کے بارے میں فرمایا گیا ہے اور ایک عمومی حکم دیا گیا ہے وہاں جب غلاموں اور کنیزوں کی شادی کا ذکر آتا ہے تو اس کے ساتھ ”صالح“ ہونے کی شرط عائد کردی جاتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ تفسیر المیزان کے موٴلف گرامی اور صاحبِ تفسیر صافی نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں سے جو شادی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اگر معاملہ یونہی ہو تو پھر یہ شرط آزاد عورتوں اور مردوں کے لئے بھی ضروری ہے ۔ بعض دیگر نے کہا ہے کہ اس سے مراد اخلاق واعتقاد کے لحاظ سے صالح ہونا ہے کیونکہ اس سلسلے میں ”صالحین“ ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر غلاموں کے علاوہ دوسروں کے لئے یہ شرط کیوں عائد نہیں کی گئی۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سے ایک اور چیز مراد ہے اور وہ یہ کہ اس دور میں تمدّنی، ثقافتی اور اخلاقی لحاظ سے غلام اور کنیزیں بہت پست تھیں انھیں مشترک زندگی کی ذمہ داری کا کوئی احساس نہ تھا اگر ایسی صورت حال میں ان کی شادی کردی جاتی تو وہ آسانی سے شریکِ حیات کو چھوڑ کر اسے پریشان وسرگرداں چھوڑ دیتے ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ اخلاقی صلاحیّت رکھتے ہیں تو ان کی شادی کے لئے اقدام کیا جائے تاکہ وہ ازدواجی زندگی کے اہل ہوسکیں اور پھر ان کی شادی کی جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:32-34
سوره نور / آیه 32 - 34
۳۲ وَاٴَنکِحُوا الْاٴَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ إِنْ یَکُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِھِمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ۳۳ وَلْیَسْتَعْفِفْ الَّذِینَ لَایَجِدُونَ نِکَاحًا حَتَّی یُغْنِیَھُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ وَالَّذِینَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوھُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیھِمْ خَیْرًا وَآتُوھُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِی آتَاکُمْ وَلَاتُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ إِنْ اٴَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَنْ یُکْرِھُّنَّ فَإِنَّ اللهَ مِنْ بَعْدِ إِکْرَاہِھِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۳۴ وَلَقَدْ اٴَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَمَثَلاً مِنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ ترجمہ ۳۲۔ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کردو اور اسی طرح اپنے نیک غلاموں اور کنیزوں کو بھی بیاہ دو، اگر تنگ دست ہوئے تو الله اپنے فضل سے انھیں غنی کردے گا، الله بہت صاحب وسعت اور علیم ہے ۔ ۳۳۔ اور جن کے پاس شادی کرنے کا موقع اور ذریعہ نہیں انھیں عفت وپاکدامنی اپنانا چاہیے یہاں تک کہ الله اپنے فضل سے انھیں غنی کردے گا اور تمھارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت (آزادی کے لئے ایک خاص قرارداد) کی درخواست کریں تو ان سے مکاتبت کرلو اگر تم ان میں رشد اور بھلائی محسوس کرو (اور یہ سمجھو کہ آزادی کے بعد وہ استقلال کے ساتھ زندگی کزار سکیں گے) اور الله نے تمھیں جو مال دیا ہے اس میں سے کچھ انھیں دے دو اور متاع دینا کے لئے اپنی کنیزوں کو عصمت فروشی پر محبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہیں اور جو کوئی انھیں اس کام پر مجبور کرے (پھر اس پر پشیمان ہو) تو اس جبر کے بعد الله غفور ورحیم ہے (لہٰذا توبہ کرو اور اس شرمناک عمل کو ہمیشہ کے لئے ترک کردو) ۔ ۳۴۔ ہم نے تمھاری طرف کچھ آیات بھیجی ہیں کہ جو بہت سے حقائق واضح کرتی ہیں اور وہ ان لوگوں کی خبریں ہیں کہ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:32-34
آسان شادی بیاہ کی ترغیب
اس سورہ کے آغاز سے لے کر یہاں تک جنسی آلودگیوں سے بچنے کے لئے مختلف طریقوں سے نہایت جچے تلے انداز میں گفتگو کی گئی ہے ان میں سے ہر طریقہ اور حکم ان برائیوں کو روکنے کے لئے اپنے مقام پر موٴثر ہے، زیرِ بحث آیات میں ایک اور اہم حوالے سے فحاشی اور برائی کا قلع قمہ کرنے کے لئے اقدام کیا گیا اور وہ شادی بیاہ کا سادہ، آسان اور بے ریاطریقہ، یہ بات مسلّم ہے کہ بدکاری اور فحاشی کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ صحیح اور جائز طریقے سے انسان کی فطری ضرورت کو پورا کیا جائے ۔ لہٰذا زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کردو اور اسی طرح نیک غلاموں اور کنیزوں کی بھی (وَاٴَنکِحُوا الْاٴَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ) ۔ ”ایامیٰ“ ”ایم“ (بروزن ”قیم“) کی جمع ہے، بنیادی طور پر تو یہ لفظ بے شوہر عورت کے معنی میں تھا لیکن بعد ازاں اس مرد کے لئے بھی استعمال ہونے لگا کہ جو بیوی کے بغیر ہو، اس لحاظ سے تمام مجرّد عورتیں اور مرد اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں چاہے وہ کنوارے ہوں یا نہ ہوں ۔ یہاں لفظ ”انکحوا“ (ان کا نکاح کرو) استعمال کیا گیا ہے حالانکہ شادی ایک اختیاری کام ہے اور طرفین کی رغبت ورضامندی وابستہ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کی شادی کے لئے راہ ہموار کرو، احتیاج کی صورت میں مالی امداد کرو، مناسب رشتے کی تلاش میں مدد دواور ایسے مردوں اور عورتوں کو شادی پر آمادہ کرو، خلاصہ یہ کہ معاملات اور مشکلات کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرو، کیونکہ ایسے عموماً دوسروں کی وساطت کے بغیر انجام نہیں پاتے، مختصر یہ کہ آیت کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ اس میں دامے ، درمے، قدمے، سخنے ہر طرح کی مدد شامل ہے ۔ بلاشبہ تعاون کے بارے میں اسلام کا بنیادی اصول تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان تمام امور میں ایک دوسرے کی مدد کریں لیکن شادی بیاہ کے بارے میں تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اس مسئلے کی اس قدر اہمیت ہے کہ ایک حدیث میں امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اٴفضل الشفاعات اٴن تشفع بین اثنین فی نکاح حق یجمع بینھما بہترین تعاون یہ ہے کہ تو دوافراد کے درمیان شادی کے لئے ملاپ کردے یہاں تک کہ معاملہ تکمیل کو پہنچ جائے (1) ۔ ایک اور حدیث میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر (علیہماالسلام ) سے مروی ہے کہ: ثلاثة یستظلون بظل عرش الله یوم القیامة، یوم الّا ظلہ، رجل زوج اٴخاہ المسلم اٴو اٴخدمہ، اٴو کتم لہ سرّاً قیامت کے دن کہ جب عرش الٰہی کے سوا کوئی نہ ہوگا تین گروہ اس کے سایہ میں ہوں گے، ایک وہ کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی شادی کے لئے وسائل فراہم کرے گا اور دوسرا وہ کہ جو خدمت کی ضرورت کے وقت اسے خدمت گار مہیّا کرے گا اور تیسرا وہ کہ جو اپنے مسلمان بھائی کے راز کو چھپائے گا (2) ۔ ایک اور حدیث پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے: کان لہ بکل خطوة خطاھا، اٴو بکل کلمة تکلم بھا فی ذٰلک، عمل سنة قیام لیلھا وصیام نھارھ. جتنے قدم بھی (کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی بہن کی شادی کی) راہ میں اٹھائے گا اور جنتے لفظ بھی اس مقصد کے لئے ادا کرے گا ہر ایک کے بدلے اسے اس سال کی عبادت کا ثواب ملے گا کہ جس میں رات بھر عبادت کے لئے قیام کیا گیا ہو اور دن کو روزہ رکھا گیا ہو (3)۔ عموماً شادی نہ کرنے اور ا س سے بھاگنے کے لئے تنگ دستی اور غربت کا عذر پیش کیا جاتا ہے اس لئے قرآن اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: غربت کی وجہ سے پیشان نہ ہونا اور ان کی شادی کی کوشش کرنا کیونکہ اگر وہ تنگدست ہوئے تو الله اپنے فضل وکرم کے ذریعے انھیں بے نیاز کردے گا (إِنْ یَکُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِھِمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ) ۔ اور الله ایسے کام پر قادر ہے کیونکہ وہ بری وسعت رکھتا ہے اورعلیم ہے (وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ) ۔ اس کی قدرت اتنی وسیع ہے کہ عالمِ ہستی پر محیط ہے اور اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ وہ تمام نیّتوں سے آگاہ ہے جو پاکدامنی کی حفاظت کے لئے شادی کرتے ہیں ان کی نیّتوں کو خوب جانتا ہے اور وہ ان سب پر اپنا فضل وکرم کرے گا۔ اس سلسلے میں ایک واضح تجزیہ اور متعدد روایات ہم بحث کے آخر میں پیش کریں گے ۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ انسان خود بھی پوری کوشش کرتا ہے اور دوسرے بھی پوری سعی کرتے ہیں لیکن پھر بھی شادی نہیں ہوپاتی اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ محروم رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس مرحلے پر کچھ لوگ یہ گمان کرتے کرنے لگیں کہ اب ان کے لئے جنسی آلودگی جائز ہے اور ضرورت اس کا تقاضا کرتی ہے لہٰذا ساتھ ہی اگلی آیت میں پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اور وہ کہ جوشادی نہیں کرپاتے اور ان کے لئے وسیلہ نہیں بن جاتا انھیں عفّت وپاکدامنی اختیار کرنا چاہیے یہاں تک کہ الله اپنے فضل کے ذریعے انھیں بے نیاز کردے (وَلْیَسْتَعْفِفْ الَّذِینَ لَایَجِدُونَ نِکَاحًا حَتَّی یُغْنِیَھُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ) ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس بحرانی مسئلے میں اور خدائی آزمائش کے دور میں برائی کے لئے تیار ہوجاوٴ اور اپنے کو معذور سمجھنے لگو کیونکہ ایسا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہے بلکہ اس موقع پر ایمان اور تقویٰ کی قوت کام آنا چاہیے ۔ جہاں بھی غلاموں اور کنیزوں کے بارے میں گفتگو ہو، موقع کی مناسبت سے اسلام ان کی آزادی کی طرف خاص توجہ دلاتا ہے لہٰذا یہاں بھی ان کی شادی کی بات آئی تو ساتھ ہی ”مکاتبت“ کے طریقے سے ان کی آزادی کا ذکر بھی آگیا ہے، مکاتبت کا طریقہ یہ ہے کہ ایک قرارد داد کے ذریعے غلام کام کرتے ہیں اور قسط وار اپنے مالک کو رقم فراہم کرتے ہیں اور اس طرح آزاد ہوجاتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: جو غلام آزادی کے لئے تم سے مکاتبت کا تقاضا کرتے ہیں ان کے ساتھ معاہدہ طے کرلو، اگر ان میں تم رشد اور بھلائی محسوس کرو (وَالَّذِینَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوھُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیھِمْ خَیْرًا) ۔ ”عَلِمْتُمْ فِیھِمْ خَیْرًا“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم دیکھو کہ اس معاہدے کے لئے ان میں کافی رشد وہدایت موجود ہے اور پھر وہ اس پر عمل درآمد کی طاقت بھی رکھتے ہوں اور معاہدے کے لئے ان میں کافی رشد وہدایت موجود ہ ے اور پھر وہ اس پر عمل درآمد بھی رکھتے ہوں اور معاہدے کے مطابق مال ادا کرکے آزادی کی زندگی گزار سکنے کے اہل ہوں اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے اور یہ کام مجموعی طور پر ان کے حق میں نقصان دہ ہو اور نتیجةً وہ معاشرے کے لئے بوجھ بن رہے ہوں تو پھر یہ معاملہ کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھا رکھو کہ جب ان میں یہ صلاحیت اور طاقت ہو ۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ یہ اقساط ادا کرتے ہوئے غلاموں کو زیادہ زحمت ومشقت نہ ہو، قرآن حکیم حکم دیتا ہے: جو مال الله نے تمھیں دیا ہے اس میں سے کچھ انھیں دو (وَآتُوھُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِی آتَاکُمْ) ۔ جو مال غلاموں کو دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس سے کونسا مال مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے زیادہ تر کہتے ہیں کہ مراد زکوٰة کا ایک حصّہ ہے، جیسا کہ سورہٴ توبہ کی آیت ۶ میں آیا ہے انھیں دیا جائے تاکہ وہ اپنا قرض ادا کرسکیں اور آزاد ہوجائیں ۔ بعض دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ غلام کا مالک چند قسطیں اسے بخش دے یا اگر لے چکا ہے تو اسے واپس کردے تاکہ غلامی سے نجات کے لئے زیادہ توانائی حاصل کرلے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ چونکہ کام کے آغاز میں غلام اس قابل نہ ہوگا کہ مال مہیّا کرسکے لہٰذا اخراجات میں اس کی مدد کرنا چاہیے اور کچھ سرمایہ انھیں دینا چاہیے تاکہ وہ کوئی کام کاج شرع کرسکیں، اپنا نظام بھی چلاسکیں اور اپنے قرض کی اقساط بھی ادا کرسکیں ۔ البتہ مذکورہ تینوں تفاسیر باہم ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کہ تمام مفہوم آیت میں جمع ہوں، حقیقی مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان مستضعف ومحروم افراد کی کچھ اس طرح مدد کریں کہ یہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے غلامی سے نجات پالیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”تضع عنہ من نجومہ التی لم تکن ترید ان تنقصہ، ولاترید فوق ما فی نفسہ“. جس چیز کے لینے کا واقعاً تیرا خیال ہو تخفیف تجھے اس میں کرنا چاہیے(4) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ شرعی حیلے بناتے ہیں، یہ بتانے کے لئے ہم نے قرآن کی اس آیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے غلاموں کی مدد کی ہے کہ وہ پہلے ہی سے مکاتبت کی رقم جتنی انھیں لینا ہوتی اس سے زیادہ لکھ لیتے تھے تاکہ تخفیف کرتے وقت زیادہ لکھی ہوئی رقم چھوڑدیں، امام صادق علیہ السلام در اصل اس طرزِ عمل سے منع فرمارہے ہیں ۔ بعض لوگ اپنے مملوکوں سے ایک نہایت ہی قبیح کام لیتے تھے، زیرِ بحث آیت کے آخر میں اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے: دنیا کے زودگزر مال کی خاطر اپنی کنیزوں کو عصمت فروشی پر مجبور نہ کرو، جبکہ وہ پاک پاکیزہ رہنا چاہتی ہیں (وَلَاتُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ إِنْ اٴَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا) ۔ اس جملے کی تفسیر میں بعض مفسرین نے لکھا ہے: عبد الله بن ابی کے پاس چھ کنیزیں تھیں، وہ مال کمانے کے لئے انھیں جسم فروشی پر مجبور کرتا تھا، جس وقت (اس سورہ میں) اسلام نے منافی عفّت عمل کی مخالفت کی اور انھیں ختم کرنے کے لئے اقدام کیا تو وہ کنیزیں رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس مسئلے کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کام سے منع کیا گیا۔ یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ زمانہ ٴ جاہلیت میں لوگ کس قدر اخلاقی پستی میں مبتلا تھے، حتیّٰ کی ظہور اسلام کے بعد بھی لوگ ایسے کام جاری رکھے ہوئے تھے یہاں تک کہ اس آیت نے نازل ہوکر اس شرمناک کیفیت کو ختم کیا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے زمانے میں کہ جسے بعض بیسویں صدی کا زمانہٴ جاہلیت قرار دیتے ہیں ۔ بعض ممالک میں یہ کام بڑے شدومد سے جاری ہے ان میں سے نام نہاد متمدّن اور ترقی یافتہ ملک بھی ہیں اور وہ حقوقِ انسانی کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں، زمانہٴ طاغوت میں یہ کام ہمارے ملک میں بھی وحشتناک صورت میں موجود تھا، معصوم اور سیدھی سادھی لڑکیوں کو فریب دے کر بدکاری کے اڈوں میں لے جاتے تھے اور پھر انھیں شیطانی پھندوں میں جکڑ کر تن فروشی پر مجبور کرتے تھے، اور ان پھندوں سے نکل بھاگنے کے راستے ان پر ہر طرف سے بند کردیتے تھے، اس طریقے سے وہ بے شمار دولت جمع کرتے تھے، اس داستان کی تفصیل بہت دردناک ہے اور ہمارے موضوع سے خارج ہے ۔ اگرچہ ظاہراً غلامی کا پرانا نظام موجود نہیں ہے لیکن آج کی نام نہاد مہذّب دنیا میں ایسے ایسے جرائم ہوتے ہیں کہ جو دورِ غلامی سے کہیں زیادہ وحشتناک ہیں، خدا دنیا کے لوگوں کو ان نام نہاد مہذّب انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے، خدا کا شکر ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد ہمارے ملک میں ان شرمناک اعمال کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”إِنْ اٴَرَدْنَ تَحَصُّنًا“ (اگر وہ پاک رہنا چاہتی ہیں....) کا مطلب یہ نہیں ہے ک ہ اگر خود وہ عورتیں اس کام کی طرف مائل ہوں تو پھر انھیں مجبور کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس طرح کی تعبیر ”منتفی بہ انتفاء موضوع“ کہلاتی ہے کیونکہ ”اکراہ“ (مجبور کرنا) عدم رضا مندی کی صورت میں صادق آتا ہے ورنہ تن فروشی اور اس کے لئے ابھارنا ہر حالت میں گناہ عظیم ہے یہ تعبیر اس لئے ہے کہ اگر ان کنیزوں کے مالک تھوڑی سی بھی غیرت رکھتے ہوں تو انھیں ہوش آئے کہ یہ کنیزیں جنھیں ظاہراً کم تر سمجھا جاتا ہے جب وہ اس گناہ کی طرف مائل نہیں ہیں تو تو تم بہت کچھ بنتے ہو، پھر اس پستی کو کیوں قبول کرتے ہو ۔ قرآن کا اسلوب ہے کہ وہ گناہگاروں کے لئے لوٹ آنے کے دروازے کھلے رکھتا ہے اور توبہ واصلاح کی ترغیب دیتا ہے اس سلسلے میں آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے اور جس کسی نے انھیں ا کام پر مجبور کیا (اور پھر وہ اس پر پشیمان ہوا) تو ان کے جبر کے بعد الله غفور ورحیم ہے (وَمَنْ یُکْرِھُّنَّ فَإِنَّ اللهَ مِنْ بَعْدِ إِکْرَاہِھِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ہوسکتا ہے یہ جملہ کنیزوں کے مالکوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہو کہ جو جبر کی وجہ سے مجبوراً یہ کام کرواتی تھیں ۔ قرآن اپنی روش کے مطابق زیرِ بحث آخری آیت میں گزشتہ مباحث کی طرف مجموعی طور پر اشارہ کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ہم نے تم پر آیات نازل کیں کہ جو بہت سے حقائق واضح کرتی ہیں )وَلَقَدْ اٴَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ) ۔ نیز ہم نے تم سے گزشتہ لوگوں کی مثالیں اور خبریں بیان کی ہیں (وَمَثَلاً مِنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ) ۔ اور یہ سب پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہیں (وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ) ۔ 1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۷، (باب ۱۲ از ابواب مقدمات نکاح) 2۔ ایضاً 3۔ ایضاً 4۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۱۰۶.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:32-34
۱۔ شادی خدائی حکم ہے
موجودہ زمانے میں شاید بیاہ میں اس قدر غلط رسمیں بلکہ خرافات داخل ہوگئی ہیں کہ نوجوانوں کے لئے یہ ایک نہایت پیچیدہ اور دشوار معاملہ بن گیا ہے لیکن ان رسموں سے قطع نظر شادی ایک فطری اور قانونِ آفرینش سے ہم آہنگ تقاضا ہے، انسانی نسل کی بقاء، جسم وروح کی تسکین اور زندگی کی بہت سی مشکلوں کے حل کے لئے صحیح طریقے سے شادی ناگزیر ہے، اسلام کہ جو ہمیشہ فطرت سے ہم آہنگ قدم اٹھاتا ہے اسنے اس سلسلے میں جاذب اور موٴثر باتیں کی ہیں ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث ہے: ”تناکحوا وتناسلوا فانّی اباھی بکم الامم یوم القیامة ولو بالسقط“. شادی کرو تاکہ نسل بڑھے کیونکہ روز قیامت تمھاری تعداد کی کثرت پر فخر کروں گا، یہاں تک کہ سقط شدہ بچوں پر بھی (1) ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: ”من تزوّج فقد اٴحرز نصف دینہ فلیتق الله فی النصف الباقی“. جس نے شادی کی اس نے اپنا آدھا دین محفوظ کرلیا جبکہ باقی آدھے کے بارے میں الله سے ڈرتا رہے اور تقویٰ اختیار کرے (2) ۔ یہ اس لئے کہ انسان میں جنسی قوّت بہت قوی اور سرکش ہوتی ہے، تنہا یہ قوت باقی قوتوں اور صلاحیتوں کا مقابلہ کرتی ہے اور اس حوالے سے انسان کا انحراف اس کے آدھے دین وایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔ ایک اور حدیث میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: ”شرارکم عزابکم“. تم میں سے بدترین افراد غیر شادی اور مجرّد ہیں(3)۔ اسی بناء پر زیرِ بحث آیات میں متعدد روایات مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر شادی افراد کی شادی کروانے میں ہر قسم کی ممکنہ مدد کریں، خصوصاً اسلام نے اولاد کے بارے میں باپ پر سخت ذمہ داری عائد کی ہے اور جو باپ اس اہم مسئلے کی پرواہ نہیںکرتے انھیں اولاد کی کجروی کے جرم میں شریک شمار کیا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے: ”من اٴدرک لہ ولد وعندہ ما یزوجہ فلم یزوجہ، فاحدث فالاثم بینھما“. جس کا بیٹا بالغ ہوجائے اور وہ شادی کے وسائل رکھتا ہو اور پھر بھی ا س کے لئے اقدام نہ کرے اور اس کے نتیجے میں اس کا بیٹا کسی گناہ کا مرتکب ہوجائے تو یہ گناہ دونوں کا لکھا جائے گا (4) ۔ اسی بناء پر تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ شادی کے اخراجات سادہ اور آسان ہونا چاہیں، چاہے وہ حق مہر کی صورت میں ہوں یا کسی اور صورت میں تاکہ اخراجات شادی کی راہ میں حائل نہ ہوں، عموماً زیادہ حق مہر کا مسئلہ آمدنی والے افراد کی شادی کے راستے میں حائل ہوجاتا ہے اس سلسلے میں رسول الله سے ایک حدیث مروی ہے کہ: ”شوم المرئة غلاء مھرھا“. منحوس اور بدبخت ہے وہ عورت کہ جس کا حق مہر بھاری ہو (5) ۔ اسی ضمن میں ایک اور حدیث ہے: ”من شومھا شدّة موٴنتھا“. اس کی نحوست کی ایک نشانی اس کی زندگی (یا شادی) کے اخراجات کا زیادہ ہونا ہے (6) ۔ بہت سے مرد اور عورتیں اس الٰہی اور انسانی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے ایک عذر مالی وسائل نہ ہونے کا پیش کرتے ہیں اس سلسلے میں زیرِ بحث آیات میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ غربت وافلاس شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا بلکہ بہت سی خوشحالی کا باعث بن جاتی ہیں، غور کرنے سے اس کی وجہ بھی واضح ہوجاتی ہے کیونکہ جب تک آدمی اکیلا ہے اور مجرّد ہو اسے ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور استعداد کو پوری طرح بروئے کار نہیں لاتا اور اگر کچھ کماتا ہے تو اسے سنبھال کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتا، اس لئے غیر شادی شدہ افراد عموماً تہی دست ہوتے ہیں لیکن شادی کے بعد انسان کی شخصیت ایک اجتماعی شخصیت بدل جاتی ہے، شادی کے بعد مرد شدّت سے محسوس کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کی حفاظت کرے اور اس کا نان ونفقہ پورا کرے، اس میں خاندان کی آبرو کا احساس ہوتا ہے اور وہ ہونے والی اولاد کے لئے وسائل زندگی مہیّا کرنے کی تگ ودَو کرتا ہے اس لئے پورے شعور سے اپنی صلاحیّت اور استعداد بروئے کار لاتا ہے اور اپنی آمدنی کی حفاظت اور اس میں قناعت کی کوشش کرتا ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ افلاس پر غلبہ حاصل کرلیتا ہے، بلاوجہ نہیں کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الرزق مع النساء والعیال“. روزی بیوی اور بچوں کے ساتھ ساتھ ہے (7)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ: ایک شخص رسول الله کی خدمت میں آیا اس نے آپ سے اپنی تہی دستی کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: تزوج شادی کرو فنزوج فوسع لہ اس نے شادی کی تو اس کے رزق میں فراخی آگئی(8) ۔ اس میں شک نہیں کہ تائید ایزدی اور مخفی روحانی قوتیں بھی ایسے افراد کی مدد کرتی ہیں کہ جو انسانی ذمہ داری پوری کرنے اور پاکدامنی کی حفاظت کے لئے شادی کرتے ہیں، ہر باایمان شخص اس خدائی وعدے پر بھروسہ کرسکتا ہے اس سے ولولہ حاصل کرسکتا ہے اور اس پر ایمان لاسکتا ہے ۔ ایک اور حدیث پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ سلّم سے ان الفاظ میں مروی ہے: من ترک التزویج مخافة العیلة فقد ساء ظنہ بالله انّ الله عزوّجل یقول <إِنْ یَکُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِھِمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ جو شخص غربت کے خوف سے شادی نہ کرے اس نے الله کے بارے میں سوئے ظن کیا کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے: ”اگر وہ غریب ہوئے تو الله انھیں اپنے فضل سے غنی کردے گا“(9)۔ اسلامی کتب میں اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات ہیں اگر ہم ان سب کو نقل کرنے لگیں توبات تفسیری حدود سے بڑھ جائے گی۔ 1۔ سفینة البحار، ج۱، ص۵۶۱ (مادہٴ زوج) 2۔ ایضاً 3 ۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔ 4۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔ 5۔ وسائل الشیعہ، ج۱۵، باب۵، از ابواب المھور، ص۱۰. 6 ۔ ایضاً. 7 ۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ۵۹۵. 8 ۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۵ (باب ۱۱، از ابواب عقد بابِ نکاح) 9۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۵ (باب ۱۱، از ابواب عقد بابِ نکاح)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:32-34
۳۔ عقد مکاتبہ
ہم کہہ چکے ہیں کہ اسلام نے غلاموں کی تدریجی زندگی کا پروگرام دیا تھا، لہٰذا اسلام نے ہر موقع سے ان کی آزادی کے لئے فائدے اٹھانے کے لئے اقدام کیا ہے ان میں سے ایک ”مکاتبت“ کا طریقہ ہے، زیرِ بحث آیت میں ایک حکم کے طور پر اس کا ذکر آیا ہے ۔ ”مکاتبہ“ ”کتابت“ کے مادے سے ہے اور کتابت بنیادی طور پر ”کُتب“ (بروزن ”کسب“) کے مادے سے جمع کرنے کے معنی میں ہے اور جو لکھنے کو ”کتابت“ کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان حروف اور الفاظ کو ایک عبارت میں جمع کردیتا ہے اور مکاتبت میں چونکہ آقا وغلام کے درمیان قرارداد لکھی جاتی ہے لہٰذا اسے مکاتبت کہتے ہیں ۔ ”عقد مکاتبہ“ ایک قسم کی قرارداد ہے کہ جو دو افراد کے درمیان طے پاتی ہے اس میں غلام ذمہ دار ہوتا ہے کہ آزاد محنت مزدوری کے ذریعے مال مہیّا کرے اور اسے قابل عمل قسطوں میں اپنے آقا کو ادا کرے اور آزاد ہوجائے، آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ یہ ساری قسطیں مل کر غلام کی قیمت سے زیادہ ہونا چاہییں ۔ بعض وجوہ کی بناء پر غلام اگر قسطیں ادا کرنے سے قاصر ہو تو وہ قسطیں بیت المال سے یا زکوٰة کے ایک حصّے سے ادا کی جائیں گی تاکہ وہ آزاد ہوجائے، بعض فقہاء نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر زکوٰة خود آقا پر واجب الادا ہو تو وہ غلام کے ذمہ اقساط کا حساب زکوٰة سے کرلے یہ معاہدہ عقدِلازم ہے اور طرفین میں سے کوئی بھی اسے توڑنے کا حق نہیں رکھتا، واضح ہے کہ اس پروگرام کے تحت بہت سے غلام حاصل کرسکیں گے اور جس مدّت میں انھیں کام کرکے اقساط ادا کرنا ہے اس میں وہ اپنے پاوٴں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوجائیں گے اور ان مالکوں کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا اور غلاموں کی کمی کی وجہ سے وہ کوئی منفی ردّعمل بھی ظاہر نہیں کریں گے ۔ مکاتبت کے بارے میں بہت سے فروعی احکام بھی ہیں کہ جن کی تفصیل فقہی کتب میں متعلق باب میں دیکھی جاسکتی ہے ۔