قُل رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِّي مَا يُوعَدُونَ
Say, ‘My Lord! If You should show me what they are promised,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:93
[Pooya/Ali Commentary 23:93]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 23:93-118
God reminds the way in which the hypocrites, who postpone doing even obligatory charity for the simple of this world, when, on their deathbed, will pray unto God, to give them time, to spend out of the treasure which they collect, for wife and children, when no opportunity will be given them. On the Day of Judgment, when the second siren will sound, all relationship will disappear and prove of no use, except intercession, of course, of our Prophet and immaculate Imams. They will come to assistance, for which man should make arrangements in this world and depend on one’s piety and love for his family (Immaculate) to register your claim for intercession. Love involves attachment, i.e. service and as they are pure, service to them is pure of sins. No appeal will prove fruitful and hypocrites will have to bear willy-nilly. They were ridiculing the virtuous for want of faith in the Prophet and text. On seeing the rich records they would feel they lived a day or two in the world. They would be replied, they should have realized the transitory period, when they were therein and it was too late to repent and they will not be forgiven on any account.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:93-98
۲۔ برائی کا جواب بھلائی سے
سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں سے مقابلے کا ایک موٴثر ترین طریقہ یہ ہے کہ انھیں برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دیا ہے، یہ وہ مقام ہے کہ ان کے ضمیر کے اندر ایک ہیجان پیدا ہوگا اور ان کا ضمیر ہی ان کی برائیوں پر انھیں سخت ملامت کرے گا اور حق یاطل کے موازنے میں ان کا ضمیر حق کا ساتھ دے گا، بہت سے مواقع پر یہی امر دشمن کو مائل کردیتا ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی ہے ۔ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ ہدیٰ علیہم السلام کی سیرت اور عملی زندگی میں ہم نے بہت دیکھا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد یا گروہوں کا جواب اچھائی کے ساتھ دیا ہے کہ جو جدید ترین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، ایسے لوگوں سے ان پیشواوٴں نے محبّت کا سلوک کیا ہے اور یہی امر ان کے روحانی انقلاب اور راہِ حق پر آجانے باعث بنا ہے ۔ قرآن نے مندرجہ بالا آیات میں اور دیگر کئی مقامات پر مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ برائیوں کا اس طریقے سے مقابلہ کریں ۔ یہاں تک کہ سورہٴ ”حم السجدہ“ کی آیت ۳۴میں فرمایا گیا ہے: <فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَاٴَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ”اس کام کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نہایت سخت دشمن تمھارے گرم جوش دوست بن جائیں گے“ لیکن، یہ بات بنا کہے واضح ہے کہ یہ حکم خاص مواقع کے لئے، ایسے مواقع کہ جہاں دشمن اس سے غلط فائدہ نہ اٹھائے اور اسے کمزوری پر محمول نہ کرے اور اس کی جرئت وجسارت میں اضافہ نہ ہو ۔ نیز اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ سازشوں اور شیطانی وسوسوں کے سامنے سرتسلیم خم کردیا جائے ۔ شاید اسی بناء پر مندرجہ بالا حکم کے فوراً بعد قرآن، رسول الله کو حکم دیتا ہے کہ شیطانی وسوسوں اور شیطانوں کے اپنے ہاں آنے سے خدا کی پناہ مانگو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:93-98
شیطانی وسوسوں سے پناہ بخدا
گذشتہ آیات میں ہٹ دھرم کافروں اور مشرکوں کو سرزنش کی گئی ہے، جبکہ زیرِ نظر آیات میں روئے سخن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف ہے، لیکن سلسلہ کلام وہی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: اے رسول کہہ دو: پروردگارا! وہ عذاب کہ جس کا تونے ان سرکش لوگوں کے بارے میں وعدہ کیا ہے، اگر تو مجھے دکھائے (قُلْ رَبِّ إِمَّا تُرِیَنِّی مَا یُوعَدُونَ) ۔ تو اے میرے رب! یہ عذاب نازل کرتے ہوئے مجھے اس ظالم قوم میں سے قرار نہ دینا (رَبِّ فَلَاتَجْعَلْنِی فِی الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ) ۔ میری دعا ہے کہ جس وقت تیرا قطعی عذاب انھیں دامن گیر ہو تو مجھ پر احسان فرمانا اور مجھے اس کی ہلاکت انگیزوں سے بچائے رکھنا اور میری دعا ہے کہ اس وقت میں ان ظالموں میں نہ ہوں ۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلّم کے عمل میں کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ وہ بھی عذاب الٰہی کی زد میں آجاتے اور اس میں شک نہیں کہ عدالتِ الٰہی سے جاری ہونے والے فرمانِ سزا کی زد میں ہر خشک وتر نہیں آجاتا ، یہاں تک کہ اگر ایک عظیم مملکت میں صرف ایک شخص خدا پرست اور فرض شناس ہو تو دوسروں کو سزا دیتے ہوئے الله تعالیٰ اس کو بچالے گا ۔ لیکن حکم خدا سے رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کسی اس دعا کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ کافروں اور مشرکوں کے لئے خطرے کا الارم ہو کہ سزا کا معاملہ اس قدر یقینی ہے کہ خود رسولِ عظیم اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے تئیں خدا کے سپرد کردیں اور اس سے نجات کی درخواست کریں ۔ دوسرا یہ کہ یہ بات اس رسول کے تمام پیروکاروں کے لئے بھی درس ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہرگز عذابِ الٰہی سے مامون نہ سمجھیں اور اپنے آپ کو ہر حالت میں اس کے سپرد کریں ۔ ۱۔ مندرجہ بالا آیات میں ”امّا“ ”ان“ اور ”ما“ زائدہ کا مرکب ہے، یہاں یہ لفظ تاکید کے لئے آیا ہے اور عام طور پر اس بناء پر کہ ”انْ“ شرطیہ فعل پر داخل ہوسکے جوکہ ”نون تاکید“ کے ساتھ ہو لفظ ”ما“ کا فاصلہ ہونا چاہیے ۔ رہا یہ سوال کہ اس عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے؟ تو اس سلسلے میں بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے مشرکین پر آنے والا وہ دنیاوی مراد ہے کہ جو جنگ بدر میں ان کی رسوا کن شکست کی صورت میں سامنے آیا(1)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سورہٴ مومنون مکّی ہے اور ان دنوں مومنین سخت دباوٴ میں تھے، یہ آیات ان کے لئے ایک طرح سے دل حوئی اور تسلی خاطر ہیں (اس کی نظیر سورہٴ یونس کی آیت ۴۶ بھی ہے( لیکن بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے عذابِ دنیا اور عذاب آخرت دونوں مراد ہیں (2) ۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں مزید تاکید کے لئے دشمنوں کے ہر قسم کے شک کو دور کرنے کے لئے اور رسول الله اور مومنین کی دلجوئی کے لئے اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: ہم یقیناً قادر ہیں کہ جس عذاب کا ان کے لئے ہم نے وعدہ کیا ہے وہ تھے دکھائیں (وَإِنَّا عَلیٰ اٴَنْ نُرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقَادِرُونَ) ۔ چنانچہ ہم جانتے ہیںکہ اس تاریخ کے بعد جنگ بدر میں اور دیگر مواقع پر الله کی اس قدرت کے مظاہر دیکھنے میں آئے اور ظاہراً چھوٹا سا کمزور لشکر الله کے حکم اور قوتِ ایمان سے دشمنوں کی بڑی تعداد پر کامیاب وکامران ہوا ۔ اس کے بعد رسول الله کو ان لوگوں کے ساتھ حسنِ کریمی سے پیش آنے کے لئے کہاگیا ہے: اور ان کی برائیوں کو عفو و درگزر اور اچھائی کے ساتھ دُور کرو اور ان کی غیر پسندیدہ باتوں کا بہترین منطق کے ساتھ جواب دو (ادْفَعْ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ السَّیِّئَةَ) ۔ اس سلسلے میں جلدی نہ کرو اور جان لو کہ جو کچھ باتیں وہ کرتے ہیں ہم اس سے زیادہ آگاہ ہیں (نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَا یَصِفُونَ) ۔ ہم جاتے ہیں کہ ان ناشائستہ حرکات اور اذیتناک باتیں تمھارے لئے پریشان کن اور تکلیف دہ ہیں لیکن تمھیں نہیں چاہیے کہ ان سختیوں اور بدگوئیوں کا ویسا ہی جواب دو تم ان کی برائی کا جواب اچھائی سے دو کیونکہ یہ روش بذاتِ خود غافل اورفریب خوردہ افراد کی بیداری کے لئے نہایت موٴثر ہے ۔ مگر اس کے باوجود اپنے تئیں الله کے سپرد کردو اور ”کہو: اے میرے رب! میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں (وَقُلْ رَبِّ اٴَعُوذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ) ۔ نہ صرف ان کے غافل کردینے والے وسوسوں سے تیری پناہ کا طالب ہوں بلکہ اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں (وَاٴَعُوذُ بِکَ رَبِّ اٴَنْ یَحْضُرُونِی) ۔ وہ میری محفل میں بھی نہ آئیں کیونکہ ان کی موجودگی گمراہ کن اور نقصان دہ ہے ۔ 1۔ تفسیر مجمع البیان، المیزان، فی ظلال القرآن، روح المعانی اور تفسیر ابوالفتوح رازی، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں ۔ 2۔ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:93-98
سوره مؤمنون / آیه 93 - 98
۹۳ قُلْ رَبِّ إِمَّا تُرِیَنِّی مَا یُوعَدُونَ ۹۴ رَبِّ فَلَاتَجْعَلْنِی فِی الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ۹۵ وَإِنَّا عَلیٰ اٴَنْ نُرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقَادِرُونَ ۹۶ ادْفَعْ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ السَّیِّئَةَ نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَا یَصِفُونَ ۹۷ وَقُلْ رَبِّ اٴَعُوذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ ۹۸ وَاٴَعُوذُ بِکَ رَبِّ اٴَنْ یَحْضُرُونِی ترجمہ ۹۳۔ کہہ دو: پروردگارا! جس عذاب کی دھمکی دی گئی ہے، اگر مجھے تو وہ دکھائے ۔ ۹۴۔ تو اے میرے رب! (یہ عذاب نازل کرتے ہوئے) مجھے اس ظالم قوم میں سے قرار نہ دینا ۔ ۹۵۔ اور ہم قادر ہیں کہ تجھے وہ کچھ دکھائیں کہ جس کا ہم نے ان کے لئے وعدہ کیا ہے ۔ ۹۶۔ برائی کو بہتر طریقے سے دفع کرو (اور برائی کا جواب اچھائی سے دو) جو باتیں وہ کرتے ہیں، ہم ان سے زیادہ آگاہ ہیں ۔ ۹۷۔ اور کہہ دو: پروردگارا! شیطانوں کے وسوسوں سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ۹۸۔ اور میرے رب! میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:93-98
۱۔ ”ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ“ کیا ہے؟
”ھمزات“ ”ھمزة“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے شدّت کے ساتھ دفع اور تحریک۔ حرف ہمزہ کو اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ گلے کے آخری حصّے سے شدت کے ساتھ نکلتا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک ”ھمز“ ”غمز“ اور ”رمز“ کے ایک ہی معنی ہیں البتہ ”رمز“ خفیف مرحلے کے لئے ہے ”غمز“ شدید تر اور ”ھمز“ نہایت شدید مرحلے کے لئے ہے(1) ۔ ”شیاطین“ جمع ہے اور اس کے مفہوم میں جنوں اور انسانوں میں موجود تمام پنہاں وآشکار شیطان شامل ہیں ۔ تفسیر علی ابن ابراہیم میں ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف مقامِ عصمت کے حامل ہونے کے باوجود اس سے یہ دعا کرتے ہیں دو سروں کی حالت واضح ہے، لہٰذا تمام مومنین کو چاہیے کہ وہ اپنے مالک ومدبر پروردگار سے دعا کریں کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی انھیں اپنے حال پر نہ چھوڑے، نہ صرف شیطانی وسوسوں سے بچائے بلکہ ان کی محفلوں کو بھی شیطانی وجود سے پاک رکھے، راہِ حق کے تمام راہیوں کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے ڈرتے رہیں، اور ہمیشہ اپنے تئیں پناہِ خدا میں دیئے رکھیں (2) ۔ 1۔ تفسر ابوالفتوح رازی . 2 ۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۵۲.