بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُونَ
Indeed, they say, just like what the former peoples said.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:81
[Pooya/Ali Commentary 23:81]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:81-90
۱۔ کچھ الفاظ کے معانی
”اساطیر“ ”اسطورة“ کی جمع ہے، اہل لغت کے بقول یہ دراصل ”سطر“ کے مادہ سے ”صف“ کے معنی میں ہے، اسی لئے جو الفاظ ایک ہی صف میں آجائیں انھیں ”سطر“ کہتے ہیں ۔ ”اسطورة“ ایسی سطروں اور تحریروں کو کہتے ہیں کہ جو دوسرں یادگار کے طور پر رہ جائیں، گذشتہ لوگوں کی تحریروں میں چونکہ افسانے اور خرافات موجود ہیں اس لئے عام طور پر یہ لفظ جھوٹی اور افسانوی داستانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن کریم میں لفظ ”اساطیر“ نو مرتبہ آیا ہے، ہر مرتبہ بے ایمان کافروں کے حوالے سے آیا ہے، وہ انبیاءعلیہ السلام کی مخالفت کرنے کی توجیہ کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ جیسا کہ پہلی جلد میں سورہٴ حمد کی تفسیرمیں ہم نے کہا ہے: ”رب“ ”مالک مصلح“ کے معنی میں ہے لہٰذا یہ لفظ ہر چیز مالک کے لئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس مالک کو رب کہتے ہیں کہ جو اپنی مالکیت کی اصلاح، حفاظت اور تدبیر کے درپے ہو، اس بناء پر بعض اوقات یہ لفظ تربیت وپرورش کرنے والے کے معنیٰ میں بھی آیا ہے ۔ ”ملکوت“ ”ملک“ (بروزن”حکم“) کے مادے سے حکومت ومالکیت کے معنیٰ میں ہے اور ”و“ اور ”ت“ کا اضافہ تاکید اور مبالغے کے لئے ہے ۔ ”عرش“ اور نچلے پاوٴں والے کے تحت کے معنیٰ میں ہے، علاوہ ازیں ”چھت“ انگور کی بیل والی اور جس پر بیٹھ کر معیار لوگ تعمیر کام کرتے ہی، اُس پاڑ کو بھی عرش کہتے جب یہ لفظ پروردگار کے حوالے سے استعمال ہو تو اس کا معنیٰ ہے ”تمام ہستی“ اور ”پوری کائنات“ کہ جو درحقیقت الله کا تختِ حکومت شمار ہوتا ہے، لیکن کبھی یہ لفظ ماورائے عالم طبیعات کے لئے بولا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں عالمِ طبیعات کے لئے لفظ ”کرسی“ استعمال ہوتا ہے مثلاً ”وسیع کرسیہ السموٰات والارض“ (بقرہ/۲۵۵)(1). 1۔ ”عرش“کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد۶ میں سورہٴ اعراف کی آیت۵۴ کے ذیل میں ہم نے تفصیلی گفتگو کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:81-90
فیصلہ تمھارا ضمیر کرے
گذشتہ آیات میں توحید اور قیامت کے منکرین کو عالم ہستی اور آیات انفس وآفاق میں خود غور وفکر کرنے کی دعوت دی گئی تھی، زیرِ بحث آیات میں مزید فرمایا گیا ہے کہ وہ عقل وفکر کو چھوڑ کر اپنے بڑے بوڑھوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں، وہ بس وہی کہتے ہیں جو ان کے پیش رو کہتے تھے (بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْاٴَوَّلُونَ) ۔وہ حیرت کہتے تھے کہ ”کیا جب ہم مرکر مٹی اور بوسیدہ ہڈی ہوجائیں گے پھر بھی دوبارہ اٹھیں گے(قَالُوا اٴَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ)(1) ۔ ہمیں تو اس بات پر یقین نہیں آتا، یہ تو جھوٹے وعدے ہیں، ایسے وعدے ہم سے بھی ہوتے ہیں اور ہمارے آباء واجداد سے بھی کئے جاتے رہے (لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ) ۔ اور یہ تو پہلے لوگوں کے قصّے کہانیاں ہیں (إِنْ ھٰذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ) (2)۔ پھر سے خلقت ایک افسانہ ہے، حساب وکتاب بھی ایک افسانہ ہے اور بہشت ودوزخ بھی افسانہ ہیں ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ہر موقع پر خود مشرکین سے اعتراف کروایا گیا ہے اور انہی کی بات ان کی طرف لوٹائی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے کہو: زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کی ملکیت ہے بتاوٴ: اگر تم جانتے ہو ۔ (قُلْ لِمَنْ الْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیھَا إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ) ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: فطرت کی پکار اور عالمِ ہستی کے خالق پر اپنے اعتقاد کی بناء پر وہ کہتے ہیں، زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس کی ملکیت الله کے ہاتھ ہے (سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ) ۔ اب تم ان سے کہو: جب ایسا ہے اور تم خود بھی اعتراف کرتے ہو تو پھر کیوں متوجہ نہیں ہوتے (قُلْ اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ) ۔ اس واضح اعتراف کے باوجوود موت کے بعد انسان کی زندگی کو کیوں بعید کہتے ہو اور اسے خدائے عظیم کی وسیع قدرت سے کیوں دور جانتے ہیں؛ ان سے پوچھو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے (قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ) ۔ اس سوال پر بھی وہ فطری پکار اور عالمِ ہستی کے خالق کے حوالے سے خدا پر اپنے اعتقاد کے باعث کہتے ہیں: یہ سب کچھ الله لئے ہے (سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ) ۔ جب وہ یہ صریح اقرار کرتے ہیں تو کہو: تم خود اس حقیقت کے معترف ہو تو پھر الله سے ڈرتے کیوں نہیں ہو اور حیاتِ نو کی طرف بازگشت کا انکار کیو کرتے ہو (قُلْ اٴَفَلَاتَتَّقُونَ) ۔ پھر ان کے آسمانوں اور زمین کی حاکیمت کے بارے میں سوال کرو کہ ”کون ہے جس کے ہاتھوں میں تمام موجودات کی حکومت ہے“ (قُلْ مَنْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ) ۔ کون ہے جو بے سہاروں کو پناہ دیتا ہے اور جو کسی کو پناہ دینے کا محتاج بھی نہیں (وَھُوَ یُجِیرُ وَلَایُجَارُ عَلَیْہِ) اگر تم واقعاً ان حقائق سے آگاہ ہو (إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ) ۔ پھر وہ اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملکیت، حاکمیت اور پناہ دینا الله میں منحصر ہے (سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ) ۔ کہو: پھر تم کیونکر کہتے ہو کہ رسول نے تم پر جادو کردیا ہے اور تم مسحور ہوگئے ہو (قُلْ فَاٴَنَّا تُسْحَرُونَ) ۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ جن کا ت ہر مرحلے پر خود اعتراف ہو، اسے مالک ہستی جانتے ہو اور اُسے خالق ہستی مانتے ہو اور اسے مدیر ومدبّر اور حاکم وپناہ گاہ شمار کرتے ہو جس کی ذات قدرت کا یہ عالم ہو اور جس کی حکومت کا دامن اتنا وسیع ہو، کیا وہ مٹی سے پیدا کئے ہوئے انسان کو دوبارہ متی بننے کے بعد لباس حیات پہناکر محشور نہیں کرسکتا؟ تم حقائق سے کیوں منھ موڑتے ہو؟ تم رسول اسلام کو جادوگر یا دیوانہ کیوں کہتے ہو، جبکہ دل کی گہرائیوں میں ان حقائق کے معترف ہو ۔ آخر میں ایک مجموعی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جادو ہے یہ دیوانگی، ”بلکہ ہم ان کے لئے حق لے کر آئے ہیں اور اسے واضح کیا ہے، جس کو وہ جھوٹ بولتے ہیں“ (بَلْ اٴَتَیْنَاھُمْ بِالْحَقِّ وَإِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ) ۔ حقائق بیان کرنے میں ہماری اور ہمارے انبیاء کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوگی، کوتاہی سراسر ہے کہ آنکھیں بند کئے غلط راہ پر چل پڑے اور پھر ہٹ دھرمی کے ساتھ اس راستے پر چلتے جارہے ہو ۔ ۔ ”تراب“ ”مٹی کا مرکز“ ”عظام“ (ہڈیوں)سے پہلے اس بناء پر کہ مٹی کا پھر سے پہلی زندگی پانا ہڈیوں کی نسبت عجیب تر ہے یا پھر اس طرف اشارہ ہے کہ ہمارے بڑے بزرگ مٹی ہوگئے ہیں اور بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہیں یا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ پہلے انسان کا گوشت مٹی ہوتا ہے اور پھر ہڈیاں مٹی میں تبدیل ہوتی ہیں ۔ . کفار ومشرکین سب سے زیادہ قیامت کے خیال سے خوف کھاتے تھے، اس لئے طرح طرح کے بہانوں اور لعن وطنز سے اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ قرآن نے معاد وقیامت کے بارے میں تاکیداً اور تفصیلاً گفتگو کی ہے، اس ضمن میں زیرِ بحث آیات میں تین حوالوں سے منکرین قیامت کی فضول منطق کی سرکوبی کی گئی ہے، ایک تو وسیع عالم ہستی پر الله کی مالکیت کے حوالے سے، دوسرا اس کی ربوبیت کے حوالے سے اور تیسرا سارے عالم پر اس کی حاکیت کے حوالے سے، قرآن ان تمام مباحث سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ الله ہر لحاظ سے سے معاد پر قدرت رکھتا ہے اور اس کی عدالت وحکمت کا تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک عالم آخرت بھی ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:81-90
سوره مؤمنون / آیه 81 - 90
۸۱ بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْاٴَوَّلُونَ ۸۲ قَالُوا اٴَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ۸۳ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ إِنْ ھٰذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ۸۴ قُلْ لِمَنْ الْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیھَا إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۸۵ سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ قُلْ اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ ۸۶ قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ۸۷ سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ قُلْ اٴَفَلَاتَتَّقُونَ ۸۸ قُلْ مَنْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ وَھُوَ یُجِیرُ وَلَایُجَارُ عَلَیْہِ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۸۹ سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ قُلْ فَاٴَنَّا تُسْحَرُونَ ۹۰ بَلْ اٴَتَیْنَاھُمْ بِالْحَقِّ وَإِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ ترجمہ ۸۱۔ انھوں نے وہی کچھ کہا، جو ان کے پیش روکہا کرتے تھے ۔ ۸۲۔ انھوں نے کہا: کیا جب ہم مرکر مٹی اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہوجائیں گے پھر دوبارہ اٹھیں گے ۔ ۸۳۔ یہی وعدہ ہم سے اور پہلے ہمارے آباء واجداد سے کیا جاتا رہا ہے، یہ تو گئے لوگوں کے قصّے ہیں ۔ ۸۴۔ کہو بھلا یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کے ہاتھ میں ہاتھ میں ہے بولو! ۸۵۔ (تمھارے جواب میں) کہتے ہیں! سب کچھ الله کے ہاتھ ہے، تو کہو! کیا تم متوجہ نہیں ہوتے ہو؟ ۸۶۔ کہو، کون ہے، سات آسمانوں اور عرش اعظم کا پروردگار؟ ۸۷۔وہ کہتے ہیں: یہ سب کچھ الله کے لئے ہے، تو کہو: کیا پھرتم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو (اور الله سے ڈرتے نہیں ہو)؟ ۸۸۔ کہو! اگر سچ کہو تو بتاوٴ کہ تمام موجودات کی حکومت کس کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور وہی ہے کہ جو پناہوں کو پناہ دیتا ہے اور پناہ دینے کا وہ محتاج بھی نہیں ۔ ۸۹۔ وہ کہتے ہیں: (یہ سب کچھ) الله کے ہاتھ ہے، تو کہو: اس کے باوجود (پھر) تم کس طرح کہتے ہو کہ تم پر جادو کیا گیا ہے ۔ ۹۰۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اُن کے سامنے حق پیش کردیا ہے اور وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:81-90
۳۔ آیات کے آخری حصّے کا فرق
یہ بات لائق توجہ ہے کہ پہلے سوال وجواب کے آخر میں فرمایا گیا ہے ۔ ”اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ“ (کیا تم توجہ نہیں کرتے ہو) ۔ جبکہ دوسرے سوال وجواب میں آخر میں ہے: ”اٴَفَلَاتَتَّقُونَ“ (کیا الله سے ڈرتے نہیں ہو؟) ۔ اور تیسرے سوال وجواب کے آخر میں ہے: ”فَاٴَنَّا تُسْحَرُونَ“ (پس تم کیونکر کہتے ہو کہ تم پر جادو کردیا گیا ہے) ۔ درحقیقت یہ تنبیہ اور سرزنش ہے کہ جو مرحلہ مرحلہ شدید ہوتی جاتی جارہی ہے، منطقی طرزِ تعلیم کا ایک انداز یہ ہے کہ تین دلائل کے ذریعے کسی کو مغلوب کرنا ہو پہلے سرزنش کچھ کم ہوتی ہے پھر شدید ہوجاتی ہے اور آخر میں زیادہ شدید انداز میں ملامت کی جاتی ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:81-90
۳۔ آیات کے آخری حصّے کا فرق
یہ بات لائق توجہ ہے کہ پہلے سوال وجواب کے آخر میں فرمایا گیا ہے ۔ ”اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ“ (کیا تم توجہ نہیں کرتے ہو) ۔ جبکہ دوسرے سوال وجواب میں آخر میں ہے: ”اٴَفَلَاتَتَّقُونَ“ (کیا الله سے ڈرتے نہیں ہو؟) ۔ اور تیسرے سوال وجواب کے آخر میں ہے: ”فَاٴَنَّا تُسْحَرُونَ“ (پس تم کیونکر کہتے ہو کہ تم پر جادو کردیا گیا ہے) ۔ درحقیقت یہ تنبیہ اور سرزنش ہے کہ جو مرحلہ مرحلہ شدید ہوتی جاتی جارہی ہے، منطقی طرزِ تعلیم کا ایک انداز یہ ہے کہ تین دلائل کے ذریعے کسی کو مغلوب کرنا ہو پہلے سرزنش کچھ کم ہوتی ہے پھر شدید ہوجاتی ہے اور آخر میں زیادہ شدید انداز میں ملامت کی جاتی ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:81-90
۲۔ معاد پر ایمان، قدرتِ خدا کے حوالے سے
آیات قرآن سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ منکرین معاد کو زیادہ اس امر پر حیرت تھی کہ خاک ہونے کے بعد انسان کس طرح جی اٹھیں گے، اسی لئے معاد وقیامت کے بارے میں زیادہ تر آیات قدرتِ خدا کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں عالمِ ہستی سے مختلف مثالیں اور نمونے بیان کئے گئے ہیں تاکہ حیات بعد از ممات کے بارے میں ان کا تعجب ختم ہو ۔ زیر بحث آیات میں تین حوالوں سے اس مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے ۔ پہلے زمین اور زمین پر رہنے والوں کے حوالوں سے، پھر آسمان اور عرش عظیم کے حوالے سے اور آخر میں عالمِ خلقت کی تدبیر اور کائنات کا نظام چلانے کے حوالے سے ۔ اس لحاظ سے یہ تینوں ایک ہی مفہوم کا مصداق ہیں: یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تینوں مطالب منکرین معاد کے ایک ہی لقطہٴ نظر کی طرف اشارہ ہوں، مطلب یہ ہے کہ اگر تمھارا انکار اس بناء پر ہے کہ خاک شدہ انسان مالکیت الٰہی کی قلمرو سے نکل جائیں گے تو یہ غلط ہے، کیونکہ تم خود الله کی زمین اور زمین سے ہر شے کا مالک سمجھتے ہو اور اگر تم کہتے ہو کہ مُردوں کی حیاتِ نو کے بعد تدبیرِ عالم پر اعتراض ہے تو یہ بھی بے جا ہے کیونکہ تم قبول کرتے کرچکے ہو کہ تمام عالم ہستی پر وہ قادر ہے اور تمام موجودات اُس کی پناہ میں ہیں اس لحاظ سے تمھارے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ تینوں مواقع پر کفّار نے ”سیقولون الله“ کہا اور جواب کی یہ ہم آہنگی پہلی تفسیر کو تقویت دیتی ہے ۔