أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ أَمْ جَاءَهُم مَّا لَمْ يَأْتِ آبَاءَهُمُ الْأَوَّلِينَ
Have they not contemplated the Discourse, or has anything come to them [in it] that did not come to their forefathers?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:68
[Pooya/Ali Commentary 23:68] (see commentary for verse 63)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:68-74
۱۔ حق پرستی اور خواہشات پرستی
زیرِ بحث آیات میں خدا پرستی اور خواہشات پرستی کے تضاد کی طرف ایک پُر معنیٰ اشارہ کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ ”اگر حق لوگوں کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو نہ صرف زمین اور اہلِ زمین بلکہ آسمان بھی درہم وبرہم ہوجائیں ۔ اس مسئلہ کا تجزیہ کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے؛ کیونکہ: ۱۔ اس میں شک نہیں کہ لوگوں کی خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں اور زیادہ تر ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں بلکہ یہاں تک کہ سا ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی شخص کی مختلف خواہشات باہم متضاد ہوتی ہیں ۔ ان حالات میں اکر حق ان خواہشات کی پیروی کرے تو نتیجہ پراگندگی وتباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔ ۲۔ تضادات سے قطع نظر لوگوں کی بہت سی خواہشات فساد انگیز اور برائی پر مبنی ہوتی ہیں، اگر ان خواہشات کے مطابق نظامِ عالم چلانے کی کوشش کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ فتنہ وفساد اور تباہی اور بربادی ہوگا ۔ ۳۔ انسان کی نفسانی خواہشات ہمیشہ ایک پہلو کی حامل ہوتی ہیں اور ان کی نگاہ صرف ایک زاویے پر ہوتی ہے، یہ خواہشات دیگر پہلووٴں سے غافل ہوتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ فساد اور تباہی کے عوامل میں سے ایک اہم عامل یہ ہے کہ کسی چیز کے ایک ہی پہلو کو مدّنظر رکھا جائے اور اس کے دیگر پہلووٴں کو نظر انداز کردیا جائے ۔ زیرِ بحث آیت کے کئی حوالوں سے اس آیت سے مشابہت رکھتی ہے ۔ <لَوْ کَانَ فِیھِمَا آلِھَةٌ إِلاَّ اللهُ لَفَسَدَتَا ”اگر آسمان و زمین میں الله کے علاوہ اور معبود ہوں تو ان میں فساد برپا ہوجائے“(انبیاء/۲۲). واضح ہے کہ حق ”صراط مستقیم“ کی طرح ایک ہی ہے، یہ تو نفسانی خواہشات ہیں جو خیالی خداوٴں کی طرح بہت سی ہیں ۔ اب دیکھنا چاہیے کہ حق اور نفسانی خواہشات کے تضاد وکشمکش میں کس کی پیروی کی جائے؟ خواہشات کی کہ جو زمین وآسمان اور موجودات کی تباہی کا بعث ہے یا حق کی کہ جو وحدت ویکتائی اور نظم وہم آہنگی کا سبب ہے ۔ اس تجزیے کا نتیجہ اور اس سوال کا جواب خوب واضح ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:68-74
منکرین کی بہانہ سازیاں
گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ کافر لوگ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منھ موڑ لیتے تھے اور تکبر کا مظاہرہ کرتے تھے ۔ زیرِ نظر آیات میں اس سلسلے میں ان کے حیلے بہانوں کا دنداں شکن جواب دیا گیا ہے، ضمناً ان کی اس روگردانی کے حقیقی اسباب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا انھوں نے اس کلام (آیاتِ الٰہی) پر غور نہیں کیا (اٴَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ) ۔ جی ہاں! اُن کی بدبختی کا پہلا سبب یہ ہے کہ وہ تیری دعوت پر غور وفکر نہیں کرتے، کیونکہ اگر وہ غور وفکر کرتے تو ان کی مشکلات حل ہوجاتیں ۔ مزید فرمایا گیا ہے: یا کیا اُن کی طرف ایسی بات آئی ہے، جو ان کے آباء واداد کی طرف نہ آئی تھی (اٴَمْ جَائَھُمْ مَا لَمْ یَاٴْتِ آبَائَھُمَ الْاٴَوَّلِینَ) ۔ یعنی اگر توحید وقیامت پر ایمان کی دعوت اور ان کی نیکی وپاکیزگی اپنانے کی دعوت تیری طرف سے ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ بہانہ نہ کرے کہ یہ تو نئی باتیں ہیں کہ جنھیں ہم قبول نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ دعوت اگر حق تھی تو الله نے گذشتہ لوگوں کی طرف کیوں نہ بھیجی جبکہ ان کی نگاہِ لطف تو سب انسانوں پر ہے ۔ لیکن تیری دعوت کے اصول اور بنیادیں بعینہ وہی ہیں جو تمام انبیاء کی دعوت تھیں، لہٰذا یہ تمام بہانہ سازیاں بے معنیٰ ہیں ۔ مزید فرمایا گیا ہے: یا کیا انھوں نے رسول کو پہچانا نہیں، اس لئے انکار کرتے ہیں (اٴَمْ لَمْ یَعْرِفُوا رَسُولَھُمْ فَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ) ۔ یعنی اگر یہ دعوت کسی مشکوک شخص کی طرف سے ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ کہتے کہ باتیں تو اس کی حق ہیں، لیکن وہ خود اجنبی شخص ہے، لہٰذا اس کی ظاہری باتوں سے فریب نہیں کھایا جاسکتا، لیکن یہ تیرے ماضی کو خوب جانتے ہیں، ”امین“ کہہ کر پکارتے ہیں، تیری عقل ودانش اور امانت داری کے معترف ہیں، تیرے والدین اور خاندان کو اچھی طرح پہچانتے ہیں، لہٰذا ایسے بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: یا کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے (اٴَمْ یَقُولُونَ بِہِ جِنَّةٌ) ۔ یعنی کیا ان کا کہنا ہے کہ اس ذات وشخصیت کو ہم اچھی طرح پہچانتے ہیں، وہ مشکوک شخصیت نہیں ہے، کیونکہ اس کے افکار ماحول سے ہم آہنگ اور خلاف معمول ہیں اور یہ اس کی دیوانگی کی دلیل ہے ۔ قرآن فوراً اس بہانہ سازی کی نفی کے لئے کہتا ہے: ”رسول اُن کے لئے حق لے کر آیا ہے“ اور اس کی باتیں اس حقیقت پر شاہد ہیں (بَلْ جَائَھُمْ بِالْحَقِّ) ”حق انھیں ناگوار ہے“ (وَاٴَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کَارِھُونَ) ۔ جی ہاں! یہ کلام حکیمانہ ہے، البتہ ان لوگوں کو خواہشات ہوس آلود ہیں، اس لئے یہ کلام ان سے ہم آہنگ نہیں، لہٰذا یہ اسے جھٹلاتے ہیں اور اسے دیوانگی کی باتیں قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ حق لوگوں کے میلانات کے تابع نہیں ہوا کرتاکیونکہ ”اگر حق ان کی ہوا وہوس کی پیروی کرتا اور عالم ہستی ان کی خواہش کے مطابق گردش کرتا تو آسمان وزمین اور جوکچھ ان کے درمیان ہے، سب درہم وبرہم ہوجاتا (وَلَوْ اتَّبَعَ الْحَقُّ اٴَھْوَائَھُمْ لَفَسَدَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیھِنَّ ) ۔ کیونکہ لوگوںکی خواہشات معیار نہیں ہیں بلکہ اس سے قطع نظر بہت سے مواقع اور برائیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اگر عالمِ ہستی کے قوانین ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو نظامِ عالم تباہی وبربادی کا شکار ہوجاتا ۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: بلکہ ہم نے انھیں قرآن دیا ہے کہ جو تذکر اور یاد دہانی ہے، الله کی طرف توجہ کا ذریعہ ہے اور ان کے لئے شرف وآبرو کا باعث ہے، لیکن انھوں نے اس سے روگردانی کرلی ہے (بَلْ اٴَتَیْنَاھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُعْرِضُونَ )(1) ۔ اس سلسلہ کلام کے آخری مرحلہ میں فرمایا گیا ہے: کیا حق سے فرار وہ اس بہانے سے کرتے ہیں کہ تو ان سے کسی اجرت کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ تیرے لئے بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے ( اٴَمْ تَسْاٴَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ)(2) ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر ایک روحانی رہبر اپنی دعوت پر لوگوں سے مادی اُجرت کا تقاضا کرے تو اس سے بہانہ ساز لوگوں کے ہاتھ ایک بات آجاتی ہے اور ہوسکتا ہے وہ کہیں کہ ہم اس کا معاوضہ ادا نہیں کرسکتے، اس بناء پر اُس سے دور ہوجائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ الزام کریں کہ یہ مادی مفادات کے حصول کے لئے تبلیغ کرتا ہے ۔ بہرحال قرآن مجید ایک منھ بولتے بیان کے ذریعے واضح کرتا ہے کہ یہ دل کے اندھے حق کو قبول نہیں کرتے اور مخالفت کے لئے جو عذر وبہانے تراشتے ہیں، سب بے بنیاد ہیں ۔ مذکورہ بیان سے ایک مجموعی نتیجہ نکالتے ہوئے اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یقیناً تو انھیں صراط مستقیم کی دعوت دیتا ہے (وَإِنَّکَ لَتَدْعُوھُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) ۔ ایسی راہ مستقیم کہ جس کی نشانیاں نمایاں ہیں اور جو تھوڑے غور وفکر سے پہچانی جاتی ہے، ہم جانتے ہیں کہ دو لفظوں کے درمیان خط مستقیم ایک ایسا فاصلہ ہے کہ جو مختصر ترین ہوتا ہے اور یہ ایک خط سے زیادہ نہیں ، جبکہ ادھر اُدھر کے انحرافی راستے اور فاصلے بے شمار ہوتے ہیں ۔ بعض روایات کے مطابق ”صراط مستقیم“ سے مراد ولایتِ علی بن ابی طالب علیہ السلام ہے(3). البتہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ایسی روایات میں آیات کے بعض واضح مصادیق کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے اس کے دیگر مصادیق ومفاہیم کی نفی ہوجاتی ہے، مثلاً قرآن، مبداء، معاد، ایمان، تقویٰ، جہاد اور عدل وغیرہ صراط مستقیم کا مصداق ہیں ۔ اگلی آیت میں اس کا فطری نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقیناً وہ اس راستے سے منحرف ہیں (وَإِنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ عَنْ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُونَ) ۔ ”َناکب“ ”َنکب“ اور ”َنکوب“ کے مادہ سے راستے سے انحراف کے معنیٰ میں ہے ۔ واضح ہے کہ اس آیت میں ”صراط“ سے وہی مراد ہے کہ جو گذشتہ آیت میں ”صراط مستقیم“ سے ہے ۔ یہ بھی مسلّم ہے کہ جو شخص اس جہان میں صراط مستقیم سے منحرف ہوگا، وہ دوسرے جہان میں بھی راہِ جنّت سے بھٹک کر دوزخ کے گڑھے میں جاپڑے گا، کیونکہ وہاں جو کچھ بھی پیش آئے گا، وہ براہِ راست یہاں کے کاموں کا نتیجہ ہوگا ۔ آخرت پر عدمِ ایمان راہِ حق سے انحراف کا باہمی تعلق یہ ہے کہ انسان جب تک قیامت پر ایمان نہ رکھتا ہو، اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا نہیں ہوتا ۔ ایک حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپعلیہ السلام نے فرمایا: ”انّ اللهجعلنا ابوابہ وصراطہ وسبیلہ والوجہ الذی یوٴتی منہ، فمن عدل عن ولایتنا اٴو فضل علینا غیرنا فانّھم عن الصراط لناکبون“. ”الله نے ہم ہادیان دین کو اپنی معرفت تک رسائی کے لئے دروازے، راستہ، سبیل اور جہت قرار دیا ہے، لہٰذا جو لوگ ہماری ولایت سے مرحوم ہوجائیں یا کسی دوسرے کو ہم پرفضیلت دے کر چن لیں تو وہ صراط حق سے بھٹکے ہوئے ہیں (4) ۔ 1۔ ”ذکرھم“کا مفہوم ان کی بیداری اور یاد دہانی بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعبیر معاشرے میں ان کی عزت وشرف اور یاد کے معنی میں ہو، البتہ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے اور ہم نے آیت کی تفسیر میں دونوں معانی سے استفادہ کیا ہے ۔ 2 ۔ ”خرج“ ”خراج“ ”خروج“کے مادہ سے ہے اور اس کا معنیٰ ہے، ایسی چیز جو انسان کے مال یا زرعی زمین سے خارج ہو، لیکن ”خرج“ ”خراج“کی نسبت وسیع تر معنیٰ کا حامل ہے، جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے: ”اس کا اُلٹ“ ”دخل“ ہے لیکن عام طور پر ”خراج“وہ مالیاں یا کرائے کا مال ہے کہ جو زمین کے لئے معیّن ہوتا ہے ۔ 3۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۴۸. 4 ۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۴۹، بحوالہٴ اصولِ کافی.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:68-74
سوره مؤمنون / آیه 68 - 74
۶۸ اٴَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اٴَمْ جَائَھُمْ مَا لَمْ یَاٴْتِ آبَائَھُمَ الْاٴَوَّلِینَ ۶۹ اٴَمْ لَمْ یَعْرِفُوا رَسُولَھُمْ فَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ ۷۰ اٴَمْ یَقُولُونَ بِہِ جِنَّةٌ بَلْ جَائَھُمْ بِالْحَقِّ وَاٴَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کَارِھُونَ ۷۱ وَلَوْ اتَّبَعَ الْحَقُّ اٴَھْوَائَھُمْ لَفَسَدَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیھِنَّ بَلْ اٴَتَیْنَاھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُعْرِضُونَ ۷۲ اٴَمْ تَسْاٴَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ ۷۳ وَإِنَّکَ لَتَدْعُوھُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۷۴ وَإِنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ عَنْ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُونَ ترجمہ ۶۸۔ کیا ان لوگوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا ان کے لئے ایسی بات آئی ہے کہ جو ان کے بڑوں کے پاس نہ آئی تھی؟ ۶۹۔ یا پھر کیا اپنے رسول کو پہچانتے نہیں (اور اس کے ماضی کو نہیں جانتے) اس لئے اس کا انکار کرتے ہیں ۔ ۷۰۔ یا پھر کیا یہ اُسے دیوانہ سمجھتے ہیں؟ بلکہ وہ تو ان کے لئے حق لایا ہے لیکن ان میں سے اکثر کو حق ناگوار ہے ۔ ۷۱۔ اور اگر حق ان کی پیروی کرنے لگے تو آسمان وزمین اور جو کچھ ان میں ہے سب تباہ ہوجائے، لیکن ہم نے انھیں قرآن دیا ہے کہ جو یاددہانی ہے (اور ان کے لئے باعثِ شرف ہے) ۔ لیکن وہ ایسی چیز سے روگرداں ہیں ۔ ۷۲۔ یا پھر کیا ان سے (اپنی اس دعوت کے بدلے) کوئی مزدوری چاہتا ہے؟ جبکہ تیرے لئے تو تیرے رب کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے ۔ ۷۳۔تو تو یقیناً انھیں صراط مستقیم کی دعوت دیتا ہے ۔ ۷۴۔لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ اس راہ سے منحرف ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:68-74
۳۔ اکثریت حق کی طرف نہیں ہوتی
وہ کونسی ”اکثریت“ قرآن نے بہت سی آیات میں اور زیرِ نظر آیات میں بھی جس کی مذمّت کی ہے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ آج کی دنیا میں اچھائی اور برائی کا فیصلہ معاشروں کی اکثریت کی بنیادپر ہوتا ہے، یہ مسئلہ بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے ۔ ہم ان آیات کے بارے میں بحث نہیں کرتے کہ جو زیادہ تر کفار ومشرکین اور اسی قسم کے لوگوں سے متعلق ہیں، ان میں ”اکثر“ کے ساتھ ”ھم“ کی ضمیر آئی ہے، ہم یہاں ان آیات کے بارے میں بات کرتے ہیں جو لوگوں ”اکثرالناس“ کا عنوان رکھتی ہیں ۔ مثلاً: <وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُونَ ”لیکن اکثر لوگ شکرگزار نہیں ہیں“۔ )بقرہ/۲۴۳( <وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ”لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “۔ )اعراف/۱۸۷( <وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ ”لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ )ہود/۱۷( <وَمَا اٴَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ ”اگرچہ تو کوشش کرے اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے“۔ )یوسف/۱۰۳( <فَاٴَبیٰ اٴَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا ”اکثر لوگ کفر اور انکار حق کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے“۔ )بنی اسرائیل/۸۹( <وَإِنْ تُطِعْ اٴَکْثَرَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ یُضِلُّوکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ”اگر تو روئے زمین کے اکثر لوگوں کی اطاعت کرے تو وہ تجھے راہ حق سے بھٹکادیں“ )انعام/۱۱۶( دوسری طرف قرآن مجید میں ایسی آیات بھی ہیں کہ جو مومنین کی اکثریت کے طریقے کو ایک صحیح معیار قرار دیتی ہیں، سورہٴ نساء کی آیت ۱۱۵ میں ہے: <وَمَنْ یُشَاقِقْ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدیٰ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیلِ الْمُؤْمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَھَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیرًا ”جو شخص رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کے علاوہ کوئی راہ اپنائے، جس طرف وہ چل رہا ہے ہم اسے اسی طرف لے جائیں گے اور دوزخ میں پہنچائیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے“۔ روایات میں سے جو باہم متعارض ہوں، وہاں قانون یہ ہے کہ اس روایت کو ترجیح دی جاتی ہے کہ جو آئمہٴ ہدیٰ کے اصحاب وانصار اور پیروکاروں میں مشہور ہو، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”ینظر الیٰ ماکان من روایتھما عنّا فی ذٰلک الذی حکما بہ المجمع علیہ عند اصحابک فیوٴخذ بہ من حکمنا ویترک الشاذ الذی لیس بمشہور عنداصحابک فانّ المجمع علیہ لاریب فیہ“. ”جب دو قاضی اختلافِ روایت کی بنیاد پر اختلاف کریں تو دیکھنا چاہیے کہ ان دو روایات میں سے کونسی تیرے اصحاب کے ہاں قبول کی جاتی ہے، وہی روایت انتخاب کرنا چاہیے اور جو روایت اصحاب کے ہاں مشہور نہیں اسے چھوڑدینا چاہیے، کیونکہ مشہور روایت میں کوئی شک وشبہ نہیں“(1)۔ نیز نہج البلاغہ میں ہے: ”والزموا السواد الاعظم، فانّ ید اللّٰہ مع الاجماعة، وایّاکم والفرقة، فانّ الشاذ من الناس للشیطان، کما انّ الشاذ من الغنم للذئب“. ”ہمیشہ بڑے گروہ کے ساتھ رہو، کیونکہ الله کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے، اور انتشار سے بچو کیونکہ انسان شیطان کا حصّہ ہے جیسے اکیلی بھیڑ بھیڑیے کا لقمہ ہے(2) ۔ نہج البلاغہ میں ہے: والزموا ما عقد علیہ حبل الجماعة. جو جماعت کی رسی سے منسلک ہو اسے نہ چھوڑو ۔ ہوسکتا ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ ان دو طرح کی آیات اور روایات میں کوئی تضاد ہے، دوسری طرف یہ بھی خیال ہوسکتا ہے کہ اسلام جمہوری حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتا، کیونکہ جمہوریت لوگوں کی اکثریت آراء پر مبنی ہے، جبکہ قرآن اس کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ لیکن مذکورہ بالا آیات وروایات میں تھوڑا سا غور وخوض کرنے سے اور ان کا باہمی موازنہ کرنے سے حقیقی مفہوم واضح ہوجاتا ہے ۔ حاصل کلا م یہ ہے کہ اکثریت اگر مومن آگاہ اور راہِ حق پر گامزن ہو تو ان کی آراء اور نظریات محترم ہیں اور اکثر اوقات حقیقت کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کی پیروی لوگوں کرنا چاہیے ۔ لیکن اکثر جاہل اور ناآگاہ افراد پر مشتمل ہو یا وہ لوگ آگاہ ہوں تو ہوں، مگر خواہشات نفسانی کے اسیر ہوں تو پھر عموماً ان کے نظریات منحرف ہوں گے اور قرآن کے بقول ان کی پیروی انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے ۔ ایک حقیقی اور صحیح جمہوریت کے لئے کوشش کرنا چاہیے کہ عام لوگ باخبر اور مومن ہوں، اس کے بعد ہی اکثریت کی آراء اجتماعی مقاصد کی پیش رفت کامعیار بن سکتے ہیں ورنہ جو جمہوریت گمراہ اور اکثریت کے نظریات پر مبنی ہو ، وہ معاشرے کو جہنم کی طرف لے جاتی ہے ۔ اس امر کاذکر بھی ضروری ہے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق باخبر، رشید اور باایمان اکثریت کے نظریات بھی اسی صورت میں محترم ہیں جب وہ حکم الٰہی اور کتاب وسنت کے برخلاف نہ ہوں ۔ بات کہنے کی یہ ہے کہ آج معاشروں کے پاس قانون سازی اور معاشرتی امور کے لئے کثرت آراء کے کلیے کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں کہ وہ جس کی طرف پناہ لیں، انھوں نے آسمانی کتابوں اور انبیاء الٰہی کے طرزِ عمل کو یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ناآگاہی وجہالت کے ساتھ ساتھ مفاد پر ستی اور ذاتی اغراض بھی شامل ہوتی ہیں، لیڈر حضرات آسانی سے پراپیگنڈے کے ذریعہ ایسے لوگوں کے اپنے پیچھے لگالیتے ہیں، لہٰذا تعداد کی اکثریت کو معیار قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی آواز اور شور واحتجاج کو اکثریت کے نام پر خاموش کیا جاسکے، اگر ہم دور حاضر میں مختلف ملکوں پر حاکم نظاموں اور قوانین پر غور وفکر کریں تو واضح ہوگا کہ ان کی بہت سی بدبختیاں جاہل وبے علم اکثریت کی آراء کو اپنا نے کی وجہ سے ہیں ۔ اکثریت کی بنیاد پر ایسے ایسے گندے اور قبیح قوانین بنائے گئے ہیں کہ جن کے ذکر سے بھی شرم آتی ہے اور آگ کے کتنے شعلے اسی ناگاہ اکثریت کی وجہ سے بھڑکے ہیں اور کیسے کیسے مظالم کی غیر مومن کی اکثریت نے تائید کی ہے ۔ 1۔ وسائل الشیعہ ، ج۱۸، ص۷۶، کتاب القضاء، باب۹ ا، (از ابواب صفات قاضی) 2۔ نہج ابلاغہ، خطبہ۲۲۱۲۷.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:68-74
۲۔ رہبر کی صفات
زیرِ نظر آیات سے ہادیان دین حق کی کچھ صفات واضح ہوتی ہیں، مثلاً: ۱۔ وہ ایسے افراد ہیں کہ جو ہمیشہ نیکیوں کے حوالے پہچانے جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ غیر معروف اور اجنبی سے لوگ ہوں تو اس آیت کے مصداق منافقوں کے ہاتھ بہانہ آجاتا ۔ <اٴَمْ لَمْ یَعْرِفُوا رَسُولَھُمْ فَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ ”یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ جو انکار کررہے ہیں“۔ اگر یوںہوں تو لوگ ان کی معروف دعوت کو اشخاص کی اجنبیت کی بنیاد پر نظر انداز کردیتے ۔ ۲۔ وہ اپنی جد وجہد کے راستے میں لوگوں کی خواہشات کے سامنے سر جھکاتے، جبکہ آج کی دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ لیڈر عام لوگوں کی خواہشات کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، اگرچہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں، ہادیانِ برحق ہمیشہ مکتبِ حق کی ترویج کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔، اگرچہ بہت سے لوگوں کو یہ ناپسند ہی کیوں نہ ہو ۔ ۳۔ وہ اپنی دعوت کے لئے کوئی مادی اُجرت طلب نہیں کرتے، مشکلوں اور محروموں میں وقت گزار لیتے ہیں، لیکن کسی پر مادی لحاظ سے انحصار نہیں کرتے، کیونکہ یہ انحصار ان کے ہاتھ پاوٴں کے لئے زنجیر اور زبان وفکر کے لئے قفل بن سکتا ہے ۔