بَلۡ قُلُوبُهُمۡ فِي غَمۡرَةٖ مِّنۡ هَٰذَا وَلَهُمۡ أَعۡمَٰلٞ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمۡ لَهَا عَٰمِلُونَ
Indeed, their hearts are in a stupor in regard to this, and there are other deeds besides which they perpetrate.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 23:51-77
God commands the Prophet to eat of pure and seek virtues, confirm Islam, being the only faith and in principle it is the same as he revealed His Commands through various Prophets of His to his Creation and although each Prophet informed his tribe of the advent of Mohammad and believing in him, in spite of that, through pride and jealousy, and passionate behaviour, they tampered with the text splitting it in various cults, suiting their prevailing tastes, and He shall decide, on Reckoning Day on these differences. Man cause being power, property, and children, bestowed on them by God, and attributed by creation to its own ability, although He has never desired of His creatures any duties, due to His obligations, beyond their capacity – but the love of this world reduced them incapable of fulfilling the trust for want of time. Besides association they were bent on committing many misdeeds during which We punished them, but they never supplicated Him until they were hopelessly condemned to Hell. They disregarded My Prophet and Text, ridiculing latter and considering mad the former, without paying the least attention in how their predecessors, Ismail and other Muslims, had followed Divine Dictates. As a warner, he did not follow their passion; else entire heavenly and earthly affairs in respect of believers would have been revolutionized. They refused to acknowledge him (My Messenger) as they had no faith in eternity which is the main cause of their turning to destruction, away from the Truth (Divine Light, Text, and eternity).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:62-67
جہالت میں ڈوبے ہوئے دل
گذشتہ آیات میں مومنین کی نمایاں صفات کی گئی ہیں، یہی وہ صفات ہیں جو ہر نیکی کا سرچشمہ ہیں، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر شخص کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسی صفات کا حامل ہو اور ایسے اعمال انجام دے سکے ۔ اس سلسلے میں زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ”ہم کسی شخص کو اس کی توانائی سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتے“ اور ہر شخص سے اس کی طاقت اور عقل کے مطابق تقاضا کرتے ہیں (وَلَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا) ۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ الله تعالیٰ نے انسانوں پر جو فرائض عائد کئے ہیں اور جو احکام دیئے ہیں وہ ان کی توانائی کی حدود میں ہیں اور جن مواقع پر کس حکم پر عمل کرنا انسان کے بس میں نہ ہو، وہاں وہ حکم ساقط ہوجاتا ہے، علماء اصول کے مطابق یہ کلیہ تمام احکام اسلام پر لاگو ہوتا ہے اور ان پر مقدم ہے ۔ ممکن ہے پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ کیسے ممکن ہے کہ انسانوں کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کا حساب اور جانچ پڑتال ہوسکے اس ضمن میں مزید فرمایا گیا ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بات کہتی ہے (اور تمام بندوں کے اعمال اس میں ثبت ہیں) لہٰذا کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی (وَلَدَیْنَا کِتَابٌ یَنطِقُ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَایُظْلَمُونَ) ۔ یہ ان اعمال ناموں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں انسانوں کے تمام اعمال ریکارڈ کئے گئے ہیں اور وہ خدا کے پاس محفوظ ہیں یہ انسانی اعمال کی ایسی ڈائریاں ہیں کہ گویا نردبان رکھتی ہیں اور حق بات بیان کرتی ہے، اس طرح کہ انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس کتاب سے مراد کہ جو الله کے پاس ہے ”لوح محفوظ“ ہے اور ”لدینا“ (ہمارے پاس) کی تعبیر اس تفسیر کی تائید کرتی ہے ۔ بہرحال زیرِ بحث آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان اعمال کا ایک ذرّہ بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور تمام اعمال کا تڑی توجہ سے دیکارڈ مرتب ہوگا، اس حقیقت پر ایمان نیک لوگوں کو کارِخیر کا شوق دلاتا ہے اور بڑے کام سے بچاتا ہے ۔ ”ینطق بالحق“ (حق کی بات بیان کرتی ہے) یہ جملہ انسانی اعمال کی توصیف ہے، فارسی میں بھی ہم کہتے ہیں: فلاں نامہ بقدر کافی گویا است فلاں خط منھ بولتا ہے ۔ یعنی اس کی تشریح و توضیح کی ضرورت نہیں، گویا خود بولتا ہے، اس کے لئے سر کھپانے کی ضرورت نہیں یہ تو خود حقائق واضح کررہا ہے ۔ ”وھم لایظلمون“ بھی اس طرف اشارہ ہے کہ اعمال کا ریکارڈ اگر باریک بینی سے مکمل تیار کیا گیا ہے تو پھر ظلم وزیادتی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی لیکن یہ حقائق بیان کرنے کا اثر صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو کچھ بیداری وآگاہی رکھتے ہوں، لہٰذا ساتھ ہی مزید فرمایا گیا: لیکن یہ ہٹ دھرم کافر لوگ یوں جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ روزِ حساب پیش ہونے والے نامہٴ اعمال سے اور قرآن کے وعدہ ووعید سے بالکل غافل ہیں ۔ (بَلْ قُلُوبُھُمْ فِی غَمْرَةٍ مِنْ ھٰذَا) (1) ۔ جہالت کا یہ عالم انھیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان واضح حقائق کا مشاہدہ کریں، اپنے اندر جھانکیں اور الله کی جانب پلٹ آئیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس کے علاوہ بھی ایسے اعمال انجام دیتے رہتے ہیں (وَلَھُمْ اٴَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذٰلِکَ ھُمْ لَھَا عَامِلُونَ( مفسرین نے ”وَلَھُمْ اٴَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذٰلِکَ“ کے بارے میں مختلف تفسیریں ذکر کیں ہیں ۔ بعض نے اسے غلط اور قبیح اعمال کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو جہالت ونادانی کی وجہ سے ان سے سرزد ہوتے ہیں (اس بناء پر ”ذلک“ ان کی جہالت کی طرف اشارہ ہے) اور ”اعمال“ ایسے گناہوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس راستے میں ان سے سرزد ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ وہ کافرانہ عقیدے کے حامل ہونے کے علاوہ اعمال بھی بہت قبیح انجام دیتے ہیں ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان کافروں کا طرزِ عمل مومنوں سے بالکل جُدا ہے اور دونوں کے راستے الگ ہیں ۔ نتیجے کے طور پر ان تفسیروں میں کوئی اختلاف نہیں اور انھیں ایک مجموعی تفسیر میں یکجا کیا جاسکتا ہے، البتہ اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ ان کے شرمناک اعمال کی بنیاد وہی ان کے دلوں کا جہالت میں ڈوب جانا ہے ۔ لیکن وہ اس طرح عالم ِ غفلت میں رہیں گے ”یہاں تک کہ وہ دن آپہنچے گا جب ہم مالدار عیش پرستوں کو گرفتارِ عذاب کریں گے، اس وقت وہخ تلمائیں گے اور بلبلائیں گے“ اور الله کے شدید عذاب اور دردناک سزا پر فریاد کریں گے (حَتَّی إِذَا اٴَخَذْنَا مُتْرَفِیھِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا ھُمْ یَجْاٴَرُونَ( لیکن ان سے کہا جائے گا: بندکرو یہ آہ وزاریاں کیونکہ آج کے دن ہم تمھاری کوئی مدد نہیں کریں گے (لَاتَجْاٴَرُوا الْیَوْمَ إِنَّکُمْ مِنَّا لَاتُنصَرُونَ) ۔ یہاں پر خصوصیت ”مترفین“ (ناز ونعمت میں غرق افراد) کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ گناہگار صرف وہ نہیں ہوتے یہ اس لئے ہے کہ یہی لوگ گمراہی کے سردار ہیں، یا پھر اس لئے ہے کہ انھیں زیادہ دردناک سزادی جائے گی ۔ ضمناً ”عذاب“ سے یہاں مرادہوسکتا ہے، عذاب دُنیا، یا عذاب آخرت ہو یا پھر دونوں ہیں، یعنی اس جہان میں اُس جہان میں جب عذاب الٰہی انھیں دامن گیر ہوتا ہے تو وہ بلبل اُٹھتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں، لیکن ان واضح ہے کہ اس دم معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے اور واپسی ممکن نہیں ہوتی ۔ اگلی آیت در حقیقت اس منحوس انجام کی علت بیان کررہی ہے، ارشاد ہوتا ہے: میری آیات مسلسل تمھارے سامنے پڑھی جایا کرتی تھیں، لیکن بجائے اس کے تم اُن سے سبق لیتے اور بیدار ہوتے، تم منھ موڑ لیتے تھے اور الٹے پاوٴں بھاگ جاتے تھے (قَدْ کَانَتْ آیَاتِی تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ عَلیٰ اٴَعْقَابِکُمْ تَنکِصُونَ( ”تَنکِصُونَ“ ”نکوص“ کے مادہ سے پیچھے ہٹنے کے معنی میں ہے ”اعقاب“ ”عقب“ (بروزن ”جھش“ ) کی جمع ہے اور ”عقب“ پاوٴں ایڑی کے معنی میں ہے، مجموعی طور پر اس جملے سے ایسے افراد مراد کہ جو جو نامرعوب باتیں سن کر ایسے پریشان ہوتے ہیں کہ ایڑیوں کے بل تیزی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ آیاتِ الٰہی سن کر وہ نہ صرف الٹے پاوٴں ہٹ جاتے ہیں بلکہ غرور کامظاہرہ بھی کرتے ہیں (مُسْتَکْبِرِینَ بِہِ)(2) ۔ اس کے علاوہ تم رات کو بیٹھکیں جماتے تھے اور رسول، قرآن اور مومنین کی بدگوئی کرتے تھے (سَامِرًا تَھْجُرُونَ) ۔ ”سَامِرًا“ ”سمر“ (بروزن ”ثمر“ )کے مادہ سے ”رات کی باتوں“ کے منی میں ہے، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس مادہ کا اصلی معنیٰ ”رات میں چاند کا سایہ“ ہے کہ جس میں تاریکی اور روشنی کی آمیزش ہوتی ہے اور رات کی باتیں کبھی کبھی چاند کی روشنی میں ہوتی ہیں ۔ مشرکین عرب کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چاند راتوں میں کعبہ کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور رسول الله کے خلاف باتیں کرتے تھے، یہ لفظ اسی ضمن میں استعمال ہوا ہے، یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ گندمی رنگ افراد یا خود گندم کو ”سمراء“ کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ کہ اس کی سفیدہی میں کچھ سیاہی بھی ملی ہوتی ہے ۔ ”تھجرون“ ”ھجر“ (بروزن”فجر“ )کے مادہ سے جدائی اختیار کرنے کے معنی میں ہے، بعد ازاں یہ لفظ بیمار شخص کے ہذیان اور یاوہ گوئی کے معنیٰ میں استعمال ہونے لگا، کیونکہ اس حالت میں وہ نامناسب اور دور کرنے والی باتیں کرتا ہے، نیز ”ھجر“ (بروزن ”کفر“ گلیاں دینے کے معنیٰ میں آیا ہے اور یہ بھی دوری اور جدائی کا سبب ہے ۔ زیرِ بحث آیت میں یہ آخری معنیٰ مراد ہے، یعنی راتوں کو دیر تک جاگتے رہتے ہو اور بیماروں کی طرح ہذیاں بکتے ہو اور گالیاں دیتے رہتے ہو ۔ بے منطق اور کمزور افراد کا یہی طریقہ ہے کہ وہ روزِ روشن میں دلیری کے ساتھ منطق اور دلیل کا سہارا لینے کی بجائے رات کی تاریکی میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو اپنے بُرے مقاصد کے پیش نظر اور داخلی شکست کی تکسین کے لئے گالیاں بکنا شروع کردیتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے کہ تمھارے اپنے برے انجام اور تم پر الله کے دردناک عذاب کا سبب یہ ہے کہ نہ تو تم جرئت کرکے حق کو قبول کرتے تھے اور نہ ہی انکساری سے آیات الٰہی کے سامنے زانوئے ادب طے کرتے تھے اور نہ ہی پیغمبر سے تمھارا طرزِ عمل اور درست تھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہو تم راہ حق پالیتے ۔ ۔ نامہٴ اعمال کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۱۳ سورہٴ بنی اسرائیل آیت ۱۳ کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں، اسی طرح سورہٴ کہف آتت نمبر ۴۹ کے ذیل میں کچھ گفتگو کی جاچکی ہے. ۔ اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ ”بہ“ کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے، بعض کہتے ہیںکہ یہ مسجد الحرام اور حرم مکّہ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ وہ لوگ اپنے تئیں خانہٴ کعبہ کا متولی سمجھتے ہوئے تکبر کرتے تھے، لیکن یہ احتمال ضعیف ہے، کیونکہ گذشتہ آیات میں کعبہ اور حرم کا کوئی ذکر نہیں، ظاہری مفہوم کے اعتبار سے یہ ضمیر رسول الله کی طرف لوٹتی ہے، یعنی تم رسول الله اور آیات قرآن کے مقابلے میں تکبر کرتے تھے، یا پھر الٹے پاوٴں جانے کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح تم تکبر اور بے اعتنائی کا مظاہرہ کرتے تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:62-67
سوره مؤمنون / آیه 62 - 67
۶۲ وَلَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا وَلَدَیْنَا کِتَابٌ یَنطِقُ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَایُظْلَمُونَ ۶۳ بَلْ قُلُوبُھُمْ فِی غَمْرَةٍ مِنْ ھٰذَا وَلَھُمْ اٴَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذٰلِکَ ھُمْ لَھَا عَامِلُونَ ۶۴ حَتَّی إِذَا اٴَخَذْنَا مُتْرَفِیھِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا ھُمْ یَجْاٴَرُونَ ۶۵ لَاتَجْاٴَرُوا الْیَوْمَ إِنَّکُمْ مِنَّا لَاتُنصَرُونَ ۶۶ قَدْ کَانَتْ آیَاتِی تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ عَلیٰ اٴَعْقَابِکُمْ تَنکِصُونَ ۶۷ مُسْتَکْبِرِینَ بِہِ سَامِرًا تَھْجُرُونَ ترجمہ ۶۲۔ اور ہم کسی شخص کو اس کی توانائی سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے (کہ جس میں تمام بندوں کے اعمال درج ہیں) اور جو بھی بات کہتی ہے، لہٰذا ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔ ۶۳۔ بلکہ ان کے دل اس نامہٴ اعمال (اور روز حساب اور آیاتِ قرآن) سے غفلت میں ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایسے (بُرے) اعمال میں مبتلا ہیں کہ جنھیں وہ ہمیشہ انجام دیتے رہتے ہیں ۔ ۶۴۔ یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو گرفتارِ عذاب کریں گے، تو اس وقت وہ بڑی دردناک فریاد کریں گے ۔ ۶۵۔ (لیکن ان سے کہا جائے گا) بندکرو یہ آہ وفغاں، آج ہماری طرف سے تمھاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی ۔ ۶۶۔ (کیا تمھیں یاد نہیں کہ) میری آیتیں تمھیں سنائی جاتی تھیں تو تم منھ پھیر لیتے تھے اور اُلٹے پاوٴں بھاگ جاتے تھے ۔ ۶۷۔ جبکہ آیتوں کے مقابلے میں تم غرور کرتے تھے اور راتوں کو اپنی بیٹھکوں میں تم بدگوئی کیا کرتے تھے .
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:63
[Pooya/Ali Commentary 23:63] The words and deeds of the disbelievers which they say and do in confused ignorance are described in these verses. They belie the signs of Allah and deny the Holy Prophet; and they hate the truth because it does not agree with their inclinations. If these selfish and ignorant creatures were to plan the working of the universe according to their desires, it would be a dreadful world, full of confusion and corruption. They know that the Holy Prophet is al amin and al sadiq (true and righteous) and he does not ask any worldly recompense from them, yet they do not listen to him when he shows them the right path and go astray into the wilderness of infidelity and wickedness where they abide for ever even if they are given respite. Their obstinate persistence in wandering and deviation is permanent (see commentary of An-am: 27 to 29). The punishment in the present life does not open their eyes. In the final punishment, after the judgment, there will be nothing for them except despair.