قَالَ رَبِّ انصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ
He said, ‘My Lord! Help me, for they impugn me.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:26
[Pooya/Ali Commentary 23:26] (see commentary for verse 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:26-30
ایک باغی قوم کا انجام
گذشتہ آیتوں میں دشمنوں کی طرف سے لگائے جانے والے چند بے بنیاد الزامات کا تذکرہ کیا گیا، قرآن مجید کی دیگر آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سرکش قوم کی طرف سے دی جانے والی اذیتیں یہی نہیں تھیں، بلکہ وہ جس طرح سے بھی آپعلیہ السلام کو تنگ کرسکتے تھے ۔ انھوں نے کہا ۔ حضرت نوحعلیہ السلام نے اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ انھیں شرک ، کفر اور گمراہی سے نکالنا چاہا، لیکن جب سوائے معدود چندافراد کے ان پر کوئی ایمان نہ لایا تو آپعلیہ السلام مایوس ہوگئے اور سے مدد چاہی، اس مرحلے کا ذکر زیرِ بحث آیت میں کیا جارہا ہے ۔ اس نے عرض کیا: پالنے والے! مجھے جھٹلانے والوں کے خلاف میری مدد فرما (قَالَ رَبِّ انصُرْنِی بِمَا کَذَّبُونْ)(1) ۔ الله کا حکم پہنچا حضرت نوحعلیہ السلام اور آپعلیہ السلام کے چند ساتھیوں کو نجات ملی اور ہٹ دھرم کافروں اور مشرکوں کو سزا کے لئے حالات پیدا ہوگئے ”ہم نے نوحعلیہ السلام کو وحی کی کہ ہماری ہدایات کے مطابق اور ہماری نگرانی میں کشتی بنا“ (فَاٴَوْحَیْنَا إِلَیْہِ اٴَنْ اصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا) ۔ ”بِاٴَعْیُنِنَا“ (یعنی ہماری نظوں کے سامنے) اس کا یہ مفہوم ہے کہ تمھاری تمام تر کارکردگی ہمارے سامنے ہے اور تمھیں ہماری پوری تائید حاصل ہے، لہٰذا مطمئن ہوکر اپنے مشن کو جاری رکھو اور کسی خوف وخطر کو خاطر نہ لاوٴ۔ ”وَحْیِنَا“سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ حضرت نوحعلیہ السلام نے کشتی سازی کی تفصیلات وحی سے سیکھیں، کیونکہ تاریخ کے مطابق اس زمانے تک کشتی کی کوئی مثال موجود نہیں تھی، چنانچہ آپعلیہ السلام نے اپنے مقصد کی ضروریات کے مطابق ہر عیب ونقص کے بغیر بنالیا، اس کے ارشاد ہوا: اور جب ہمارا فرمانے پہنچے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ تنور سے پانی ابلنے لگے گا، سمجھ لینا کہ طوفان کا وقت آگیا ہے تو فوراً ہر قسم کے جانوروںکا ایک جوڑا کشتی میں بٹھا لینا (فَإِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُکْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ) ۔ اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے صاحبان ایمان کوبھی بٹھالینا، مگر ان کونہ بٹھانا جن کی ہلاکت کا پہلے سے فیصلہ کرلیا گیا ہے، (حضرت نوحعلیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹے کی طرف اشارہ ہے) (وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ) ۔ اس کے بعد یہ کہا جارہا ہے: اور ان ظالموں (کہ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور دوسروںپر بھی ظلم کیا) کے بارے میں کوئی سفارش نہ کرنا، کیونکہ وہ سب کے سب غرق ہوکے رہیں گے اور اس میں کہنے سننے کی گنجائش نہیں ہے (وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ) ۔ یہ تنبیہ اس لئے کردی گئی تھی کہ شاید حضرت نوح انسانی فطری جذبے، سفقت پدری سے متاثر ہوجائیں اور ان کی سفارش کربیٹھیں، جبکہ وہ کسی قسم کی سفارش کے مستحق نہیں تھے ۔ بعدوالی آیت میں ارشادہوتا ہے: جس وقت اور تمھارے ساتھی کشتی میں ٹھیک سے بیٹھ جاوٴ تو اس نعمت عظمیٰ پر الله کی حمد وثنا کرو اور کہو تعریف ہے اس خدا کی جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی (فَإِذَا اسْتَوَیْتَ اٴَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ) ۔ الله کی حمد ظالموں سے نجات ”جیسی عظیم نعمت پانے کے بعد یوں دعا کرو: اور کہو: پالنے والے! مجھے بابرکت جگہ پر پار لگانا کہ تو بہترین پار لگانے والا ہے (وَقُلْ رَبِّ اٴَنزِلْنِی مُنْزَلًا مُبَارَکًا وَاٴَنْتَ خَیْرُ الْمُنزِلِینَ) ۔ لفظ ”منزل“ شاید اسم مکان ہو، یعنی طوفان تھم جانے کے بعد ہماری کشتی ایسی سرزمین پر پہنچانا جو کثیر برکتوں کا حامل ہو تاکہ ہم اطمینان سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرسکیں ۔ یہ مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے، یعنی ہمارا زمین پر اترنا نہایت موزوں اور مناسب ہو، کیونکہ طوفان کے بعد جب کشتی زمین پر رکے گی تو کشتی میں سوارلوگوں کو کئی خطرات کا سامنا ہوگا مثلاً رہنے سہنے کے لئے سازگار جگہ نہ ہونا، خوراک اور غذا کی کمی اور وباء پھوٹنے کا ڈر وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے حضرت نوحعلیہ السلام دُعا کررہے ہیں کہ یا الله انھیں صحیح وسالم اور موزوں کیفیت میں زمین پر اُتار دے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں مجموعی طور پر پورے واقعے کی سخت سزاء کے اس سارے واقعے میں صاحبانِ عقل وفکر کے لئے عبرت وسبق کی نشانیاں موجود ہیں (إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَاتٍ) ۔ اور یقیناً ہم سب کی آزمائش کریں گے (وَإِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِینَ) ۔ شاید یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ ہم نے قوم نوح کو ہر طرح سے ازمایا اور جب وہ لوگ ہر امتحان میں ناکام رہے، تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا، یہ بھی ہوسکتا کہ اس جملے سے مفہوم یہ ہو کہ ہم ہر زمانے میں ہر جگہ کے لوگوں کو ازماتے اور پرکھتے رہیں گے اور مذکورہ بالا واقعات صرف نوحعلیہ السلام ہی سے خصوصیت نہیںرکھتے، ہردور میں مختلف طریقوں سے آزمائش جاری رہی گی اور جو لوگ انسان کی تری وتکامل کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے انھیں ہٹادیا جائے گا ۔ تاکہ انسان اپنی راہ تکامل پر گامزن رہے ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ زیرِ بحث آیتوں میں صرف حضرت نوحعلیہ السلام کے کشتی بنانے اور ان کے ساتھیوں کے سوار ہونے اور نجات پانے کا ذکر کیا گیا ہے، مگر گناہگاروں کا انجام کیا ہوا، کچھ وضاحت نہیں کی گئی ۔ البتہ ”إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ“ (وہ یقیناً غرق ہوں گے) کے جملے سے ان کا انجام بھی واضح ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کا وعدہ ہمیشہ سچّا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ قومِ نوحعلیہ السلام عظیم پیغمبرعلیہ السلام کے خلاف ان کی کاروائیوں اور پھر ان کا عبرتناک انجام، کشتی سازی کا واقعہ، تنور سے پانی کا ابلنا، طوفان کا سب کو گھیر لینا، حضرت نوحعلیہ السلام کے بیٹے کا غرق ہونا وغیرہ بہت سے اہم نکات ہیں جن کا ہم نے جلد۹ میںسورہٴ ہود کی تفسیر کے ذیل میں مفصل جائزہ لیا ہے ۔ انشاء الله باقی تفصیلات سورہٴ نوح کی تفسیر میں آئیں گے ۔ 1۔ ”بِمَا کَذَّبُونْ“ کی ”باء،“ شاید سببی ہو یا بائے تسبیب، اور اس میں ”ما“ شاید ”مصدریہ“ ہو، یا ”موصولہ“، ہر ایک صورت میں معنی جدا ہوں گے، مگ مفہوم میں زیادہ فرق نہیں ہوگا (قابل غور ہے) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:26-30
سوره مؤمنون / آیه 26 - 30
۲۶ قَالَ رَبِّ انصُرْنِی بِمَا کَذَّبُونْ ۲۷ فَاٴَوْحَیْنَا إِلَیْہِ اٴَنْ اصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا فَإِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُکْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ ۲۸ فَإِذَا اسْتَوَیْتَ اٴَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ۲۹ وَقُلْ رَبِّ اٴَنزِلْنِی مُنْزَلًا مُبَارَکًا وَاٴَنْتَ خَیْرُ الْمُنزِلِینَ ۳۰ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَاتٍ وَإِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِینَ ترجمہ ۲۶۔ (نوح نے کہا:) پالنے والے مجھے جھٹلانے والوں کے خلاف میری مدد فرما ۔ ۲۷۔ ہم نے (نوح کو) وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہمارے فرمان کے کشتی بنا ۔ پس جب (ان کو غرق کرنے کے لئے لئے) ہمارا حکم آئے اور تنور سے پانی ابلنے لگے (جو طوفان آپہنچنے کی نشانی ہے) تو تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں بٹھالے اور اپنے گھر والوں کو بھی بٹھالے، سوائے ان کے جن کی ہلاکت کا پہلے ہی سے حکم جاری کردیا گیا ہے ۔ (یہ اشارہ حضرت نوحعلیہ السلام کی بیوی اور ان کے ناخلف بیٹے کی طرف ہے) اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، کیونکہ انھیں تو ہلاک ہی ہونا ہے ۔ ۲۸۔ اور جب تم اور تمھارے ساتھی کشتی میں ٹھیک سے بیٹھ جائیں تو کہنا تعریف کے لائق وہی ذات ہے جس نے ہمیں ظالموں سے نجات بخشی ۔ ۲۹۔ اور کہنا: پالنے والے ہمیں بابرکت جگہ پر پار لگا، کہ تو بہترین پار لگانے والا ہے ۔ ۳۰۔ (بیشک) اس (واقعے) عقل وفکر رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم سب کی آزمائش کریں گے ۔