فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
Then those whose deeds weigh heavy in the scales—it is they who are the felicitous.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 23:93-118
God reminds the way in which the hypocrites, who postpone doing even obligatory charity for the simple of this world, when, on their deathbed, will pray unto God, to give them time, to spend out of the treasure which they collect, for wife and children, when no opportunity will be given them. On the Day of Judgment, when the second siren will sound, all relationship will disappear and prove of no use, except intercession, of course, of our Prophet and immaculate Imams. They will come to assistance, for which man should make arrangements in this world and depend on one’s piety and love for his family (Immaculate) to register your claim for intercession. Love involves attachment, i.e. service and as they are pure, service to them is pure of sins. No appeal will prove fruitful and hypocrites will have to bear willy-nilly. They were ridiculing the virtuous for want of faith in the Prophet and text. On seeing the rich records they would feel they lived a day or two in the world. They would be replied, they should have realized the transitory period, when they were therein and it was too late to repent and they will not be forgiven on any account.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:101-104
بدکرداروں کی سزا کا ایک گوشہ
گذشتہ آیات میں عالمِ بر زخ کے بارے میں گفتگو تھی اب زیرِ بحث آیات میں قیامت اور جہان میں مجرموں کی حالت کے بارے میں بات کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی نسب باقی نہیں رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے ۔ (فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلَااٴَنسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَایَتَسَائَلُونَ) ۔ ہم جانتے ہیں کہ آیاتِ قرآنی کے مطابق دو مرتبہ صور پھونکا جائے گا، ایک مرتبہ اس عالم کے ختم ہونے کے وقت ، اس وقت آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے مرجائیں گے اور موت پُورے عالم پر چھا جائے گی، جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو مردے قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور انسان نئی زندگی پائیں گے، پھر ان کے حساب وکتاب اور جزا وسزا کا دور شروع ہوگا ۔ ”نُفِخَ فِی الصُّور“ کے معنی میں ”بگل بجانا“ لیکن اس کی ایک خاص تفسیر اور مفہوم ہے کہ جو ہم انشاء الله سورہٴ زمر کی آیت ۶۸ کے ذیل میں بیان کریں گے ۔ بہرحال زیرِ بحث آیت قیامت کی دو چیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، پہلی یہ ہے کہ اُس دن تمام نسب بیکار ہوجائیں گے کیونکہ اس جہان میں موجود رشتہ داری کے نظام کے باعث بہت سے مجرم سزاوٴں سے بچ جاتے ہیں، اسی طرح لوگ اپنی مشکلات کے حل کے لئے رشتہ داروں سے مدد لیتے ہیں، لیکن روزِ قیامت انسان ہوگا اور اس کے اعمال، یہاں تک کہ سگا بھائی بیٹا اور باپ بھی اس کے کام نہ آسکے گا اور اس کی سزا کوئی اپنے ذمہ نہ لے سکے ۔ دوسری یہ کہ وحشت کا یہ عالم ہوگا کہ حساب اور عذابِ الٰہی کے خوف کی شدّت سے لوگ ایک دوسرے سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کریں گے ۔ اس روز ماں اپنے شیرخوار بچّے کو بھول جائے گی، بھائی بھائی کو فراموش کردے گا، سب مست دکھائیں دیں گے لیکن مست نہیں ہوںگے، عذابِ خدا بہت شدید ہے ۔ جیسا کہ ہم نے سورہٴ حج کی ابتداء میں پڑھا ہے: <یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا اٴَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَاریٰ وَمَا ھُمْ بِسُکَاریٰ وَلَکِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِیدٌ ” اس روز تم دیکھو کے کہدودھ پلانے والی ہر عورت (وحشت کے مارے) اپنے شیر خوار کو بھول جائے گی (خوف کے مارے) حاملہ عورتوں کاے حمل ساقط ہوجائے گیں اور (گھبراہٹ میں) لوگ مستی میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ مستی میں نہ ہوں گے بلکہ الله ما عذاب ہی شدید ہے (کہ جس کے باعث لوگ بدحواس ہورہے ہوں گے) ۔ اور تجھے یوں لگے گا گویا لوگ مدہوش ہوگئے ہیں، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ الله کے عذاب کی شدت ہی کچھ ایسی ہوگی ۔ ”وَلَایَتَسَائَلُونَ“ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مدد کا تقاضا کریں گے کیونکہ انھیں معلوم ہوگا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ نفی سوال سے مراد یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں پوچھیں گے بھی نہیں اور یہ ”فَلَااٴَنسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ“ کی تاکید ہے ۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے، اگرچہ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے اس جملے میں یہ تمام مفاہیم جمع ہوں ۔ یہاں مفسرین کا ایک مشہور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ متعدد قرآنی آیات سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے کہ روزِ قیامت لوگ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جیسا کہ سورہٴ صافات کی آیت ۲۷ میں ہے کہ جب مجرمین دوزخ کی چوکھٹ پر ہوں گے تو <وَاٴَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ یَتَسَائَلُونَ ”ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے (سرزنش آمیز) سوالات کریں گے “۔ نیز اسی سورت کی آیت ۵۰ اہلِ بہشت کے متعلق کہتی ہے کہ وہ بہشت میں ٹھہرتے وقت اپنے اُن دنیا کے دوستوں کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے کہ جو جادہٴ حق سے انحراف کے باعث دوزخ میں چلے گئے ہوں گے ۔ ارشاد ہوتا ہے: <فَاٴَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ یَتَسَائَلُونَ اس کی نظیر سورہٴ فاطر کی آیت ۲۵ میں بھی ہے، تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے جبکہ مذکورہ بالا آیات سوال کرنے کا ذکر کررہی ہیں لہٰذا یہ آیتیں آپس میں کیسے ہماہنگ ہوسکتی ہیں ۔ جواب یہ ہے کہ اگر ہم ان آیات کے معانی ومفاہیم پر کچھ غور وخوض کریں تو مسئلہ واضح ہے ہوجاتا ہے کیونکہ ایک دوسرے سوال کرنے کا ذکر جن آیات میں آیا ہے، ان میں جنت میں جاپہنچنے یا جہنم کی دہلیز پر پہنچ جانے کے موقع کی بات کی گئی ہے جبکہ سوال کی نفی قیامت کے ابتدائی مراحل سے مربوط ہے کہ جب وحشت واضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی اور دوسرے کی کوئی خبر نہ ہوگی ۔ بالفاظ دیگر قیامت کے کئی مرحلے کا اپنا الگ پروگرام ہے، بعض اوقات مختلف مراحل کی وجہ سے اس قسم کے سوالات پیش آتے ہیں ۔ قیام قیامت کے بعد پہلا مرحلہ اعمال کے وزن کا ہے، اس روز کے لئے معیّن ایک خاص میزان کے ذریعے انسان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا، کچھ لوگوں کے اعمال بہت وزنی ہوں گے کہ جو ترازو کا پلڑا جھکا دیں گے، انہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ کہ میزان میں جن کے اعمال کا وزن بھاری ہوگا وہ فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں (فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُون( ”موازین“ ”میزان“ کی جمع ہے کہ جس کے ذریعے اعمال تولے جائیں گے، ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہاں کوئی دو پلڑوں والا ایسا ترازو نصب ہوگا کہ جس سے مادی چیزوں کو تولا جاتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ کسی مناسب ذریعے سے انسانی اعمال کی قدر وقیمت لگائی جائے گی ۔ دوسرے لفظوں میں ”میزان“ کا ایک وسیع مفہوم ہے کہ جس میں ناپ تول کے تمام ذرائع شانل ہیں، جیسا کہ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روز انسانوں کے اعمال ناپ تول کی میزان بلکہ خود انسانوں کی میزان عظیم پیشوا اور وہ انسان ہوں گے کہ جو ماڈل اور نمونہ ہیں، ایک حدیث میں ہے: امیرالموٴمنین والاٴئمة من ذریتہ ھم الموازین“ امیرالمومنین علیعلیہ السلام اور ان کی ذریت میں سے جو امام ہیں وہی ناپ تول کے لئے میزان ہیں(1) ۔ لہٰذا انسانوں اور ان کے اعمال کا موازنہ اس روزِ عظیم انبیاءعلیہ السلام اور ان کے اوصیاء کے ساتھ کیا جائے گا اور اس موازنے سے واضح ہوجائے گا کہ لوگوں کے اعمال ان سے کس قدر مشابہت رکھتے ہیں ۔ اسی سے صاحبِ وزن اور بے وزن، قیمتی اور بے قیمت افراد اور اعمال کا فرق واضح ہوگا ۔ ضمناً ”موازین“ کو جمع کی صورت میں ذکر کرنے کا مقصد واضح ہوجاتا ہے کیونکہ جو عظیم پیشوا میزان اور معیار ہیں وہ متعدد ہیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ عظیم انبیاءعلیہ السلام، آئمہ اور الله کے خاص بندے اپنے زندگی کے حالات کے لحاظ سے ایک جہت سے یا کئی پہلووٴں سے نمونہ اور ماڈل تھے، اس طرح ان میں سے ہر ایک اسی حوالے سے میزان ہوگا ۔ رہے وہ افراد کہ جن کا پلڑا ایمان اور عمل صالح سے خالی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا سرمایہٴ وجود گنوا بیٹھے ہیں اور جھنوں نے نقصان اٹھایا ہے، وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے (وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ فِی جَھَنَّمَ خَالِدُونَ) ۔ ”خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ“ (انھوں نے خود اپنے وجود کا نقصان کیا ہے) یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ دُنیا کے اس بازارِ تجارت میں اپنی ہستی اور وجود کا عظیم سرمایہ گنوا بیٹھے ہیں اور اس کے بدلے وہ کوئی قیمتی چیز بھی حاصل نہیں پائے انھیں جو دردناک ہوگا، اگلی آیت میں اس کے ایک حصّے کی تفصیل بیان کی گئی ہے، آگ جلادینے والے شعلے کی تلوار کی مانند ان کے چہروں پر لگیں گے (تَلْفَحُ وُجُوہَھُمْ النَّارُ) ۔ اور جہنم میں ان کی پریشانی اور عذاب کی شدّت کا یہ عالم ہوگا کہ ان کے چہرے سکڑے ہوئے ہوں گے (وَھُمْ فِیھَا کَالِحُونَ) ۔ ”تلفح“ ”لفح“‘ (بروزن ”فتح“) مادے سے دراصل ”تلوار کی ضرب“ کے معنی میں ہے اور چونکہ آگ کے شعلے، سورج کی شدید تیز روشنی اور بادِ سموم کے چہرے پر پڑتی ہیں، لہٰذا بطور کنایہ یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ”کالح“ ”کلوح“ (بروزن ”غروب“ ) کے مادے سے چہرے کے سکڑنے کے معنی میں ہے، بعض مفسرین نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ آگ کے تیز شعلوں کے باعث ا کے منھ سکڑجائیں گے اور منھ کھلے کے کھے رہ جائیں گے(2) ۔ 1۔ بحارالانوار، ج۷، ص۲۵۱. 2 ۔ تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی، تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:101-104
۲۔ ”اصمعی“ کی ہلادینے والی داستان
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اصمعی کی وہ داستان لکھی جائے کہ غزالی نے ”بحرالمحبّہ“ میں نقل کیا ہے، یہ داستان گزشتہ باتوں کی شاہد بھی ہے اور اس میں متعدد دیگر لطیف نکات بھی ہیں ۔ اصمعی کہتا ہے: میں مکہ میں تھا، ایک چاند رات تھی، میں خانہٴ خدا کے گرد طواف کررہا تھا، ایک بڑی دلنشیں اور غم انگیز آواز سن کر متوجہ ہوا، میں اس آواز والے کو تلاش کرنے لگا، اچانک میری نظر ایک خوبصورت اور خوش قامت جوان پر پڑی، نیکی کے آثار اس سے نمایاں تھے، اور اس نے خانہٴ کعبہ کا غلاف تھام رکھا تھا اور اس طرح سے مناجات کررہاتھا: ”یا سیّدی ومولای نامة العیون وغابت النجوم، واٴنت ملک حیّ قیّوم، لاتاٴخذک سنة ولانوم، غلقت الملوک اٴبوابھا واقامت علیھا حراسھا وحجابھا وقدخلی کل حبیب بحبیبہ، وبابک مفتوح للسائلین، فھا اٴنا سائلک ببابک، مذنب فقیر، خاطیء مسکین، جئتک اٴرجو رحمتک یا رحیم، واٴن تنظر الیٰ بلطفک یا کریم“. ”اے میرے سردار! اے میرے مولا! بندوں کی آنکھیں خوابِ غفلت میں ڈوبی ہوئی ہیں، آسمان کے تارے ایک ایک کرکے افقِ مغرب میں اترتے جاتے ہیں اور آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں، تو خدائے حیّ وقیّوم ہے، نہ تجھے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ تیرے دامنِ کبریائی کو چھوپاتی ہے، شب کی اس تاریکی میں جبکہ بادشاہوں نے اپنے محلّات کے دروازے بند کرلیے ہیں اور دربان ان پر پہرہ دے رہے ہیں، اور سب دوست اپنے دوستوں سے محو خلوت ہیںن ایسے میں ایک ہی گھر ہے جس کا دروازہ سائلوں کے لئے کھلا ہے اور وہ تیرے گھر کا دروازہ ہے ۔ اس وقت میں تیرے دروازے پر آیا ہوں، خطاکار اور حاجت مند ہوں، اے رحیم تجھ سے رحمت کی امید باندھے میں آگیا ہوں، اے کریم تو لطف وکرم کی نظر چاہتا ہوں ۔ پھر وہ جوان یہ اشعار پڑھنے لگا: یا من یجیب دعاء المضطر فی الظلم یا کاشف الکرب والبلوی مع السقم قد نام وفدک حول البیت والتبھوا وعین جودک یا قیوم لم تنم ان کان جودک لایجو الاذو اشرف فمن یجود علی العاصین بالنعم ھب لی بجودک فضل العفو عن شرف یا من اشار الیہ الخلق فی الحرم اے وہ کہ جو شب کی تاریکوں میں مصیبت زدوں کی دعا قبول کرتا ہے اے وہ کہ جو دکھ درد اور رنج وبلا کو دور کرتا ہے تیرے گھر کے گرد تیرے مہمان سوتے بھی ہیں اور جاگتے بھی ہیں لیکن، اے قیوم! تیرے جود وسخا کی آنکھ کبھی خواب آلود نہیں ہوتی اگر تیرے جود واحسان کی امید صرف ان کے لئے ہوتی تو تیری بارگاہ میں باشرف ہیں، تو گناہگار کس کے دروازے پر جاتے اور کس سے بخشش کی امید رکھتے اپنے جود وکرم سے مجھے شرفیاب کر اے وہ ذات کہ مخلوق حرم میں جس کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ اس کے بعد اس جوان نے آسمان کی طرف سر بلند کیا اور اس طرح اپنی مناجات جاری رکھیں ”الٰھی سیّدی ومولای! اٴن اطعبتک بعلمی ومعرفتی فلک المد والمنة علی ان عصیتک بجھل فلک الحجة علیّ“. ”میرے معبود! میرے سردار! میرے مولا! اگر میں نے علم ومعرفت کی بناء پر تیری اطاعت کی ہے تو حمد وثنا تیرے لئے ہی زیبندہ ہے اور میں تیرا مرہون منّت ہوں اور اگر نادانی کے باعث میں نے تیری نافرمانی کی ہے تو تیری حجّت میرے خلاف مکمل ہے“۔ پھر آسمان کی طرف سر بلند کیا اور بلند آواز میں کہا: ”یا الٰھی وسیّدی ومولای ما طابت الدنیا الّا بذکرک، وما طابت العقبی الّا بعفوک وما طابت الیّام الّا بطاعتک، وما طابت القلوب الّا بمحبتک، وما طابت النعیم الّا بمغفرتک“. ”اے میرے خدا! اے میرے آقا! اے میرے مولا! دنیا میرے ذکر کے بغیر پاکیزہ نہیں اور آخرت تیرے عفو کے بغیر شایستہ نہیں ہے، ایّام زندگی تیری اطاعت کے بغیر بے قیمت ہیں، دل تیری محبّت کے بغیر الودہ ہیں اور نعمتیں تیری بخشش کے بغیر ناکوار ہیں“۔ اس جوان نے مناجات کا سلسلہ یونہی جاری رکھت، کبھی اُس نے ہلادینے والے اور دل گذار اشعار پڑھے اور کبھی اسی طرح الله کو پکارتا رہا، یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوکر زمین پر گر پڑا ۔ میں اس کے قریب گیا، اس کے چہرے کے نور نے مجھے خیرہ کردیا، چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، میں نے جو غور سے دیکھا تو متوجہ ہوا کہ وہ تو زین العابدین علی بن الحسین امام سجاد علیہ السلام ہیں ۔ میں نے ان کا سر اپنے دامن میں رکھا، میں ضبط نہ کرسکا، ان کی حالت پر میں خوب رویا، میری اشکوں کا ایک قطرہ ان کے چہرے پر جاگرا، انھیں ہوش آیا تو آنکھ کھولی اور فرمایا: من الّذی اشغلنی عن ذکر مولای؟ کون ہے کہ جو میرے مولا کے ذکر میں حائل ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں اصمعی ہوں، اے میرے سید وآقا! یہ کیسا گریہ اور کیسا اضطراب، آپ تو خاندان نبوت ہیں، معدنِ رسالت ہیں، کیا آیتِ تطہیر آپ کے حق میں نازل نہیں ہوئی؟ کیا خداوندعالم نے آپ کے بارے میں نہیں فرمایا: انمّا یرید الله لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیراً )بس الله کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیت! خدا تم سے رجس وناپاکی کو دور رکھے اور تمھیں اس طرح سے پاک رکھے جیسے پاک رکھنے کا حق ہے ۔ امامعلیہ السلام اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے اصمعی! ”ھیھات! ھیھات! الله نے جنت اطاعت کرنے والوں کے لئے خلق فرمائی ہے، چاہے وہ غلام حبشی کیوں نہ ہوں اور جہنم نافرمانوں کے لئے بنائی ہے چاہے وہ سردارِ قریش ہی کیوں نہ ہوں، کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا اور الله کی گفتگو نہیں سنی کہ: <فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلَااٴَنسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَایَتَسَائَلُونَ.... جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت آپہنچے گی تو سارے نسب ختم ہوجائیں گے، کوئی کسی سے سوال نہ کرے گا، صرف اعمال ہی پر دارومدار ہوگا“۔ اصمعی کہتا ہے: میں نے دیکھا تو وہاں سے اُٹھا، آپعلیہ السلام کو وہاں چھوڑا اور خود ایک طرف چل پڑا (1) ۔ 1۔ بحر المحبّة از غزالی، ص۴۱تا۴۴. (کچھ تلخیص کے ساتھ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:101-104
۳۔ سزا اور گناہ میں مناسبت
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ قیامت میں بلکہ اس جہان میں بھی عذاب الٰہی انجام کردہ گناہوں کی مناسبت سے ہوتا ہے، ایسا نہیں کہ جرم کچھ ہو اور سزا اس کے حسب حال نہ ہو ۔ زیر نظر آیات میں ہے کہ مجرموں کے چہرے جہنم کے شدید شعلوں سے اس طرح جلیں گے کہ سکڑ جائیں اور منھ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے، یہ سزا سبک اور ہلکے وزن والے بے قیمت وبے ایمان لوگوں کے لئے ذکر ہوئی ہے، اگر توجہ کی جائے تو یہ وہی لوگ ہو ں گے کہ آیات الٰہی سن کر جن کے ماتھوں پر بل پڑجاتے ہیں گویا وہ اپنا منھ سکیڑ لیتے ہیں اور کبھی وہ آیات الٰہی سن کر مذاق اڑاتے ہیں، اور استہزاء کرتے ہیں، اس بات سے ان کے اعمال کی اس سزا سے مناسبت واضح ہوجاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:101-104
سوره مؤمنون / آیه 101 - 104
۱۰۱ فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلَااٴَنسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَایَتَسَائَلُونَ ۱۰۲ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ ۱۰۳ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ فِی جَھَنَّمَ خَالِدُونَ ۱۰۴ تَلْفَحُ وُجُوہَھُمْ النَّارُ وَھُمْ فِیھَا کَالِحُونَ ترجمہ ۱۰۱۔ جس وقت صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان قسم کا نسب نہیں ہوگا اور وخ ایک دوسرے سے مدد نہیں مانگیں گے ۔ (چونکہ کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا) ۔ ۱۰۲۔ جن لوگوں کے (اعمال کے) ترازو وزنی ہیں، وہی کامیاب ہیں ۔ ۱۰۳۔ اور جن کے (اعمال کے) ترازو ہلکے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے وجود کو خسارے میں ڈال دیا ہے، وہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے ۔ ۱۰۴۔ آگ کے جلا ڈالنے والے شعلے تلوار کی طرح ان کے چہروں پر پڑیں گے اور جہنم میں ان کے چہروں سکڑے ہوئے ہوں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:101-104
۱۔ جس روز سب رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گے
انسانوں کی مادی زندگی کی حدود میں جو مفاہیم کارفرما ہیں، اُس جہان میں زیادہ تر ختم ہوجائیں گے ۔ ان میں سے ایک خاندان اور قبیلے کا تعلق بھی ہے، اس دنیا میں یہ تعلق بہت سی مشکلات کے حل کا ذریعہ بنتا ہے اور بعض اوقات یہ تعلق خود ایک ایسا نظام بن جاتا ہے کہ معاشرے کے تمام نظاموں پر حاکم ہوجاتا ہے ۔ لیکن آخرت میں زندگی کی قدریں ایمان اور عمل صالح سے ہم آہنگ ہوگی، وہاں فلاں قبیلہ اور گروہ کا مسئلہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، یہاں تو ایک خاندان کے افراد آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کو مشکلات سے نجات دلاتے ہیں، مگر قیامت میں ایسا نہ ہوگا وہاں نہ کثرت مال کوئی فائدہ پہنچاسکے گی اور نہ اولاد کسی کے کام آسکے گی جیسا کہ ارشادِ ربّ العزّت ہے: <یَوْمَ لَایَنْفَعُ مَالٌ وَلَابَنُونَ ، إِلاَّ مَنْ اٴَتَی اللهَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ ”اس روز نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد، نجات تو صرف اسے حاصل ہوگی کہ جو بارگاہِ الٰہی میں قلب سلیم لے کر حاضر ہوگا“(۸۸،۸۹( یہاں تک کہ اگر یہ نسب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلّم تک جا پہنچے تب بھی یہی قانون نافذ ہوگا، یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اکرم اور آئمہ ہدیٰ کی تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں، بنی ہاشم کے بعض نہایت قریبی افراد کو ان کے عدمِ ایمان یا اسلام کے حقیقی راستے سے انحراف کی وجہ سے دھتکار دیا گیا اور ان سے نفرت وبیزاری کا اظہار کیا گیا، اگرچہ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کل حسب ونسب منقطع یوم القیامة الّا حسبی ونسبی“. ”روز قیامت میرے حسب(1) ونسب کے سوا تمام حسب ونسب منقطع ہوجائیں گے“(2) ۔ لیکن المیزان میں مرحوم علامہ سید محمد حسین طباطبائی رضوان الله علیہ کے بقول ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی حدیث ہے جسے اہلِ سنت کے محدّثین نے اپنی کتب میں کبھی عبد الله بن عمر، کبھی عمر ابن خطاب اور کبھی دیگر اصحاب کے حوالے سے روایت کیا ہے جبکہ زیرِ بحث آیت بالکل ظاہری اور عمومی مفہوم رکھتی ہے اور روزِ قیامت تمام انسانب کے منقطع ہوجانے کی بات کرتی ہے، نیز قرآن حکیم سے جو اصول معلوم ہوتا ہے اور بے ایمان منحرف لوگوں سے رسول الله برتاوٴ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہی ہے کہ اس لحاظ سے تمام انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اس ضمن میں ایک حدیث مناقب ابن شہر آشوب میں طاوٴس یمانی کی وساطت سے منقول ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: ”خلق الله الجنّة لمن اطاع واٴحسن ولوکان عبداً حبشیاً، وخلق النّار لمن عصاہ ولوکان ولداً قرشیاً“. ”الله نے بہشت اُس کے لئے پیدا کی ہے کہ جو اس کی اطاعت کرے، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو اور جہنّم اُس نے اس کے لئے پیدا کی ہے کہ جو اس کی نافرمانی کرے، اگرچہ وہ قریشی ہی کیوں نہ ہو“(3)۔ البتہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ سادات اور رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی با تقویٰ اولاد کے خاص احترام کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ احترام خود ذاتِ پیغمبر اور اسلام کا احترام ہے اور جو روایات سادات کی فضیلت اور مقام ومنزلت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی ظاہراً اسی مفہوم کی حامل ہیں ۔ 1۔ لغت کے لحاظ ”حسب“ اُس اعزاز وافتخار کے معنی میں ہے کہ جو کسی انسان کے بزرگوں اور آباء واجداد کو حاصل ہو، بعض نے اس کا معنی خو د انسان کی اپنی عادت اور اخلاق بھی بیان کیا ہے، لیکن پہلا معنی ہی مراد ہے، (کتاب ”لسان العرب“ میں مادہ ”حسب“ کی طرف رجوع کریں) ۔ 2۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں. 3۔ مناقب ابن شہرآشوب (طبق نقل تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۱۵۶۴
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:102
[Pooya/Ali Commentary 23:102] (see commentary for verse 101)