۞وَأَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
And [remember] Job, when he called out to his Lord, ‘Indeed distress has befallen me, and You are the most merciful of the merciful.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:83
[Pooya/Ali Commentary 21:83] Prophet Ayyub was a very prosperous man and of exemplary virtue and piety. He suffered from a number of calamities because Allah wanted to test his faith. He lost his family, children, cattle and servants and became a miserable destitute, yet he remained devoted to his Lord and prayed for His grace and mercy, even though Shaytan tried to convince him that the misfortunes afflicted on him were because of his sins. Ayyub became a model of humility, patience and faith in Allah. Then he was restored to prosperity, with twice as much as he had before, and he had a new family of several children.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:83-84
2- آتيناه أهله و مثلهم معهم" کی تفسیر
2- آتيناه أهله و مثلهم معهم" کی تفسیر: مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ خدا نے ان کے بیٹیوں کو پھر سے زندگی عطا کر دی تھی اور ان کے علاوہ اور بیٹے بھی انہیں دیئے تھے (بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ خدا نے ان بیٹوں کو بھی کہ جو اس واقعے میں مرے تھے ، انھیں مرحمت فرمایا اور ان بیٹیوں کو بھی زندہ کر دیا جو اس واقعے سے پہلے مرچکے تھے۔ ؎2 بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ خدا نے حضرت ایوبؑ کونئے بیٹے اور پوتے عنایت کیے کہ جہنوں نے مرجانے والوں کی خالی جگہ کو پُر کر دیا۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر المیزان ، بحوالہ تفسیر فی۔ ؎2 نورالثقلین ، ج 3 ص 448۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بعض غیر روایات میں بیان کیاگیا ہے کہ حضرت ایوبؑ کے بدن میں شدید بیماری کے زیر اثر اس طرح بدبو پیدا ہوگئی تھی کہ لوگ ان کے قریب نہیں آسکتے تھے لیکن اہل بیتؑ کی طرف سے بیان کی گئی روایات میں اس بات کی نفی کی گئی ہے اور دلیل عقلی بھی اسی مطلب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر پیغمر میں کوئی نفرت انگیز حالت یا سفت ہوگی ، تو یہ بات اس کی رسالت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتی ۔ پیغمبر کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ تمام لوگ اس سے میل ملاپ رکھ سکیں اور کلمات حق کو اس سے سن سکیں۔ پیغمبر میں ہمیشہ قوت جذب و کشش ہوتی ہے۔ حضرت ایوب کی داستان کی تفصیل انشااللہ سورہ ص کی آیہ 41 تا 44 میں بیان ہوگی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:83-84
1- حضرت ایوبؑ کی مختصر داستان
چند نکات : 1- حضرت ایوبؑ کی مختصر داستان : ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام سے منقول ہے: کس شخص نے آپ سے پوچھا ، کہ جو مصیبت ایوبؑ کو دامنگیر ہوئی تھی وہ کس لیے تھی؟ امام صادق علیه السلام نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے: ایوبؑ جو مصیبت کی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کوئی کفران نعمت کیا تھا۔ بلکہ اس کے برعکس شکر نعمت کی وجہ سے تھی ، کیونکہ ابلیس نے ان پر حسد کیا اور بارگاہ خدا میں عرض کی کہ اگر وہ تیری نعمتوں کا اتنا شکر ادا کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تونے اسے بڑی خوشحال زندگی دی ہے اگر تو اس سے دنیا کی مادی نعمات کو چھین لے تو پھروہ ہرگز تیرا شکر ادا نہیں کرے گا تو مجھے اس کی دنیا پرمسلط کردے تو پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے۔ خدا نے اس مقصد سے ، کہ یہ قصہ راہ حق کے تمام راہبوں کے لیے ایک سند بن جائے ، شیطان کو اس بات کی اجازت دے دی وہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا اور ایوب کے مال و اولاد کو یکے بعد دیگرے ختم کرتا چلاگیا ، لیکن ان دردناک حادثات نے نہ صرف یہ کہ شکر ایوبؑ میں کوئی کمی نہ کی ، بلکہ ان کا شکر اور بھی بڑھتا گیا ۔ شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ اسے انکی زراعت اور بھیڑوں پرمسلط کر دے ۔ یہ اجازت بھی اسے دے دی گئی اور اس نے ساری زراعت کو آگ لگا دی اور ساری بھیڑوں کو بلاک کر دیا ۔ پھر بھی ایوب کی طرف سے حمد پوروردگار اور شکر میں اضافہ ہی ہوتا چلاگیا۔ آخر شیطان نے خدا سے یہ درخواست کی کہ وہ ایوب کے بدن پر مسلط ہوجائے اور ان کیلئے شدید بیماری کا سبب بنے اور ایسا بھی ہوگیا۔ اس طرح سے کہ وہ شدت بیماری اور زخموں کی وجہ سے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے سے ابھی مجبور ہوگئے۔ البتہ ان کی عقل و شعور میں کسی قسم کا کوئی خلل پیدا نہ ہوا۔ خلاصہ یہ کہ تمام نعمتیں یکے بعد دیگے ایوبؑ سے لی جارہی تھیں لیکن ان کا شکر بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ راہب انہیں دیکھنے کے لیے آئے اور انہوں نے پوچھا : ہمیں بتا تو سہی ! کہ تونے کونسا بڑا گناہ کیا ہے کہ ایسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہے؟ ( اور اس طرح سے ہر کہ دمہ کی شماتت کا آغاز ہوگیا اور یہ امر ایوب پر گراں گزرا) ایوب نے جواب دیا : مجھے اپنے پروردگار کی عزت کی قسم ہے کہ میں نے کسی غذا کا کوئی ایک لقمہ بھی اس وقت تک نہیں کھایا ، جب کہ کوئی یتم و ضعیت میرے دسترخوان پرنہ بیٹھا ہو اور خدا کی کوئی اطاعت سامنے نہیں آئی ، مگر یہ کہ میں نے اس میں سے سخت ترین کو اختیار کیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایوبؑ تمام امتحانات سے صبر و شکر کے ساتھ عہدہ برا ہو چکے تھے ، تو زبان مناجات اور دعا کے لیے کھولی اور خدا سے اپنی مشکلات کا حل انتہائی مودبانہ طریقے سے چاہا۔ لہجہ ہر قسم کی شکایت سے خالی تھا ، وہی دعا جو مذکوره بالاآیات میں ابھی گزری ہے۔ "رب اني مسي الضر وانت ارحم الراحمين" اس موقع پر خدا کی رحمت کے دروازے کھل گئے ، مشکلات بڑی تیزی کے ساتھ برطرف ہوگئیں اور نعمات الٰہی نے ان سے بھی کہیں زیادہ کہ جو پہلے ان کے پاس تھیں ان کی طرف رخ کرلیا۔ ؎1 ہاں ! ہاں! جو مردان حق ہوتے ہیں ، نعمتوں کے دگرگوں ہونے سے ان کے افکار اور طرز عمل نہیں بدلتے۔ وہ راحت و آرام میں ہوں یا مصیبت میں آذاد ہوں یا قید میں صحیح سلامت ہوں یا بیمار ، طاقت و قدرت کی حالت میں ہوں یا ضیعف و کمزوری میں خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہرحال میں پروردگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور زندگی کے تغیرات اور انقلابات ان میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔ ان کی روح ایک عظیم سمندر کی مانند ہے کہ جس کے آرام و سکون کو کسی قسم کے طوفان درہم برہم نہیں کرسکتے۔ اسی طرح وہ ہرگز تلخ حوادث کی کثرت سے مایوس نہیں ہوتے ، وہ ڈٹ جاتے ہیں اور استقامت دکھاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ خدا کی رحمت کے دروانے کھل جائیں وہ جانتے ہیں کہ سخت حوادث خدائی آزمائشں ہیں کہ جن کے ذریعے وہ کبھی کبھی اپنے خاص بندوں کو آزماتا ہے تاکہ انہیں اور زیادہ جلا بخشے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:83-84
حضرت ایوبؑ کی مشکلات سے نجات
تفسیر حضرت ایوبؑ کی مشکلات سے نجات : یہ آیات خدا کے ایک اور عظیم پیغمبر اور ان کی سبق آموز سرگزشت کے بارے میں ہیں اور وه "ایوبؑ" ہیں ۔ آپؑ وہ دسویں پیغمبرؑ ہیں كو جن کی زندگی کے ایک گوشہ کی طرف سوره انبیا میں اشارہ ہوا ہے۔ حضرت ایوبؑ کی داستان دردناک بھی ہے اور باوقاربھی ، ان کا صبر و ضبط خصوصًا ناگوار حادثات میں عجیب و غریب تھا ، اس طرح سے کہ "صبر ایوب" ایک ضرب المثل بن گیا۔ لیکن زیر بحث آیات میں ، خاص طور سے مشکلات سے ان کی نجات اور کامیابی کا ذکر ہے اور کھوئی ہوئی نعمتیں دوبارہ حاصل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ، تاکہ یہ ہر زمانے میں ، تمام مومنین کے لیے کہ جو مشکلات میں گھر جاتے ہیں ایک بن جاۓ خصوصًا یہ کہ کے مومین کے لیے ایک سبق تھا کہ جو ان آیات کے نزول کے وقت دشمن کے تنگ گھیرے میں تھے۔ فرمایا گیا هے : ایوبؑ کو یاد کرو کہ جس وقت اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کیا کہ دکھ ، درد اور بیماری نے میری طرف رخ کرلیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے ( وایوب اذ نادٰى ريه اني الضر وانت ارحم الراحمين) "ضر" (برورزن "حر") ہر قسم کی بیماری اور پریشانی کو کہتے ہیں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو عارض ہو اور اسی طرح سے یہ لفظ کسی عضو کا نقص ، مال کا تلفت ہو جانا ، عزیزوں کی موت ، حیثیت و مقام کی پامالی اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم بعد میں بتائیں گے کہ ایوبؑ ان میں سے بہت سی تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوئے تھے ۔ ایوبؑ نے بھی دوسرے تمام انبیاء کی طرح ان طاقت فرسا مشکلات سے دور ہونے کے لیے دعا کرتے وقت بارگاہ الٰہی میں انتہائی ادب کو ملحوظ رکھا ۔ یہاں تک کہ زبان سے کوئی ایسی بات نہیں نکالی کہ جس سے شکایت کی بو آتی ہو ۔ صرف اتنا کہا : میں کچھ مشکلات میں گرفتار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے ، یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ میری مشکل کو دور کر دے کیونکہ جانتے ہیں کہ وه بزرگ و برتر ہے اور بزرگی کے تقاضوں کو جانتا ہے۔ اگلی آیت کہتی ہے : ایوب کی اس دعا کے بعد ہم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا اور اس کے رنج ، دکھ اور پریشانی کو برطرف کر دی : ( فاستجبنا له فكشفنا ما به من ضر)۔ اور اس کے خاندان والے اسے پلٹا دیئے اور ان کے ساتھ ان ہی جیسے مزید بھی عطا کیے (وآتيناه أهله ومثلهم مهم)۔ تاکہ یہ ہماری طرف سے ان کے لیے رحمت خاص ہو اور یہ خدا کی عبادت کرنے والوں کے لیے بھی ایک سبق ہو (رحمة من عندنا وذكرى للعابدین)۔ تاکہ مسلمان یہ جان لیں کہ مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں اور مصیبتیں چاہے جس قدر ہوں، دشمن بھی چاہے جتنے بھی پھیلے ہوئے ہوں ، اور وہ (دشمن) چاہے جتنی بھی طاقت و قدرت رکھتے ہوں ، پھر بھی پروردگار کے تھوڑے سے لطف وکرم سے یہ سب کچھ برطرف ہونے والی چیزیں ہیں ، نہ صرف نقصانات کی تلافی ہو جاتی ہے ، بلکہ بعض اوقات خدا بااستقامت صبر کرنے والوں کی جزا کے عنوان سے ، جو کچھ ان کے ہاتھ سے گیا ہوا ہوتا ہے ، اتنا ہی اور مزید اسی پراضافہ کر دیتا ہے اور یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک درس ہے ۔ خصوصًا ان مسلمانوں کے لیے جو ان آیات کے نزول کے وقت دشمن کے سخت دباؤ اور بہت زیادہ مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:83-84
سورہ انبیاء / آیه 83 - 84
(83) وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٝٓ اَنِّىْ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِـمِيْنَ (84) فَاسْتَجَبْنَا لَـهٝ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ ۖ وَّاٰتَيْنَاهُ اَهْلَـهٝ وَمِثْلَـهُـمْ مَّعَهُـمْ رَحْـمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِكْرٰى لِلْعَابِدِيْنَ ترجمہ (83) اور ایوبؑ (کو یاد کرو) جب کہ اس نے اپنے پروردگارکو پکارا (اور عرض کی) بدحالی اور مشکلات نے میری طرف رخ کرلیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔ (84) ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جن آلام میں وہ مبتلا تھے انہیں ہم نے برطرف کردیا (یعنی ان کی بیماری دور کی اور تندرست کردیا) اور اس کے گھر والے اسے پلٹا دیئے اور ان ہی جیسے اسے مزید عطا کیے اپنی رحمت خاص کے طور پر تاکہ یہ عبادت گزاروں کے لیے ایک سبق بن جائے۔