كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَنَبۡلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلۡخَيۡرِ فِتۡنَةٗۖ وَإِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ
Every soul shall taste death, and We will test you with good and ill by way of test, and to Us you will be brought back.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 21:30-41
The dead carry our thoughts to another and a nobler existence which they and we shall live in future state forever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:34-35
سورہ انبیاء / آیه 34 - 35
(34) وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْـدَ ۖ اَفَاِنْ مِّتَّ فَهُـمُ الْخَالِـدُوْنَ (35) كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْـرِ فِتْنَةً ۖ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ ترجمہ (34) ہم نے تجھ سے پہلے کسی بھی انسان کو دائمی زندگی نہیں دی، (تواس وقت وہ لوگ کہ جو تیری موت کا انتظار کر رہے ہیں) ، اگر تو مر جائے تو کیا وہ ہمیشہ جیتے ہی رہیں گئے ؟ (35) ہر انسان موت کا ذائقہ چکھے گا ، اور ہماری مصیبت و راحت کے ذریئے تمہاری آزمائش کریں گئے اورآخرکار تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤگے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:34-35
موت سب کے لیے ہے
تفسیر موت سب کے لیے ہے گزشتہ آیات کے ایک حصہ میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی تردید کے لیے ان کے انسان ہونے کو بہانہ بناتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا پیغمبرکو حتمی طور پر فرشتہ ہونا اور ہرقسم کے بشری عوارض سے خالی ہونا چاہیئے۔ زیر بحث آیات ان کے کچھ اور اعتراضات کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر نے جو شاعرانہ سر و صدا بلند کر رکھی ہے ، ہمیشہ نہیں رہے گی اور اس کے مرنے سے سب کچھ ختم ہوجائے گا ۔ جیسا کہ سوره طور کی آیہ 30 میں بیان ہوا ہے: "خیر" تو تندرستی اور تونگری ہے اور "شر" بیماری اورفقروفاقہ ہے (یعنی یہ وہ تعبیر ہے کہ جسے میں نے قرآن جیسے انتخاب کیا ہے)۔ یہاں ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خدا بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے اور اصولی طور پر خدا کے بارے میں آزمائش کیا مفہوم رکھتی ہے؟ اس سوال کا جراب ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ 155 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں کہ خدا کے بارے میں آزمائش ، تربیت کرنے کے معنی میں ہے۔ (اس موضوع کی مکمل تفصیل کا وہاں پر مطالعہ کریں)۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:35
[Pooya/Ali Commentary 21:35] (see commentary for verse 34)