وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ
We did not give immortality to any human before you. If you are fated to die, will they live on forever?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:34
[Pooya/Ali Commentary 21:34] Life without death has not been granted to any man on this planet. Certain chosen servants of Allah have been granted extraordinary long life, but even they will die one day. As said in verse 185 of Ali Imran every soul shall have a taste of death, and as also said in verse 186 of Ali Imran every soul is tried and tested. Before the day of resurrection every living creature, including angels and other heavenly beings, will be put to death and then will be brought to life for the final judgement. Man should always remember that he shall certainly be returned to his creator Lord, should bear with patience when misfortune afflicts him, and remain humble and god-fearing when he enjoys life of plenty and prosperity in this world, and spend his wealth in the way of Allah and never walk proudly on the earth to humiliate the less fortunate servants of Allah, because Allah is testing him by evil and by good. See Yunus: 14; Hud: 7 and Kahf: 7.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:34-35
سورہ انبیاء / آیه 34 - 35
(34) وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْـدَ ۖ اَفَاِنْ مِّتَّ فَهُـمُ الْخَالِـدُوْنَ (35) كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْـرِ فِتْنَةً ۖ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ ترجمہ (34) ہم نے تجھ سے پہلے کسی بھی انسان کو دائمی زندگی نہیں دی، (تواس وقت وہ لوگ کہ جو تیری موت کا انتظار کر رہے ہیں) ، اگر تو مر جائے تو کیا وہ ہمیشہ جیتے ہی رہیں گئے ؟ (35) ہر انسان موت کا ذائقہ چکھے گا ، اور ہماری مصیبت و راحت کے ذریئے تمہاری آزمائش کریں گئے اورآخرکار تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤگے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:34-35
موت سب کے لیے ہے
تفسیر موت سب کے لیے ہے گزشتہ آیات کے ایک حصہ میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی تردید کے لیے ان کے انسان ہونے کو بہانہ بناتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا پیغمبرکو حتمی طور پر فرشتہ ہونا اور ہرقسم کے بشری عوارض سے خالی ہونا چاہیئے۔ زیر بحث آیات ان کے کچھ اور اعتراضات کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر نے جو شاعرانہ سر و صدا بلند کر رکھی ہے ، ہمیشہ نہیں رہے گی اور اس کے مرنے سے سب کچھ ختم ہوجائے گا ۔ جیسا کہ سوره طور کی آیہ 30 میں بیان ہوا ہے: "خیر" تو تندرستی اور تونگری ہے اور "شر" بیماری اورفقروفاقہ ہے (یعنی یہ وہ تعبیر ہے کہ جسے میں نے قرآن جیسے انتخاب کیا ہے)۔ یہاں ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خدا بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے اور اصولی طور پر خدا کے بارے میں آزمائش کیا مفہوم رکھتی ہے؟ اس سوال کا جراب ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ 155 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں کہ خدا کے بارے میں آزمائش ، تربیت کرنے کے معنی میں ہے۔ (اس موضوع کی مکمل تفصیل کا وہاں پر مطالعہ کریں)۔