وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ
Whenever the faithless see you they only take you in derision: ‘Is this the one who remembers your gods?’ while they remain defiant towards the remembrance of the All-beneficent.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:36
[Pooya/Ali Commentary 21:36] To the sceptics and disbelievers the call of the Holy Prophet to worship only the one true God was a joke. They not only took it lightly and laughed at him but also used to blaspheme whenever the name of one true God was mentioned. Verses 39 to 41 gave answer to those pagans who used to mock at the Holy Prophet and ask him as to when the threatened wrath of Allah would come, that aforetime the disbelieving people also ridiculed the messengers of Allah and invited the wrath of Allah and were completely destroyed (see An-am: 10). Also refer to the commentary of Araf: 59 to 136 and Hud: 25 to 100 for total annihilation of many a people.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:36-40
1- جلد باز کو جلد بازی سے ممانعت
چند اہم نکات : 1- جلد باز کو جلد بازی سے ممانعت : زیر بحث آیات پر توجہ کرتے ہوئے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر و انسان فطری طور پر جلد باز ہے تو پھر اسے جلد بازی سے منع کرتے ہوئے کیوں کہا گیا ہے : " فلاتستعجلون" (تم جلدی نہ کرو)۔ کیا یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں ۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ انسان کے ارادہ کے اختیار اور آزادی اور اس کی اخلاقی صفات ، خصوصیات اور جذبات وروحیات کے قابل تغیر ہونے کی طرف توجہ دیں تو واضح ہوگا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ تربیت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اس حالت کو بدلا جاسکتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:36-40
سورہ انبیاء / آیه 36 - 40
(36) وَاِذَا رَاٰكَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ۖ اَهٰذَا الَّـذِىْ يَذْكُرُ اٰلِـهَتَكُمْۚ وَهُـمْ بِذِكْرِ الرَّحْـمٰنِ هُـمْ كَافِرُوْنَ (37) خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَاُرِيْكُمْ اٰيَاتِىْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ (38) وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (39) لَوْ يَعْلَمُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُـفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِـمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِـمْ وَلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (40) بَلْ تَاْتِـيْهِمْ بَغْتَةً فَـتَبْهَتُهُـمْ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ رَدَّهَا وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ ترجمہ (36) جب کفار تجھے دیکھتے ہیں تو تمهارا مزاق اڑانے کے سوا انہیں اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔(اور وہ یہ کہتے ہیں کہ) کیا یہ وہی شخص ہے کہ جو تمہارے خداؤں کے بارے میں باتیں بناتا ہے؟ حالانکہ وہ خود خدائے کے ذکر کے منکر ہیں۔ (37) ہاں ! انسان جلد از مخلوق ہے (مگر تم جلدی نہ کرو) ، میں عنقریب تمہیں اپنی آیات دکھاؤں گا ۔ (38) وہ یہ کہتے ہیں کہ اگرتم سچ کہتے ہو (توبتاؤ) یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہو گا؟ (39) لیکن اگر کافر یہ جان لیتے کہ وہ آگ کے شعلوں کو اپنے چہروں اور اپنی پشتوں سے دور نہیں کرسکیں گے اور کوئی شخص ان کی مدد بھی نہیں کرے گا (تو پھر اس قدر قیامت کے بارے میں جلدی نہ کرتے )۔ (40) ہاں ! یہ خدائی عذاب اچانک ان کے پاس آئے گا اور انہیں مبہوت کر دے گا۔ اس طرح سے کو اسے دور کرنےکی ان میں طاقت نہ ہوگی اور انہیں مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:36-40
2- بل تأتيهم بغتة فتبهتهم کا مفہوم
2- " بل تأتيهم بغتة فتبهتهم" کا مفہوم : اس کا معنی ہے عذاب الہی اچانک ان کی طرف آۓ گا ، "اور انہیں مبہوت کر دے گا"۔ یہ جملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ قیامت کے عذاب کی ہر چیز دنیا کے عذاب سے مختلف ہے۔ مثلًا جہنم کی آگ کے بارے میں یہ بیان کیا گیاہے : نارالله الموقدة التي تطلع على الافئدة خدا کی روشن کی ہوئی آگ تو (ایسی ہے کہ جو) انسان کے دل میں جاکے لگے گی۔ ( ہمزه: 6 ــــــ 7) یا یہ کہ جہنم کے ایندھن کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ : وقودها الناس والحجارة جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (بقرۃ ـــــــ 24) اس قسم کی تعبیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جہنم کی آگ اچانک اور غفلت کی حالت میں آنے والی اور مبہوت کر دینے والی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:36-40
انسان جلد باز مخلوق ہے
تفسیر انسان جلد باز مخلوق ہے: ان آیات میں مشرکین کی پیغمبراسلامؐ کے متعلق ــــــ کچھ اور نکتہ چینیوں اور اعتراضات کا ذکر کیا گیا ہے. ان میں اصولی مسائل میں ان کی انحرافی طرز فکر کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : جس وقت كفار تجھے دیکھتے ہیں ، تو تیرا تمسخر اڑانے کے سوا انہیں اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا: (واذا راك الذين كفروا أن يتخذونک الاهزوا)۔ وہ بے پروائی کے ساتھ اور تیری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ، کیا یہ وہی ہے کہ جو تمہارے خداؤں اور بتوں کی برائی کرتا ہے (اهذا الذي يذكر الهبتكم)۔ ؎1 حالانکہ وہ خود خدائے رحمٰن کے ذکر کے منکر ہیں: (وهم بذكرالرحمن ھم كافرون)۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ اگر کوئی شخص ان پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بتوں کی برائی کرے ـــــــ برائی ہی بیان نہ کرے ، بلکہ حقیقت کا اظہار کرے اور یہ کہے کہ یہ بے روح و بے شعور اور ایک بے قدر و قیمت موجودات ہیں ، تو وہ اس بات پر تعجب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص ایسے مہربان اور بخشنے والے خدا کا منکر ہوجائے کہ جس کی رحمت کے آثار وسعت عالم پر محیط ہیں اور ہر چیز میں اس کی عظمت اور رحمت کی دلیل موجود ہے ، تو یہ ان کے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ہاں ! جس وقت انسان کو کسی چیز کی عادت ہوجاتی ہے اور اس کی خوبو اس میں رچ بس جاتی ہے اور اس میں پختہ ہوجاتاہے ، تو وہ چیز اس کی نظروں کو اچھالگنے کو کسی چیز ، چاہے وہ کتنی ہی بہترین کیوں نہ ہو اور جس وقت وہ کسی چیز سے عداوت و دشمنی اختیار کرلیتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ چیز اس کی نظروں کو بری لگنے لگتی ہے ، چاہے وہ کتنی ہی زیبا اور محبوب کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد ان بے مہار انسانوں کے ایک اور قبیح اور بے سرو پا کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے ، انسان جلد باز مخلوق ہے: (خلق الانسان من عجل)۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ وہ اپنے الفاظ میں یہ کہتے تھے ، کہ یہ وہی شخص ہے جو تمھارے خداؤں کے بارے میں باتیں کرتے ہیں وہ اسی بات تک کےلیے راضی نہ تھے کہ برائی کا لفظ اپنی عبارت میں لے آئیں اور یہ کہیں کہ یہ تمہارے خداؤں کی بدگوئی کرتاہے یا انہيں برا کہتا ہے ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اگرچہ مفسرین نے یہاں پر "انسان" اور "عجل" کے بارے مختلف باتیں کی ہیں لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں پر انسان سے مراد نوع انسان ہی ہے (البتہ ایسے انسان کہ جو تربیت یافتہ نہ ہوں، بلکہ خدائی رہبروں کی رہبری سے باہر رہے ہوں)۔ اور "عجل" سے مراد تیزی اور جلد بازی ہے ، جیسا کہ بعد والی آیات اس بات پر شاہد ناطق ہیں اور قرآن میں ایک اور جگہ پر بیان ہوا ہے: وكان الانسان عجولًا انسان جلد بازهے۔ (بنی اسرائیل --- 11)۔ درحقیقت "خلق الانسان من عجل " کی تعبیر ایک قسم کی تاکید ہے۔ یعنی انسان اس طرح کا جلد باز ہے کہ گویا جلدبازی اور "عجلہ " سے ہوا ہے اور اس کے وجود کے تارو پود اسی سے بنے ہیں اور سچ مچ بہت سے آدمی اسی بات کے عادی ہیں ۔ وہ خیر اور بھلائی میں بھی جلد باز ہیں اور شر اور برائی میں بھی۔ یہاں تک کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے کفر اور گناہ اختیار کیا تو عذاب الٰہی تمہارے دامن گیر ہو جائے گا تو وہ کہتے ہیں کہ یہ عذاب پر جلدی کیوں نہیں آتا؟ آیت کے آخری مزید فرمایا گیا ہے: جلدی نہ کرو، میں اپنی آیات تمہیں عنقریب دکھاؤ گا: ( سأوربكم اياتي فلاتستعجلون)۔ ممکن ہے یہاں پر " آیاتی" کی تعبیر ، عذاب ، بلا ، مصائب اور سزاؤں کی آیات اور نشانیوں کی طرف اشارہ ہوکہ پیغمبرجس سے مخالفین کو ڈراتے تھے اور یہ کور مغز بار بار یہی کہتے تھے کہ وہ بلائیں اور مصبتیں جس سے تمہیں ڈراتے تھے کہاں گئیں؟ قرآن کہتا ہے کہ جلدی نہ کرو ، زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ وہ نہیں آلیں گی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان معجزات کی طرف اشارہ ہو کہ جو پیغمبر اسلامؐ کی صداقت کی دلیل ہیں یعنی اگر تم تھوڑا سا صبرکرو ، تو تمہیں کافی معجزات دکھائے جائیں گے۔ یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ مشرکین دونوں چیزوں میں جلد بازی کرتے تھے اور خدا نے بھی دونوں انہی انہیں دکھائیں ــــــ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے اور بعد والی آیات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ ان کے ایک اور عاجلانہ تقاضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ کہتے ہیں کہ اگر سچ کہتے ہو تو قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا: (ويقولون متٰى هذا الوعد ان كنتم صادقین)۔ وہ انتهائی بےصبری کے ساتھ قیام قیامت کے منتظر تھے حالانکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ قیامت کے آتے ہی ان کی بیچارگی اور بدبختی کا آغاز ہو جائے گا لیکن کیا کیا جاسکتا ہے ، جلد باز انسان اپنی بدبختی و نابودی کے لیے بھی جلد بازی کرتا ہے. ان كنتم صادقين (اگر تم سچے ہو) کی تعبیر جمع کی صورت میں ہے ۔ حالانکه مخاطب پیغمبراسلامؐ تھے۔ یہ اس بنا پر اس خطاب میں ان کے سچے پیروکاروں کو بھی شریک کیا گیا اور وہ ضمنی طور پر یہ کہنا چاہتے تھے کہ قیامت کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ تم سب کے سب جھوٹ ہو۔ بعد والی آیت ان کو جواب دیتے ہوئے کہتی ہے : اگر کافراس زمانے کو جانتے ہوتے کہ جب وہ آگ کے شعلوں کو اپنے چہروں اور پشتوں سے دور نہیں کرسکیں گے ، اور کوئی شخص ان کی امداد کے لیے بھی نہیں آئے گا ، تو وہ ہرگز عذاب کے لیے جلدی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ قیامت کب آئے گی ۔ (لويعلو الذين كفروا حين لا يكون عن وجوههم النار ولا عن ظهورهم ولاهم ينصرون)۔ زیر بحث آیت میں "چہروں" اور "پشتون" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دوزخ کی آگ اس طرح نہیں ہوگی کہ وه ان کے ایک ہی طرف رہے بلکہ ان کے سامنے کا حصہ بھی آگ میں ہوگا اور پشت والا حصہ بھی ۔ گویا وہ آگ کے انرر غرق ہوں گے۔ "ولا هم ينصرون" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بت کہ جن کے بارےمیں وہ یہ گمان کرتے رہے تھے کہ وہ ان کے شفیع و مددگار ہوں گے ، ان سے کچھ نہیں ہوسکے گا۔ اور یہ بات خاص طور قابل توجہ ہے کہ یہ خدائی سزا اور جلا ڈالنے والی آگ اس طرح سے اچانک انہیں آلے گی کہ وہ مہبوت ہوکر رہ جائیں گے" : ( بل تأتيهم بغتة فتهتهم)۔ اور انہیں اس طرح سے غافل اور مقہور و مغلوب کر دے گی کہ ان میں اس سے دور کرنے کی بھی طاقت نہ ہوگی : (فلا يستطيعون ردها)۔ یہاں تک کہ اگر وہ اب مہلت کی خواہش بھی کریں اور اس کے برخلاف کہ جس کے لیے وہ پہلے جلد بازی کیا کرتے تھے ، تاخیر کی درخواست کرنے لگیں تو بھی "انہیں مہلت نہیں دی جائے گی : ( ولا هم ينظرون)۔