ٱقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ مُّعۡرِضُونَ
Mankind’s reckoning has drawn near to them, yet they are disregardful in [their] obliviousness.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:1
[Pooya/Ali Commentary 21:1] The day of reckoning is drawing near. It is nearer than before because the promised prophet, the Holy Prophet, the seal of prophethood, has been sent to mankind to teach them the completed and perfected religion of Allah and to deliver the final word of Allah, the Quran. The Holy Prophet also said that his advent itself is the announcement of the impending day of judgement. "They turn away in heedlessness" refers to the obstinate refusal of the disbelievers to believe in Allah and His religion as well as to the unmindfulness of those believers who neglect salat, zakat and other injunctions of Islam, and indulge in sinfulness with careless indifference.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 21:1-10
Listen attentively, keeping in view advent of Reckoning day to entertain Divine Awe and believe, with certainty, veracity thereof.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:1-5
سورہ انبیاء / آیه 1 - 5
(1) اِقْتَـرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُـهُـمْ وَهُـمْ فِىْ غَفْلَـةٍ مُّعْرِضُوْنَ (2) مَا يَاْتِـيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَهُـمْ يَلْعَبُوْنَ (3) لَاهِيَةً قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاَسَرُّوا النَّجْوَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا هَلْ هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ (4) قَالَ رَبِّىْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِى السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ (5) بَلْ قَالُـوٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ بَلِ افْتَـرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۚ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ترجمہ مهربان بخشنے والے خدا کے نام سے (1) ان لوگوں کا حساب کتاب ان کے نزدیک آ چکا ہے لیکن وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ (2) جو کوئی بھی اسی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس آتی ہے وہ اسے کھیل سمجھتے ہیں اور مذاق اڑانےکے انداز میں اسے سنتے ہیں۔ (3) (حالت یہ ہے کہ) ان کے دل کھیل اور بے خبری میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں ۔(اور کہتے ہیں) کیا اس کے سوا کچھ اور بات ہے کہ یہ تم ہی جیسا ایک بشرہے ؛ کیا دیکھتے بھالتے جادو کے پاس جاتے ہو؟ (4) (لیکن پیغمبر نے) کہا : میرے پروردگار آسمان اور زمین کی ہر بات جانتا ہے اور وہ (بڑا) سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (5) انہوں نے کہا (جو کچھ محمد لایا ہے یہ وحی نہیں ہے بلکہ) یہ پریشان خواب و خیال میں بلکہ اس نے دل سے جھوٹ گھڑ دیا ہے۔ بلکہ وہ ایک شاعر ہے۔( اگر وہ سچاہے )تو ہمارے لیے ایسایی ایک معجزہ لے آۓ جیسے معجزے پہلے انبیاء کو دے کر بھیجا گیا تھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:1-5
ایک نکتہ
ایک نکتہ : کیا قرآن حادث ہے؟ بعض مفسرین نے ان آیات کے ذیل میں لفظ "محدث" کی مناسبت سے کہ جو دوسری زیر بحث آیت میں ہے " کلام اللہ" کے حادث یا قدیم ہونے کے بارے میں بہت بحث کی ہے۔ یہ وہی مسئلہ ہے کہ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "اضغاث" جمع "ضغث" ( بروزن "حرص " خشک لکڑیوں یا گھاس وغیرہ کے گٹھے کے معنی میں ہے . ؎2 "احلام" جمع ہے "حلم" کی (بروزن " نہم") خواب اور دریا کے معنی میں اور چونکہ لکڑی وغیرہ کے گٹھوں کو اکٹھا کرنے کے لیے بکھری ہوئی چیزوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہیں اس لیے اس تعبیر کا خواب پریشان پر بھی اطلاق ہوا ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- جو خلفاء بنی عباس کے زمانہ میں سالہا سال تک بحث و تنقید کا موضوع بنا رہا اور جس نے ایک طویل مدت تک بہت سے علما کو الجھائے رکھا۔ لیکن ہم موجودہ زمانہ میں اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ بحث زیادہ تر سیاسی پہلو رکھتی تھی۔ حکمران چاہتے تھے کہ علمائے اسلام اور آپس میں الجھائے رکھیں اور اصول اور بنیادی مسائل کی جو وضع حکومت اور لوگوں کے طرز زندگی اور اسلام کے اصلی حقائق سے تعلق رکھتے ہیں ، سے توجہ ہٹائے رکھیں۔ موجودہ زمانے میں ہمارے لیے یہ بات پورے طور پر واضح ہے کہ اگر " کلام اللہ" سے مراد اس کا معنی و مفہوم ہے ، تو قطعی طور پر قدیم ہے یعنی ہمیشہ وہ علم خدا تھا اور خدا کاعلم ہمیشہ سے اس پر محیط ہے۔ اور اگر اس سے مراد یہ الفاظ اور یہ کلمات اور یہ وحی ہے کہ جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی تو وہ بلاشک وشبہ "حادث" ہے۔ کون عاقل یہ کہتا ہے کہ الفاظ و کلمات ازلی ہیں ، یا پیغمبر پر وحی کا نزول دور بعث کے آغاز سے نہیں ہوا ؟ لہذا آپ ملاحظہ کریں گے کہ ہم بحث کو جس طرف سے بھی لیں مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن الفاظ بھی رکھتا ہے اور معانی بھی۔ اس کہ الفاظ القطعًا ویقينًا "حاوث" ہیں اور اس کے معانی قطعًا و یقینًا " قدیم" ہیں ۔ لہذا کھینچا تانی اور بحث ومباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور پھر یہ بحث اسلامی معاشرے کی کونسی علمی ۔ معاشرتی ۔ سیاسی اور اخلاقی مشکل کو حل کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ بعض گزشتہ علماء نے مکار اور سازشی حکام اور بادشاہوں کی فریب کاریوں سے دھوکا کیوں کھایا۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آئمہ اہل بیت نے اس مسئلے پرگفتگو کرتے ہوئے واضح اور عملی طور پر انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کی بحثوں سے پرہیز کریں۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 نورالثقلين ، جلد 3 - ص 412 ۔ بحوالہ احتجاج طبرسی۔