وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَى
Certainly We showed him all Our signs. But he denied [them] and refused [to believe them].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:56
[Pooya/Ali Commentary 20:56] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:56-62
سوره طه / آیه 56 - 64
۵۶۔ولقد ا رینٰہ اٰیٰتنا کلھا فکذب وابی ۵۷۔ قال تینک لتخرجنامن ارضنا ب سحرک یٰمعوسٰی ۵۸۔ فلناتینک بسحر مّثلہ فاجعل بینناوبینک موعد الا نخلفہ نحن ولاانت مکانا سوًی ۵۹۔ قال موعد کم یوم الزینة وان یحشرالنّاس ضحًی ۶۰ فتولٰی فر عون فجمع کید ہ ثم اتٰی ۶۱۔ قال لھم موسٰی ویلکن لاتفترو اعلی اللہ کذبافیسحتکم بعذاب و قد خاب من افترٰی ۶۲ فتنازعوٓاامرھم بینھم واسرّو االنّجوٰی ۶۳۔قالوٓا ان ھٰذٰ لسٰحرٰن یریدٰ ن ان یخرجٰکم من ارضکم بسحرھماویذھبابطریقتکم المثلیٰ ۶۴ ۔ فاجمعو اکید کم ثم ائتوصفا وقد افلح الیوم من استعلیٰ ترجمہ ۵۶۔ ہم نے اپنی ساری نشانیاں اسے دکھائیں اس نے تکذیب کی اور انکارکیا ۔ ۵۷۔ اس نے کہا : اے موسٰی ! کیاتواس لیے آیاہے کہ ہمیں ہماری سرزمین سے اپنی اس جادو کے ذریعہ نکا ل باہر کرے ۔ ۵۸۔ ہم بھی یقینی طور پر اسی جیسا جادو تیرے لیے لے آئیں گے ،ابھی سے (اس کی تاریخ معین کرلے اور ) ہمارے اور اپنے درمیان مدّت مقرر کرلے ، کہ ہم اور تم دونوں جس کی خلاف ورزی نہ کریں ، ایسی جگہ طے کرو جو سب کے لیے یکساں ہو ۔ ۵۹۔ (موسٰی نے )کہا : ہمارا ، تمہارا وعدہ زینت کے دن ( روز عید ) کاہوا شرط یہ ہے کہ سب کے سب لوگ دن چڑھتے ہی جمع ہوجائیں ۔ ۶۰۔ فرعون اس مجلس سے اٹھا اور اس نے اپنے تمام مکرو فریب جمع کئے اور پھر (مقررہ دن ) ان کو لے آیا ۔ ۶۱ ۔ موسٰی نے ان سے کہا : تم پروئے ہو ، خدا پر جھوٹ نہ باندھو ، کہ وہ تمہیں اپنے عذاب کے ساتھ نابود کردے گا اور ناامیدی ( اور شکست ) اسی شخص کے لیے ہے کہ جو (خدا پر افتراباندھے ۔ ۶۲۔ ان کے درمیان آپس میں ا ن کے کام کے سلسلے میں نزاع پیداہوگیا اور وہ آپس میں سرکشی کے ساتھ چپکے باتیں کرنے لگے ۔ ۶۳۔ انہونے کیاکہ : مسلمہ طورپر یہ دونوں کے دونوں جادوگر ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنے جادو کے ذریعے تمہاری سرزمین سے نکا ل دیں اور تمہارے بلند مرتبہ دیں کو ختم کر دیں ۔ ۶۴ ۔ (اب جبکہ یہ بات ہے تو ) اپنی تمام قوت و تدبیرجمع کرلو ( اور مقابلے کے میدان میں ) صف باندھ کر کھڑے ہوجاؤ اور کامیابی تو آج اسی کی ہے جو اپنی برتری ثابت کردے ۔