وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا
Certainly We had enjoined Adam earlier; but he forgot, and We did not find any resoluteness in him.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:115
[Pooya/Ali Commentary 20:115] Aqa Mahdi Puya says: Adam was advised not to approach the tree if he wanted to live in the blissfulness he was in, otherwise he would have to leave it and go into the world to face its hardship and its tests and trials. Adam apparently chose the life of the world. See commentary of Baqarah: 30 to 38; Araf: 11 to 25; Hijr: 28 to 42; Bani Israil: 61 to 65 and Kahf : 50. All his needs and comforts had been provided for in the life of bliss Adam and Hawwa were living in, but there is no mention of the heavenly bliss (the nearness and the pleasure of Allah) described as the greatest enjoyment in verse 15 of Ali Imran and verse 72 of Bara-at. Shaytan had no idea of such a place. He only saw the comforts of the place Adam was inhabiting and, out of spite and vengeance, decided to take him out from there and throw him in the land of test and trial, toil and hardship. Those who fail to understand the story of Adam should study the following facts to have a clear view: Adam and his progeny were sent in this world to fulfil the covenant they made with Allah. For those who followed the guidance sent down by Allah it was a blessing. Adam was created to represent Allah on the earth as His vicegerent (Baqarah: 30). His stay in the place of bliss (not the paradise) was temporary. Adam was not a weak-willed being who even was not able to control himself when Shaytan lured him through his wife. Certainly Allah would not choose such a weakling as His vicegerent whom the angels had to accept as their superior (Baqarah: 31 and 32). Allah has created man in the best mould (Tin: 4), and on account of this superiority He commanded the angels to prostrate before Adam (Baqarah: 34). Ibrahim was chosen as an Imam for the whole mankind when he passed the test (Baqarah: 124). Adam established his superiority over the angels when he displayed the knowledge of the names Allah taught to him (Baqarah: 31). Adam also passed the test. Therefore the behaviour of Adam should be understood in the light of the test after completion of which he was appointed as the vicegerent of Allah. Verses 40 and 42 of Hijr; 65 of Bani Israil; 51 of Maryam and 33 of Ahzab assert that Shaytan has no authority over those servants of Allah who have been freed from the taint of evil and purified; and Adam was one of them, so there was no question of Shaytan misleading Adam after he was selected as the vicegerent of Allah. As Imam Ali bin Musa ar Ridha has pointed out these events (of test and trial) took place in the place of bliss where Adam was not yet aware of the names, therefore was not yet chosen as the vicegerent of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:115-122
سوره طه / آیه 115 - 122
(115) وَلَقَدْ عَهِدْنَـآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَـهٝ عَزْمًا (116) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَـةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَۖ اَبٰى (117) فَقُلْنَا يَآ اٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُـمَا مِنَ الْجَنَّـةِ فَتَشْقٰى (118) اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْـهَا وَلَا تَعْرٰى (119) وَاَنَّكَ لَا تَظْمَاُ فِيْـهَا وَلَا تَضْحٰى (120) فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَآ اٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْـدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى (121) فَاَكَلَا مِنْـهَا فَبَدَتْ لَـهُمَا سَوْاٰتُـهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْـهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّـةِ ۚ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٝ فَغَوٰى (122) ثُـمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهٝ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى ترجمہ (115) ہم نے آدم سے پہلے پہل عهد لے لیا تھا لیکن وہ اسے بھول گیا اور ہم نے اس میں ٓعزم واستقامت نہ پائی۔ (116) جس وقت ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگرابلیسں نے انکار کیا (اور سجدہ نہ کیا)۔ (117) ہم نے کہا : اے آدم ! - یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہیں جنت سے باہر نکال دے کیونکہ اس طرح تو تم زحمت اور مشقت میں پڑ جاؤگے۔ (118) (لیکن بہشت میں تم راحت و آرام سے ہو) اس میں تمہیں نہ تو بھوک لگے گی اور نہ ہی تم برہنہ ہوگے۔ (119) اور اس میں نہ تمہیں پیاس لگے گی نہ سورج کی دھوپ تمہیں تکیلف پہنچائے گی ۔ (120) لیکن شیطان نے اسے وسوسہ میں ڈال دیا اور کہا : اے آدم ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے عمر جادواں کے درخت اورلاقانی مٓلک کی طرف رہنمائی کروں؟ (121) آخرکار دونوں نے اس میں سے کھا لیا (اور ان کا بہشتی لباس اترگیا) اور ان کی شرمگاہیں ان پر ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں بہشت کے درختوں کے پتوں کو اپنے اوپر لیپیٹنے گئے اور (آخرکار) آدم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور (اس کے انعامات سے) محروم ہوگیا۔ (122) اس کے بعد اس کے پروردگار نے اس کو برگزیدہ بنالیا اور اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت کی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:115-122
کیا آدم گنا کے مرتکب ہوئے تھے ؟
کیا آدم گنا کے مرتکب ہوئے تھے ؟ اگرچہ لفظ "عصیان" آج کے عرف میں گناہ کے معنی میں ہی بولا جاتاہے لیکن لغت میں اطاعت و فرمان سے باہر ہو جانے کے معنی میں ہے (چاہے فرمان وجوبی ہو یا استحبابي ) لہذا لفظ عصیان سے لازمی طور پر ترک واجب یا ارتکاب عوام کا معنی مراد نہیں ہے۔ بلک ایک مستحب کا ترک یا مکروہ کا ارتکاب بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے "امرونہی" کبھی ارشادی پہلو بھی رکھتے ہیں، مثلا ڈاکٹر کے اوامر و نواہی جور بیمار کو حکم دیا ہے کہ فلاں دوا کھاؤ اور فلاں غیرمناسب غذا سے پرہیز کرو . اس میں شک نہیں کہ اگر بیمار طبیب کے حکم کی مخالفت کرے گا تصرف خود کو ہی نقصان پہنچاۓ گا۔ کیونکہ اس نے طبیب کے ارشاد اور روایات کی پرواہ نہیں کی۔ خدا نے بھی آدم سے فرمایا تھا کہ ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانا کیونکہ اگر اسے کھاؤگے تو جنت سے باہر نکلنا پڑے گا اور زمین میں بے حد رنج و تکلیف میں جا گرفتار ہو جاؤگے۔ انہوں نے اس امر ارشادی کی مخالفت کی اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا۔ یہ بات اس چیز کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ آدم کے جنت میں ٹھہرنے کا زمانہ تو تجبراتی تھا تکلیف اور ذمہ داری کا زمانہ نہیں تھا۔ اس سے قطع نظر عصیان وگناہ بھی معطلق پہلو رکھتے ہیں یہ سب کے لیے بغیرکسی استثناء کے گناہ ہوتے ہیں مثلا جھوٹ بولنان ظلم کرنا، حرام مال کھانا اور بھی وہ نسبتی پہلو رکھتے ہیں یعنی یہ ایسا کام ہوتا ہے کہ اگر ایک انسان سے سرزد ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ کوئی گناہ نہیں ہوتا بلکہ کبھی اس کی نسبت سے وہ ایک مطلوب اور شائستہ عمل ہوتا ہے لیکن اگر وہی کام کسی دوسرے سے سرزد ہوجائے تو اس کے مرتبہ ومقام کا کرتے ہوئے وہ غیر مناسب ہوتا ہے. مثل ایک ہسپتال بنانے کے لیے لوگوں سے امداد کی اپیل کی جاتی ہے۔ ایک کاریگر آدمی اپنی ایک دن کی مزدوری کہ وہ بھی چند روپے سے زیادہ نہیں ہوتی دے دیتا ہے۔ یہ عمل اس کی نسبت سے ایثار اور اچھا عمل ہے، کامل طور پر مطلوب و پسندیدہ ہے لیکن اگر ایک دولت مند آدمی بھی اتنی ہی مقدار میں مدد کرے تو نہ صرف یہ کہ یہ عمل اس کی طرف سے ناپسندیدہ ہے بلکہ ملامت و مذمت کے لائق ہے حالانکہ اصولی طور پر نہ صرف یہ کہ اس نے کوےی حرام کام نہیں کیا ہے بلکہ ظاہر ایک کار خیر میں مدد بھی کی ہے۔ یہ وہی بات ہے کہ جسم ہم یوں کہتے ہیں : حسنات الابرار سيئات المقربين نیک لوگوں کی اچھائیاں مقربین کے لیے گناه ہیں۔ نیز یہ وہی چیز ہے کہ جو ترک اولی کے عنوان سے مشہور ہوئی ہے اور ہم اسے گنا وسمتی سے یاد کرتے ہیں کہ وہ نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی مقام عصمت کےعلامت ہے۔ اسلامی احادیث میں بھی کبھی کبھی مستحبات کی مخالفت پر معصیت کا اطلاق ہوا ہے ۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول کہ آپ نے روزانہ کی نافلہ نمازوں کے بارے میں فرمایا : یہ سب مستحب ہیں واجب نہیں ہیں ... ...... .. اور جو شخص ان کو ترک کرے اس نے معصیت کی کیونکہ مستحب ہے کہ جب انسان کسی نیک کام کو انجام دیتا ہے تو اس کام کو جاری رکھنا چاہیئے۔ اس موضوع اور حضرت آدم سے مربوط یا دوسرے مسائل اور ان کے جنت سے باہہ نکلنے کے بارے میں چھٹی جلد سوره اعراف کی آیہ 19 سے بعد اورجلد اول سوره بقر کی آیہ 30 تا 38 کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں، یہاں تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:115-122
شیطان کی فریب کاری
تفسیر شیطان کی فریب کاری : اس سورہ کا ایک اہم حصہ موسٰی و بنی اسرائیل کی سرگزشت اور فرعون اور اس کے حواریوں کے ساتھ ان کے مقابلے کے ذکر پر مشتمل تھالیکن زیر بحث آیات آدم و حوا کی داستان اور ابلیس کی ان سے دشمنی اور مقابلہ کرنے کے بارے میں ہیں۔ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حق و باطل کی جنگ آج اور کل اور موسٰیؑ و فرعون میں منحصر نہیں ہے۔یہ ابتدائے آفرنیش آدم جاری ہے اوراسی طرح سے جاری رہے گی۔ اگرچہ آدم وابلیس کی سرگزشت بارہا قران مجید میں بیان ہوئی ہے لیکن موقع پر کچھ نئے نکات بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں پر پہلے آدم کے خدا سے عہد و پمان کی بات ہو رہی ہے۔ فرمایا گیاہے:ہم نے آدمی سے پہلے عہد و پیمان لے لیا تھا لیکن وہ اسے بھول گیا اور اپنی عهد و پیمان کا پابند نہ رہا (ولقد عھدنا الٰى ادم من قبل فنسی ولم نجدله عزمًا)۔ اس بارے میں کہ اس عہد سے کونسا عہد مراد ہے ، بعض نے تویہ کہا ہے یہ ممنوعہ درخت کے نزدیک نہ جانے کا خدا کا فرمان ہے۔ متعدد روایات بھی اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے دوسرے احتمالات بھی ذکر کیے ہیں۔ انہیں بھی اس معنی کے شاخ و برگ شمار کیا جاسکتا ہے۔ مثلا خدا کا آدم کو اس خطرے کی خبر دینا کہ شیطان تمهارا سخت دشمن ہے ، تم اس کی پیروی نہ کرنا۔ باقی رہا "نسیان" تومسلمہ طور پر وہ مطلق فراموشی اور بھول جانے کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ مطلق فراموشی میں عتاب اور ملامت نہیں ہو سکتی بلکہ یا تو ترک کرنے کے معنی میں ہے جیسا کہ ہم روزمرہ کی گفتگو میں اس شخص سے کٓہ جس نے اپنے عمد کی وفا نہ کی بیوی کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے تو اپنے عہد کو بھول گیا ہے۔ یعنی تجھے یاد ہونا بھی فرامرش کرنے والے کی طرح ہے یا ان فراموش کاریوں کے معنی میں ہے کی توجہ کی کم اور اصطلاح کے مطابق "ترک تحفظ" کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں "عزم" سے مراد مصمم اور محکم ارادہ ہے کہ جب انسان کی شیطان کے قولی وسوسوں کے مقابلے میں حفاظت کرتا ہے۔ بہرحال اس میں شک نہیں کہ آدمؑ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ ان سے صرف " تراب اولٰی" سرزرد ہوا یا دوسرے لفظوں میں آدمؑ کی جنت میں سکونت کا دور ، تکلیف ( یا ذمہ داری یا مسئولیت) کا دور نہیں تھا۔ بلکہ یہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے تیار ہونے اور ذمہ داریوں کی جواب وہی کو قبول کرنے کا ایک تجرباتی دور تھا ۔ خاص طور پر یہ بات کہ اس مقام پر خدا کی ممانعت اخلاقی پہلو کی حامل تھی کیونکہ اس سے فرما دیا تھا کہ اگر ممنوعہ درخت سے کھاؤ گے تو حتمًا بہت سی زحمت و تکلیف میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ (ان سب باتوں کی تفصیلات اور اسی یہ بات کہ شجرہ ممنوعہ کیا مراد تھی اور اس قسم کے دیگر مباحث چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیہ 19 تا 22 سے ذیل میں ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں)۔ اس کے بعد اسی قصہ کے ایک دوسرے حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، ان سب نے تو سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا ، اس نے انکار کر دیا (واذقلنا للملائكة اسجدوالا دم فسجدوا الا ابلیس ابی )۔ اس سے آدم کا باعظمت مقام اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ وہ آدم کہ جو مسجود ملائکہ تھا اور پروردگار کی اس عظیم مخلوق کے لیے لائق احترام تھا ضمنی طور پر ان سے ابلیس کی دشمنی پہلے ہی قدم پر ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس نے عظمت آدم کے سامنے ہرگز سر تعظیم نہ جھکایا۔ اس میں شک نہیں کہ سجده ، پرستش و عبادت کے معنی میں خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور خدا کے سوا کوئی شخص اور کوئی چیز بھی معبود نہیں ہوسکتی ہے۔ اس بنا پر فرشتوں کا یہ سجدہ خدا کے لیے تھا ، زیادہ سے زیادہ اس باعظمت وجود کی آفرنیش کی خاطر سے کہ : شائستہ ستائش آں آفرید گاری است کارو چنیں دل آویز نقشی زماء وطسينی! وہ خالق ہی لائق تعریف ہے کہ جس نے پانی اور مٹی سے ایسا دل آویز نقش بنایا۔ یایہاں سجدہ خضوع اور انکساری کے معنی میں ہے۔ بہرحال ہم نے اس موقع پر آدم کو خطرے سے آگاہ کر دیا تھا اور " ہم نے کہا اے آدم ! اس طرز عمل سے یہ تصدیق ہوگئی کہ ابلیس تیرا اور تیر کی بیوی کا دشمن ہے۔ اس کا خیال رکھنا کہ کہیں تمهیں جنت ، سے باہر نہ نکال دے۔ جس سے تو رنج و تکلیف میں مبتلا ہوجائیگا ( فقلنا يا ادم ان هذا عد ولك ولزوجك فخرجنکما من الجنة فتشقي)۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں "جنت" دار آخرت کی بہشت جاوداں کے معنی میں نہیں ہے کہ جو ایک فقط تکامل وارتقا ہے اوراس سے باہر نكلنا اور وہاں سے بازگشت ممکن نہیں ہے ۔ یہ جنت کا یہاں ذکر ہے ایک باغ تھا کہ جس میں اس دنیا کے باغوں کی سب چیزیں موجود تھیں اور پروردگار کے لطف و کرم سے اس میں کوئی تکلیف اور زحمت نہیں تھی ۔لہذا خدا آدم کو اس خطرے سے خبردار کرتا ہے کہ اگر اس امن وامان کی جگہ سے تم باہر نکل گئےتو رنج و مشکل میں مبتلا ہوجاو گے "تشقي" شقاوت کے مادہ سے ہے اور شقاوت کے معانی میں سے ایک درد ورنج بھی ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے اپنا روئے سخن پہلے دونوں یعنی آدم و حوا کی بارش کیوں کیا ہے اور فرمایا ہے کہ : فلا يخرجنكما من الجنة شیطان تم دونوں کو جنت سے نکال دے۔ لیکن بابر آنے کا نتیجہ مفرد کی صورت میں آدم کے بارے میں بیان کیا ہے چنانچہ فرمایا گیا ہے : فیشقی اے آدم ! تو در و رنج نہیں جا پڑے گا۔ تعبیرکا یہ اختلاف ممکن اس نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ پہلے درجے میں درد و رنج آدم ہی کے حصے میں آئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ انہی کی زمہ داری تھی کہ اپنی بیوی کی مشکلات بھی اپنے کندھے پر اٹھائیں اور مردوں کی تو ذمہ داری شروع دن سے اسی طرح سے چلی آرہی ہے۔ یایہ بات ہے ، کہ چونکہ شروع میں آدم سے ہی عہد و پیمان لیا گیا تھا ، لہذا آخر میں بھی انہی سے خطاب کیا گیاہے۔ اس کے بعد خدا ، بہشت کے راحت و آرام اور اس سے باہر کے ماحول کے درد و رنج کی آدم کے لیے اس طرح تشریح کرتا ہے: تو یہاں پرنہ تو بھوکا رہے گا ۔ اور نہ ہی برہنہ ہوگا : ( أن لك الاتجرع فيها ولا تعریٰ)۔ نہ تو اس میں پیاسا رہے گا اور نہ ہی سورج کی تپتی ہوئى دھوپ تجھے تکلیف پہنچائے گی (وانک لا تظموافيها ولاتضحٰی). یہاں مفسرین کے لیے ایک سوال سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ پیاس کا حرارت آفتاب کے ساتھ اوربھوک کا ہرہنگی کے ساتھ کیوں ذکرکیا گیا ہے حالانکہ عام طور پر پیاس کا ذکر بھوک کے ساتھ کرتے ہیں . اس سوال کے جواب میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ پیاس اور سورج کی دھوپ میں تعلق ناقابل انکار ہے۔ "تضحی" "ضحى" مادہ سے سورج کا بادل وغیرہ کے ساۓ کے بغیر چمکنا ہے۔ باقی رہا بھوک کا برہنگی کے ساتھ جمع ہونا ، تو ممکن ہے ، یہ اس وجہ سے ہو کہ بھوک بھی ، غذا سے اندرونی برہنگی کی ایک قسم ہے (بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جاۓ لہ دونوں برہنگی اور گرسنگی (عریانی اور بھوک) فقروفاقہ کی دو خاص نشانیاں ہیں کہ جو عام طور پر ایک ہی ساتھ بیان کی جاتی ہیں : (بھوکے ، ننگے )بہرحال ان دونوں آیات میں انسان کی چار اصلی اور ابتدائی ضروریات یعنی کھانا ، پانی ، لباس اور مکان ( سورج سے بچاؤ کے لیے سائے) کی ضرورت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان ضروریات کا جنت میں حاصل ہونا ، نعمت کی فراوانی کی وجہ سے تھا درحقیقت ان امور کا ذکر ان باتوں کی ایک وضاحت ہے کہ جن کا بیان "فتشقي" (قو زحمت اور مشقت میں پڑ جائے گا ) کے جملے میں ہوا ہے ۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود شیطان نے آدم کے خلات عداوت اور دشمنی پر کمرباندھ لی۔ اسی وجہ سے وہ آرام سے نہ بیٹھا۔ اس نے آدم کو وسوسہ ڈالنا شروع کر دیا اور کما: اے آدم ! کیا میں تجھے عمر جادوانی کے درخت کا پتہ نہ دوں کہ جو شخص اس کا پھل کھالے گا ہمیشہ زندہ رہے گا ، کیا تو ہمیشہ کی حکومت وسلطنت تک پہنچنے کی راہ بتانا چاہتا ہے : ( فوسوس إليه الشيطان قال يا ادم هل أدلك على شجرة الخلد وملك لا يبلی) ۔ " وسوسه ، دراصل بہت ہی آہستہ اور دھیمی آواز کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں زہن میں برے مطالب اور بے بنیاد افکار پیدا ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ( برے مطالب) انسان کے اندر سے خود بخود پیدا ہوں یا باہر سے کوئی ان کا عامل اور سبب بنے۔ حقیقت میں شیطان نے یہ اندازہ لگالیا آدم کا میلان کسی چیز کی طرف ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ زندگی جادواں اور بے زوال قدرت و اقتدار تک پہنچنے کا خواہشمند ہے لہذا اس نے انہیں پروردگار کی مخالفت کی طرف کھینچنے کے لیے انہی دنوں عوامل سے استفادہ کیا ۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح سے خدا نے آدم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم شیطان کو اپنے سے دور رکھو گئے تو ہمیشہ کے لئے اپنے رب کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو گئے ، شیطان نے بھی اپنے وسوسوں میں اسی نکتے کو ملحوظ رکھا۔ ہاں شیاطین اپنے منصوبوں کی ابتداء انہی راستوں سے کرتے ہیں کہ جن سے راہ حق کے رہبر کرتے ہیں لیکن کچھ زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ اسے انحراف کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں اور راہ حق کی کشش کو گمراہیوں تک پہنچنے کے لیے ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ آخر کار جو نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ ہوگیا ۔ آدم و حوا دونوں نے ممنوعہ درخت سے کھا لیا اور اس کے ساتھ بی بہشتی لباس ان کے بدنوں سے گر پڑے اور ان کے اعضا شکار ہو گئے : ( فاكلا منها فبدت لهما سواتهما). ؎1 جب آدم و حوا نے یہ کیفیت دیکھی تو فورًا - جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے جسم کو ڈھانپنے لگے ( وطفقا يخصفان ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "سوات" جمع ہے "سوئة" (بروزن" عورة") کی یہ اصل میں اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو ناپسند ہو ۔ لہذا کبھی مردہ جسم پر اور کبھی شرم گاہ کے معنی میں بولا جاتا ہے اور یہاں یہی آخری معنی مراد ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- علیهما من ورق الجنة)۔ ؎1 ہاں! آخر کار " آدم نے اپنے پروردگار کی حکم عدولی کی اور اس کی جزا اور انعام سے محروم ہوگیا" (وعطى ادم ربه فغوٰی) . "غوى" "غی" کے مادہ سے لیا گیا ہے، جو ایسے جاہلانہ کام کے معنی میں ہے کہ جس کا سرچشمہ عقیدہ ہو اور چونکہ حضرت آدم نے یہاں شیطانی وسوسے سے پیدا ہونے والے وسوسے کی بناء پر عدم آگاہی سے اس شجرة ممنوعہ سے کھالیا تھا۔ لہذا اس کو "غوی" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے "غوی" کو اس جہل و نادانی کے معنی میں لیا ہے کہ دولت سے پیدا ہو، بعض نے محرومیت کے معنی ہیں اور بعض نے زندگی میں فساد پیدا ہونے کے معنی میں لیا ہے. بہرحال "غی" "رشد" کا نقطۂ مقابل ہے۔ رشد یہ ہے کہ انسان کسی ایسے راستے سے جائے کہ اپنے مقصد تک پہنچ جائے لیکن "غی" یہ ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچنے سے رہ جاۓ اور محروم رہ جائے۔ لیکن چونکہ آدم ذاتًا پاک اور مومن تھے اور رضائے خدا کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے اور یہ غلطی جو شیطانی وسوسے کی وجہ ہوگئی۔ ایک استثنائی پہلو رکھتی تھی۔ لہذا خدانے انہیں ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت سے دور نہیں کیا بلکہ "اس واقعہ کے بعد اس کے پروردگار نے اسے برگزیدہ بنالیا اور اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت کی ، (ثم اجتباه ربه فتاب علید وهذی)۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "يخصفان" "خصف" کے مادہ سے یہاں لباس سینے کے معنی میں ہے۔