وَلَتَجِدَنَّهُمۡ أَحۡرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٖ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ أَلۡفَ سَنَةٖ وَمَا هُوَ بِمُزَحۡزِحِهِۦ مِنَ ٱلۡعَذَابِ أَن يُعَمَّرَۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
Surely, you will find them the greediest for life, of all people even the idolaters. Each of them is eager to live a thousand years, though it would not deliver him from the punishment, were he to live [that long]. And Allah watches what they do.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:87-96
This sort of rebellion, due to jealousy, was seen in angels, who desired to be God’s Representatives on Earth, and the Arch-angel who refused to bow down to Adam was on this account. The angels did penance when they realized they had not the ability. So followers of Satan, in Jews, Christians, and Muslims disliked to follow Divine Nominees by Prophet, who were genuine Divine Lights and preferred to rule on Earth being a worthy ambition, though leading them ultimately to Hell by annihilating Islam.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:94-96
یہودیوں کی نسل پرستی
اس میں شک نہیں کہ بہت سی جنگوں اور خونریزیوں کا سرچشمہ نسل پرستی تھے خصوصا دنیا کی پہلی اور دوسری جنگ عظیم جو تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی بتاہی اور آبادی کی ویرانی کا باعث ہوئیں اس میں آلمانیوں (نازیوں) کی نسل پرستی کے جنون سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ اگر طے ہوجائے کہ دنیا کے نسل پرستوں کی صف بندی کی جائے یا فہرست مرتب کی جائے تو یہودی پہلی لائن میں ہوں گے۔ اس وقت بھی انہوں نے جو حکومت اسرائیل کے نام سے تشکیل دی ہے اسی نسلی تفاخر کی بنیاد پرہے اور اس کی تشکیل میں وہ کیسے مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی بقاء کے لئے کیسی کیسی دہشت ناکیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ دین موسوی کو بھی اپنی نسل میں محصور سمجھتے ہیں اور نسل یہود کے علاوہ کوئی یہودی مذہب قبول کرے تو یہ ان کیلیئے کوئی توجہ طلب بات نہیں اسی لئے تو وہ دیگر اقوام میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج نہیں کرتے اسی وجہ سے وہ ساری دنیا میں نفرت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے، ہیں کیونکہ دنیا کے لوگ ایسے اشخاص کو ہرگز پسند نہیں کرتے جو دوسروں کے مقابلے میں اپنے نسلی امتیاز کے قائل ہوں ۔ اصولی طور پر نسل پرستی شرک کی ایک قسم ہے اسی لئے تو اسلام سختی سے اس کا مقابلہ کرتاہے اور تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتاہے جن کا امتیاز فقط تقوی و پرہیزگاری ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:94-96
(عَلَی حَیَاةٍ)
نکرہ کی صورت میں یہ تعبیر کچھ مفسرین کے بقول تحقیر کے لئے ہے یعنی انہوں نے دنیا کی زندگی سے دل وابستہ کر رکھاہے یہاں تک کہ اس جہان کی پست ترین زندگی کو بھی جو بدبختی سے گزرے وہ آخرت کے گھر پر ترجیح دیتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:94-96
ہزار سال عمر کی تمنا
توجہ رہے کہ ہزار سال سے مر اد ہزار سال کا عدد نہیں بلکہ یہ طولانی عمر سے کنایہ ہے دوسرے لفظوں میں یہ عدد تکثیر ہے نہ کہ عدد تعداد۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ہزار کا عدد اس زمانے میں عربوں کے نزدیک سب سے بڑا عدد تھا اور اس سے بڑے عدد کا ان کے پاس کوئی نام نہیں تھا لہذا سب سے بڑا مبالغہ یہی شمار ہوتاتھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:94-96
خود پسند گروہ
قرآن مجید کی مختلف آیات کے علاوہ بھے یہودیوں کی تاریخ سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ اپنے آپ کو بلند نسل سمجھتے تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہی انسانی معاشرے کے منتخب پھول ہیں اور بہشت انہی کے لئے بنائی گئی ہے اور جہنم کی آگ ان سے زیادہ سر و کار نہیں رکھتی، وہ خدا کے بیٹے اور خاص دوست ہیں۔ خلاصہ یہ کہ (آنچہ خوباں ہمہ دارند انہا تنہا دارند یعنی تمام عالم کی اچھائیاں انہی میں جمع ہیں۔ ان کی یہ (خوشبودار، خود خواہی قرآن کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے، جن میں یہودیوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ سورہ مائدہ کی آیت ۱۸ میں ہے: نَحْنُ اٴَبْنَاءُ اللهِ وَاٴَحِبَّاؤ یعنی ۔ ہم خدا کے فرزند اور خاص دوست ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۱ میں ہے: وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ہُودًا اٴَوْ نَصَارَی یعنی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جاسکتا۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۸۰ میں ہے: وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ اٴَیَّامًا مَعْدُودَةً َ چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ ہمیں نہیں چھو سکتی۔ یہ موہوم خیالات ایک طرف تو انہیں ظلم و زیادتی اور گناہ و طغیان کی طرف مائل کرتے اور دوسری طرف تکبر، خود پسندی اور خود کو سب سے بلند سمجھنے کی دعوت دیتے۔ مندرجہ بالا آیات میں قرآن مجید انہیں دندان شکن جواب دیتاہے اور کہتا ہے: اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو کہ ) آخرت کا گھر خدا کے ہاں باقی لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لئے مخصوص ہے تو پھر موت کی تمنا کرو اگر سچ کہتے ہو (۔ قُلْ إِنْ کَانَتْ لَکُمْ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین )۔ کیاتم مائل نہیں ہوکہ جوار رحمت خدا میں جاکر پناہ لو اور جنت کی بے شمار نعمتیں تمہارے اختیار میں ہوں۔ کیا تم اپنے محبوب کے دیکھنے کے آرزومند نہیں ہو۔ یہودی چاہتے تھے کہ وہ یہ بات کرکے مسلمانوں کو آزردہ خاطر کریں کہ بہشت تو یہودیوں کے لئے مخصوص ہے یا یہ کہ ہم تو دوزخ میں بس چند دن جلیں گے اور یا کہتے کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی ہوگا۔ قرآن نے ان کے اس جھوٹ سے پردہ اٹھایاہے۔ کیونکہ جب وہ دنیا کی زندگی کو کسی طرح ترک کرنے کو تیار نہیں تو یہی ان کے جھوٹے ہونے کی محکم دلیل ہے۔ واقعا اگر انسان کا دار آخرت کے بارے میں وہی ایمان ہو جو بزعم خود یہودیوں کا تھا تو وہ اس دنیا سے کیسے لو لگا سکتا ہے اور کیسے اس کے حصول کے لئے ہزاروں گناہوں کا مرتکب ہوسکتا ہے اور وہ موت سے یہاں تک کہ اپنے مقصد کی راہ میں بھی کیسے ڈرسکتاہے۔ بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتاہے۔ اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کی وجہ سے وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے ( وَلَنْ یَتَمَنَّوْہُ اٴَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اٴَیْدِیہِمَْ)۔اور خدا ستمگاروں سے واقف ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِین)۔ جی ہاں۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے اعمال ناموں میں کیسی سیاہیاں موجود ہیں۔ وہ اپنے قبیح اور سنگین گناہوں سے مطلع تھے۔ خدا بھی ان ظالموں کے اعمال سے آگاہ ہے۔ اسی لئے ان کے لئے آخرت کا گھر عذاب، سختی اور رسوائی کا گھر ہے اور اسی بناء پر وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے۔ محل بحث آیت مادی چیزوں کے متعلق ان کی شدید حرص کا تذکرہ یوں کرتی ہے: انہیں تم اس زندگی پر سب سے زیادہ حریص پاؤگے۔ (ولَتَجِدَنَّہُمْ اٴَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاة) ۔ یہاں تک کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر ( ٍوَمِنْ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا)۔ مال و دولت کی ذخیرہ اندوزی میں حریص ، دنیا پر قبضہ کرنے میں حریص، سب کچھ اپنے لئے سمجھنے میں حریص یہاں تک یہ مشرکین سے بھی بڑھ کر حریص ہیں حالانکہ مشرکین کو فطری طور پر مال جمع کرنے میں سب سے زیادہ حریص ہوناچاہئیے۔ ان میں سے ہر کوئی چاہتاہے کہ ہزار سال تک زندہ رہے (یَوَدُّ اٴَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اٴَلْفَ سَنَةٍ )۔ زیادہ ثروت جمع کرنے کے لئے یا سزا کے خوف سے۔ ہاں۔ وہ موت سے ڈرتے ہیں اور ہزارسالہ عمر کی تمنا کرتے ہیں لیکن یہ طولانی عمر بھی انہیں عذاب خدا سے نہیں بچاسکے گی (وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ مِنْ الْعَذَابِ اٴَنْ یُعَمڑ)۔ اگر وہ گمان کرتے ہیں کہ خدا ان کے اعمال سے آگاہ نہیں ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ خدا ان کے اعمال کے بارے میں بصیر و بیناہے( وَاللهُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُونَ)۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:96
[Pooya/Ali Commentary 2:96] (see commentary for verse 94)