وَقَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
And they say, ‘The Fire shall not touch us except for a number of days.’ Say, ‘Have you taken a promise from Allah? If so, Allah will never break His promise. Do you ascribe to Allah what you do not know?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:80
[Pooya/Ali Commentary 2:80] According to George Sale, "the Jews believe that no person, be he ever so wicked, or of whatever sect, shall remain in hell above eleven months or at the most a year except Dathan or Abiram. the atheists who will be tormented there to all eternity ."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:80-82
آثار گناہ نے احاطہ کرلیا ہے ” سے کیا مراد ہے
لفظ خطیئہ بہت سے مواقع پر ان گناہوں کو کہا جاتا ہے جو جان بوجھ کر سرزد نہ ہوئے ہوں لیکن محل بحث آیت میں گناہ کبیرہ کے معنی میں آیا ۱ ہے یا اس سے مراد ہے اثار گناہ ۲ جو انسان کے دل و جان پر مسلط ہوجاتے ہیں ۔ بہر حال احاطہ گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اس قدر گناہوں میں ڈوب جائے کہ اپنے لئے ایک ایسا قید خانہ بنالے جس کے سوراخ بند ہوں ۔ اس کی توضیح یوں ہے کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ابتدا ء میں ایک عمل ہوتا ہے ۔ پھر وہ ایک حالت و کیفیت میں بدل جاتا ہے اس کا دوام و تسلسل ملکہ و عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب وہ شدید ترین ہوجاتا ہے تو انسان کا وجود گناہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ یہ وہ حالت ہے جب کسی قسم کا پند و نصیحت ، موعظہ اور رہنماؤں کی رہنمائی اس کے وجود پر اثر انداز نہیں ہوتی اور حقیقت میں اپنے ہاتھوں اپنی یہ حالت بناتا ہے ۔ ایسے اشخاص ان کیڑوں کی مانند ہیں جو اپنے گرد جال تن لیتے ہیں جو انہیں قیدی بنا کر بالآخر ان کا گلا گھونٹ دیتا ہے ۔ واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا انجام ہمیشہ جہنم میں رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کچھ آیات ہیں جن کے مطابق خدا صرف مشرکین کو نہیں بخشے گا لیکن غیر مشرک قابل بخشش ہیں مثلاََ : ان اللہ لا یغفران یشرک بہ و یغفر مادون ذٰلک لمن یشاٰء نساء ۔ ۴۸ ایسی آیا ت اور زیر بحث آیات جن میں ہمیشہ جہنم میں رہنے کا تذکرہ ہے اگر ان دونوں طرح کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسطرح کے گنہگار آخر کار گوہر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور وہ مشرک و بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں ۔ 1۔ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی ، آیہ کے ذیل میں ۔ ۲۔ تفسیر المیزان ، آیہ مذکورہ کے زیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:80-82
(۱) غلط کمائی
کسب اور اکتساب کا معنی ہے جان بوجھ کر ، اپنے اختیار سے کوئی چیز حاصل کرنا ۔ اس لحاظ سے” بلی من کسب سیئة “ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو علم ، ارادہ اور اختیار سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور ” کسب “ شاید اس لئے ہے کہ سر سری نظر میں گنہ گار گناہ کو اپنے نفع میں اور اس کے ترک کرنے کو اپنے نقصان میں سمجھتا ہے ۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں چند آیات کے بعد اشارہ ہوگا جہاں فرمایا گیا ہے : انہوں نے آخرت کو اس دینا کی زندگی کے لئے بیچ ڈالا اور ان کی سزا میں کسی قسم کی تخفیف نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:80-82
نسل پرستی کی ممانعت
زیر بحث آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کی روح جو آج کی دنیا میں بھی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ ہے اس زمانے میں یہودیوں میں موجود تھی اور وہ اپنے لئے بہت سے خیالی امتیازات کے قائل تھے ۔ کتنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی سال گذرنے کے باوجود ابھی تک یہ نفسیاتی بیماری ان میں موجود ہے اور در حقیقت غاصب اسرائیلی حکومت کی پیدائش کا سبب بھی یہی نسل پرستی ہے ۔ یہودی نہ صرف دنیا میں اپنی برتری کے قائل ہیں بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ نسل امتیاز آخرت میں بھی ان کی مددکرے گا اور ان کے گنہگار لوگ دوسری قوموں کے گنہ گاروں کے بر عکس صرف تھوڑی سی مدت کے لئے خفیف سی سزا پائیں گے ۔ انہی غلط خیالات نے انہی طرح طرح کے جرائم ، بد بختیوں اور سیہ کاریوں میں مبتلا کیے رکھا ہے ۔ ۱ ۸۳۔ و اذ اخذنا میثا ق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ قف و بالوالدین احسانا وذی القربیٰ والیتٰمیٰ و المسٰکین قوالوا للناس حسنا َ و اقیموا الصلوٰة و اٰتو االزکوٰة ط ثم تولیتم الا قلیلا منکم و انتم معرضون ۸۴۔ و اذ اخذنا میثا قکم لا تسفکون دمائکم ولا تخرجون انفسکم من دیارکم ثم اقررتم و انتم تشھدون ۸۵۔ ثم انتم ھٰؤلاء تقتلون انفسکم و تخرجون فریقا منکم من دیارھم تظٰھرون علیھم با لاثم والعدوان ط و ان یا تو کم اسٰریٰ تفٰدوھم وھو محرم علیکم اخراجھم ط افتئو منون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذٰلک منکم فی الحٰیوة الدنیا ویوم القیامة یردون الی اشد العذاب ط وما اللہ بغافل عما تعملون ۸۶ ۔ اٰولئک الذین اشترو الحیٰوة الدنیا با لاٰخرة فلا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینصرون ۸۳ ۔ اور (یاد کرو اس وقت کو ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا کہ تم خدائے یگانہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے اور ماں باپ ، ذوی القربیٰ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیکی کرو گے اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کرو گے ، نیز نماز قائم کرو گے اور زکوٰة اداکرو گے ۔ لیکن عہد وپیمان کے باوجود چند افراد کے سوا تم سب نے رو گردانی کی اور (ایفاء عہد سے )پھر گئے ۔ ۸۴ ۔ اور ( وہ وقت کہ ) جب ہم نے تم سے پیمان لیا کہ ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو اپنی سر زمین سے باہر نہیں نکالو گے ، تم نے اقرار کیا اور تم خود ( اس پیمان پر ) گواہ تھے ۔ ۸۵۔پھر تم ہو کہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو سر زمین سے باہر نکال دیتے ہو اور گناہ و ظلم کا ارتکاب کرتے ہو ان پر تسلط حاصل کرتے ہو ( اور یہ سب اس عہد کی خلاف ورزی ہے جو تم نے خدا سے باندھا ہے ) لیکن اگر ان میں سے بعض قیدیوں کی شکل میں تمہارے پاس آئیں اور فدیہ دے دیں تو انہیں آزاد کردیتے ہیں حالانکہ انہیں باہر نکالنا ہی تم پر حرام ہے ۔ کیا تم آسمانی کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لے آتے ہو اور کچھ سے کفر اختیار کرتے ہو ۔ جو شخص احکام و قوانین خدا میں تبعیض کا ) یہ عمل انجام دیتا ہے اس کے لئے اس جہان کی رسوائی اور قیامت میں سخت ترین عذاب کی طرف باز گشت کے سوا کچھ نہیں اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ۔ ۸۶۔یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بیج دیا ہے لہذا ان کی سزا میں تخفیف نہیں ہوسکتی اور کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا ۔ ۱ سورہ نساء آیہ ۱۳۲ کے ذیل میں بھی چھوٹے امتیا زات کی بحث تفسیر نمونہ جلد ۲ میں آئے گی ۔