بَلَى مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
Certainly whoever commits misdeeds and is besieged by his iniquity—such shall be the inmates of the Fire, and they will remain in it [forever].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:81
[Pooya/Ali Commentary 2:81] Aqa Mahdi Puya says: Earning (obtaining a return) is quite different from falling into evil. Those who earn the wages of sin are enclosed in sin. One sin leads to another sin. It is a vicious and unending cycle. Willing yielding to evil for self advancement, erects a fortress of wickedness brick by brick; and access to good becomes impossible. They are enclosed in error. Sinning becomes their nature, as the conscience is paralysed. Total abandonment to evil obtains eternal punishment. They are the people of hell. Man finds himself in such a hopeless situation only when he breaks the covenant made with the Lord and disconnects all links of attachment with the divinely commissioned guides (Baqarah: 38). Even a little liking for the goodness of the holy Imams may change the lifestyle of a habitual sinner.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:81-83
بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے
اس مقام پر قرآن یہودیوں کے بے بنیاد دعووں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے مغرور کر رکھا تھا اور جو ان کی کجرویوں کا سر چشمہ تھا ۔ قرآن نے یہاں اس کا جواب دیا ہے ۔ پہلے فرماتا ہے : وہ کہتے ہیں جہنم کی آگ چند روز کے سوا ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی ( وقالو ا لن تمسناالنار الا ایاما معدودة ) ۔ کہیئے : کیا خدا نے تم سے کوئی عہد و پیمان کر رکھا ہے کہ خدا جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا یا پھر بغیر جانے کسی چیز کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو ( قل اتخذتم عند اللہ عھدا فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون ) ۔ملت یہود کو اپنے بارے میں نسلی برتری کا زعم تھا اور یہ قوم سمجھتی تھی کہ جو وہ ہے وہی ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں سے جو گنہگار ہیں انہیں فقط چند دن عذاب ہوگا اس کے بعد انہیں ہمیشہ کی جنت ملے گی ۔ یہ ان کی خود خواہی و خود پرستی کی واضح دلیل ہے ۔ یہ امتیاز طلبی کسی بھی منطق کی رو سے روا نہیں اور بارگاہ الہٰی میں اعمال پر جزا و سزا کے سلسلے میں تما م انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ یہودیوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا جس کی بنا ء پر ان کے لئے جزا وسزا کے کلی قانون میں استثناء ہوجائے ۔بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک منطقی بیان کے ذریعہ اس غلط خیال کو باطل کردیتی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : تمہاری یہ گفتگو دو صورتوں میں سے ایک کی مظہر ہے یا تو اس سلسلے میں خدا کی طرف سے کوئی خاص عہد وپیمان ہوا ہے جب کہ ایسا پیمان تم سے ہوا نہیں یا پھر تم جھوٹ بولتے ہو اور خدا پر تہمت لگاتے ہو ۔ بعد کی اایت ایک کلی و عمومی قانون بیان کرتی ہے جو ہر لحاظ سے عقلی و منطقی بھی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : ہاں وہ لوگ جو کسب گناہ کریں اور آثار گناہ ان کے سارے وجود کو ڈھانپ لیں وہ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ( بلی من کسب سیئة و احاطت بہ خطیئتہ فا ٰوٰلئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون ) ۔ یہ ایک کلی قانون ہے کسی قوم وملت اور کسی گروہ و جمعیت کے گنہگار وں میں اور دیگر انسانوں میں موجود گنہ گاروں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔رہے پرہیز گار مومنین تو ان کے بارے میں بھی ایک کلی قانون ہے جو سب کے لئے یکساں ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیا ہے ۔ وہ اہل بہشت ہیں اور اہل بہشت ہمیشہ وہیں رہیں گے (و الذین اٰمنو ا وعملواالصالحات اوٰ لئک اصحٰب الجنة ھم فیھا خٰلدون )۔