الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
Those who give their wealth by night and day, secretly and openly, they shall have their reward near their Lord, and they will have no fear, nor will they grieve.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:274
[Pooya/Ali Commentary 2:274] Jalaluddin Suyuti writes in Durr ul Manthur (and all the Sunni scholars agree) that this verse was revealed in-praise of Ali to glorify his giving of four dirhams in the way of Allah - one by night, one by day, one secretly and one openly. Ibrahim bin Salih, Muhammad bin Salih, Yusuf bin Bilal, Muhammad bin Harun and Ibna Abbas report the Holy Prophet's saying that this verse was revealed to him in praise of Ali. Ali informed the Holy Prophet that he had only four dirhams with him and he gave all of them in the way of Allah to seek His pleasure, and he was fully satisfied to know that Allah had accepted his spending.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:274-281
1. Continuous charity, secret and open is like a virtuous act because open charity counts for an obligatory function and secret charity is a compensation towards shortcomings of the past and present, and thus results in no sorrow of the past and if the habit is continued, until the end of the life, there will be no fear for future. 2. Interest from Muslim is not permissible. Where, however, money remains at home, without causing any impediment and it is not an interest taking e.g. father lending his son, or wife to her husband, at suitable dividend.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:274
اس حدیث کا مضمون
اس حدیث کا مضمون اہل سنت کی کتب تفاسیر میںبھی نقل ہو ا ہے ۔ در منثور میں یہ حدیث ابن عساکر ،طبرانی میں ابو حاطم ،ابن جریر اور دیگر بہت سے مفسرین کے حوالے سے نقل کی گئی ہے لیکن قرآن کا حکم حسب معمول ایک عمومی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس آیت میں انفاق کے طور طریقوں اور مختلف کیفیات کی تشریح کی گئی ہے اور انفاق کرنے والوں کی ذمہ داری کی وضاحت کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ظاہر یا پوشیدہ طور پر خرچ کرتے وقت اخلاقی و اجتماعی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ جس پر خرچ کیا جا رہا ہے اس کی شخصی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ جس مقام پر حاجتمند وں کی حفاظت آبرواور زیاد ہ خلوص مقتضی ہو کہ انفاق کو پوشیدہ رکھا جائے وہاں پوشیدہ ہی رہنا چاہئے اور جہاں دیگر مصالح مثلا شعائر مذہبی کی تعظیم اور دوسروں کو تشویق و ترغیب دلانا مقصود ہو اور کسی مسلمان کی ہتک حرمت بھی نہ ہوتی ہو وہاں ظاہری طور پر خرچ کرو ۔ ایسے افراد کو اجر اور اچھے بدلے کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے : ان کا اجر و ثواب خدا کے پاس ہے اور ان کے لیے کوئی وحشت و خوف اور غم و اندوہ نہیں ہے ”فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “ ہم جانتے ہیںکہ انسان اپنی زندگی کو جاری و ساری رکھنے اور اس کو انتظام کرنے کے لیے اپنے آپ کو مال و دولت سے بے نیاز نہیں سمجھتا ۔ اس لیے جب اسے ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے تو حزن و ملال کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنی آئندہ زندگی کے لیے بھی پریشان ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے حالات آئندہ کیسے رہیںگے ۔ یہی خیال بہت سے مواقع پر اسے خرچ کرنے سے روک لیتا ہے ۔ مگر جو لوگ خدا کے وعدو ں پر ایمان رکھتے ہیں اور خرچ کرنے کے اجتماعی آثار کو بھی سمجھتے ہیں وہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے مستقبل کے لیے کسی خوف و وحشت میں مبتلا نہیں ہوتے اور اپنی کچھ دولت خرچ کر دینے پر غمزدہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اس کے بدلے میں پروردگار کے ہاں کئی مراتب حاصل کریں گے اور اس کے بہت فضل سے بہرہ مند ہونگے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں اس دنیا میں اور آخرت میں اس عمل کے ذریعہ انفرادی ، اجتماعی اور اخلاقی برکات حاصل ہوں گی ۔ ۲۷۵۔ الذین یا کلون الربٰوا لا یقومون الا کما یقوم الذین یتخبطہ الشیطان من المس ط ذٰلک بانھم قالو ا انما البیع مثل الربٰوا م و احل اللہ البیع و حرم الربٰو ط فمن جاء ہ مو عظة من ربہ فانتھیٰ فلہ ماسلف ط و امرہ الی اللہ ط و من عاد فا لئک اصحب النار ھم فیھا خالدون ۲۷۶۔ یمحق اللہ الربٰو ا و یربی الصدقٰت ط واللہ لا یحب کل کفار اثیم ، ۲۷۷۔ ان الذین آمنوا و عملوا الصالحتٰ و اقامو االصلوٰة و آتو االذکوٰہ لھم اجرھم عند ربھم و لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ترجمہ ۲۷۵۔ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ تو بس اس شخص کی طرح کھڑے ہوتے ہیں جسے شیطان نے چھوکر باؤلا کردیا ہو اور وہ اپنے اعتدال کو بر قرارنہ رکھ سکتا ہو ( کبھی زمین پر گر پڑتا ہو اور کبھی کھڑا ہو جاتا ہو ) یہ سب اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بیع بھی سود کی طرح ہے ( اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں جب کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے ( کیونکہ دونو ں میں بہت فرق ہے ) اور اگر کسی تک خداتعالی کی طرف سے نصیحت پہنچ جائے اور وہ ( سود خوری سے) بچ جائے تو وہ سود ( جو اس کی حرمت کے حکم کے نازل ہونے سے) پہلے سے مل چکا ہے وہ اس کا مال ہے ( اور اس حکم میں گزشتہ مال شامل نہ ہوگا ) اور اس کا معاملہ خدا کے سپرد ہوجائے گا ( اور وہ اس گذشتہ معاملے کو بخش دے گا ) لیکن جو لوگ لوٹ جائیں ( اور اس گناہ کا نئے سرے سے ارتکاب کریں وہ اہل آتش جہنم میں ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیںگے۔ ۲۷۶۔ اللہ سود کو نابود کردے گا اور صدقات کو بڑھائے گا اور خدا کسی ناشکر گزار گنہ گار کو دوست نہیں رکھتا ۔ ۲۷۷۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوںنے اچھے اعمال انجام دیے اور نماز قائم کی اور زکوٰة ادا کی ان کی اجرت و ثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے ان کے لیے خوف ہے نہ وہ کسی حزن و ملال مین مبتلا ہوں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:274
وہ لوگ جو شب و روز اپنے اموال پنہاں و آشکار خرچ کرتے ہیں
۲۷۴۔ الذین ینفقون اموالھم بالیل و النھار سرا و علانیصة فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ترجمہ ۲۷۴۔ وہ لوگ جو شب و روز اپنے اموال پنہاں و آشکار خرچ کرتے ہیں ، ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے ۔ ان پر کوئی خوف ہے نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ۔ تفسیر ہر صورت میں خرچ کرنا بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ آپ نے ایک درہم رات کو ، ایک دن کو، ایک چھپا کر اور ایک ظاہر بظاہر خرچ کیا تھا ۔ (۱) (۱)نورالثقلین ج ۱ ص ۲۹۰،۲۹۱