لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
[The charities are] for the poor who are straitened in the way of Allah, not capable of moving about in the land [for trade]. The unaware suppose them to be well-off because of their reserve. You recognize them by their mark; they do not ask the people importunately. And whatever wealth you may spend, Allah indeed knows it.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:273
[Pooya/Ali Commentary 2:273] Alms should be given to those who are devotedly absorbed in the service of Allah. We can recognise them by the light of contentment and positive acceptance of their mission on their faces. They do not solicit charity, but live from hand to mouth. By stating that only those poor who abstain from begging deserve charity, this verse, indirectly, condemns professional beggary. "Go about in the land" means seeking sustenance for the family.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:273
انفاق کا بہترین موقع
اس آیت میں خدا تعالی نے انفاق کے لیے بہترین موقع بیا ن کیا ہے ۔ جن پرخرچ کیا جا نا چاہیئے ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ۱۔۔الذین احصروا فی سبیل اللہ : یعنی وہ لوگ جو اہم کا موں مثلاجہا د، دشمن سے مقابلہ ، فنون جنگ کی تعلیم اور ضروری علوم کی تحصیل میں مصروف ہیں اور اس وجہ سے اپنی زندگی کے اسباب مہیا نہیںکرسکتے جیسے اصحاب صفہ ،جو اس کے واضح مصداق تھے ۔ ۲ ۔لایستطیعون ضربا فی الارض: وہ اسباب زندگی کی تلاش میں سفر اختیار نہیں کرسکتے ۔ ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ شہروں ، بستیوں اور ایسے علاقوں میں جائیں جہاں اللہ کی نعمتیں فراواں ہیں اس لیے جو لوگ اسباب زندگی مہیا کرسکتے ہیں وہ سفر کی مشقت اور تکلیف برداشت کریں اور دوسروں کے دست و بازو کی کمائی پر ہرگز نہ بیٹھے رہیں ۔ہاں البتہ کسی زیادہ اہم کام کی وجہ سے وہ لوگ رک جائیں مثلا جہاد جو رضائے الہی کا محل و مقام ہے ۔ ۳۔ یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف : یعنی جو لوگ ان کے حالات سے آگاہ نہیں ہیں وہ ان کی خودداری ، عزت نفس اور پاک دامنی کی وجہ سے گمان کرتے ہیں کہ یہ غنی اور کسی کی امداد سے بے نیاز ہیں ۔ ۴۔ تعرفھم بسیمٰھم :“ لغت میں علامت اور نشانی کے معنی میں ہے ، یعنی اگرچہ وہ اپنے بارے میں کوئی بات نہیں کہتے لیکن ان کے چہرے پر داخلی دکھ درد کی نشانیاں موجود ہوتی ہیں جو باشعور افراد کے لیے واضح ہوتی ہیں ۔ ان کے رخسار وں کا رنگ ان کے اندرونی راز کی خبر دیتا ہے ۵۔ لا یسئلون الناس الحافا : مراد یہ ہے کہ وہ پیشہ ور فقیروں کی طرح کسی سے سوال نہیں کرتے یعنی وہ تو اصولی طور پر سوال کرتے ہی نہیں چہ جائیکہ وہ سوال میں اصرار یا تکرار کریں ، دوسرے لفظوں میں پیشہ ور فقیروںکا معمول ہے کہ وہ سوال پر اصرار کرتے ہیں لیکن بالعموم ضرورت مند اور حاجت مند نہیں ہوتے ۔ یہ جو قرآن نے کہا ہے کہ وہ اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کہ وہ سوال تو کرتے ہیںمگر اصرار نہیں کرتے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ پیشہ ور فقیر نہیں ہوتے کہ سوال کرتے پھریں ۔ اس بناء پر اس جملے کا آیت کے ابتدائی جملے سے کوئی اختلاف نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنی علامت سے پہچانے جاتے ہیں نہ کہ سوال کے ذریعے۔ آیت میں ایک احتمال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ شدید حالت اضطرار کے باعث وہ سوال پر مجبور بھی ہوجائیں تو کبھی سوال پر اصرار نہیں کرتے بلکہ اپنی حاجت کو نہایت احسن طریقہ سے اپنے مسلمان بھائیوں کے گوش گزار تے ہیں ۔ وما تنفقوا من خیر فان اللہ بہ علیم یہ جملہ خرچ کرنے والوں کو شوق دلانے کے لیے ہے ، خصوصا ایسے افراد پر خرچ کرنا جو صاحب عزت نفس اور عالی مزاج ہیں کیونکہ جب خرچ کرتے وقت کسی کو یہ خیال ہو کہ جو کچھ وہ راہ خدا میں خرچ کر رہا ہے چاہے مخفی طور پر ہے لیکن خدا تعالی اس سے آگاہ ہے اور اسے اس کے عمل کے ثمرات سے بہر مند کرے گا تو وہ زیادہ لگاؤ اور انہماک سے یہ عظیم خدمت سر انجام دے گا ۔