لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
It is not up to you to guide them; rather, it is Allah who guides whomever He wishes. Whatever wealth you spend, it is for your own benefit, as you do not spend but to seek Allah’s pleasure, and whatever wealth you spend will be repaid to you in full and you will not be wronged.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:272
[Pooya/Ali Commentary 2:272] The general policy of Islamic ideology is to give freedom of choice to the individual, therefore, Allah, through His messenger, makes it clear that no one should compel any one to walk on the right path. Whatever we spend, to seek the pleasure of Allah, works out our own good - the common welfare of the society. So, a portion of Zakat and khums has to be spent, under the directions of a mujtahid, for the general benefit of the community. It is recommended that to bring the infidels from the darkness of ignorance into the light of faith, charity may also be given to them. We spend in the way of Allah to benefit ourselves, because whatever we spend is paid back to us in full.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:272
انفاق کرنے والوں پر اس کے اثرات
”وما تنفقو امن خیر فلانفسکم “: آیت کے اس حصے میں فرما یا گیا ہے کہ ا نفاق کے فوائد کی با زگشت خود تمہاری طرف ہے ۔ ا س میں انفاق کرنے والوں کو اس انسانی عمل کی تشویق دلائی گئی ہے ۔مسلم ہے کہ جب یہ انسان جا ن لیتا ہے کہ اس کے کا م کا نتیجہ اور فائدہ خود اسی کو حاصل ہو گاتو اس کا دل زیادہ اس کا م میں لگے گا ۔ ممکن ہے کہ بادی النظر میں یہ معلوم ہو کہ انفاق کے منا فع کی بازگشت سے مراد اس کی اخروی جزا اور اس کے اخروی نتائج ہیں ۔یہ مفہوم اگرچہ صحیح ہے لیکن ایسا نہیں کہ انفاق کا فائدہ فقط آخرت میں حاصل ہو تا ہے بلکہ اس دنیا میں بھی اس کے مادی اور معنوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ معنوی لحاظ سے انفاق کرنے والے میں عفو وبخشش ،ایثا ر ،دوستی اور اخوت کے جذبات پیدا ہو تے ہیںاور حقیقت میں یہ انسان کے تکامل اور اس کی روح کے ارتقاء کے لیے ایک موٴثر تر بیتی ذریعہ ہے ۔ مادی لحاظ سے دیکھا جائے تو معاشرے میں محروم اور بےنوا لوگو ں کی موجودگی خطر نا ک دھماکوںکاسبب بنتی ہے اور یہ دھماکے بعض اوقات اصل ملکیت کو ختم کر دےتے ہیں۔تمام دولت اور سرمائے کو نگل جاتے ہیں اور نابود کردےتے ہیں ۔ انفاق اور خرچ کرنے سے مختلف طبقات میں تفاوت میں کمی آتی ہے ا ور طبقاتی کشمکش کی وجہ سے معاشرے کو جو خطر ات لاحق ہو تے ہیں انفاق کے ذریعہ ٹل جا تے ہیں ۔ انفاق غیض وغضب کی آگ کوٹھنڈا کرتا ہے اور محروم طبقوں کو جلا دینے والے شعلوں کو بجھا دیتاہے اور ان میںسے انتقا م کے جذ بات ختم کر دیتا ہے ۔ ا س بناء پر انفاق اجتماعی اہمیت ،اقتصادی سا لمیت اور مختلف دیگر مادی ومعنو ی پہلووٴں کے پیش نظر خود خرچ کر نے والوں کے فائد ے میں ہے ۔ ”وما تنفقون الاابتغاء وجہ اللہ“: یعنی مسلمان اپنے اموال خوشنودیٴ خدا کی طلب کے علاوہ خرچ نہیںکرتے ۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے ،ممکن کہ جملہ خبریہ یہاں نہی کے معنی میں ہو یعنی لوگوں کو انفاق نہیں کرنا چاہیئے مگر یہ کہ خدا کی رضا کے لیے ہو اور انفاق صرف اس صورت میں سود مند اور مفید ہے جب خدا کی خاطر انجا م پذیر ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:272
ہدایت کی اقسام
ہدایت کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ ۱۔ ہدایت تکوینی :۔ہدایت تکوینی سے مراد یہ ہے کہ خدا نے مختلف موجودات عالم مثلا انسان اور دیگر جاندار بلکہ بے جان موجودات کے ارتقاء اور تکامل کے لیے عوامل کا ایک سلسلہ پیدا کیا ہے ۔شکم مادر میں بچے کارشد وتکامل مختلف اجنا س اور نباتات کے دانو ں کی زمین کے اندر پیش رفت اور نشود ونما ، نظام شمسی کے مختلف کرات کی اپنی مدار میں حرکت اور اس قسم کی دیگر چیزیں ہدا یت تکوینی کے مختلف نمونے ہیں۔ ایسی ہدایت خدا سے مخصوص ہے اور اس کے طبیعی وماوراء طبیعی عوامل واسباب ہیں ۔قرآن مجیدکہتا ہے : ”الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدیٰ“۔ وہ خدا جس نے ہر موجو د ومخلوق کو اس کی مخصوص خلقت عطا کی اور اس کے بعد اسے ہدایت کی ۔ (طہ ۔۵۰) ۲۔ ہدایت تشریعی :۔ اس ہدایت سے مراد ہے تعلیم و تر بیت،مفید قوانین ،عادلانہ حکومت اور پند ونصیحت کے ذریعہ لوگوں کی راہنمائی کرنا ،یہ ہدایت انبیاء ،مرسلین ،آئمہ معصومین ،صالحین اور ہمددر مربین کے ذریعہ انجا م پاتی ہے ۔قرآن میں بارہا اس کی طرف اشارہ ہواہے۔قرآن مجید کہتاہے ”ذالک الکتٰب لا ریب فیہ ھدََی للمتقین “۔ اس عظیم کتا ب میں کوئی شک نہیں اور یہ پرہیز گا روں کی ہدیت کا ذریعہ ہے ۔سورہ بقرہ :آیة ۲۔ ۳ وسیلے کی فراہمی:۔ہدایت کا ایک معنی وسیلہ اور ذریعہ فراہم کر نا بھی ہے ۔ ایسی ہدایت کو کبھی توفیق بھی کہا جا تاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو ضروری وسائل فراہم کر دیے جا ئیں تاکہ وہ اپنی رضا ورغبت سے اپنی پیش رفت کے لیے ان سے استفاد ہ کر سکیں ۔مثلا َمدرسہ ،مسجد اور دیگر تربیتی مراکز قائم کرنا ۔ضروری پروگرام اور کتب مہیا کرنااور لائق واہل مبلغین اور معلمین کی تر بیت کرنا ۔یہ سب امور ہدایت کی اس قسم میں شامل ہیں ۔در اصل ہدایت کی یہ قسم ہدایت تکوینی اور ہدایت تشریعی کے درمیان حد فاصل ہے ۔قرآن کہتاہے: ”والذین جاھدو ا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد اور کوشش کر تے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔ ( عنکبوت ۔۶۹) ۴۔ نعمتوں اور جزا وثواب کی طرف کی ہدایت : اس ہدیت سے مراد ہے دوسرے جہا ں میں اہل ایمان کو ان کے نیک اعمال کے نتائج سے بہرہ مند کرنا ۔ایسی ہدایت اہل ایمان اور اعمال صالح بجالانے والے افراد سے مخصوص ہے ۔قرآن کہتا ہے ”سیھدیھم ویصلح با لھم “۔ خدا انہیں ہدایت کرتا ہے اور ان کی حالت کی اصلاح کر تا ہے (محمد :۵) آیت میں یہ جملہ راہ خدامیں شہید ہونے والوں کی فدا کا ری کے ذکر کے بعد آیا ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ ہدایت صرف دوسرے جہان میں ان کے ا پنے عمل کے اچھے نتائج سے بہرہ مند ہونے سے مربوط ہے ۔ واقع میں یہ چار قسم کی ہدیت ایک ہی حقیقت کے مختلف مراحل ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک پہلے کے بعد اگلا مرحلہ ہے ۔ سب سے پہلے ہدایت تکوینی ہے جو انسان کی تلا ش میں آتی ہے اور عقل وفکر اور دوسرے قویٰ اس کے اختیار میں دے دیتی ہے ۔ پھر انبیا ء کی ہدیت اور راہنمائی شروع ہو جا تی ہے اوروہ لوگوں کو راہ حق کی ہدات کرتے ہیں اس کے بعد جب لوگ اگلے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں تو توفیق الٰہی ان کے شامل حال ہوتی ہے ۔ان کے لیے راستے ہموار ہوتے چلے جا تے ہیں اس طرح وہ تیسرے مرحلے کو طے کرتے ہیں ۔ آخر میں دار آخرت ہے جہا ں لو گ اپنے اعمال کے نتائج سے بہر ہ مند ہوں گے ۔ ان چار اقسام میں سے ارشاد وتبلیغ انبیاء ا ور آئمہ ھد یٰ کے حتمی فرائض میں سے ہے اور تیسری قسم میں یہ جو راستہ ہموار کرنے کو کہا گیا ہے یہ انبیا ء اور آئمہ کی حکومت الٰہی کے پر گراموں کا جزء ہے ۔آخری اور پہلی قسم ذات خدا سے مخصوص ہے ۔اس بناء پر قر آن میں جہاں کہیں پیغبر اکرم سے ہدایت کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد دوسری اور تیسری قسم کی ہدایت نہیں ہے۔ ”ولٰکن اللہ یھدی من یشاء “ یعنی خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ پر ور دگا ر عا لم کی طرف سے ہدایت حساب وکتا ب اور حکمت ودانش کے بغیر نہیں یعنی ایسا نہیں کہ وہ کسی کو بلا وجہ ہدا یت دے دے اور دوسرے کو محروم رکھے ۔ زیر نظر آیت سے ایک اور حقیقت معلوم ہو تی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو یہ جو ریا کا ری ،احسان جتلانے اور آزارپہنچانے سے منع رہنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اپنے آپ کو ان مور سے آلودہ کریں تو تم پریشان نہ ہو نا ۔تمہا ری ذمہ داری فقط احکا م بیان کرنا ہے اور ایک صحیح اجتماعی ماحول پیدا کرنا ہے ۔اس کے تم ہرگز ذمہ دار نہیں ہو کہ انہیں مجبور کرو ۔ واضح ہے کہ یہ تفسیر گذشتہ تفسیر سے اختلاف نہیں رکھتی اور یہ ممکن ہے کہ آیت سے دونو ں مفاہیم حاصل کئے جا ئیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:272
وجہ اللہ کامفہوم
”وجہ“کا لغوی معنی ہے ”چہرہ“۔بعض اوقات یہ ”ذات“کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ اس بناء پر ” وجہ اللہ“ کامعنی ہوا ”ذات خدا “ انفاق کرنے والوں کی نظر میں پروردگار کی ذات پاک ہونا چاہیے اس سے معلوم ہواکہ لفظ ”وجہ “اس آیت میں اور ایسی دیگر آیات میں ایک طرح کی تاکید کا حامل ہے کیونکہ ”ذات خدا ‘کے لیے میں ”خدا کے لیے “کی نسبت زیا دہ تاکید ہے یعنی حتمی طور پر خدا کے لیے ہو کسی اور کے لیے نہ ہو ۔ علاوہ ازیں انسان کا چہرہ ا س کے ظاہری بدن کا بہترین حصہ ہوتا ہے ۔قوت بصارت ، قوت سماعت ،اور قوت گو یائی اسی حصہ میں موجود ہیں ۔ اس لیے جب لفظ ”و جہ“استعمال ہو تو وہ اہمیت کی طرف اشارہ کرہا ہوتا ہے ۔ یہاںبھی خدا کے بارے میں یہ لفظ بطور کنا یہ استعمال ہو ا ہے اور واقع میں اس سے ایک طرح کا احترام او ر اہمیت ظاہر ہورہی ہے ۔یہ بدیہی ہے کہ خداا تعالی جسم رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی چہرہ ہے۔ ”وما تنفقو ا من خیر یوف الیکم وانتم لا تظلمون “: آیت کے اس حصے میں سابق مفہوم کو زیادہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے یہ گمان نہ کرو کہ انفاق سے تمہیں صرف تھوڑا سا فائدہ پہنچے گا بلکہ جو کچھ تم خرچ کرو گے سب تمہاری طرف پلٹ آئے گا اور تم پرتھوڑا سا ظلم بھی نہ ہو گا اس لیے انفاق کرتے وقت ہا تھ او ر دل کھلا رکھو۔ ضمنی طور پر یہ جملہ تجسم اعمال کے مسئلہ پربھی دلیل ہے ۔ کیو نکہ ا س کے مطابق :جو تم خرچ کرو گے وہی چیز تمہیں واپس کردی جا ئے گی ۔ ۲۷۳۔للفقرآء الذین احصروا فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضربا فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف تعرفھم بسیمٰھم لا یسئلون الناس الحافاوماتنفقوا من خیرفان اللہ بہ علیم ترجمہ ۲۷۳۔(تمہارا نفاق خاص طور پرایسے لو گو ں کے لیے ہو نا چاہیے )جوحاجت مند ہوں اورراہ خدا میں محصور ہو چکے ہوں (دین خدا کی طرف ان کی رغبت کی وجہ سے وہ بے وطن ہو گئے ہوں اور جہاد میں شرکت کی وجہ سے ان کے لیے ممکن نہ رہا ہو کہ وہ کسب وتجارت کے ذریعہ اپنے اسباب زندگی فراہم کر سکیں)سفر نہ کرسکتے ہوں (کہ سفر کے ذریعہ روزگار مہیاکرسکیں اور ان کی خودداری کی وجہ سے بے خبر لوگ انہیں دولت مند اور توانگر سمجھتے ہیں لیکن تم انہیں ان کے چہروں سے پہنچان لو گے اور وہ اصرار کر کے ہر گز لوگوں سے کوئی چیز طلب نہیں کرتے (یہ ان کی نشانیاں ہیں )اور ہر اچھی چیز جو تم راہ خدا میں خرچ کرو خدا اس سے آگا ہ ہے ۔ شان نزول امام با قرسے منقو ل ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے (۱)۔مسجد میں ان کی رہائش چونکہ مسجد کے احترامات کے منافی تھی لہٰذا انہیں حکم دیا گیا کہ مسجد سے باہر صفہ (۲) میں منتقل ہو ں جا ئیں ۔ ا س صورت حال پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو اپنے ان بھائیوں کو ہر ممکنہ امداد کر نے کا حکم دیا گیا ہے اور انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ (۱)اصحاب صفہ :یہ تقریباََچارسوافراد تھے ۔ان کا مکہ اور اطراف مدینہ سے تھا۔ مدینہ میں ان کا کوئی گھر اورکوئی رشتے دار نہ تھا۔اس لیے انہوں نے مسجد نبوی میں سکونت اختیار کرلی تھی ۔ انہوں نے ہر اسلامی جہاد میں شرکت کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کر رکھاتھا ۔ (۲)صفہ۔بڑے اور وسیع بر آمدے کو کہتے ہیں ۔ تفسیر