إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
If you disclose your charities, that is well, but if you hide them and give them to the poor, that is better for you, and it will atone for some of your misdeeds, and Allah is well aware of what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:271
[Pooya/Ali Commentary 2:271] It is well if one gives alms openly to set an example for others to follow suit. Extra and hidden giving in compliance with the Holy Prophet's advice "one hand knows not what the other gives", is more noble because it protects from the danger of vanity. This verse sanctions both the modes of spending in the way of Allah - open and secret, because Allah is aware of the intentions and the motives of the givers. He gives in return an appropriate recompense in both the cases. It is, therefore, presumptuous to say that "if one does some act of charity before men, no reward awaits him in his Father's house in heaven." (Matthew 6: 1). "And this will do away with some of your evil deeds" indicates that there are some good deeds, like spending in the way of Allah, which earn forgiveness from the Lord for the sins so far committed. Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq says: Hidden charity appeases the wrath of Allah, does away with the sins as the water puts out the fire, and keeps away several misfortunes. The Holy Prophet has said: Seven persons shall be allowed to take refuge with Allah when there will be no other refuge. (1) He who rules justly and judges impartially. (2) He who grows up in a virtuous family as an embodiment of virtue. (3) He who remains attached with the place of worship of Allah, and loves and helps the worshippers. (4) He who loves people, and hates the evildoers in order to promote the cause of Allah. (5) He who says: "I fear the Lord" whenever a beautiful woman incites him to do that which is forbidden. (6) He who gives charity in secret by one hand, not letting the other know it. (7) He who prays in secret and sheds tears in fearful awareness of the Lord.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:271
”ویکفرعنکم من سیاٰتکم “
”ویکفرعنکم من سیاٰتکم “: اس جملے سے معلوم ہو تا ہے کہ راہ خدا میں خرچ کر نا گناہو ں کی بخشش کے لیے بہت موٴثر ہے کیونکہ حکم انفاق کے بعد اس جملے میں فرما یا گیا ہے :اور تمہارے گناہو کو چھپاتا ہے ۔ البتہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تھوڑے سے انفاق کی وجہ سے گناہ بخش دیے جا ئیں گے بلکہ یہا ں ”من “استعمال ہو ا ہے جو عام طور پر کچھ حصے کے لیے ”تبعیض “کے مفہو م میں استعمال ہو تا ہے اس سے معلو م ہوتاہے کہ انفاق کچھ گناہوں کو چھپا تا ہے اورظاہر ہے کہ یہ انفاق کی مقدار اور خلوص کے معیار سے وابستہ ہے ۔اس بارے میں انفاق کے سبب بخشش ہے ، اہل بیت علیہ السلام کے طرق سے بہت سی روایا ت وارد ہوئی ہیں ۔ان میں سے ایک حدیث میں ہے : پوشیدہ طور پر خرچ کرنا غضب خدا کو ٹھنڈا کر دیتا ہے ا ور جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اس طرح یہ ا نسان کے گنا ہ ختم کر دیتا ہے (1) ایک اور روایت میںہے ۔ سات اشخاص ایسے ہیں جن پر قیامت کے دن خدا اپنے لطف کاسایہ کرے گا جب کہ اس دن اس کے سایہ لطف کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااور وہ سات اشخاص یہ ہیں۔ ۱۔ عادل راہنما۔ ۲۔ وہ جوان جواللہ تعالی کی عبادت میں پروان چڑھتا ہے ۔ ۳ ۔ وہ شخص جس کا دل مسجد سے پیوستہ ہے ۔ ۴۔ وہ اشخاص جو خدا کے لیے ایک دوسرے کو دوست رکھتے ہیں ،محبت اور الفت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور محبت ہی سے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ۵۔ وہ شخص جسے خوبصورت اور قد ر ومنزلت کی حامل عورت دعوت گناہ دے اور وہ کہے : میں تو خدا سے ڈرتا ہو ں ۔ ۶۔ وہ شخص جو اس طرح مخفی طور پر انفاق کرتا ہے کہ دائیں ہا تھ کو خبر نہیں کہ بائیں ہاتھ نے انفاق کیا ہے ۔ ۷۔ وہ شخص جو اکیلا یا د خدا میں محو ہواور اس کی آنکھو ں کے کنارے سے آنسوگررہے ہوں ۔ (2) ا س جملے کا معنی ہے کہ تم جو کچھ خرچ کرتے ہو ظاہرا ہو یا پوشیدہ ،خدا جانتا ہے اسی طرح وہ تمہاری نیتوں سے آگاہ ہے کہ اظہا ر واخفاء کس مقصد کے لیے انجام دیتے ہو ۔ (1) (صدقةالسر تطفی غضب الربوتطفی الخطیئةکما یطفی الماء النار۔) (2) سبعة یظلھم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الامام الامام العد ل والشاب الذی نشافی عبادة اللہ تعالی ،ورجل قلبہ یتعلق بالمساجد حتی یعو د الیہا، ورجلان تحایا فی اللہ واجتمعا علیہ وتفرقا علیہ ،ورجل دعتہ امراةذات منصب وجما ل فقال انی اخاف اللہ تعالی ،ورجل تصدق فاخفاھا حتی لم تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ ورجل ذکر اللہ خالیا ََفضاضت عیناہ، ”واللہ بما تعلمون خبیر“
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:271
تم ان کی ہدایت پر مجبور نہیں ہو
لیس علیک ھدٰھم :یعنی تم ان کی ہدایت پر مجبور نہیں ہو ۔ اس جملے میں پیغمبر اکرم سے خطاب ہے اور گذشتہ آیات سے اس کا ربط واضح ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں کلی طور پرانفاق کا ذکر ہے اور یہ آیت غیر مسلموں پر اس معنی میں خرچ کرنے کی تشریح کرتی ہے کہ غیر مسلم فقراء و مساکین پر اس مقصد کے لیے خرچ نہ کرنا کہ وہ فقر و فاقہ کی سختی سے اکتا کر اسلام قبول کرلیں اور اور ان کی ہدایت ہوجائے ، یہ صحیح نہیں ہے جیسے اس دنیا میں خدائی بخشش اور نعمتیں ( بلا تفریق دین و آئین ) سب انسانوں کے لیے ہیں مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ جب مستحب انفاق کریں اور حاجت مند وں کی حاجت روائی کریں تو ضروری مواقع پر غیر مسلموں کی حالت کا بھی خیال رکھیں البتہ یہ اس صورت میں ہے جب غیر مسلموں پر خرچ کرنا انسانی مدد کے طور پر ہو کفر کی تقویت اور اسلام دشمنوں کی منحوس سازشوں کی پیش رفت کا سبب نہ بنے بلکہ انہیں اسلام کی روح ِ انسان دوستی سے آگاہی کا ذریعہ بنے ۔ یہ جو پیغمبر اکرم سے کہا گیا ہے کہ تم ان کی ہدایت پر مجبور نہیں ہو ،واضح ہے کہ اس کا یہ مقصد نہیں کہ ارشاد و تبلیغ آپ کا فریضہ اور ذمہ داری نہیں ۔ کیونکہ ارشاد و تبلیغ تو پیغمبر کے واضح ترین اور بنیاد ترین پروگرام کا حصہ ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ کا فریضہ نہیں کہ ان پر سختی کریں اور انہیں ہدایت پر مجبور کریں ۔ دوسرے لفظوں میں مراد جبری ہدایت کی نفی ہے اختیاری ہدایت کی نہیں یا مراد تکوینی کی نفی ہے ، ہدایت تشریعی کی نہیں ۔ اس کی وضاحت ذیل میں پیش کی جائے گی
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:271
انفاق میں جو چیز موٴ ثر ہے
بہر حال انفاق میں جو چیز موٴ ثر ہے وہ عمل میں پاکیزہ نیت اور خلوص ہے ،لوگو ں کا جاننا یانہ جاننا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔اہم چیز خدا کا جانناہے کیونکہ اعمال کی جزا د ینے والاوہی ہے ۔وہ اعمال مخفی ہو چا ہے آشکار۔ ۲۷۲ ۔لیس علیک ھدٰھم ولٰکن اللہ یھدی من یشآء ط وما تنفقو ا من خیر ِفلانفسکم ط وما تنفقوا لاا بطغآء وجہ اللہ ط وما تنفقو امن خیرِیوف الیکم وانتم لاتظلمون ترجمہ ۲۷۲ ۔(جبر سے ) ان کی ہدایت کرنا تمہا رے ذمے نہیں ہے (اس بنا ء پر غیر مسلموں کو اسلام لا نے پر مجبور کر نے کے لیے ان پرخر چ نہ کر نا صحیح نہیںہے)لیکن خدا جسے چاہتا ہے ( اور وہ اہلیت رکھتا ہے تو)ہدایت کرتاہے اور جو کچھ تم اچھی چیز وں میں سے خرچ کرتے ہو وہ تمہا رے لیے ہی ہے (لیکن) اللہ کی رضا کے سوا خرچ نہ کرو اور اچھی چیزوں میں سے جو کچھ خرچ کرتے ہو وہ تمہیں دیاجا ئے گا اور تم پر ظلم نہیں ہوگا ۔ شان نزول تفسیر مجمع البیا ن میں ابن عباس سے منقول ہے کہ مسلمان غیر مسلموں پر خرچ کرنے کو تیا ر نہیں تھے ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اجازت دی گئی کہ ضروری مواقع پر یہ کا م انجا م دیں ۔ اس آیت کے بارے میں ایک اور شان نزول منقول ہے جوپہلی شا ن نزول سے غیر مشابہ نہیں ہے اور یہ کہ اسما ء ایک مسلمان عورت تھی ۔ عمرة القضا ء کے سفر میں وہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں تھی۔ اس کی ما ں اور دادی اسے ڈھونڈھتے ہوئے پہنچیں انہوں نے اس سے مدد مانگی ۔ چونکہ وہ دونو ں مشرک اور بت پرست تھیں اس لیے اسماء نے ان کی مدد کرنے سے انکا ر کر دیااور کہا :ضروری ہے کہ پہلے پیغمبر اکرم سے اجازت حاصل کرلوں ۔ کیونکہ تم میرے دین کی پیرو نہیں ہو ۔ اس کے بعد وہ آنحضرت کی خدمت میں آئی اور اجازت چاہی ۔ اس پر محل بحث آیت نازل ہوئی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:271
خرچ کیسے کر نا چاہیئے
اس میں شک نہیں کہ راہ خدا میں اعلانیہ یامخفی طور پر خرچ کرنے میں سے ہر ایک مفید اثر رکھتا ہے کیو نکہ انسان آشکار اور اعلانیہ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کر تاہے تو اگر وہ واجب خرچ ہے تو قطع نظر اس کے کہ اس سے ایسے نیک کا مو ں کا لوگوں میںشوق پید اہو تاہے انسان اس تہمت سے بھی بچتاہے کہ اس نے واجب ذمہ د ا ری پوری نہیں کی اور اگر یہ انفاق مستحب ہے تو حقیقت میں ایک طرح کی عملی تبلیغ ہے جو اچھے کا م کرنے کا مجرموں کا ساتھ دینے اور اجتماعی مفاد کے لیے نیک کا م کر نے کی تشویق کا باعث ہے ۔ دوسری طرف اگر انفاق مخفی طور پر ہو توتو یقینا َاس میںریاکاری اورخو د نمائی کمتر ہوگی اور ا س میں خلوص زیادہ ہو گاخصوصاََ محروم انسانو ں کی مددکے بارے میںیہ طرزعمل بہتر ہے کیونکہ اس طرح ان کی عزت وآبرو بہتر طور پر محفوظ رہ سکے گی ۔انہی پہلووٴں کے پیش نظر آیت میں ان دو طریقوں کو اپنی جگہ پر اچھا اور شائستہ قر ار دیاگیا ہے ۔ مخفی طور پر خرچ کرنے کے بارے میں اس حکم پربعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ صرف مستحب اخراجا ت کے لیے ہے ۔واجب انفاق مثلا زکوٰةوغیرہ کی ادائیگی تو ہمیشہ آشکار اور اعلانیہ ہی بہتر ہے لیکن مسلم ہے کہ دونوں احکام (اظہار اور اخفاء )میں سے کوئی بھی عمومی اورسب کے لیے ایک جیسا پہلو ںنہیں رکھتے بلکہ حالات مختلف ہو تے ہیں ۔بعض ا و قات جب کہ تشویق زیادہ موٴثرہو او رخلوص پر زد نہ پڑتی ہوتواظہار کرنا بہتر ہے ۔بعض اوقا ت آبرو مند افراد سے ایسا معاملہ درپیش ہے کہ ان کی عزت وآبروکا تقاضا ہے کہ انفاق مخفی طور پر انجام پائے اور ریاکاری اور عدم خلوص کا خوف بھی ہے تووہا ں اسے مخفی ہی رکھنا چاہیئے ۔ امام صادق علیہ السلا م سے منقو ل ہے ۔آپ نے فر مایا : واجب زکوٰة اپنے مال سے آشکا ر طور پر الگ کرلو اور کھلے بند وں خرچ کرو ۔ لیکن مستحب انفاق مخفی ہو تو بہتر ہے ۔ (۱) جوکچھ ہم نے کہا ہے ایسی احادیث اس سے متضاد نہیں کیو نکہ واجبات کی ادائیگی میں ریا کی آمزش بہت کم ہوتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذمہ د اری اور فریضہ ہوتی ہے اور اسلا می ما حول میں ہر شخص مجبور ہو تا ہے کہ اسے اداکرے اور یہ یقینی اموال کی حیثیت سے ادا کرنا ہو تے ہیں۔اس بنا ء پر اس کا اظہار بہتر ہے اور مستحبی انفاق میں چونکہ لازمی ہو نے کا پہلو نہیں تو ممکن ہے اس کا اظہا ر خلوص نیت کونقصان پہنچا ئے لہٰذ ااسے مخفی طور پر انجا م دینا زیا دہ مناسب ہے ۔ ”ویکفرعنکم من سیاٰتکم : (۱) الزکوٰة المفروضةتخرج علانیةوتدفع علانیةوغیرالزکوٰة ان دفعہ سراََفھو فضل۔(تفسیر مجع ا لبیان نقل از علی بن ابراہیم ۔)