حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
Be watchful of your prayers, and [especially] the middle prayer, and stand in obedience to Allah;
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:238
[Pooya/Ali Commentary 2:238] Wasta means middle. Many commentators say that the middle prayer is the afternoon (asr) prayer, coinciding with the peak of daily activity, most likely to be overlooked, although it is a duty of a devout believer to remember Allah in the midst of worldly pursuits. According to al Baqarah: 143 ummatan wasatan implies a group of people who are balanced, anchored, well-behaved, persevering, and away from the danger of extremes. If that which is the best is properly attended to, then generally speaking, the entire pattern of worship will be sound. Qumu lillahi qanitin (stand up with devotion, truly obedient to Allah) prescribes qunut, recitation of any Quranic dua, while standing and raising both the hands, palms joined together, in front of the face. Concentration and presence of mind are essential for praying the salat, a regulated system of worship which gives man the opportunity to establish communion with his creator, five times a day. Salat prescribed by Islam, is not the ritualistic movements of the body. Its demand of employing all mental powers enables man to reflect divine attributes in his character, otherwise mere ritual has been condemned in the following verses. Woe, therefore, to such performers of prayer, who are unmindful of their prayer, who would (pray) to be seen. (Ma-un: 4 to 6) Aqa Mahdi Puya says: Salat prayed in danger, is called salat ul khawf. According to this verse salat cannot be missed under any circumstances.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:238-239
نماز لوگوں کی روح کو تقویت بخش دے۔
ہو سکتاہے کچھ لوگ تصور کریں کہ نماز کے بارے میں اس قدر تاکید اور اصرار ایک طرح کی سخت گیری ہے اور ایسے حالات میں یہ انسان کو اپنے اہم دفاعی فرائض سے غافل کرسکتی ہے۔ در اصل یہ بہت بڑا اشتباہ ہے کیونکہ عموما ان حالات میں انسان ہر چیز سے زیادہ روحانی تقویت کا محتاج ہوتا ہے اور اگر خوف و ہراس ، وحشت اور روحانی کمزوری اس پرغالب آ جائے تو اس کی شکست تقریبا یقینی ہوتی ہے۔ لہذا نماز اور خدا سے رشتہ جوڑنے سے بہتر عمل کونسا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ تمام جہان ہستی پر خدا کا حکم کار فرما ہے اور تمام چیزیں اس کے ارادے کے سامنے سہل معمولی اور آسان ہیں۔ وہ طاقت رکھتاہے کہ مجاہد سپاہیوں اور خطرے میں گھرے ہوئے لوگوں کی روح کو تقویت بخش دے۔ صدر اول کے بہت سے مجاہدات میں پیش آنے والے شواہد سے قطع نظر یہودیوں سے مسلمان کی حالیہ چوتھی جنگ جو اس سال (۱۳۹۳ہجری ) کے ماہ رمضان میں ہوئی کی کی خبروں پر نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ نماز اور احکام اسلام کی طرف توجہ نے مسلمانوں کی بہت روحانی تقویت بخشی جو دشمنوں پر کامیابی کے لیے بہت مئوثر رہی۔ آیت کا یہ حصہ نشاندہی کرتا ہے کہ پیدل چلتے ہوئے اور سواری پر نماز کی ادائیگی حالت خوف وخطرسے مخصوص ہے اور جب امن و امان قائم ہو جائے اور راحت و آرام میسر آجائے تو پھر عام حالت کی طرح نماز ادا کرنا چاہیے ” فاذا امنتم فاذکرواللہ “ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم بہت سی چیزوں کو نہیں جانتے تھے اور خدا نے تمہیں ان کی تعلیم دی ہے امن اور خوف میں نماز پڑھنے کا طریقہ بھی اس نے تمہیں سکھایاہے۔ واضح ہے کہ اس تعلیم کا شکرانہ یہی ہے کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے اور جیسا حکم دیا جائے ویسا عمل کیا جائے۔ ” کما علمکم مالم تکونوا تعلمون “ ۲۴۰۔ والذین یتوفون منکم و یذرون ازواجا وصیةً لازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج فان خرجن فلاجناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن من معروف واللہ عزیز حکیم ترجمہ : ۲۴۰۔ اور تم میں سے جو لوگ آستانہ موت تک جاپہنچتے ہیں اور اپنی بیویاں پیچھے چھوڑجاتے ہیں۔ ان کے لےے وصیت کرنی چاہےے کہ ایک سال تک انہیں (زندگی کے اخراجات سے) بہرہ مند کریں بشرطیکہ وہ ( شوہر کے گھر سے ) باہر نہ نکلیں ( اور نئی شادی کے لیے اقدام نہ کریں ) اور اگر وہ باہر چلی جائیں ( تو مصارف حیات لینے کا حق نہیں رکھتیں) لیکن ان پر اس بارے میں کوئی گناہ (بھی) نہیں کہ وہ اپنے لےے کوئی شائستہ اقدام کریں اور خدا توانا و حکیم ہے۔ تفسیر: آیت کے پہلے حصے میں حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو موت کے آستانے تک جا پہنچیںاور اپنی بیویاں پیچھے چھوڑجائیں تو انہیں وصیت کرناچاہےے کہ ان کے پسماندگان ایک سال تک ان کے مال سے ان کی بیویوں کے اخراجات ادا کریں۔ اس لےے لفظ” یتفون “ مرنے کے معنی میں نہیں بلکہ ذکر وصیت کے قرینہ سے موت کے آستانہ پر جا پہنچنا مراد ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ عورت بھی شوہر کی موت کے بعد ایک سال تک اس کے گھر میں رہے اور اس سے باہر نہ نکلے ” غیر اخراج “ ” فان خرجن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن “ یہ جملہ دو معانی پرمنطبق ہو سکتا ہے۔ ۱۔ عورت کا حق ہے کہ مرد کے وارث ایک سال تک اس کے مصارف ادا کریں لیکن اگر عورت اپنی خوشی سے ایک سال کا خرچ نہ لے اور شوہر کے گھر میں بھی نہ رہے تو پھر کوئی اس کا جواب دہ نہیں ہے اور اگر عورت دوسری شادی کر لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت میں اجازت دی گئی ہے کہ عورت پہلے سال کے دوران میں نان ونفقہ سے صرف نظر کرکے سابق شوہر کے گھر چلی جائے۔ دوسرے معنی کے مطابق ایک سال تک کی مدت گزارناعورت پر لازمی ہے دوسرے لفظوں میں ایک سال تک مکمل عدت گزارناعورت کے لےے ” حکم “ کی حیثیت رکھتا ہے نہ یہ کہ اس کا حق ہے جیسا کہ پہلے مفہوم میں ظاہر ہوتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کونسی بفسیر آیت کے مفہوم سے میل کھاتی ہے اور مناسب ہے۔ کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے ؟ بعض مفسرین کا کہتے ہیں کہ یہ آیت اسی سورہ کی آیت ۲۳۴ کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہے۔اس میں عدت وفات چار ماہ اور دس دن معین کی گئی ہے اگرچہ وہ آیت تنظیم اور ترتیب کے اعتبار سے پہلے آئی ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ سورتوں کی آیات کی تنظیم تاریخ نزول کے مطابق نہیںہے۔بلکہ بغض اوقات وہ آیات جو بعد میں نازل ہوئی ہیں سورہ کے آخر میں ہیں اور ایسا آیات کی مناسبت کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ اور یہ فرمان پیغمبر کے مطابق ہی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جیسا آیت ۲۳۴ کی تفسیر میں گذر چکا ہے زمانہ جاہلیت میں عدت وفات ایک سال سمجھی جاتی تھی اور اس مدت میں عورت کے لیے خرافات پر مبنیاور تکلیف و رسوم رائج تھیں۔ اسلام نے جاہلیت کی اس رسم کو ختم کر دیا۔ پہلے عدت کو ایک سال کے لےے مقرر قراردیا بعد از اں اس ایک سال کی مدت کو ختم کرکے چار مہینے اور دس دن کی عدت معین کی اور اس عرصے میں عورت کو صرف زیب و زینت سے منع کیا گیا۔ لیکن آیت کی منسوخی کے بارے میں یہ دلائل قابل قبول نہیں کیونکہ نسخ تو اس وقت ہو سکتاہے جب ہم آیت کے دوسرے معنی مراد لیں یعنی اس آیت کا مفہوم یہ سمجھیں کہ ایک سال تک گھر سے نہ نکلنا عورت کے ذمے فرض ہے ، یہ عورت کا حق نہیں ہے۔ اگر پہلا مفہوم مراد لیا جائے جب کہ وہ آیت سے بہت زیادہ مناسبت بھی رکھتاہے تو پھر نسخ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ اس آیت میں اخراجات کے حصول اور امکان سے فائدہ اٹھانے کو ایک سال تک کی عدت سے مشروط کر دیا ہے۔ اس میں عورت کو حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو چار ماہ اور دس دن بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے اور نئی شادی کرلے بہذا اس صورت میں فطری طور پر اس کی زندگی کے مصارف پہلے شوہر کے مال سے منقطع ہو جائیں گے۔ اصطلاح کی رو سے چار ماہ دس دن کی عدت رکھنا عورت کے لےے ایک حکم الزامی ہے اور اس میں عورت کا انتخاب کوئی اثر نہیں رکھتا البتہ ایک سال تک اسے جاری رکھنا یہ عورت کا حق ہے اور وہ اس حق سے استفادہ کرسکتی ہے اور یہ عدت اختیار کرکے اپنے لےے اخراجات حاصل کر سکتی ہے اور اسے یہ بھی حق پہنچتا ہے کہ ان سے صرف نظر کرکے شوہر کے گھر چلی جائے اور نئی شادی کرلے ۔ ” من معروف “ یہ تعبیر اس بات کی طرف کو اشارہ ہے کہ عورتیں مجاز ہیں کہ ہر شائستہ اور مناسب اقدام کر سکیں۔ ( یہاں اس سے مراد شادی کرنا ہے ) اور اس سلسلے میں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے۔ ” واللہ عزیز حکیم “ آیت کے آخر میں اس بناء پر کہ ایسی عورتیں اپنی آئندہ کی زندگی سے پریشان نہ ہوں ان کی دلجوئی کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہےگ خدا قادر ہے کہ پہلے شوہر کی وفات کے بعد ان کے لےے کوئی اور راہ کھول دے اور انہیں کوئی مصیبت پہنچی ہے تو اس میں کوئی حکمت تھی، خلاصہ یہ کہ اگر خداوند عالم حکمت کی وجہ سے ایک دروازہ بند کرتا ہے تو اپنے لطف و کرم سے دوسرا کھول دیتا ہے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ۲۴۱۔ وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین ۲۴۲۔کذالک یبین اللہ لکم آیاتہ لعلکم تعقلون ترجمہ: ۲۴۱۔( شوہر کی طرف سے ) تمام مطلقہ عورتوں کو ہدیہ دیا جانامناسب ہے۔ یہ پرہیزگار مردوں پرحق ہے ۔ ۲۴۲۔ اس طرح خدا اپنی آیات تمہارے سامنے بیان کرتاہے کہ شاید تم غور و فکر کرو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:238-239
نماز انسان کو خالق کائنات سے مربوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے
نماز انسان کو خالق کائنات سے مربوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر وہ اپنی شرائط کے ساتھ انجام پا جائے تو دل کو عشق خدا سے معمور کردیتی ہے۔ اور کے ذریعہ انسان بہتر طور سے گناہوں، آلودگیوں اور پرور دگار کی نافرمانیوں سے محفوظ ہو سکتا ہے ۔ لہذا یہ آیت تاکید کرتی ہے کہ مسلمان اس فریضہ کو قائم کرنے میں کوشاں رہیں اور خشوع و خصوع اور پوری توجہ سے بجا لائیں خصوصا نماز وسطی کی حفاظت کریں۔ صلواة وسطی کون سی نماز ہے صلاة وسطی کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں لیکن ہمارے پیش نظر جو قرائن ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد نماز ظہر ہی ہے۔ کیونکہ علاوہ اس کے کہ نماز ظہردن کے وسط اور درمیان میں بجالائی جاتی ہے ۔ آیت کی شان نزول بھی گواہی دیتی ہے کہ نماز ظہر کی تاکید اس لیے ہے کہ لوگ گرمی کی وجہ سے اس میں کوتاہی کرتے تھے ۔ اس سے قطع نظر کئی ایک روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ نماز وسطی سے مراد نماز ظہر ہی ہے۔ ” و قوموا للہ قانتین “ قنوت کے دو معنی ہیں ۱۔ پیروی اور اطاعت کرنا ۲۔خشوع و خضوع یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات دونوں معانی مراد ہوں جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اس جملے کی تفسیر میں دونوں معانی بیان فرمائے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے ” و قوموا للہ قانتین “ کا مفہوم ہے کہ نماز میں خضوع اور پروردگار کی طرف توجہ کرتے ہوئے بجا لاؤ۔ ایک اور حدیث میں ہے: ” وقومو للہ قانتین “ یعنی ” مطیعین “ ( اطاعت کرتے ہوئے) فان خفتم فرجالا اور رکباناً ” رجال “ یہاں ” راجل “ کی جمع ہے جس کا معنی ہے پیادہ اور ” رکبان“ ”رکب “ کی جمع ہے جس کے معنی ہے سوار ، یعنی میدان جنگ یا ایسے کسی اور موقع پر خوف کے عالم میں تم پیدل چلتے ہوئے یا سواری و حرکت کی حالت میں بھی نماز ادا کرسکتے ہو۔ اس آیت میں تاکید کی گئی ہے کہ سخت ترین حالات میں حتی کہ جنگ میں نماز کو ترک نہیں کرناچاہےے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ خطرے کی حالت میں نماز کی بہت سی شرائط ساقط ہو جاتی ہیں مثلا قبلہ رو ہونا ۔ متعارف اور معمول کے طریقے سے رکوع و سجود بجالانااور اس قسم کی دیگر چیزیں ایسی حالت میں رکوع و سجود کو اشارے سے بھی بجا لایا جا سکتاہے ۔ منقول ہے کہ حضرت امیر المئومنین علیہ السلام نے حکم دیا تھا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے ایماء اور اشارے سے نماز پڑھتے رہو۔ ” ان النبی (ص) صلی یوم الاحزاب ایماناً “ پیغمبر (ص) نے جنگ احزاب میں اشارے سے نماز پڑھی تھی ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام سے پوچھا گیا اگر کوئی شخص کسی درندے کی گرفت میں آجائے اور بالکل حرکت نہ کرسکتا ہو اور نماز کا وقت بھی تنگ ہو تو اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جس حالت میں ہے اسی حالت میں نماز پڑھے چاہے قبلہ کی طرف پشت ہی کیوں نہ ہو۔ اسے نماز خوف کہتے ہیں ۔فقہ میں اس کے بارے میں فقہاء نے مفضل بحث کی ہے۔ آیت کہتی ہے کہ نماز کا پروگرام اور دل ہر حالت میں نماز سے مربوط رہے تاکہ ہر حالت میں خدا سے دل بستگی رہے اور اسی سے انسان کی امید بندھی رہے تاکہ میدان جنگ تک میں نماز اور خدا کی طرف توجہ ترک نہ ہونے پائے۔