وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
As for those of you who die leaving wives, they shall wait by themselves four months and ten days, and when they complete their term, there will be no sin upon you in respect of what they may do with themselves in accordance with honourable norms. And Allah is well aware of what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:234
[Pooya/Ali Commentary 2:234] Aqa Mahdi Puya says: The wife of a deceased man should keep herself in waiting for four months and ten days, even if she had no intercourse with her dead husband. If she is pregnant she should wait upto the prescribed period or the delivery, whichever is later.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:234-235
جب تک عدت ختم نہ ہو نکاح نہ کیا جائے۔
آیت کے اس حصے میں سمجھایا گیا ہے کہ کھلے بندوں خواستگاروں سے روکنا کافی نہیں بلکہ مخفی طور پر عدت کے دوران میں عورت سے بالصراحت خواستگاری نہیں کرنا چاہیے ۔ البتہ اس سلسلے میں گفتگو واقعاًاس طرح ہو کہ معاشرتی آداب و قوت شدہ شوہر کے احترام سے ہم آنگ ۔ قرآن کی اصطلاح میں ” معروف “ یعنی پسندیدہ ہو ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پردے اور کنائے سے ہو۔ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں رہبران اسلام نے سر بستہ خواستگاری او رقول معروف کی وضاحت کے لےے کئی ایک بار مثالیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ہم بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں قول معروف یہ ہے کہ مثلاً مرد جس عورت کو نگاہ میں رکھے ہوئے ہے اس سے کہے کہ میں عورتوں کا احترام کرتا ہوں تم سے دلی لگاؤرکھتا ہوں اس لےے کسی اور کو مجھ پر ترجیح نہ دینا۔ ”ولا تعزموا عقدة النکاح حتی یبلغ الکتاب الجلہ“ آیت کے اس حصے میں صراحت سے فرمایا گیا ہے کہ جب تک عدت ختم نہ ہو نکاح نہ کیا جائے۔ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایاگیا ہے کہ خدا تمہارے مخفی بھیدوں سے آگاہ ہے لہذا اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرتے رہو۔ لیکن خدا یہ بھی نہیں چاہتا کہ جو بندے کبھی کبھار اس کی مخالفت کربیٹھیں وہ بالکل اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں ۔ لہذا جا ن لو کہ خدا بخشنے والا اور بندوں کو سزا دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا۔ ” واعلموا ان اللہ یعلم ما فی انفسکم فاحذروہ و اعلموا ان اللہ غفور الرحیم “ ۲۳۶۔ لا جناح علیکم ان طلقتم النسآء ما لم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین ترجمہ : ۲۳۶۔ اگر مباشرت اور تعیین سے قبل (بوجوہ ) عورتوں کو طلاق دے دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ( اس موقع پر )انہیں ( مناسب ہدیہ کی صورت میں ) بہرہ مند کرو۔ جو طلاق رکھتا ہے وہ اس کے مطابق او ر جو بنگ دست ہے وہ اپنے حسب حال شائستہ ہدیہ ( جو لینے والے اور دینے والے دونوں کے شایان شان ہو) دے اور یہ نیکوکاروں کا لیے ضروری ہے لغت میں ” مس “ کا معنی ” چھونا “ یہاں مباشرت کے عمل سے کنایہ ہے۔ زیر نظر آیت دو نکات پر مشتمل ہے ۲۳۷۔ و ان طلقتموھن می قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضة فنصف ما فرضتم الاان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدة النکاح وان تعفوآ اقرب للتقوی ولا تنسوالفضل بینکم ان اللہ بما تعملون بصیر۔ ترجمہ: ۲۳۷۔ اور اگر عورتوں کو چھونے ( ان سے ہمبستری کرنے ) سے قبل طلاق دے دو جب کہ حق مہر معین ہو چکا ہو تو ( ضروری ہے کہ ) معین شدہ کا نصف ( انہیں دے دو ) مگر یہ کہ وہ ( اپنا حق ) بخش دیں یا ( اگر وہ صغیر اور سفیہ ہیں تو ان کا حق ) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اسے بخش دے اور اگر تم در گذر کرو ( اور تمام مہر انہیں ادا کر د و ) تو پرہیزگارکے زیادہ نزدیک ہے ۔ نیز در گذر اور پرہیزگاری کو اپنے درمیان سے فراموش نہ کردو کیونکہ تم جو کچھ انجام دیتے ہو خدا وند عالم اس سے بینا ہے۔