وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا عَرَّضۡتُم بِهِۦ مِنۡ خِطۡبَةِ ٱلنِّسَآءِ أَوۡ أَكۡنَنتُمۡ فِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّآ أَن تَقُولُواْ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗاۚ وَلَا تَعۡزِمُواْ عُقۡدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡكِتَٰبُ أَجَلَهُۥۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٞ
There is no sin upon you in what you may hint in proposing to [recently widowed] women, or what you may secretly cherish within your hearts. Allah knows that you will be thinking of them, but do not make troth with them secretly, unless you say honourable words, and do not resolve on a marriage tie until the prescribed term is complete. Know that Allah knows what is in your hearts, so beware of Him; and know that Allah is all-forgiving, all-forbearing.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:232-235
1. These again relates to maintenance of healthy society. What is wanted is “Fear of God” to force and control the inner foe, which makes a husband a tyrant and causes the wife to disobey him, resulting in the most undesirable action of “Divorce” which, if done, in good spirits, and no attempt at harassing the wife to select another mate to be made, as it contributes to his losing paradise and destruction for the woman under divorce and contemplation of seeking a better suitor is not objectionable. 2. This again pertains to maintenance of newly born babies who are to be brought up in the environments affording comfort to the extent which is possible and not at the cost of parents.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:234-235
جب تک عدت ختم نہ ہو نکاح نہ کیا جائے۔
آیت کے اس حصے میں سمجھایا گیا ہے کہ کھلے بندوں خواستگاروں سے روکنا کافی نہیں بلکہ مخفی طور پر عدت کے دوران میں عورت سے بالصراحت خواستگاری نہیں کرنا چاہیے ۔ البتہ اس سلسلے میں گفتگو واقعاًاس طرح ہو کہ معاشرتی آداب و قوت شدہ شوہر کے احترام سے ہم آنگ ۔ قرآن کی اصطلاح میں ” معروف “ یعنی پسندیدہ ہو ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پردے اور کنائے سے ہو۔ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں رہبران اسلام نے سر بستہ خواستگاری او رقول معروف کی وضاحت کے لےے کئی ایک بار مثالیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ہم بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں قول معروف یہ ہے کہ مثلاً مرد جس عورت کو نگاہ میں رکھے ہوئے ہے اس سے کہے کہ میں عورتوں کا احترام کرتا ہوں تم سے دلی لگاؤرکھتا ہوں اس لےے کسی اور کو مجھ پر ترجیح نہ دینا۔ ”ولا تعزموا عقدة النکاح حتی یبلغ الکتاب الجلہ“ آیت کے اس حصے میں صراحت سے فرمایا گیا ہے کہ جب تک عدت ختم نہ ہو نکاح نہ کیا جائے۔ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایاگیا ہے کہ خدا تمہارے مخفی بھیدوں سے آگاہ ہے لہذا اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرتے رہو۔ لیکن خدا یہ بھی نہیں چاہتا کہ جو بندے کبھی کبھار اس کی مخالفت کربیٹھیں وہ بالکل اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں ۔ لہذا جا ن لو کہ خدا بخشنے والا اور بندوں کو سزا دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا۔ ” واعلموا ان اللہ یعلم ما فی انفسکم فاحذروہ و اعلموا ان اللہ غفور الرحیم “ ۲۳۶۔ لا جناح علیکم ان طلقتم النسآء ما لم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین ترجمہ : ۲۳۶۔ اگر مباشرت اور تعیین سے قبل (بوجوہ ) عورتوں کو طلاق دے دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ( اس موقع پر )انہیں ( مناسب ہدیہ کی صورت میں ) بہرہ مند کرو۔ جو طلاق رکھتا ہے وہ اس کے مطابق او ر جو بنگ دست ہے وہ اپنے حسب حال شائستہ ہدیہ ( جو لینے والے اور دینے والے دونوں کے شایان شان ہو) دے اور یہ نیکوکاروں کا لیے ضروری ہے لغت میں ” مس “ کا معنی ” چھونا “ یہاں مباشرت کے عمل سے کنایہ ہے۔ زیر نظر آیت دو نکات پر مشتمل ہے ۲۳۷۔ و ان طلقتموھن می قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضة فنصف ما فرضتم الاان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدة النکاح وان تعفوآ اقرب للتقوی ولا تنسوالفضل بینکم ان اللہ بما تعملون بصیر۔ ترجمہ: ۲۳۷۔ اور اگر عورتوں کو چھونے ( ان سے ہمبستری کرنے ) سے قبل طلاق دے دو جب کہ حق مہر معین ہو چکا ہو تو ( ضروری ہے کہ ) معین شدہ کا نصف ( انہیں دے دو ) مگر یہ کہ وہ ( اپنا حق ) بخش دیں یا ( اگر وہ صغیر اور سفیہ ہیں تو ان کا حق ) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اسے بخش دے اور اگر تم در گذر کرو ( اور تمام مہر انہیں ادا کر د و ) تو پرہیزگارکے زیادہ نزدیک ہے ۔ نیز در گذر اور پرہیزگاری کو اپنے درمیان سے فراموش نہ کردو کیونکہ تم جو کچھ انجام دیتے ہو خدا وند عالم اس سے بینا ہے۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:235
[Pooya/Ali Commentary 2:235] There is no harm if some one desires to marry a widow who is keeping herself in waiting for the prescribed period (iddat), and indirectly speaks his mind, but there should be no confirmation of the marriage tie until the period of waiting is completed.