فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
And if he divorces her, she will not be lawful for him thereafter until she marries a husband other than him, and if he divorces her, there is no sin upon them to remarry if they think that they can maintain Allah’s bounds. These are Allah’s bounds, which He clarifies for a people who have knowledge.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:230
[Pooya/Ali Commentary 2:230] After the third, final and irrevocable pronouncement of divorce the husband cannot take his divorced wife back until she marries another man and the next husband agrees to divorce her. This is a sufficient reason to conclude that all the three pronouncements of Talaq cannot be said at one time. The consequences of the third pronouncement check indiscriminate pronouncement of Talaq.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:230
جدایی مشروط
گذشتہ آیت میں اجمالی طور پر یہ نکتہ بیان کیاجاچکاہے کہ دوسری طلاق کے بعد عورت اور مرد الفت و صلح کی راہ اپنا لیں یا ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔ یہ آیت حقیقت میں ایک تبصرہ ہے جو گذشتہ آیت سے منسلک ہے۔ آیت کہتی ہے کہ جدائی کا حکم ہمیشہ کے لیے ہے لیکن عورت دوسری شادی کرلے، اور دوسرے شوہر سے مباشرت کے بعد طلاق لے لے تو اس صورت میں چاہے تو پہلے شوہر سے صلح کرسکتی ہے اور امید رکھے کہ اگر وہ حالات کو سازگار رکھیں اور حدود الہی کا احترام کریں تو کوئی حرج نہیں۔ اسلام کے عظیم رہبروں سے جو روایات پہنچی ہیں ان میں فرمایاگیاہے کہ یہ دوسرا نکاح دائمی ہو اور نکاح کے بعد میاں بیوی کے تعلقات بھی عملی طور پر انجام پائیں۔ روایات سے قطع نظریہ دونوں شرطیں خود آیت سے بھی ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ لفظ نکاح جنسی عمل کے لیے بھی استعمال ہوتاہے اور صیغہ عقد کے اجراء کے لیے بھی جیسا کہ آیت کی شان نزول میں اس کی صراحت ہوچکی ہے ۔ نیز ”فان طلقھا“سے دوسری شرط یعنی نکاح کا دائمی ہونابھی معلوم ہوجاتاہے کیونکہ نکاح موقت تو طلاق کا محتاج نہیں ہوتا۔ بے راہ روی سے روکنے کا ایک عامل بعض حیلہ باز محلل کے اس حکم کے اس حکم کو غلط مقاصد کے لیے دستاویز بناتے ہیں اور کچھ بے خبر لوگوں کی جہالت اور جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بارے میں اسلام پر نامردانہ حملے کرتے ہیں لیکن احکام طلاق میں غور کرنے اور ان کے فلسفے کی طرف متوج ہونے سے حقیقت کے متلاشی اس قانون کے ایک عجیب نقش سے آشنا ہوتے ہیں۔{ XE ۲۲۱: } { XE نننن }{ XE نننن }اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ گذشتہ آیات کی تفسیر میں کہاجاچکاہے طلاق بھی مخصوص حالات میں شادی کی طرح ایک حیاتی عمل اور ضروری امر شمار ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے اسے جائز قرار دیاہے۔ لیکن خاندانوں میں جدائیاں عموما فرد اور معاشرے دونوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہواکرتی ہیں۔ لہذا مختلف طریقوں کے ذریعے طلاق عمل سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہئیے