الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
[Revocable] divorce may be only twice; then [let there be] either an honourable retention, or a kindly release. It is not lawful for you to take back anything from what you have given them, unless the couple fear that they may not maintain Allah’s bounds; so if you fear they would not maintain Allah’s bounds, there is no sin upon them in what she may give to secure her own release. These are Allah’s bounds, so do not transgress them, and whoever transgresses the bounds of Allah—it is they who are the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:229
[Pooya/Ali Commentary 2:229] "Divorce may be pronounced twice". These two pronouncements can be revoked. It is an effective check to prevent divorce on account of emotional outbursts and high-handedness of a husband who may recover his balance of mind and reconsider his unreasonable pronouncement. Before Islam, a man could divorce his wife as many times as he liked and take her back. To stop this absurd farce, only two revocable pronouncements of Talaq have been prescribed by Islam. After the third announcement, the Talaq is complete and becomes irrevocable. Even after Talaq the husband has to treat the divorced wife with kindness. It is not lawful for the husband to take back or withhold any part of what he has given to his wife or promised to give her as mahar (dowry). "What she gives up to become free" refers to khula or mubarat, the recourse a wife can avail to obtain separation, explained above, by the arbitration of the hakim sharah or mujtahid, by returning the dowry if she has taken it in advance, or by foregoing it. "If you fear" refers to the lawfully constituted religious authority - hakim sharah or mujtahid. If the husband revokes his decision he must keep his wife in good relationship and honour, and respect her. The pronouncement of Talaq more than once at a time is meaningless in view of the "divorce may be pronounced twice" (the opening words of this verse) because it stipulates chances of reconciliation after the first, and if not, after the second pronouncement. As mentioned in verse 97 of al Barat, "these are the limits of Allah", are the divine commandments.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:229-231
In pre-Islamic times, there was no check on irresponsible powers of the husband who dissolved it at his choice. Islam protected wives from being thrown to the world by imposing conditions for exercise of this power and even gave them option to dissolve the contract, under certain circumstances. 1. When dissolution proceeds from husbands, it is called “Talak.” 2. When it proceeds at the instance of wife, it is called “Khula.” 3. When it is mutually affected, it is called “Mubarat.” Shias, unlike Sunnis, only recognize talak-i-Sunnat which is in accordance with the rules laid down by the Prophet, against heretical divorce, introduced in the second century of the Muslim era during Umeya Monarchy who found it difficult to repudiate it, owing to checks imposed therein by the Prophet with indulgence of their caprices found on pliability of jurists, a loophole to effect their purpose. There are two talaks, definite of which is known as talak ul-bain, where parties so separated under this, they cannot remarry until the wife marries another husband, who should divorce her before she takes up her first husband in remarriage. Whereas in the other case of which there are only two chances granted to a husband to remarry her, after having divorced her. This he can repeat in the second divorce. But the third divorce is the result of Talak-ul-Bain mentioned in the case above. Thus God has described all these briefly in the above three couplets, admirably, threatening the parties not treat lightly His command a matter of hide and seek disregarding blessings offered to either party by Islam to enjoy the same on the Divine limits. The Prophet said, “Best of my followers are those husbands who lead a peaceful life with their wives and best among lady followers are those who lead cheerful life with their husbands. When God gives them the reward of 1000 martyrs, giving supercession to them over nymphys ever wise man and woman will keep above advice in view as divorce is deprecated by the Prophet, as the most undesirable escape.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:229
اہل سنت کہ مفتی اعظم نے شیعہ نظریہ تسلیم کرلیا
خلیفہ دوم کے حکم کے با وجود یہ مسئلہ اہل سنت کے ہاں متفق علیہ نہیں رہا۔ اہل سنت کے بہت سے علماء نے دیگر علماء سے اختلاف کرتے ہوئے شیعہ نقطہ نظر کو انتخاب کیاہے۔ ان میں سے جامعہ الازہر کے سابق رئیس اور اہل سنت کے مفتی اعظم شیخ محمود شلتوت لکھتے ہیں۔ میں ایک عرصہ تک مشرق کے کالج میں مذاہب کی تحقیق اور ان کے در میان موازنہ و مقایسہ میں مصروف رہا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ میں کئی ایک مسائل میں مختلف مذاہب کی آراء و نظریات کی طرف رجوع کرتا بہت سے مقامات پر میں نے شیعہ مذہب کے استدلالات کو محکم اور استوار دیکھا تو ان کے سامنے جھکا اور میں نے ان میں شیعہ نظریے کو انتخاب کرلیا۔ اس سلسلے میں چند مثالوں کے ذیل میں وہ مزید لکھتے ہیں: ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں اہل سنت کے چاروں مذاہب میں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ لیکن شیعہ امامیہ عقیدے کے مطابق وہ ایک سے زیادہ طلاقیں شمار نہیں ہوتیں اور چونکہ واقعا قانوں کی نظر (اور ظاہر آیات قرآن کی نظر) سے اہل سنت کا نظریہ فتوے کی حیثیت سے اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھاہے۱ ” و لا یحل لکم ان تاخذوا مما ایتموہن شیئا“ گذشتہ جملے میں کہاجاچکاہے کہ علیحدگی احسان کی بنیاد پر ہونا چاہئیے زیر نظریہ جملہ گذشتہ جملے کی وضاحت بھی ہے اور ایک مستقل حکم بھی نیز یہ ان مواقع کے لیے ایک نمونہ بھی ہے جو احسان کی بنیاد پر علیحدگی کی تشریح کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر جو چیز حق مہر کے طور پر بیوی کودے چکاہے وہ واپس نہیں لے سکتا۔ سورہ نساء آیات ۲۰ و ۲۱ میں یہ حکم زیادہ تشریح کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔ ”إِلاَّ اٴَنْ یَخَافَا اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیمَا افْتَدَتْ بِہِ “ صرف ایک صورت میں حق مہر واپس لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ یہ کہ جب عورت خود ازدواجی زندگی کو جاری رکھنا نہ چاہتی ہو۔ اب اگر اس کے عدم میلان اور نفرت کی وجہ سے اندیشہ ہو کہ عورت اور مرد حدود الہی کی حفاظت نہ کرسکیں گے تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں کہ حق مہر (عوض کے طور پر) شوہر کودے دیاجائے تا کہ وہ عورت کو طلاق دے دے ۲ ”تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُون ”تِلْک“ان احکام کی طرف اشارہ ہے جو گذشتہ جملوں میں بیان کیے جاچکے ہیں۔ حقیقت میں یہ احکام اجتماعی، اخلاقی اور فقہی نکات کا مجموعہ ہیں۔ جنہیں پروردگار نے اجتماعی روابط کے استحکام کے لیے وضع اور بیان فرمایاہے۔ زیر نظر جملے میں کہا گیاہے کہ اگر بعض لوگ افراط کا شکار ہوں اور ناجائز میلانات کی وجہ سے حدود الہی سے بے پرواہ ہوجائیں تو اُن کا شمار ستمگروں اور ظالموں میں ہوگا۔ یہ اشخاص کس پر ظلم کرتے ہیں؟ اس کی وضاحت اس آیت میں موجود نہیں البتہ سورہ طلاق کی پہلی آیت میں فرمایا گیاہے: ”من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ“ جو شخص حدود خدا سے تجاوز کرتاہے و ہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرتاہے اور واقعا ایسا ہی ہے کیونکہ قانون خداوندی کی سرحدوں سے تجاوز کرنے کا نقصان سب سے پہلے تجاوز کر نے والوں ہی کو پہنچتاہے۔ کیونکہ اسی قانون کے سائے میں ان کے حقوق کی بھی حفاظت ہونا تھی۔ اب اگر قانون شکنی اور سرحد سے تجاوز کرنا رواج ہوجائے تو اس کا نقصان لوگوں کے دامن کو بھی آلے گا جنہوں نے اس کام میں پیش قدمی کی ہے۔ ۱ رسالة الاسلام شمارہ، سال ۱۱، ص۱۰۸ بحوالہ حاشیہ کنز العرفان جلد ۲ ص۲۷۱ ۲ اس طلاق کو طلاق قطع کہتے ہیں جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:229-227
زمانہ جاہلیت کے ایک طرز عمل کا خاتمہ
”ایلاء“ و ہ رسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں میاں بیوی کے در میان جدائی کے سلسلے میں عام تھی۔”ایلاء“کا مفہوم ہے کہ میاں بیوی والے تعلقات ترک کرنے کی قسم کھانا ۔ حکم طلاق نازل ہونے سے پہلے نو مسلموں میں بھی یہ رسم باقی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرد اپنی بیوی سے متنفر ہو جاتا تو بعض اوقات قسم کھالیتا کہ وہ اس سے ہمبستری نہیں کریگا اس طرح وہ اپنی بیوی کو اپنے اس غیر انسانی سلوک سے ایک شدید عذاب میں مبتلا کردیتا۔ نہ رسمی طور پرطلاق دیتا کہ وہ آزادی سے اپنے لیئے کسی دوسرے شوہر کا انتخاب کرکے اپنی خواہشات پوری کرسکے نہ اس قسم کے بعد و ہ خود تیار ہوتا کہ اس سے صلح کرکے ایک شوہر کی طرح زندگی بسر کرے۔ زیر نظر آیت میں اس سلسلے میں اسلام کا معین کردہ طریق کار بیان کیاگیاہے۔ فرمایاگیا ہے کہ شوہر کو چارماہ کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس مصیبت اور عذاب سے نجات دے۔ اس عرصے میں وہ اپنی قسم کو ترک کردے اور اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرے یا اُسے طلاق دے کر آزاد کردے۔ پہلی راہ کا انتخاب یعنی گھر کے ما حول کو خرابی سے بچانا بلا شبہ عقل و دانش کا تقاضا بھی ہے اور رضائے پروردگار کے حصول کا ذریعہ بھی، اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایاگیاہے۔ ”فان فاءُ فان اللہ غفور رحیم“ اگر اپنے ارادے کو ترک کردیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے (فان اللہ غفور رحیم)۔ یہ جملہ دلالت کرتاہے کہ اس قسم کو ترک کرنا کوئی گناہ نہیں، اگرچہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ قسم کھانا خود بھی ایک پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اگر مرد علیحدگی کا ارادہ کرلے اور طلاق دے دے تو اس صور ت میں بخشش و مغفرت مسلم نہیں ہے۔ خدا جو تمام اسرار سے آگاہ ہے، جانتا ہے کہ ہوس پرستی نے شوہر کو قانون طلاق سے غلط فائدہ اٹھانے پر ابھارا ہے یا اس کے حالات کا یہی تقاضا تھا۔ ظاہری طلاق جاری کرنے کے بارے میں، اس کا سبب اور محرک سب کچھ خدا کے علم میں ہے اسی لیے آیت کے آخر میں فرماتاہے۔ ”وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیم“ اور اگر وہ طلاق ہی کا ارادہ کرلیں تو اللہ تعالی سننے والا اور جاننے والاہے توجہ رہے کہ اسلام لے ”ایلا“ کو بالکل تو ختم نہیں کیا البتہ اس کے بُرے آثار کو ختم کردیاہے کیونکہ وہ کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ ”ایلاء“ یا بیوی سے مباشرت ترک کرنے کی قسم کھانے سے وہ اپنی بیوی سے جدا ہوجائے۔ اسلام نے ایلاء کرنے والے کے لیئے مدت کا تعین اس لیے نہیں کیا کہ واقعا قسم کھانے سے ازدواجی حقوق میں سے کوئی حق باطل ہوجاتاہے۔ بلکہ یہ اس لیے ہے کہ واجب شرعی ہونے کے لحاظ سے مباشرت چار ماہ میں ایک مرتبہ ضروری ہے (البتہ یہ بھی اس صورت میں ہے کہ عورت طویل مدت کی وجہ سے گناہ کا شکار نہ ہو ورنہ اس صورت کے علاوہ خصوصا جوان عورتوں کے بارے میں کہ جہاں خطرہ ہو کہ وہ گناہ میں مبتلا ہوجائیںگی، ضروری ہے کہ عدم مباشرت کی مدت کم کردی جائے تا کہ اس کی جنسی ضرورت پوری ہوسکے)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:229-227
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرد
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرد اپنی بیوی سے متنفر ہو جاتا تو بعض اوقات قسم کھالیتا کہ وہ اس سے ہمبستری نہیں کریگا اس طرح وہ اپنی بیوی کو اپنے اس غیر انسانی سلوک سے ایک شدید عذاب میں مبتلا کردیتا۔ نہ رسمی طور پرطلاق دیتا کہ وہ آزادی سے اپنے لیئے کسی دوسرے شوہر کا انتخاب کرکے اپنی خواہشات پوری کرسکے نہ اس قسم کے بعد و ہ خود تیار ہوتا کہ اس سے صلح کرکے ایک شوہر کی طرح زندگی بسر کرے۔ زیر نظر آیت میں اس سلسلے میں اسلام کا معین کردہ طریق کار بیان کیاگیاہے۔ فرمایاگیا ہے کہ شوہر کو چارماہ کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس مصیبت اور عذاب سے نجات دے۔ اس عرصے میں وہ اپنی قسم کو ترک کردے اور اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرے یا اُسے طلاق دے کر آزاد کردے۔ پہلی راہ کا انتخاب یعنی گھر کے ما حول کو خرابی سے بچانا بلا شبہ عقل و دانش کا تقاضا بھی ہے اور رضائے پروردگار کے حصول کا ذریعہ بھی، اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایاگیاہے۔ ”فان فاءُ فان اللہ غفور رحیم“ اگر اپنے ارادے کو ترک کردیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے (فان اللہ غفور رحیم)۔ یہ جملہ دلالت کرتاہے کہ اس قسم کو ترک کرنا کوئی گناہ نہیں، اگرچہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ قسم کھانا خود بھی ایک پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اگر مرد علیحدگی کا ارادہ کرلے اور طلاق دے دے تو اس صور ت میں بخشش و مغفرت مسلم نہیں ہے۔ خدا جو تمام اسرار سے آگاہ ہے، جانتا ہے کہ ہوس پرستی نے شوہر کو قانون طلاق سے غلط فائدہ اٹھانے پر ابھارا ہے یا اس کے حالات کا یہی تقاضا تھا۔ ظاہری طلاق جاری کرنے کے بارے میں، اس کا سبب اور محرک سب کچھ خدا کے علم میں ہے اسی لیے آیت کے آخر میں فرماتاہے۔ ”وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیم“ اور اگر وہ طلاق ہی کا ارادہ کرلیں تو اللہ تعالی سننے والا اور جاننے والاہے توجہ رہے کہ اسلام لے ”ایلا“ کو بالکل تو ختم نہیں کیا البتہ اس کے بُرے آثار کو ختم کردیاہے کیونکہ وہ کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ ”ایلاء“ یا بیوی سے مباشرت ترک کرنے کی قسم کھانے سے وہ اپنی بیوی سے جدا ہوجائے۔ اسلام نے ایلاء کرنے والے کے لیئے مدت کا تعین اس لیے نہیں کیا کہ واقعا قسم کھانے سے ازدواجی حقوق میں سے کوئی حق باطل ہوجاتاہے۔ بلکہ یہ اس لیے ہے کہ واجب شرعی ہونے کے لحاظ سے مباشرت چار ماہ میں ایک مرتبہ ضروری ہے (البتہ یہ بھی اس صورت میں ہے کہ عورت طویل مدت کی وجہ سے گناہ کا شکار نہ ہو ورنہ اس صورت کے علاوہ خصوصا جوان عورتوں کے بارے میں کہ جہاں خطرہ ہو کہ وہ گناہ میں مبتلا ہوجائیںگی، ضروری ہے کہ عدم مباشرت کی مدت کم کردی جائے تا کہ اس کی جنسی ضرورت پوری ہوسکے) حکم اسلام اور دنیائے مغرب کا ایک تقابل ”ایلا“ کی رسم پر اسلام کی گرفت اور زمانہ جاہلیت کی گذشتہ تاریخ میں ایلاء کی طرح سے بدنی علیحدگی (یورپی ممالک میں جس کی تائید کی جاچکی ہے) پر نظر کی جائے تو اسلام اور قرآن میں عورت کے حقوق کی کیفیت سے کافی آگاہی ہوسکتی ہے۔ وضاحت کچھ یوں ہے کہ فرانس کے عظیم انقلاب کے بعد اہل فرانس کو طلاق کے لیے اس صورت کی بھی اجازت دی گئی تھی کہ وہ ایک دوسری سے بدنی جدائی اختیار کرلیں اس قانون کے مطابق جو عورت مرد ایک دوسرے سے مصالحت نہیں کرسکتے تھے اُن کے لیے ممکن تھا کہ وقتی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اور علیحدہ گھروں میں زندگی بسر کریں (البتہ روابط اور حقوق برقرار رہتے تھے صرف شوہر کے ذمے اخراجات نہ رہتے اور عزت و پذیرائی عورت کی ذمہ نہ رہتی) لیکن اس قانون کی روسے مرد دوسری بیوی نہ کرسکتا تھا اور عورت دوسرا شوہر کرنے کی مجاز نہ تھی۔ اس جدائی کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال تھی۔ تین سال کے بعد میاں بیوی مجبور تھے کہ مل جل کر زندگی بسر کریں اور علیحدگی ترک کردیں۔ اسی طرح سے زمانہ جاہلیت کا ایک طرز عمل اس معاشرے کا حصہ بن گیا۔ دنیا ئے مغرب نے تو اس علیحدگی کی اجازت تین سال تک کے لیے دی ہے لیکن اسلام چارماہ سے زیادہ جدائی کی اس کیفیت کو روا نہیں جانتا (جب کہ قسم نہ بھی کھائی جائے تب بھی مباشرت میں اس مدت تک کی تاخیر مباح ہے)۔ اگر اس مدت کے اختتام پر بھی مرد ٹال مٹوسے کام لے اور اپنے پروگرام کو واضح نہ کرے تو حکومت اسلامی اسے طلب کرسکتی ہے اور مخالفت کی صورت میں اسے مجبور کرسکتی ہے کہ وہ معاملے کو طے کرے۔ ۲۲۸۔وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَیَحِلُّ لَہُنَّ اٴَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِی اٴَرْحَامِہِنَّ إِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُہُنَّ اٴَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِی ذَلِکَ إِنْ اٴَرَادُوا إِصْلاَحًا وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَةٌ وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیم ترجمہ ۲۸۸۔ طلاق یافتہ عورتیں تین مرتبہ ماہواری دیکھنے (اور پاک ہونے) کا انتظار کریں (اور اس طرح عدت پوری کریں( اوراگر خدا اور روز جزا پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کے لیے حلال نہیں کہ جو کچھ خدا نے ان کے رحم میں پیدا کیاہے اسے چھپائیں اور ان کے شوہر اس مدت میں اُ ن کی طرف رجوع کرنے (اور ازدواجی عہد و پیمان کی نئے سرے سے بحالی کے دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں اگر (واقعا)وہ صلح چاہتے ہیں اور جیسے عورتوں کے کندھوں پر فرائض عائدہیں ایسے ہی ان کے لیئے شائستہ حقوق مقرر کئے گئے ہیں اور مردان پر برتری رکھتے ہیں، اور خدا توانا اور حکیم ہے۔ اکثر گھریلو معاملات کی خرابی معاشرتی ڈھانچے کے لیئے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے اسلام نے ایسے قوانین اور احکام وضع کئے ہیں کہ امکان کی آخری حد تک گھریلو رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔ ایک طرف اسلام نے طلاق کو مباح اور حلال چیزوں میں سب سے زیادہ قابل نفرت قراردیاہے اور دوسری طرف گھریلو اختلافات کے لیے خاندانی عدالت کا تصور دیاہے۔ یہ عدالت رشتہ داروں پر ہی مشتمل ہوتی ہے تا کہ طرفین کے قریبی رشتہ داروں کے ذریعے صلح و آشتی کی کوئی صورت نکل آئے۔ طلاق کے معاملے کو تاخیر و التوامیں ڈالنے اور اس فیصلے کو متزلزل کرنے کے لیئے ”عدت“ مقرر کی گئی ہے جس کی مدت تین ”قرو“ ہے جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیاگیاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:229
خدائی سرحدیں
اس آیت اور قرآن مجید کی دیگر بہت سی آیات میں قوانین الہی کے بارے میں ایک لطیف تعبیر نظر آتی ہے اور وہ ہے حد اور سرحد ۔ اس طرح قوانین کی نافرمانی اور مخالفت سرحد سے تجاوز شمار ہوتاہے۔ حقیقت میں انسان جو کام انجام دیتاہے اس میں ان مقامات ممنوعہ کا ایک سلسلہ موجود ہوتاہے جہاں داخل ہونا بہت زیادہ خطرناک ہے۔ قوانین و احکام الہی ان مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان مقامات کی پہچان کیلئے ان قوانین میں بہت سی علامات بیان کی گئی ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۷ میں ارشاد فرمایاگیاہے: ”تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا“ یہ خدائی سر حدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ کیونکہ ان سرحدوں کے قریب جانے والا گرنے کے بھی نزدیک ہوجاتاہے ۔ اہل بیت کے طریقوں سے مروی احادیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے مشتبہ مقامات پر جانے سے منع فرمایاہے اور ارشاد فرمایاہے کہ ایسا کرنا سرحد کے قریب جانے کے مترادف ہے ممکن ہے کہ سرحد کے قریب پہنچ کر انسان قدم اس طرف رکھ لے۔ اور ہلاکت و نابودی کا شکار ہوجائے۔ ۲۳۰۔ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَتَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا اٴَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا اٴَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللهِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ترجمہ ۲۳۰۔ اگر (دو مرتبہ طلاق دینے اور پھر رجوع کرلینے کے بعد پھر) اسے طلاق دے تو اس کے بعد وہ عورت اس پر حلال نہیں ہوگی مگر یہ کہ اس کے علاوہ کسی شوہر سے شادی کرے (اور وہ اس سے جنسی ملاپ کرے۔ بعد ازاں وہ دوسرا شوہر بھی) اسے طلاق دے دے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف رجوع کریں (اور عورت اپنے پہلے شوہر سے پھر سے شادی کرلے) جب کہ انہیں امید ہو کہ وہ حدود الہی کا احترام کریں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ جنہیں خدا آگاہ لوگوں سے بیان کرتاہے۔ شان نزول ایک عورت پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضرہوئی۔ کہنے لگی: میں اپنے چچازاد رفاعہ کی بیوی تھی۔ اس نے مجھے تین مرتبہ طلاق دی تو ومیں نے ایک اور شخص عبد الرحمن سے شادی کرلی۔ اتفاقا اس نے بھی مجھے طلاق دے دی لیکن اس دوران میں اس نے مجھ سے ہم بستری نہیں کی۔ کیا اب میں پہلے شوہر کی طرف لوٹ سکتی ہوں؟ آنحضرت نے نفی میں جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے شوہر سے تیری شادی اسی صورت میں صحیح ہے جب نئے شوہر نے تجھ سے مباشرت کی ہو۔ اس واقعے کے بعد مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی -