ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
[Revocable] divorce may be only twice; then [let there be] either an honourable retention, or a kindly release. It is not lawful for you to take back anything from what you have given them, unless the couple fear that they may not maintain Allah’s bounds; so if you fear they would not maintain Allah’s bounds, there is no sin upon them in what she may give to secure her own release. These are Allah’s bounds, so do not transgress them, and whoever transgresses the bounds of Allah—it is they who are the wrongdoers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:229
اہل سنت کہ مفتی اعظم نے شیعہ نظریہ تسلیم کرلیا
خلیفہ دوم کے حکم کے با وجود یہ مسئلہ اہل سنت کے ہاں متفق علیہ نہیں رہا۔ اہل سنت کے بہت سے علماء نے دیگر علماء سے اختلاف کرتے ہوئے شیعہ نقطہ نظر کو انتخاب کیاہے۔ ان میں سے جامعہ الازہر کے سابق رئیس اور اہل سنت کے مفتی اعظم شیخ محمود شلتوت لکھتے ہیں۔ میں ایک عرصہ تک مشرق کے کالج میں مذاہب کی تحقیق اور ان کے در میان موازنہ و مقایسہ میں مصروف رہا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ میں کئی ایک مسائل میں مختلف مذاہب کی آراء و نظریات کی طرف رجوع کرتا بہت سے مقامات پر میں نے شیعہ مذہب کے استدلالات کو محکم اور استوار دیکھا تو ان کے سامنے جھکا اور میں نے ان میں شیعہ نظریے کو انتخاب کرلیا۔ اس سلسلے میں چند مثالوں کے ذیل میں وہ مزید لکھتے ہیں: ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں اہل سنت کے چاروں مذاہب میں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ لیکن شیعہ امامیہ عقیدے کے مطابق وہ ایک سے زیادہ طلاقیں شمار نہیں ہوتیں اور چونکہ واقعا قانوں کی نظر (اور ظاہر آیات قرآن کی نظر) سے اہل سنت کا نظریہ فتوے کی حیثیت سے اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھاہے۱ ” و لا یحل لکم ان تاخذوا مما ایتموہن شیئا“ گذشتہ جملے میں کہاجاچکاہے کہ علیحدگی احسان کی بنیاد پر ہونا چاہئیے زیر نظریہ جملہ گذشتہ جملے کی وضاحت بھی ہے اور ایک مستقل حکم بھی نیز یہ ان مواقع کے لیے ایک نمونہ بھی ہے جو احسان کی بنیاد پر علیحدگی کی تشریح کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر جو چیز حق مہر کے طور پر بیوی کودے چکاہے وہ واپس نہیں لے سکتا۔ سورہ نساء آیات ۲۰ و ۲۱ میں یہ حکم زیادہ تشریح کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔ ”إِلاَّ اٴَنْ یَخَافَا اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیمَا افْتَدَتْ بِہِ “ صرف ایک صورت میں حق مہر واپس لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ یہ کہ جب عورت خود ازدواجی زندگی کو جاری رکھنا نہ چاہتی ہو۔ اب اگر اس کے عدم میلان اور نفرت کی وجہ سے اندیشہ ہو کہ عورت اور مرد حدود الہی کی حفاظت نہ کرسکیں گے تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں کہ حق مہر (عوض کے طور پر) شوہر کودے دیاجائے تا کہ وہ عورت کو طلاق دے دے ۲ ”تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُون ”تِلْک“ان احکام کی طرف اشارہ ہے جو گذشتہ جملوں میں بیان کیے جاچکے ہیں۔ حقیقت میں یہ احکام اجتماعی، اخلاقی اور فقہی نکات کا مجموعہ ہیں۔ جنہیں پروردگار نے اجتماعی روابط کے استحکام کے لیے وضع اور بیان فرمایاہے۔ زیر نظر جملے میں کہا گیاہے کہ اگر بعض لوگ افراط کا شکار ہوں اور ناجائز میلانات کی وجہ سے حدود الہی سے بے پرواہ ہوجائیں تو اُن کا شمار ستمگروں اور ظالموں میں ہوگا۔ یہ اشخاص کس پر ظلم کرتے ہیں؟ اس کی وضاحت اس آیت میں موجود نہیں البتہ سورہ طلاق کی پہلی آیت میں فرمایا گیاہے: ”من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ“ جو شخص حدود خدا سے تجاوز کرتاہے و ہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرتاہے اور واقعا ایسا ہی ہے کیونکہ قانون خداوندی کی سرحدوں سے تجاوز کرنے کا نقصان سب سے پہلے تجاوز کر نے والوں ہی کو پہنچتاہے۔ کیونکہ اسی قانون کے سائے میں ان کے حقوق کی بھی حفاظت ہونا تھی۔ اب اگر قانون شکنی اور سرحد سے تجاوز کرنا رواج ہوجائے تو اس کا نقصان لوگوں کے دامن کو بھی آلے گا جنہوں نے اس کام میں پیش قدمی کی ہے۔ ۱ رسالة الاسلام شمارہ، سال ۱۱، ص۱۰۸ بحوالہ حاشیہ کنز العرفان جلد ۲ ص۲۷۱ ۲ اس طلاق کو طلاق قطع کہتے ہیں جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:229
خدائی سرحدیں
اس آیت اور قرآن مجید کی دیگر بہت سی آیات میں قوانین الہی کے بارے میں ایک لطیف تعبیر نظر آتی ہے اور وہ ہے حد اور سرحد ۔ اس طرح قوانین کی نافرمانی اور مخالفت سرحد سے تجاوز شمار ہوتاہے۔ حقیقت میں انسان جو کام انجام دیتاہے اس میں ان مقامات ممنوعہ کا ایک سلسلہ موجود ہوتاہے جہاں داخل ہونا بہت زیادہ خطرناک ہے۔ قوانین و احکام الہی ان مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان مقامات کی پہچان کیلئے ان قوانین میں بہت سی علامات بیان کی گئی ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۷ میں ارشاد فرمایاگیاہے: ”تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا“ یہ خدائی سر حدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ کیونکہ ان سرحدوں کے قریب جانے والا گرنے کے بھی نزدیک ہوجاتاہے ۔ اہل بیت کے طریقوں سے مروی احادیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے مشتبہ مقامات پر جانے سے منع فرمایاہے اور ارشاد فرمایاہے کہ ایسا کرنا سرحد کے قریب جانے کے مترادف ہے ممکن ہے کہ سرحد کے قریب پہنچ کر انسان قدم اس طرف رکھ لے۔ اور ہلاکت و نابودی کا شکار ہوجائے۔ ۲۳۰۔ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَتَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا اٴَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا اٴَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللهِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ترجمہ ۲۳۰۔ اگر (دو مرتبہ طلاق دینے اور پھر رجوع کرلینے کے بعد پھر) اسے طلاق دے تو اس کے بعد وہ عورت اس پر حلال نہیں ہوگی مگر یہ کہ اس کے علاوہ کسی شوہر سے شادی کرے (اور وہ اس سے جنسی ملاپ کرے۔ بعد ازاں وہ دوسرا شوہر بھی) اسے طلاق دے دے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف رجوع کریں (اور عورت اپنے پہلے شوہر سے پھر سے شادی کرلے) جب کہ انہیں امید ہو کہ وہ حدود الہی کا احترام کریں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ جنہیں خدا آگاہ لوگوں سے بیان کرتاہے۔ شان نزول ایک عورت پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضرہوئی۔ کہنے لگی: میں اپنے چچازاد رفاعہ کی بیوی تھی۔ اس نے مجھے تین مرتبہ طلاق دی تو ومیں نے ایک اور شخص عبد الرحمن سے شادی کرلی۔ اتفاقا اس نے بھی مجھے طلاق دے دی لیکن اس دوران میں اس نے مجھ سے ہم بستری نہیں کی۔ کیا اب میں پہلے شوہر کی طرف لوٹ سکتی ہوں؟ آنحضرت نے نفی میں جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے شوہر سے تیری شادی اسی صورت میں صحیح ہے جب نئے شوہر نے تجھ سے مباشرت کی ہو۔ اس واقعے کے بعد مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی -
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:229
[Pooya/Ali Commentary 2:229] "Divorce may be pronounced twice". These two pronouncements can be revoked. It is an effective check to prevent divorce on account of emotional outbursts and high-handedness of a husband who may recover his balance of mind and reconsider his unreasonable pronouncement. Before Islam, a man could divorce his wife as many times as he liked and take her back. To stop this absurd farce, only two revocable pronouncements of Talaq have been prescribed by Islam. After the third announcement, the Talaq is complete and becomes irrevocable. Even after Talaq the husband has to treat the divorced wife with kindness. It is not lawful for the husband to take back or withhold any part of what he has given to his wife or promised to give her as mahar (dowry). "What she gives up to become free" refers to khula or mubarat, the recourse a wife can avail to obtain separation, explained above, by the arbitration of the hakim sharah or mujtahid, by returning the dowry if she has taken it in advance, or by foregoing it. "If you fear" refers to the lawfully constituted religious authority - hakim sharah or mujtahid. If the husband revokes his decision he must keep his wife in good relationship and honour, and respect her. The pronouncement of Talaq more than once at a time is meaningless in view of the "divorce may be pronounced twice" (the opening words of this verse) because it stipulates chances of reconciliation after the first, and if not, after the second pronouncement. As mentioned in verse 97 of al Barat, "these are the limits of Allah", are the divine commandments.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:229-231
In pre-Islamic times, there was no check on irresponsible powers of the husband who dissolved it at his choice. Islam protected wives from being thrown to the world by imposing conditions for exercise of this power and even gave them option to dissolve the contract, under certain circumstances. 1. When dissolution proceeds from husbands, it is called “Talak.” 2. When it proceeds at the instance of wife, it is called “Khula.” 3. When it is mutually affected, it is called “Mubarat.” Shias, unlike Sunnis, only recognize talak-i-Sunnat which is in accordance with the rules laid down by the Prophet, against heretical divorce, introduced in the second century of the Muslim era during Umeya Monarchy who found it difficult to repudiate it, owing to checks imposed therein by the Prophet with indulgence of their caprices found on pliability of jurists, a loophole to effect their purpose. There are two talaks, definite of which is known as talak ul-bain, where parties so separated under this, they cannot remarry until the wife marries another husband, who should divorce her before she takes up her first husband in remarriage. Whereas in the other case of which there are only two chances granted to a husband to remarry her, after having divorced her. This he can repeat in the second divorce. But the third divorce is the result of Talak-ul-Bain mentioned in the case above. Thus God has described all these briefly in the above three couplets, admirably, threatening the parties not treat lightly His command a matter of hide and seek disregarding blessings offered to either party by Islam to enjoy the same on the Divine limits. The Prophet said, “Best of my followers are those husbands who lead a peaceful life with their wives and best among lady followers are those who lead cheerful life with their husbands. When God gives them the reward of 1000 martyrs, giving supercession to them over nymphys ever wise man and woman will keep above advice in view as divorce is deprecated by the Prophet, as the most undesirable escape.