وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
When you divorce women and they complete their term [of waiting], then either retain them honourably or release them honourably, and do not retain them maliciously in order that you may transgress; and whoever does that certainly wrongs himself. Do not take the signs of Allah in derision, and remember Allah’s blessing upon you, and what He has sent down to you of the Book and wisdom, to advise you therewith. Be wary of Allah and know that Allah has knowledge of all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:231
[Pooya/Ali Commentary 2:231] A husband has the right to divorce his wife but he cannot abuse her or refuse to pay her dues. Whoever does this, exceeds the limits (disobeys Allah's commandments). He must set her free with kindness and give her all her entitlements. The laws of Allah should not be taken in mockery. It shows how serious is the matter of divorce. There are prescribed laws in Islam, yet people (men and women) have the freedom to act according to their conscience; and if they are mindful of the fact that Allah is the knower of all things, they shall not go astray and do injustice to their own souls. The non-Shia schools do not observe the restrictions given in these verses in the matter of divorce. "It may not even be properly expressed in words at all. This is admitted to be irregular but is not the less effective. One form of making a divorce irrevocable, the pronouncing of it thrice, one in each "tubr"(period of woman's purity) is allowed to be regular by Hanafis though condemned in the matter of intention. If a man pronounces a divorce whilst in a state of inebriety from drinking fermented liquor, such as wine, the divorce takes place. Repudiation by any husband who is sane and adult is effective, whether he be free or slave, willing or acting under compulsion; and even though it were uttered in sport or jest, or by mere slip of the tongue instead of some other word." (Fatwas Alamgiri - cited by Hughes) No doubt the Islamic law of divorce has been criticised as contemptible and ridiculous. The Shia school condemns all irregular forms of divorce. For Shias it is necessary that the man who pronounces a divorce be an adult, sane and free in his choice, will, design and intention. It does not take effect if given implicatively or ambiguously, even if there is intention. According to the teachings of the holy Imams, it is also absolutely necessary that the pronouncement must be made by the husband in the presence of two just witnesses; non-fulfilment of this condition renders the divorce null and void. If the husband pronounces the divorce, in an irregular manner, even a hundred times, the woman remains his wife. (For details see books of fiqh).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:231
محلل کا عمل
محلل کا عمل یا نئی شادی کرنا ان طریقوں میں سے ایک ہے کیونکہ تین طلاقوں کے بعد عورت کا رسمی طور پر نکاح کرنا طلاق کے عمل کو جاری رکھنے کی راہ میں ایک بہت بڑا بند اور رکاوٹ ہے۔ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینا چاہے گا جب اس کے ذہن میں یہ خیال آئے گا کہ اس طرح اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہوجائے گی تو اس کا ارادہ ضرور متزلزل ہوگا اور جب تک وہ مجبور نہ ہوگا اس قسم کا کام نہیںکرے گا۔ حقیقت میں محلل کا طریقہ جسے زیادہ صحیح لفظوں میں عورت کا دوسرے شوہر سے نیا نکاح کہا جاسکتاہے ، طلاق کے عمل میں ایک رکاوٹ ہے اور یہ ہوس پرست اور فریب کار مردوں کے لیے رکھا گیاہے تا کہ وہ عورت کو اپنی سرکش ہوس کا کھلونا نہ بنائیں اور قانون طلاق و رجوع سے لا محدود فائدہ نہ اٹھاتے رہیں۔ دوسرے نکاح کی شرائط مثلا اس کا دائمی ہونا یہ واضح کرتاہے کہ اس نئے رشتے کا مقصد یہ نہیں کہ اس کے ذریعہ پہلے شوہر اور بیوی کی پھر سے ملنے کا ذریعہ بن جائے۔ لہذا اس قانون سے غلط فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا اور نکاح موقت کے ذریعے رکاوٹ دور نہیں کی جاسکتی۔ بعض مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے جواس مفہوم کو بہت ہی واضح کردیتی ہے۔ اس روایت کے مطابق جو لوگ اس مسئلے کی انحرافی صورت پر عمل کرتے ہیں یعنی شادی اس مقصد کے لیے کرتے ہیں کہ عورت پہلے شوہر کے پاس واپس جاسکے وہ رحمت خدا سے دور ہیں۔ ”لعل اللہ المحلل و المحلل لہ“ خدا کی لعنت ہر محلل پر اور اُس پر جس کے لیے یہ محلل بناہے ۱ اس بناء پر یہ کہا جاسکتاہے کہ مقصد یہ تھا کہ تین طلاقوں کے بعد مرد اور عورت ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور پھر اپنی مرضی سے نئی زندگی کی تشکیل کریں اور شادی جو بذات خود ایک مقدس امر ہے پہلے شوہر کے شیطانی رجحانات کا کھلونا نہ بن جائے۔ البتہ چونکہ اسلام ہمیشہ عاقلانہ خواہشات کا احترام کرتاہے اور اصلاح کے ہر دریچے سے استفادہ کرتاہے۔ لہذا ارشاد ہوتاہے: اگر یہ نیا رشتہ بھی ٹوٹ جائے اور سابق میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے سے تعلق پیدا کریں اور حتمی طور پر گھریلو فرائض کی انجام دہی کا پختہ ارادہ کرلیں تو پھر رجوع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور یہ نیا نکاح تحریم کے حکم کو ختم کردے گا۔ اسی لیے اسے محلل کا نام دیاگیاہے۔ یہاں سے واضح ہوتاہے کہ محلل ایک بنیادی مسئلے اور حکم کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہاں نئے نکاح کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ آیت کے علاوہ روایات سے بھی واضح طور پر یہی معنی نکلتا ہے۔ ایک سرسری مطالعے سے یہ نکتہ بھی پیدا ہوتاہے کہ یہاں پر بحث ایک حقیقی اور حتمی ازدواج کے بارے میں ہے لیکن اگر کوئی شخص پہلے ہی سے دائمی نکاح کا مقصد نہ رکھتا ہو اور صرف ظاہری طور پر ایسا کرے تا کہ محلل کی صورت پیدا ہوجائے تو یہ نکاح بے اثر ہے کیونکہ اس صورت میں دوسرا نکاح بھی پھرباطل ہوگا اور پہلا شوہر بھی سے عورت کے لیے حلال نہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے مذکورہ حدیث ”لعل اللہ المحلل و المحلل لہ“ اسی قسم کے محلل کی طرف اشارہ ہو۔ ۲۳۱۔وَإِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ اٴَجَلَہُنَّ فَاٴَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اٴَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلاَتُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ وَلاَتَتَّخِذُوا آیَاتِ اللهِ ہُزُوًا وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمَا اٴَنزَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَةِ یَعِظُکُمْ بِہِ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ترجمہ ۲۳۱۔ جب عورتوں کو طلاق دو اور وہ عدت کے آخری دنوں کو پہنچ جائیں تو یا انہیں صحیح طریقے سے اپنے ہاں رکھ لو اور (ان سے صلح کرلو) اور یا انہیں پسندیدہ طریقے سے چھوڑ دو اور انہیں کسی طرح بھی نقصان پہنچانے اور ان سے زیادتی کرنے کے لیے ان سے صلح نہ کرو اور جو ایسا کرے گا اس نے گویا اپنے ہی او پر ظلم کیا (اور ان اعمال اور قوانین سے غلط فائدہ اٹھاکر) آیات خدا کا مذاق نہ اڑاؤ اور اپنے اوپر نازل ہونے والی نعمت الہی، کتاب آسمانی اور علم و دانش کو یاد کرو اور انہیں ان کے ذریعے جو وعظ و نصیحت کی گئی ہے اسے یاد کرو اور خدا سے ڈرو اور جان لوکہ خدا ہر چیز سے آگاہ ہے (اور وہ ان لوگوں کی نیتوں سے باخبر ہے جو قوانین الہی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں)۔ ۱ المنار : ج۲،