وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Do not make Allah an obstacle, through your oaths, to being pious and Godwary, and to bringing about concord between people. And Allah is all-hearing, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:224
[Pooya/Ali Commentary 2:224] Allah commands man to do good. Therefore, "not to do good" cannot be justified under any pretext, not even because of swearing by Allah. Allah cannot be made an urdah (obstacle) in the way of doing good, safeguarding against evil, and making peace between men. It is an injunction to abstain from making "swearing by Allah" a pretext for withholding oneself from doing good. Good must be done at all events. For example the "swearing by Allah" of a husband in anger, that he will not go to his wife, has been forbidden. (See also al Qalam: 10; al Ma-idah: 89). Vain oath means unintentional swearing, which is a common habit with most people in their ordinary conversation. Allah will not hold any one accountable for vain oaths, but He will call His creatures to account for their real intentions and what they do. Verbal swearing has no value. However, swearing with full consciousness of the seriousness of the undertaking, binds the swearer to do as resolved provided the deed to be done is legal and good. Before Islam, it was a custom among the Arabs that when a husband avowed to discontinue conjugal relations with his wife, the wife was left in a lurch - neither a married woman nor a divorcee. The Quran ignores the swearing concerning disassociation with wives and gives four months for reconsideration and reconciliation; after which, if the husband still desires separation he should divorce his wife, otherwise the wife can refer the matter to the hakim shara (competent authority on Islamic laws) and obtain freedom from the bond of marriage to wed someone else. Fa-in- fa-u means if they return to their wives within the prescribed four months Allah will forgive them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:224-225
بعض قسمیں تو اسلام کی نگاہ میں بالکل لغو
اسلام کی نظر میں قسم کھانا اصولی طور پر اچھا نہیں ہے جیسا کہ اوپر بھی بیان کیاجاچکاہے لیکن یہ فعل حرام بھی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات اہم مقاصد کے لیے قسم کھانا مستحب یا واجب بھی ہوجاتاہے۔ بعض قسمیں تو اسلام کی نگاہ میں بالکل لغو اور بے اعتبار ہیں مثلا وہ قسم جو غیر خدا کے نام کی ہو۔ ایسی قسمیں جن میں خدا کا نام نہیں ہے بالکل بے اثر ہیں اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس طرح حرام یا مکروہ فعل انجام دینے کے لیے کھائی جانے والی قسمیں بھی بے اثر ہیں۔ مثلا کوئی شخص قسم کھالے کہ وہ کسی کا قرض ادا نہیں کرے گا یا جہاد سے بھاگ جائے گا و غیرہ غیرہ۔ اگر کوئی ایسی قسم کھائے تو اس کی پرواہ نہ کرے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اس کے ذمہ ایسی قسم کا کوئی کفارہ بھی نہیں ”لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ“کی تفسیر میں ایک یہی مفہوم مضمر ہے۔ ایسی قسمیں جو خدا کے نام پر کھائی جائیں اور ان کا مقصد کوئی اچھا کام ہو یا کم از کم فعل مباح ہو تو اسے پورا کرنا ضروری ہے اور اس کی مخالفت پر کفارہ دینا پڑے گا۔ سورہ مائدہ آیہ ۸۹ کے مطابق اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں لباس پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ ۲۲۶۔لِلَّذِینَ یُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِہِمْ تَرَبُّصُ اٴَرْبَعَةِ اٴَشْہُرٍ فَإِنْ فَائُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیم ۲۲۷۔ وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ترجمہ ۲۶۶۔ جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھاتے ہیں (یعنی ان سے جنسی ملاپ نہ کرنے کی سوگند کھاتے ہیں) وہ چار ماہ تک انتظار کا حق رکھتے ہیں (اور ان چار ماہ کے دوران میں اپنی بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے یا اُسے طلاق دینے کے بارے میں اپنا ارادہ اور کیفیت واضح کرلیں، اب اگر اس وقفہ میں ) رجوع کرلیں(تو کوئی حرج نہیں کہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ ۲۲۷۔ اور اگر علیحدگی کا مصمم ارادہ کرلیں (وہ بھی اس کی پوری شرائط کے ساتھ تو بھی حرج نہیں خدا سننے والا اور جاننے والاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:224-225
”قسم“
ایمان“ ”یمین“ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ”قسم“ ”عرضة“کا معنی ہے کسی چیز کا معرض قرار دینا۔ مثلا کوئی جنس بازار میں بیچنے کے لیے لاتے ہیں اور اسے معاملے کے معرض میں قرار دیتے ہیں یعنی اسے معاملے کے بیچ میں لاتے ہیں تو اُسے عرضہ کہتے ہیں۔ بعض اوقات موانع اور رکاوٹوں کو بھی عرضہ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ معرض انسان میں واقع ہوتے ہیں اور انسان کے راستے میں حائل ہوتے ہیں ”عرضة“کے مذکورہ مفہوم کو نظر میں رکھتے ہوئے آیت کی تفسیر کچھ اس طرح ہوگی: خدا کو اپنی قسموں کے معرض میں نہ لاؤ اور ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے قسم نہ کھاؤ۔ خدا کے نام کو معمولی نہ بنادو۔ اہم مقاصد کے علاوہ یوں قسم کھانا غیر مناسب اور غیر مطلوب کام ہے۔ یہ بات بہت سی احادیث میں بھی بیان کی گئی۔ ان میں سے امام صادق -کا ایک فرمان ملاحظہ کیجئے ، آپ نے فرمایا۔ ”و لا تحلفوا بااللہ صادقین و لا کاذبین فانہ سبحانہ یقول لا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم“ خدا کی قسم کبھی نہ کھانا، چاہے تم سچے ہو یا جھوٹے کیونکہ خدا فرماتاہے کہ خدا اپنی قسموں میں نہ لاؤ۔ اس صورت میں شان نزول کے ساتھ اس کی مناسبت یوں ہوگی کہ اچھے کاموں میں بھی قسم کھانا پسندیدہ عمل نہیں ہے چہ جائیکہ انسان کسی اچھے کام مثلا لوگوں کے در میان صلح صفائی و غیرہ ترک کرنے کے معاملے میں قسم کھائے۔ اس تفسیر کے مطابق ”ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس “اس طرف اشارہ ہے کہ نیک کاموں اور لوگوں کے در میان مصالحت کرانے میں بھی قسم نہ کھاؤ۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ ”عرضة“آیت میں رکاوٹ اور مانع کے معنی میں ہو یعنی خدا کے نام کی قسم کو نیک عمل اور لوگوں کے در میان صلح کروانے میں رکاوٹ نہ بناؤ اور ایسی ہر قسم کی کوئی قیمت اور اعتبار نہیں۔ شان نزول سے اس تفسیر کی مناسبت مکمل طور پر واضح ہے۔ ”لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوبُکُمْ “ اس آیت میں اللہ تعالی دو طرح کی قسموں کی طرف اشارہ کرتاہے پہلی قسم۔ لغو قسموں کی ہے، جن کا کوئی اثر نہیں اور جن کی پرواہ نہیں کرنا چاہئیے۔ یہ وہ قسمیں ہیں جو لوگ بغیر توجہ کے کھاتے ہیں۔ بعض لوگ تکیہ کلام اور عادت کے طور پر قسمیں کھاتے ہیں۔ ہر کام میں ”لاو اللہ“ اور ”بلی و اللہ“ یعنی نہ بخدا اور ہاں بخدا کہتے ہیں۔ ایسی قسمیں لغو ہیں ”لغو“ لغت میں ان تمام کاموں اور باتوں کو کہتے ہیں جن کا ھدف اور مقصد معین نہ ہو یا جو قصد و ارادہ سے سرزد نہ ہوں ۔ اس لیے وہ قسمیں لغو کہلائیں گی جو انسان غضب اور غصے کی حالت میں کھاتاہے (جب کہ حالت غضب میں وہ عام حالت میں نہ رہے)۔ مندرجہ بالا آیت کے مطابق ایسی قسمیں جو قصد و ارادہ سے انجام پذیر نہ ہو ان میں مؤاخذہ نہیں ہے اور نہ وہ کوئی اثر رکھتی ہیں۔ البتہ یہ بات اہم ہے کہ انسان اس طرح سے ہونا چاہئیے کہ وہ ایسی قسموں سے بھی سے کنارہ کش رہے۔ دوسری قسم۔ ان قسموں کی ہے جو قصد و ارادہ کی ما تحت ہوں اور قرآن کی تعبیر کی مطابق اس میں ”کسب قلبی “ موثر ہے۔ ایسی قسم معتبر ہے اور اس کی پابندی کرنا چاہیئے اور اس کی مخالفت نہ فقط گناہ ہے بلکہ اس کا کفارہ بھی دینا پڑتاہے۔ مگر اس کی کچھ شرائط ہیں جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ قسمیں ۔ جو قابل اعتبار ہیں