لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ
Allah will not take you to task for what is unconsidered in your oaths, but He will take you to task for what your hearts have incurred, and Allah is all-forgiving, all-forbearing.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:222-228
This paragraph treats on a par a conjugal contract of matured men and women one ought to peruse it carefully to keep Divine Commands in view as negligence thereof results in worldly and eternal loss. It treats of 1) mutual rights under peaceful living. 2) If this is impossible, in spite of attempts at reconciliation the way, in which divorce is to be effected, is to be carefully borne in mind by either party. Random have no value.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:224-225
بعض قسمیں تو اسلام کی نگاہ میں بالکل لغو
اسلام کی نظر میں قسم کھانا اصولی طور پر اچھا نہیں ہے جیسا کہ اوپر بھی بیان کیاجاچکاہے لیکن یہ فعل حرام بھی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات اہم مقاصد کے لیے قسم کھانا مستحب یا واجب بھی ہوجاتاہے۔ بعض قسمیں تو اسلام کی نگاہ میں بالکل لغو اور بے اعتبار ہیں مثلا وہ قسم جو غیر خدا کے نام کی ہو۔ ایسی قسمیں جن میں خدا کا نام نہیں ہے بالکل بے اثر ہیں اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس طرح حرام یا مکروہ فعل انجام دینے کے لیے کھائی جانے والی قسمیں بھی بے اثر ہیں۔ مثلا کوئی شخص قسم کھالے کہ وہ کسی کا قرض ادا نہیں کرے گا یا جہاد سے بھاگ جائے گا و غیرہ غیرہ۔ اگر کوئی ایسی قسم کھائے تو اس کی پرواہ نہ کرے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اس کے ذمہ ایسی قسم کا کوئی کفارہ بھی نہیں ”لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ“کی تفسیر میں ایک یہی مفہوم مضمر ہے۔ ایسی قسمیں جو خدا کے نام پر کھائی جائیں اور ان کا مقصد کوئی اچھا کام ہو یا کم از کم فعل مباح ہو تو اسے پورا کرنا ضروری ہے اور اس کی مخالفت پر کفارہ دینا پڑے گا۔ سورہ مائدہ آیہ ۸۹ کے مطابق اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں لباس پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ ۲۲۶۔لِلَّذِینَ یُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِہِمْ تَرَبُّصُ اٴَرْبَعَةِ اٴَشْہُرٍ فَإِنْ فَائُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیم ۲۲۷۔ وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ترجمہ ۲۶۶۔ جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھاتے ہیں (یعنی ان سے جنسی ملاپ نہ کرنے کی سوگند کھاتے ہیں) وہ چار ماہ تک انتظار کا حق رکھتے ہیں (اور ان چار ماہ کے دوران میں اپنی بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے یا اُسے طلاق دینے کے بارے میں اپنا ارادہ اور کیفیت واضح کرلیں، اب اگر اس وقفہ میں ) رجوع کرلیں(تو کوئی حرج نہیں کہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ ۲۲۷۔ اور اگر علیحدگی کا مصمم ارادہ کرلیں (وہ بھی اس کی پوری شرائط کے ساتھ تو بھی حرج نہیں خدا سننے والا اور جاننے والاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:224-225
”قسم“
ایمان“ ”یمین“ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ”قسم“ ”عرضة“کا معنی ہے کسی چیز کا معرض قرار دینا۔ مثلا کوئی جنس بازار میں بیچنے کے لیے لاتے ہیں اور اسے معاملے کے معرض میں قرار دیتے ہیں یعنی اسے معاملے کے بیچ میں لاتے ہیں تو اُسے عرضہ کہتے ہیں۔ بعض اوقات موانع اور رکاوٹوں کو بھی عرضہ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ معرض انسان میں واقع ہوتے ہیں اور انسان کے راستے میں حائل ہوتے ہیں ”عرضة“کے مذکورہ مفہوم کو نظر میں رکھتے ہوئے آیت کی تفسیر کچھ اس طرح ہوگی: خدا کو اپنی قسموں کے معرض میں نہ لاؤ اور ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے قسم نہ کھاؤ۔ خدا کے نام کو معمولی نہ بنادو۔ اہم مقاصد کے علاوہ یوں قسم کھانا غیر مناسب اور غیر مطلوب کام ہے۔ یہ بات بہت سی احادیث میں بھی بیان کی گئی۔ ان میں سے امام صادق -کا ایک فرمان ملاحظہ کیجئے ، آپ نے فرمایا۔ ”و لا تحلفوا بااللہ صادقین و لا کاذبین فانہ سبحانہ یقول لا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم“ خدا کی قسم کبھی نہ کھانا، چاہے تم سچے ہو یا جھوٹے کیونکہ خدا فرماتاہے کہ خدا اپنی قسموں میں نہ لاؤ۔ اس صورت میں شان نزول کے ساتھ اس کی مناسبت یوں ہوگی کہ اچھے کاموں میں بھی قسم کھانا پسندیدہ عمل نہیں ہے چہ جائیکہ انسان کسی اچھے کام مثلا لوگوں کے در میان صلح صفائی و غیرہ ترک کرنے کے معاملے میں قسم کھائے۔ اس تفسیر کے مطابق ”ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس “اس طرف اشارہ ہے کہ نیک کاموں اور لوگوں کے در میان مصالحت کرانے میں بھی قسم نہ کھاؤ۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ ”عرضة“آیت میں رکاوٹ اور مانع کے معنی میں ہو یعنی خدا کے نام کی قسم کو نیک عمل اور لوگوں کے در میان صلح کروانے میں رکاوٹ نہ بناؤ اور ایسی ہر قسم کی کوئی قیمت اور اعتبار نہیں۔ شان نزول سے اس تفسیر کی مناسبت مکمل طور پر واضح ہے۔ ”لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوبُکُمْ “ اس آیت میں اللہ تعالی دو طرح کی قسموں کی طرف اشارہ کرتاہے پہلی قسم۔ لغو قسموں کی ہے، جن کا کوئی اثر نہیں اور جن کی پرواہ نہیں کرنا چاہئیے۔ یہ وہ قسمیں ہیں جو لوگ بغیر توجہ کے کھاتے ہیں۔ بعض لوگ تکیہ کلام اور عادت کے طور پر قسمیں کھاتے ہیں۔ ہر کام میں ”لاو اللہ“ اور ”بلی و اللہ“ یعنی نہ بخدا اور ہاں بخدا کہتے ہیں۔ ایسی قسمیں لغو ہیں ”لغو“ لغت میں ان تمام کاموں اور باتوں کو کہتے ہیں جن کا ھدف اور مقصد معین نہ ہو یا جو قصد و ارادہ سے سرزد نہ ہوں ۔ اس لیے وہ قسمیں لغو کہلائیں گی جو انسان غضب اور غصے کی حالت میں کھاتاہے (جب کہ حالت غضب میں وہ عام حالت میں نہ رہے)۔ مندرجہ بالا آیت کے مطابق ایسی قسمیں جو قصد و ارادہ سے انجام پذیر نہ ہو ان میں مؤاخذہ نہیں ہے اور نہ وہ کوئی اثر رکھتی ہیں۔ البتہ یہ بات اہم ہے کہ انسان اس طرح سے ہونا چاہئیے کہ وہ ایسی قسموں سے بھی سے کنارہ کش رہے۔ دوسری قسم۔ ان قسموں کی ہے جو قصد و ارادہ کی ما تحت ہوں اور قرآن کی تعبیر کی مطابق اس میں ”کسب قلبی “ موثر ہے۔ ایسی قسم معتبر ہے اور اس کی پابندی کرنا چاہیئے اور اس کی مخالفت نہ فقط گناہ ہے بلکہ اس کا کفارہ بھی دینا پڑتاہے۔ مگر اس کی کچھ شرائط ہیں جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ قسمیں ۔ جو قابل اعتبار ہیں
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:225
[Pooya/Ali Commentary 2:225] (see commentary for verse 224)